کرائے کی فوج، بیمار معیشت کی دوا - یاسر محمود آرائیں

وطن عزیز کو اس وقت ان گنت مسائل اور چیلنجز درپیش ہیں۔ ان مسائل کا تعلق ملکی سیکیورٹی اور سیاست دونوں سے جڑا ہوا ہے۔ یہ تمام مسائل اور چیلنجز نہایت گھمبیر ہیں اور سنجیدہ توجہ کے متقاضی ہیں۔ مگر ان تمام مسائل سے قطع نظر فی الوقت ملکی معیشت کی مسلسل گرتی ہوئی حالت اور زوال پذیر اشاریے (indicators) فوراً سے پیشتر ایمرجنسی توجہ اور اقدامات کی دہائی دیتے نظر آرہے ہیں۔

عصر حاضر میں کسی بھی مملکت کی سلامتی کا بڑا انحصار اس کی مضبوط معیشت پر ہوا کرتا ہے۔ سوویت یونین ایک سپر پاور ریاست ہونے، بے پناہ اسلحہ کے ذخائر رکھنے کے باوجود اور ایک مستحکم سپاہ کی موجودگی میں محض کمزور معیشت کے سبب ہی شکست وریخت کا شکار ہوا تھا۔ اسی لیے گزشتہ دنوں آرمی چیف جنرل باجوہ نے بیان دیا تھا کہ کمزور معیشت کے ہوتے ہوئے مضبوط سے مضبوط سپاہ بھی ملکی تحفظ کی ضمانت نہیں دے سکتی۔ اس بیان کے بعد بہت لے دے ہوئی بہت ہنگامہ برپا ہوا کہ ملٹری چیف کو معیشت کے بارے میں بیان دینے کا اختیار نہیں۔ مزید یہ کہا گیا کہ معیشت بارے جو تصویر دکھانے کی کوشش کی گئی ہے حقیقتا ًحالات اُس سے مختلف ہیں۔ غیر جانبدار حلقے مگر اسی وقت یہ آگاہی دے رہے تھے کہ واقعی سپہ سالار کی تشویش بجا ہے۔

حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ پہلے سے موجود قرضوں کا سود ادا کرنے کے لیے ہمیں نیا قرضہ لینا پڑرہا ہے۔ رواں مالی سال کے آخر تک ہمیں بیرونی واجب الادا قرض کی مد میں تقریباً 16 سے 18 ارب ڈالرز کی ادائیگیاں کرنی ہیں جب کہ ہمارے کل زرمبادلہ کے ذخائر بھی اس وقت 14 سے 15 ارب ڈالرز سے زیادہ نہیں۔ پچھلے چھ سالوں میں جتنا قرض لیا گیا ہے وہ ہماری مجموعی ملکی تاریخ کے قرض سے بھی زائد ہے۔ اسی رفتار سے اگر ہماری قرضے مانگنے اور فاقہ مستی کی عادت جاری وساری رہی تو خاکم بدہن عنقریب ہم قرضوں کا صرف سود ہی ادا نہ کرسکنے کے باعث دیوالیہ ہوجائیں گے۔ پھر لامحالہ ہمیں 'سروائیو' کرنے کے لیے بہت سی باتوں پر عالمی برادری کے سامنے جھکنا پڑے گا اور ان کی شرائط ومطالبات پر نہ چاہتے ہوئے بھی عمل کرنا پڑے گا۔ یہ مطالبات نیوکلیئر پروگرام کو ڈی ریل کرنا یا پھر اسے قابل قبول حد تک فریز کرنا بھی ہوسکتے ہیں۔

شروع میں جب سنجیدہ احباب نے ان خدشات کا اظہار کرنا شروع کیا تو اس کے جواب میں ایک خاص فکر رکھنے والے طبقہ نے ان خدشات کو ناصرف مسترد کردیا بلکہ اس کا مذاق بھی اڑایا گیا مگر اب تو ایسے تمام دانشوروں کے نزدیک معتدل سوچ کے حامل سمجھے جانے والے حامد میر صاحب نے بھی ببانگ دہل یہ فرمانا شروع کردیا ہے۔

کسی بھی ملک کی معیشت کا انحصار صنعت، زراعت یا سیاحت پر ہوا کرتا ہے۔ بدقسمتی سے مذکورہ تمام شعبوں میں ہماری حالت کچھ حوصلہ افزا نہیں ہے۔ صنعتوں کے فروغ کے لیے توانائی کی فراوانی بنیادی شرط ہے اور اس وقت ہم توانائی کے بدترین بحران کا شکار ہیں۔ نیز کسی بھی ملک کی مصنوعات کی عالمی مارکیٹ میں مانگ کے لیے قیمتوں کی ارزانی پہلی ترجیح ہوا کرتی ہے۔ مگر ہمارے ہاں چونکہ لیبر اور توانائی کے ریٹ خطے کے دیگر ممالک سے زیادہ ہیں جس کی وجہ سے ہماری مصنوعات کی کاروباری لاگت بہت بڑھ جاتی ہیں لہٰذا ہماری صنعت کو بیرونی آرڈر جہاں سے زرمبادلہ کے آنے کی امید ہوتی ہے، نہیں مل پاتے اور اسی وجہ سے ہماری ملکی معیشت میں صنعتوں کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔

اس کے علاوہ چونکہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور معیشت کا بڑی حد تک دارومدار اسی شعبے پر ہے۔ لیکن گزشتہ کچھ سالوں سے ناقص حکومتی پالیسیوں اور کسان دشمن اقدامات کے باعث زرعی شعبہ بھی دن بہ دن روبہ زوال ہے۔ جبکہ زراعت کے لیے پانی کی فراوانی بھی نہایت ضروری ہے۔ مگر ہماری نااہلی اور کمزوری کی بدولت ہندوستان ہمارے حصے کے پانی پر قابض ہوتا جارہا ہے۔ جو تھوڑا بہت پانی وہاں سے آرہا ہے، اسے ذخیرہ کرنے کے لیے بھی ہم آپسی اختلافات کے باعث ڈیم تعمیر نہیں کررہے نتیجتاً ہماری قابل کاشت اراضی بڑی تیزی کے ساتھ ریگستان میں تبدیل ہوتی جارہی ہے۔

اسی طرح وطن عزیز کو اللہ پاک نے پناہ حسن اور قدرتی مناظر سے رونق بخشی ہے مگر، سیاحت کو پروموٹ کرنے کے لیے عالمی سطح پر آگاہی مہم چلانی پڑتی ہے۔ ہمارے حکمرانوں کو بیرونی دوروں میں اپنی کاروباری مصروفیات سے ہی فرصت نہیں ملتی تو وہ کیسے ان چیزوں پر توجہ دیں۔ دوسرا ہمارے ہاں ٹرانسپورٹ اور انفرااسٹرکچر کی حالت بھی نہایت ناگفتہ باہے جس کی وجہ سے سیاح باوجود کشش رکھنے کے یہاں کا رخ کرنے سے کتراتے ہیں۔

یہی نہیں بلکہ انٹرٹینمنٹ کی صنعت میں بھی برا حال ہے، یعنی اسپورٹس اور فلم انڈسٹری۔ ان میدانوں میں ترقی کا بڑی حد تک دارومدار امن وامان کی قابل اطمینان صورتحال پر ہوتا ہے۔ مگر بدقسمتی سے پچھلی ڈیڑھ دہائی سے ہماری داخلی سیکیورٹی کی صورتحال کچھ زیادہ آئیڈیل نہیں ہے جبکہ اس میدان میں منافع سے قبل اپنی جیب سے بھاری سرمایہ کاری کرنی پڑتی ہے۔ ان وجوہات کے باعث انٹرٹینمنٹ کے شعبے کا بھی ہماری معیشت میں کوئی خاص کنٹری بیوشن نہیں ہے۔

موجودہ حالات میں پاکستان کی معیشت فوری اور ہنگامی اقدامات کی طالب ہے جبکہ مذکورہ بالا تمام شعبے ایک طویل پلاننگ اور صبرآزما انتظار کے بعد ہی کسی قسم کا فائدہ پہنچانے کے قابل ہوسکیں گے۔ لہٰذا فوری طور ہماری بیمار اور ڈوبتی معیشت کو سنبھالا دینے اور زرمبادلہ کے حصول کی ایک ہی صورت ہے کہ ہم اپنی 'مین پاور'ایکسپورٹ کریں۔ جس کی تجویز جناب رؤف کلاسرا نے اپنے کالم میں سینیٹر انور بیگ کے حوالے سے دی ہے۔ اس وقت فوری طور پر دم توڑتی معیشت کو آکسیجن فراہم کرنے کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں مگر ان کی تجویز سے تھوڑا سا اختلاف ہے کہ فی الوقت صرف لیبر، ٹیکنیشنز یا ڈاکٹر، انجینیئرز ایکسپورٹ کرنے کی کوشش سے کسی خاطر خواہ فائدے کی امید نہیں ہے کیونکہ ملکوں کے آپسی تعلقات یا ریاستی پالیسیوں کی تشکیل میں سربراہان مملکت کے ذاتی تعلقات کا زیادہ عمل دخل نہیں ہوا کرتا۔ ہمارے علاوہ باقی تمام ممالک کسی بھی دوسری ریاست سے معاملات طے کرتے وقت اپنے ذاتی تعلقات سے قطع نظر قومی اور کاروباری مفاد کو مقدم رکھتے ہیں۔

ہمارے اور خطے کے دیگر ممالک یعنی بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا کے لیبر اور ٹیکنیشنز کے ریٹ میں زمین اور آسمان کا فرق ہے۔ دیگر ممالک کی لیبر ہم سے نصف ریٹ پر ملازمت کرنے پر ہمہ وقت آمادہ نظر آتی ہے۔ اسی طرح خلیجی ممالک میں ہمارے ڈاکٹرز اور انجینیئرز کی نسبت انڈین شہریوں کو زیادہ ترجیح دی جاتی ہے کیونکہ انڈین جامعات کا معیار تعلیم ہم سے کہیں بہتر ہے۔ چنانچہ کوئی اپنی سی کوشش اگر کر بھی دیکھے تو بھی خلیجی ممالک ہماری مین پاور کو قابل ذکر تعداد میں قبولنے پر ہرگز تیار نہیں ہوں گے۔ ہاں، ایک صورت ہوسکتی ہے ہماری مین پاور ایکسپورٹ کرنے کی جس پر شاید بہت سوں کو اعتراض ہو مگر، اس کے سوا فی الوقت کوئی دیگر چارہ نظر نہیں آرہا۔ وہ راستہ یہ ہے کہ ہماری حکومت خلیجی ممالک کے مطالبے پر اپنی'مین پاور' بطور کنٹریکٹ سولجر ان کے حوالے کردے۔ اس کے لیے پاک فوج سے ہٹ کر ایک الگ 'انڈیپینڈنٹ'آرمی تشکیل دی جاسکتی ہے۔ جو آپریشنلی اور آفیشلی تو پاک فوج کے انڈر ہو مگر، اس کی تمام تر افرادی قوت نئی ہو اور اس کے تمام تر اخراجات خلیجی ممالک سے طلب کیے جائیں۔ ان کی بھرتی، تربیت، تنخواہ، علاج اور دیگر سہولیات کے لیے رقم بھی انہی ممالک سے لی جائے۔ اس وقت بھی تقریباً آٹھ ہزار کے قریب پاکستان آرمی کے جوان سعودی عرب میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ جن کی پاکستان میں موجود تنخواہ سے دگنی رقم سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو فراہم کی جاتی ہے جس میں سے ان کی اصل تنخواہ کی ادائیگی کے بعد باقی رقم قومی خزانے میں بچ جاتی ہے۔ یہ بھی یاد رکھنے کی بات ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے بارہا مزید ٹروپس بھیجنے کا مطالبہ سامنے آتا رہا ہے۔ ملک کے حالات مگر اس بات کی اجازت نہیں دے سکتے کہ ہم اپنی ریگولر آرمی میں سے مزید دستے وہاں بھیج دیں۔

اس انکار کی وجہ سے ہمیں اپنے خلیجی دوستوں کی ناراضگی کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے اگر ہماری حکومت انہیں یہ تجویز دے اور اس پر قائل کرے کہ ہم آپ کی مطلوبہ تعداد میں نئے''ملٹری ڈویژن''قائم کرلیتے ہیں جس کے لیے آپ کو پیشگی اخراجات ادا کرنے پڑیں گے تو اس طرح ایک تو ہماری معیشت کو فوری سنبھالا مل جائے گا، دوسرا ہمارے نوجوانوں کے''شوق عسکریت''کی تکمیل بھی ہوجائے گی۔

اگر ملک میں موجود ایک خاص طبقہ خوامخواہ کا بتنگڑ نہ بنائے اور کوئی اس تجویز کو دیوانے کا خواب سمجھ کر رد نا کرے تو اس میں کوئی قباحت بھی نہیں۔ اسی قسم کی خدمات متمول اور ترقی یافتہ سپرپاور امریکا بھی''بلیک واٹر''کی صورت دنیا بھر میں فراہم کررہا ہے۔ متحدہ عرب امارات میں پیسوں کے عوض ایک عرصے سے بلیک واٹر سیکیورٹی کی خدمات انجام دے رہی ہے۔ ''اسکاٹ لینڈ یارڈ'' معاوضے کے عوض دنیا بھر میں اپنی تفتیشی خدمات فراہم کرتی ہے تو ہمیں یہ کام کرنے میں کیا امر مانع ہے؟

اس وقت یہ بھی اطلاعات ہیں کہ ہمارے بہت سے نوجوان بیروزگاری سے تنگ آکر ایران کی ''پراکسی وار'' لڑنے کے لیے اس سے ملٹری تربیت حاصل کررہے ہیں اور ''شام'' کے محاذ پر لڑتے ہوئے جانیں دے رہے ہیں۔ باعث تشویش تو یہ ہے کہ ایسے تمام افراد کا ہمارے اداروں کے پاس کوئی ریکارڈ بھی نہیں ہے۔ جو وہاں جانیں گنوا بیٹھے ہوں گے وہ بھی نہایت افسوسناک ہے لیکن جو زندہ واپس آئیں گے انہیں کیسے''ڈیٹیکٹ''کیا جائے گا۔ ''ملٹری اور گوریلا وار'' کے تربیت یافتہ افراد امن وامان کے لیے کتنے نقصان دہ ثابت ہوں گے، یہ سوچ کر بھی روح کانپ اٹھتی ہے۔ جب تک بیروزگاری عام ہوگی اور عوام کو متبادل روزگار کی فراہمی ممکن نا بنائی جائے گی آپ کسی صورت انہیں نہیں روک سکتے۔ ایران بھی ہمارے شہریوں کو پیسوں کے عوض بطور پراکسی استعمال کررہا ہے تو پھر ہمیں اپنے قومی مفاد میں یہ کام کرنے میں کیا چیز رکاوٹ ہے۔ ریاستی سرپرستی میں الگ سے ایک ادارہ بناکر اس کے ذریعے جو لوگ جائیں گے اس سے معیشت کو بھی فائدہ ہوگا، ملک میں بیروزگاری میں کمی آئے گی، ہمارا عالمی سیاسی اثرورسوخ بڑھ جائے گا، ہمارے یہاں کے نوجوانوں کے ''شوق عسکریت'' کی تکمیل ہوجائے اور جو لوگ اس میکانزم کے ذریعے جاکر عسکری تربیت حاصل کریں گے بعداز ریٹائرمنٹ بھی ان کا ڈیٹا قومی اداروں کے پاس موجود ہوگا جس کے باعث ان پر چیک اینڈ بیلنس رکھنا نہایت آسان ہوگا۔ یہ قدم اگر ن اٹھایا گیا اور معیشت کی فوری بحالی کے لیے کوئی تدبیر نا ڈھونڈی گئی تو کل کلاں خدانخواستہ ہم کریش کرگئے تو''جوہری پروگرام''کی بندش کے لیے بھی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا پھر بھی لازماً ہمیں عالمی مطالبے پر ''دہشتگردی کے خلاف جنگ'' کے نام پر اپنی فوج دینی پڑے گی، اس سے کہیں بہتر نہ ہوگا کہ ہم اپنے مفادات میں پیشگی کوئی قدم اٹھالیں؟