قابل ِ فخر پاکستانی سائنسدان - فضل ہادی حسن

آپ اپنے اردگرد، گلی محلے بلکہ اپنے گھر کے اندر کا تعلیمی مزاج اور سوچ کا مطالعہ کریں تو اپنے معاشرے میں تعلیمی ترجیحات سامنے آجائیں گی۔ بلکہ کہیں سنا تھا کہ بعض گھرانے تو بچوں کی تعلیم میں اتنے جلد بازی دکھاتے ہیں کہ پیدائش سے پہلے ہی طے کرتے ہیں کہ لڑکا ہوا تو کیا پڑھے گا اور اگر لڑکی تو کیا پڑھے گی؟ میں نے بھی اسی معاشرے اور سماج میں آنکھ کھلی ہے اور ایک پسماندہ ضلع کے گاؤں کے عام سے سکول کی چٹائیوں پر بیٹھ کر پڑھا۔ وہیں سے اپنے معاشرے میں موجود تعلیمی ماحول کو اچھی طرح سمجھ سکا۔ ہمارے ہاں سکول ہی میں طالبعلم تین باتوں (تعلیمی ترجیحات) کے بارے سوچتا اور خواب دیکھتا رہتا ہے۔ ڈاکٹر بننا، انجینیئر یا فوجی بننے کی تمنا۔

اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں دوران تعلیم فلسفے کے ایک مصری پروفیسر، جو جرمنی میں بھی پڑھے تھے، ایک دن کہنے لگے کہ ’’پاکستان میں میڈیکل اور انجینیئرنگ اوّل ترجیح اور مقابلہ دیکھ کر عجیب لگ رہا ہے، شاید یہ ایک بہت بڑا ٹیلنٹ کو ضائع کرنے کا سبب بن جائے۔‘‘

ہمارے ہاں تو سکول لیول سے جہاں بچوں کے ذہن میں تعلیمی ترجیح کو ٹھونسا جارہا ہے وہاں کافی بچے مستقبل کا تعیّن کرنے سے بھی قاصر نظر آتے ہیں۔ ایسے بچوں کی تعداد بہت کم ہے جو اپنی مرضی اور پسند کا شعبہ منتخب کرنے کی اہلیت رکھتے ہوں۔ نیز عمومی ٹرینڈ یا رحجان نہیں بدلتا بلکہ تیس سال پہلے اگر میڈیکل اور انجینیئرنگ ترجیح اوّل تھا، آج بھی وہی ہے۔ وہ الگ بات کہ کم نمبر (انٹری ٹیسٹ) یا مہنگی تعلیم ہونے کی صورت میں انٹرمیڈیٹ کے بعد بہت سارے بچے دیگر مختلف شعبوں کی طرف چلے جاتے ہیں، نہ چاہتے ہوئے بھی۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تعلیم کے اس رُخ سے معاشرے کو کیا output ملا؟

کیا صرف ڈاکٹر اور انجینیئر بننا کافی تھا یا آگے جانا بھی معاشرے کی ضرورت تھی؟

یہ بھی پڑھیں:   برائیوں سے بھرے معاشرے میں پہلی وحی "اقرا" کیوں؟ عاصم رسول

اگر ہم میڈیکل سائنسز کو ہی دیکھ لیں تو بلاشبہ پاکستان نے بہترین معالجین دیے ہیں لیکن جدید ریسرچ یا میڈیکل سائنسز میں اعلیٰ پائے کا محقق یا سائنس دان نہیں دے سکا ۔ اسی طرح فزکس اور کیمسٹری سمیت دیگر علوم کی حالت دیکھیں۔ یہاں ڈاکٹر عبدالسلام کے علاوہ اگر ایک دو اور نام بھی پیش کیے بھی جائیں تو 20 کروڑ کی آبادی میں کیا معنی رکھتے ہیں؟ ہمارے ہاں فیلڈ سے بھاگنا یا فیلڈ سے باہر موضوعات پر گفتگو کرنا یا کام کرنے کا رواج بھی پروان چڑھا ہے، جس نے بہت بڑا ٹیلنٹ ضائع کر دیا۔

ایک بڑی تعداد ایسی بھی ہے جو سیاست، دفاع یا دیگر موضوعات پر گھنٹوں بات کرے گی لیکن اس کا اپنا شعبہ دوسرا ہوگا۔ پاکستان کے میڈیکل اور فزکس سمیت دیگر سائنسی علوم کے کتنے بڑے پروفیسرز حضرات ہوں گے جنہوں نے دنیا یا پاکستان کو کوئی نئی تحقیق دی ہو جو آگے مزید تحقیق یا نئی سوچ اور زاویوں کا باعث بن سکی ہو؟ ہمارے ہاں ٹیلنٹ موجود ہے لیکن اسے ضائع کیا جارہا ہے یا پھر باہر جاکر وہاں صلاحیت کا لوہا منواتا ہے۔

جس طرح ہمارے مذہبی طبقے میں جدید موضوعات اور مسائل کے حل کی طرف رجحان کم ہے نیز نظریاتی کشمکش میں تعقل پسندی یا تشکیک زدہ ذہنوں کے سوالات اور اعتراضات کے جوابات کی استعداد کی کمی ہے یا عام طبقے تک اپروچ میں کمیونی کیشن گیپ ہے، اسی طرح جدید سائنسی علوم کے اساتذہ یا ماہرین بھی جمود کے شکار ہیں۔

ایک تو ڈگری اور نوکری کا حصول کا شوق اتنا غالب آچکا ہے کہ اس نے پورے معاشرہ کو ایک قالب (سانچہ) نما حصار میں بند کر دیا ہے جو بہترین ٹیلنٹ اور استعداد رکھنے والوں کے لیے کھلے راستوں کو بھی مسدود کر دیتا ہے۔ دینی مدارس اور علوم سے تو ریاست نے اپنے آپ کو ویسے بھی بری الذمہ قرار دیا ہے لیکن ریاست کی نگرانی میں چلنے والے کالجز سے لیکر بڑے بڑے اداروں اور یونیورسٹیوں کو کیا رکاوٹ در پیش ہے؟ ہمارے ان اداروں نے ابھی تک کتنے سائنسدان اور بین الاقومی معیار کی نئی ریسرچ دینے میں کامیاب ہوگئے ہیں؟ مغرب سے موازنہ مناسب نہیں ہوگا لیکن پڑوسی ملک بھارت سمیت دیگر چھوٹے ایشیائی ممالک کے ساتھ موازنہ کیا جاسکتا ہے؟

یہ بھی پڑھیں:   قرآن فہمی اور جدید سائنسی نظریات - پروفیسر جمیل چودھری

خوش فہمی میں مبتلا ہماری قوم کی حالت یہ ہے کہ نیوکلئیر اور میزائل ٹیکنالوجی کو ہی سب کچھ سمجھ بیٹھے ہیں ، اسی طرح جیسے کرکٹ نے باقی کھیلوں کو نگل لیا، حالانکہ تحقیق اور ایجادات کی دنیا تو بڑی وسیع ہے۔ میڈیکل سائنسز، فزکس، آئی ٹی، سپیس ٹیکنالوجی سمیت ایک بہت بڑا میدان ہمارے نوجوان اور ذہین ٹیلنٹ کا منتظر ہے لیکن حکومت کی کمزور تعلیمی پالیسی اور ذاتی پسند و ناپسند کے گرداب میں پھنسے "پروفیسرز نما" نا اہل طبقہ نے پاکستان کا مستقبل (نوجوان ٹیلنٹ) داؤ پر لگادیا ہے۔ ہم سب بطور قوم اس کے ذمہ دار ہے لیکن جنہیں سائنسدان تیار کرنے تھے اور جن کا میدان جدید اور سائنسی علوم تھا انہوں نے سماج، معاشرہ اور مذہب کو اپنا موضوع سخن بنایا۔

طعنہ مارا جاتا ہے کہ باقی دنیا والےچاند پر پہنچ گئے اور ہمارے مولوی ابھی بھی باہم دست و گریباں ہیں۔ کہنا تو یہ چاہیے تھا کہ سائنس کی دنیا میں باقی ممالک کہاں تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے جبکہ ہمارے سائنسدان ابھی تک یہ طے کرنے میں کامیاب نہ ہوسکے کہ قائد اعظم ؒسیکولر پاکستان بنانا چاہتے تھے یا اسلامی، جمہوری اور فلاحی پاکستان؟ وہ دو قومی نظریہ پر یقین رکھ کر تحریک پاکستان کا حصہ بنے تھے یا سیکولرازم سے؟

مجھے قوی امید ہے کہ آئندہ 20-25 سالوں میں پاکستانی سائنسدان، فزکس اور کمیسٹری کی کتب اور فارمولا سے بہت جلد اس ’’قضیہ‘‘ کا حل ڈھونڈنے میں کامیاب ہوکر سائنس کی دنیا میں تہلکہ مچائیں گے۔

Comments

فضل ہادی حسن

فضل ہادی حسن

فضل ہادی حسن اسلامک سنٹر ناروے سے وابستہ ہیں۔ جامعہ اشرفیہ لاہور اور بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد سے فارغ التحصیل ہیں۔ ائی آر میں ماسٹر اور اسلامک اسٹڈیز میں ایم فل کیا ہے۔ مذہب، سیاست اور سماجی موضوعات پر لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.