گاڈ فادر (15)

ترجمہ: محمود احمد مودی

انتخاب: یاسر آرائیں

پچھلی قسط پڑھیں


سولوزو نے ایک بار پھر بولنا شروع کردیا:

”میں جب ہیروئن کے دھندے میں شراکت کی تجویز لے کر ڈان کے پاس گیا تھا تو سنی نے اس میں زبردست دلچسپی لی تھی۔۔۔ اور یہ اس کی عقلمندی تھی۔۔۔ کیونکہ ہیروئن آنے والے زمانے کی چیز ہے۔ جو لوگ آج اس کام میں ہاتھ ڈالیں گے، کل وہی سب سے زیادہ فائدے میں رہیں گے۔ اس میں اتنی دولت ہے کہ اس کا کاروبار کرنے والے دوسال کے اندر نجانے کہاں سے کہاں ہوں گے؟ ڈان پرانے زمانے کا۔۔۔ پرانے خیالات کا آدمی تھا۔ اس کا دور گزر چکا تھا لیکن ابھی اسے خود اس بات کا احساس نہیں ہوسکا تھا۔ اب وہ اس دنیا سے جا چکا ہے اور دنیا کی کوئی طاقت اسے واپس نہیں لاسکتی۔ تمہیں سنی کو اس بات پر قائل کرنا ہے کہ اب اس موضوع پر لڑتے رہنا اور خونریزی کے ذریعے اپنی طاقت ضائع کرنا حماقت کے سوا کچھ نہیں۔ میںاب سنی کو نئے سرے سے معاہدے کی پیشکش کرنا چاہتا ہوںاور میری خواہش ہے کہ تم اسے اس معاہدے کو قبول کرنے پر تیار کرو۔“

ہیگن بولا:

”تمہاری یہ کوشش فضول ہے۔ تم نے جو کچھ کیا ہے، اس کے جواب میں سنی اپنی پوری طاقت جمع کرکے تم پر حملہ کرے گا۔“

سولوزو بے تابی سے بولا:

”یہ اس کا ابتدائی ردعمل ہوگا۔ اسی معاملے میں تم اسے الجھانے کی کوشش کرو گے۔ تم اسے حقیقت پسندانہ انداز میں سوچنے پر آمادہ کرو گے۔“

”ٹے ٹیگ لیا فیملی“ اپنی پوری طاقت اور وسائل کے ساتھ میری پشت پناہی کررہی ہے۔ نیویارک کی اس طرح کی دوسری تمام ’فیملیز‘ بھی اس بات کی حامی ہوں گی۔۔۔ اور اس کے لیے پوری پوری عملی کوشش کریں گی کہ ہمارے درمیان بڑے پیمانے پر لڑائی نا چھڑنے پائے۔۔۔ کیونکہ ہماری لڑائی سے ان کے کاروبار اور مفادات کو بھی نقصان پہنچے گا۔ اگر سنی میری پیشکش قبول کرے گا تو کوئی ہماری طرف توجہ نہیں دے گا۔ حتیٰ کہ ڈان کے پرانے دوست بھی اس معاملے سے لا تعلق رہیں گے اور سب امن وامان سے اپنے کام دھندوں میں لگے رہیں گے۔“

ہیگن سر جھکائے، اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے، انہیں گھورتا رہا، اس بار اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔

سولوزو نے گویا اسے قائل کرنے کی کوشش جاری رکھی۔

”ڈان اب سٹھیاگیا تھا اور غلطیاں کرنے لگا تھا۔ اب تم یہی دیکھ لو کہ میں نے کتنی آسانی سے اسے مروادیا۔ ماضی میں شاید یہ ممکن نا ہوتا۔ دوسری ’فیملیز‘نے اب اس پر اعتبار کرنا اور اس کی پروا کرنا چھوڑ دی تھی۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اس نے قوم پرستی اور وطن پرستی کے پرانے اصولوں کو بھی چھوڑنا شروع کردیا تھا۔ اس نے تمہیں اپنا وکیل بنادیا جب کہ تم سسلی تو کیا۔۔۔ اطالوی بھی نہیں۔ اگر ہمارے درمیان پورے وسائل کے ساتھ جنگ چھڑگئی تو ’کارلیون فیملی‘ کچلی جائے گی، جس سے مجھ سمیت سب کا نقصان ہوگا۔ مجھے رقم سے بھی زیادہ ان لوگوں کے سیاسی اثرورسوخ کی ضرورت ہے۔ اس لیے تم سنی سے بات کرو۔ اسے اچھی طرح سمجھائو۔ اس طرح ہم بہت ساری غیر ضروری خونریزی سے بچ سکتے ہیں۔“

”میں اپنی سی کوشش کروں گا۔“ آخر ہیگن نے جواب دیا۔

”لیکن میں یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتا۔ سنی غصے کا بہت تیز ۔۔۔ اور ٹیڑھے دماغ کا آدمی ہے۔۔۔ اور اس سے بھی زیادہ تمہیں براسی کی فکر کرنی چاہیے۔ اگر میں تمہاری جگہ ہوتا تو سنی سے پہلے براسی کے بارے میں تشویش زدہ ہوتا۔

”براسی کا مسئلہ مجھ پر چھوڑ دو۔“

سولوزو اطمینان سے بولا۔

”تم صرف سنی اور اس کے دونوں بھائیوں کو سنبھال لو ۔ سنو، تم انہیں سمجھانے کے سلسلے میں دلائل دیتے وقت یہ بھی بتاسکتے ہو کہ اگر میں چاہتا تو ”ڈان“ کے ساتھ ساتھ ”فریڈ“کو بھی ہلاک کیا جاسکتا تھا۔ یہ کوئی مشکل کام نہیں تھا۔ آج وہ بھی نشانے پر تھااور ایک آسان ٹارگٹ تھا۔۔۔ لیکن میں نے اپنے آدمیوں کو سختی سے حکم دے رکھا تھا کہ فریڈ کو گولی نا ماری جائے۔ میں سنی کو ضرورت سے زیادہ صدمہ پہنچانا۔۔۔ یا ضرورت سے زیادہ غصہ دلانا نہیں چاہتا۔ تم انہیں بتا سکتے ہو کہ فریڈ صرف میری وجہ سے زندہ ہے۔“

اب ہیگن کے ذہن نے کام کرنا شروع کردیا تھا۔ اسے کچھ یقین ہوگیا تھا کہ سولوزو اسے ہلاک کرنا یا اسے یرغمال بنانا نہیں چاہتا تھا۔ اس احساس سے اس کا وہ خوف دور ہوگیا تھا جس نے اب تک اس کے دل، دماغ اور اعصاب کو جکڑ رکھا تھا۔ اسے یہ سوچ کر شرم بھی محسوس ہوئی کہ موت کا خوف اس پر اس حد تک غالب آگیا تھا۔

سولوزو گہری نظروں سے اس کا جائزہ لے رہا تھا۔ وہ گویا اس کی کیفیت اور اس کے احساسات کو سمجھ رہا تھا۔ ہیگن نے اس کی باتوں پر غور کرنا شروع کیا۔ سولوزو یقیناً ایک وکیل، ایک لائق اور قابل آدمی۔۔۔ اور ”فیملی“ سے تعلق رکھنے والے ایک ذمہ دار شخص کی حیثیت سے اس پر یہ توقع کررہا تھا کہ وہ اس کے موقف کو اچھے اور متاثر کن انداز میں سنی کے سامنے پیش کرسکے گا اور شاید اسے قائل بھی کرسکے گا۔

اب غوروخوض کرتے وقت ہیگن کو احساس ہوا کہ اس کی توقعات کچھ غلط بھی نہیں تھی۔۔۔ اور اس کا موقف بھی اس قابل تھا کہ اس پر توجہ دی جاتی۔ کارلیون اور ’ٹے ٹیگ لیافیملی‘کے درمیان جنگ کو بہرحال روکنا ہی سب کے مفاد میں تھا۔ اس متوقع جنگ سے ہرحال میں گریز ضروری تھا۔ ڈان اگر مرچکا تھا تو کارلیون فیملی کو اس صدمے کو برداشت کرلینا چاہیے تھا اور بہت سے مزید صدمات کو دعوت نہیں دینی چاہیے تھی۔ کم ازکم انہیں فی الحال سولوزو کی پیشکش قبول کرلینی چاہیے تھی۔ بعد میں اگر وہ ضروری سمجھتے تو کوئی مناسب موقع دیکھ کر سولوزو کو اس کے کیے کی سزا دے سکتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:   گاڈ فادر (14)

ہیگن نے سر اٹھایا تو اسے یوں لگا کہ سولوزو اس کے یہ خیالات بھی پڑھ رہا تھا۔ وہ مسکرارہا تھا۔ اسی لمحے ایک اور خیال بھی ہیگن کے ذہن میں بجلی کے کوندے کی طرح لپکا۔ آخر سولوزو براسی کے بارے میں کیوں فکرمند نہیں تھا؟ وہ اس طرح سے اتنا بے پروا کیوں دکھائی دے رہا تھا؟ جبکہ براسی سے اس جیسے آدمی کو بھی بہرحال خوفزدہ ہونا چاہیے تھا۔ براسی کوئی معمولی آدمی یا نچلے درجے کا بدمعاش نہیں تھا۔ وہ ایک ایسا آدمی تھا جس کا صرف نام سن کر بدمعاشوں کی رگوں میں بھی لہو سرد ہونے لگتا تھا۔

کہیں براسی بک تو نہیں گیا تھا؟ کہیں اس نے ان لوگوں کے ساتھ کوئی سمجھوتا تو نہیں کرلیا تھا؟ بہرحال۔۔۔ یہ وقت اس طرح کے معموں پر غور کرنے کا نہیں تھا۔ اسے جلد ازجلد کارلیون ”فیملی“ کے محفوظ قلعے میں پہنچنے کی کوشش کرنی چاہیے تھی۔

”میں اپنی سی پوری کوشش کروں گا۔“ وہ سولوزو سے مخاطب ہوا۔

”میرا خیال ہے تم ٹھیک کہہ رہے ہو۔ تمہاری بات میں وزن اور معقولیت ہے۔ شاید ”ڈان“ کی روح بھی یہی چاہ رہی ہوکہ ہم تمہاری تجویز پر عمل کریں۔“

سولوزو نے طمانیت سے سر ہلایا اور بولا: ”بالکل ٹھیک! مجھے خونریزی پسند نہیں ہے۔ میں ایک کاروباری آدمی ہوں۔ جنگجوئی کی طرف مجبوراً آتا ہوں۔ خونریزی سب کو بہت مہنگی پڑتی ہے۔“

اسی لمحے فون کی گھنٹی بج اٹھی۔ ہیگن کے عقب میں بیٹھا ہوا آدمی فون سننے کے لیے اٹھ گیا۔ اس نے ریسیور اٹھایا۔ چند لمحے کچھ سنتا رہا پھرتیکھے لہجے میں بولا: ”ٹھیک ہے، میں اسے بتا دیتا ہوں۔“

اس نے فون بند کیا، پھر سولوزو کے قریب آکر اس کے کان میں کچھ کہا۔ ہیگن نے دیکھا کہ اس کی سرگوشی سن کر سولوزو کے چہرے پر زردی نمودار ہوگئی تھی لیکن اس کی آنکھوں میں گویا غیظ وغضب کی چنگاریوں کو ہوا ملنے لگی تھی۔ وہ پرخیال انداز میں ہیگن کی طرف دیکھنے لگا تھا۔ اس کی نظریں بدل گئی تھیں۔ ہیگن کے جسم میں خوف کی ایک نئی لہر دوڑ گئی۔ اسے گویا کسی غیبی طاقت نے احساس دلایا کہ شاید اب اسے آزاد نا کیا جائے۔ شاید کوئی ایسی بات اب ہوچکی تھی جس کی وجہ سے اب اسے ہلاک کیا جاسکتا تھا۔

آخر سولوزو بول ہی اٹھا: ”ڈان ابھی زندہ ہے۔۔۔! پانچ گولیاں اس کمبخت بڈھے کے جسم میں پیوست ہوئیںاس کے باوجود وہ نہیں مرا۔۔۔!“

پھر اس نے کندھے جھٹکے اور خاص طور پر ہیگن سے مخاطب ہوا:

”یہ تمہاری بھی بدقسمتی ہے۔۔۔ اور میری بھی۔۔۔“

*

مائیکل کارلیون جب لانگ بیچ کی اس سڑک پر پہنچاجس پر ”فیملی“کے آٹھ حویلی نما مکانات تھے تو اس نے دیکھا کہ ان مکانات کی طرف جانے والے راستے کا تنگ دہانہ ایک موٹی زنجیر کے ذریعے بند کردیا گیا تھا۔ تمام مکانوں پر نصب فلڈ لائٹس روشن تھیںاور گھروں کے سامنے دن کی طرح روشنی تھی۔ اس روشنی میں ان مکانوںکے سامنے آٹھ دس کاریں کھڑی نظر آرہی تھیں۔

جس زنجیر کے ذریعے داخلی دہانے کے تنگ سرے کو بند کیا گیا تھا، اس سے ٹیک لگائے دو آدمی کھڑے تھے جنہیں مائیکل نہیں پہچانتا تھا۔

ان میں سے ایک نے پوچھا:

”کون ہوتم؟“ اس کا لہجہ بروکلین والوں جیسا تھا۔

مائیکل نے اپنا تعارف کرایا۔ اسی اثنا میں قریب ترین مکان میں سے ایک شخص نکل آیا۔ اس نے قریب ہوکر مائیکل کا چہرہ غور سے دیکھااور گویا تصدیق کی۔ ”ہاں۔۔۔ یہ ڈان کا سب سے چھوٹا بیٹا ہے۔ میں اسے اندر لے جاتا ہوں۔“

ان دونوں آدمیوں نے چند سیکنڈز کے لیے زنجیر ہٹادی اور مائیکل تیسرے شخص کے ساتھ اپنے باپ کے مکان تک پہنچا۔ وہاں دو آدمی گیٹ پر تعینات تھے۔ انہوں نے دیکھ کر کوئی سوال کیے بغیر اندر جانے دیا۔

مائیکل کو گھر میں جابجا ایسے آدمی دکھائی دیے جن کے چہرے اس کے لیے اجنبی تھے۔ وہ ان سے صحیح طور پر واقف ہونا تو درکنار، صورت آشنا بھی نہیں تھا۔ البتہ جب وہ لانگ روم میں پہنچا تو اسے ایک صوفے پر ہیگن کی بیوی ٹریسا بیٹھی دکھائی دی۔ وہ مضطربانہ انداز میں سگریٹ پی رہی تھی۔ صوفے کے دوسرے سرے پر بھاری بھرکم مینزا بیٹھا تھا۔ اس کے چہرے سے کسی قسم کے تاثرات کا اظہار نہیں ہورہا تھا تاہم اس کی پیشانی اور رخساروں پر پسینہ تھا اور وہ ایک سگار کے کش لے رہا تھا۔

مینزا نے اٹھ کر ہاتھ ملاتے ہوئے اس سے بات شروع کی تو اس کا انداز تسلی دینے کا ساتھا۔ ”پریشان نا ہونا۔۔۔ تمہارے پاپا بالکل ٹھیک ہوجائیں گے۔۔۔ تمہاری ماما اسپتال میں ان کے پاس ہیں۔“

گیٹو بھی وہاں موجود تھا۔ اس نے بھی اٹھ کر مائیکل سے ہاتھ ملایا۔ مائیکل نے گہری نظر سے اس کا جائزہ لیا۔ اسے معلوم تھا کہ گیٹو اس کے باپ کا باڈی گارڈ تھا لیکن اسے یہ معلوم نہیں تھا کہ آج وقوعہ کے وقت طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے گھر پر تھا۔ تاہم اس نے گیٹو کے سوکھے ہوئے چہرے پرتنائو کی کیفیت محسوس کرلی۔ یہ کوئی حیرت کی بات نہیں تھی۔

یہ بھی پڑھیں:   گاڈ فادر (12)

گیٹو کے بارے میں تاثر یہی تھا کہ وہ انتہائی پھرتیلا، مستعد اور ذمہ دار آدمی تھا۔ اگر کوئی مشکل کام بھی اس کے ذمہ لگایا جاتا تو وہ آسانی سے اسے انجام دیتا تھااور اس میں کوئی پیچیدگی پیدا نہیں ہونے دیتا تھا۔۔۔ لیکن آج وہ اپنا اہم ترین فریضہ انجام دینے میں ناکام رہا تھا۔ چنانچہ اگر اس کے چہرے سے اضطراب اور تنائو نمایاں تھا تو یہ کوئی تعجب کی بات نہیں تھی۔

مائیکل کو طویل وعریض کمرے میں اور بھی کئی افراد نظر آئے مگر وہ انہیں نہیں پہچانتا تھا۔ وہ مینزا کے آدمی نہیں تھے۔ مائیکل بہرحال ایک ذہین نوجوان تھا۔ کمرے کی صورتحال سے اسے یہ اندازہ لگانے میں دیر نہیں لگی کہ گیٹو اور مینزا کو مشتبہ سمجھا جارہا تھا۔

مائیکل یہی سمجھ رہا تھا کہ گیٹو جائے واردات پر موجود رہا ہوگا۔ اس لیے اس نے گیٹو سے پوچھا: ”فریڈ کی حالت کیسی ہے؟وہ ٹھیک تو ہے؟“

گیٹو کے بجائے مینزا نے جواب دیا: ”ڈاکٹر نے اسے انجکشن لگایا ہے، وہ سورہا ہے۔ “

مائیکل نے ہیگن کی بیوی کے قریب پہنچ کر تسلی دینے کے انداز میں اس کا کاندھا تھپتھپایا۔ وہ دونوں ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ اچھی طرح پیش آتے تھے۔ مائیکل بولا: ”فکر مت کرو۔ ہیگن خیریت سے واپس آجائے گا۔ کیا تمہاری سنی سے بات ہوئی؟“

ٹیریسا نے نفی میں سر ہلایا۔ وہ ایک دبلی پتلی، نازک اندام اور خوبصورت عورت تھی۔ اس وقت خاصی خوفزدہ نظر آرہی تھی۔ مائیکل نے اس کا ہاتھ تھام کر اسے صوفے سے اٹھایااور اپنے ساتھ اس کمرے میں لے گیاجسے ہیگن اور ڈان آفس کے طور پر استعمال کرتے تھے۔

وہاں سنی ریوالونگ چیئر پر میز کے عقب میں نیم دراز تھا۔ اس کے ایک ہاتھ میں رائٹنگ پیڈ اور دوسرے میں پنسل تھی۔ سنی کے علاوہ وہاں صرف ایک شخص ہی موجود تھا۔ مائیکل اسے پہچانتا تھا۔ وہ ٹیسو تھا۔ وہ بروکلین میں رہتا تھا اور اس کی حیثیت ڈان کے لیے متبادل سپہ سالار کی سی تھی۔ اسے دیکھ کر مائیکل سمجھ گیا کہ گھر میں موجود لوگ اس کے آدمی تھے اور اس وقت آٹھ مکانوں پر مشتمل اس رہائشی گوشے کی حفاظت کی ذمہ داری انہوں نے ہی سنبھالی ہوئی تھی۔ ٹیسو کے ہاتھ میں بھی ایک پیڈ اور پنسل تھی۔

سنی نے جب مائیکل اور ٹیریسا کو کمرے میں دیکھا تو اٹھا اور میز کے عقب سے نکل آیا۔ اس نے بھی ٹیریسا کے ہاتھ تھپک کر اسے تسلی دی: ”پریشان مت ہو ٹیریسا ہیگن خیریت سے ہے۔ وہ لوگ اصل میں اس کی زبانی اپنی تجاویز وغیرہ بھجوانا چاہتے ہیں۔ انہیں معلوم ہے وہ صرف ہمارا وکیل ہے۔۔۔ کوئی لڑنے والا آدمی نہیں ہے۔ اس لیے وہ اسے کوئی نقصان نہیں پہنچائیں گے۔ کم ازکم اتنی عقل توانہیں ہوگی۔ اسے گزند پہچانے کی کوئی تک نہیں بنتی۔“

اس کے بعد اس نے مائیکل کو گلے لگا کر اس کا گال چوما جس پر مائیکل کو کچھ حیرت ہوئی کیونکہ بچپن سے لیکر مائیکل کے خاصا بڑا ہونے کے بعد بھی مائیکل موقع بے موقع اس کی پٹائی کرتا آیا تھا۔

”خدا کا شکر ہے تم خیریت سے یہاں پہنچ گئے۔“

سنی بولا۔ ”ماما کو پاپا کے متعلق بتانے کے بعد انہیں تمہارے متعلق کوئی بری خبر بتانے کی ہمت مجھ میں نہیں تھی۔“

”ماما کی حالت کیسی ہے؟“ مائیکل نے پوچھا۔ ٹھیک ہے۔ وہ جرات اور ہمت سے حالات کا سامنا کررہی ہیں۔ وہ اور میں ایسے حالات سے پہلے بھی گزر چکے ہیں۔ تم اس وقت چھوٹے ہی تھے۔ تمہیں حالات کی سنگینی کا اس وقت زیادہ اندازہ نہیں تھا۔۔۔ اور اس کے بعد کافی طویل عرصہ سکون اور آرام سے گزرگیا۔۔۔“

پھر ایک لمحے کے توقف سے وہ بولا: ”ماما اسپتال میں ہیں۔ امید ہے پاپا بچ جائیں گے۔ ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔“

”کیا خیال ہے۔۔۔ ہم بھی اسپتال نا چلیں؟“ مائیکل بولا۔

سنی نفی میں سر ہلاتے ہوئے بولا: ”جب تک یہ معاملہ نمٹ نا جائے، میں گھر سے کہیں نہیں جاسکتا۔“

اس دوران فون کی گھنٹی بج اٹھی۔ سنی فون سننے لگا۔ اس کی توجہ ہٹ جانے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مائیکل میز پر پڑے اس چھوٹے سے رائٹنگ پیڈ پر نظر دوڑانے لگا جس پر سنی کچھ لکھ رہا تھا۔ اس پر فہرست کے سے انداز میں سات نام لکھے ہوئے تھے۔ ان میں پہلے تین نام سولوزو، فلپس ٹے ٹیگ لیااور جون ٹے ٹیگ لیا کے تھے۔ مائیکل کے لیے اس کا مطلب سمجھنا مشکل نہیں تھا۔ اس احساس سے اسے جھٹکا سا لگا کہ جس وقت وہ کمرے میں داخل ہوا اس وقت سنی اور ٹیسو ان افراد کے ناموں کی فہرست بنارہے تھے جنہیں قتل کیا جانا تھا۔

سنی نے فون بند کرنے کے بعد مائیکل اور ٹیریسا کو مخاطب کیا۔ ”اگر تم دونوں دوسرے کمرے میں جا کر بیٹھ جائو تو بہتر ہوگا۔ میں اور ٹیسو یہاں ایک ضروری کام مکمل کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔“

”یہ۔۔۔ ابھی جو فون کال آئی تھی۔۔۔ کیا یہ ہیگن کے بارے میں تھی؟“ ٹیریسا نے ہچکچاتے ہوئے پوچھا۔ اس نے سنی کے سامنے باہمت نظر آنے کی کوشش کی تھی لیکن اس کی یہ کوشش ناکام رہی تھی۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔

سنی اس کے کاندھے پر بازو رکھ کر اسے دروازے کی جانب لے کر جاتے ہوئے بولا: ”تم اس کے بارے میں ذرا بھی فکر نا کرو۔ وہ بالکل ٹھیک ہے تم لیونگ روم میں بیٹھ کر انتظار کرو۔ جیسے ہی مجھے اس کے بارے میں اطلاع ملے گی، میں تمہیں بتادوں گا۔“

(جاری ہے)