ایک ملاقات ضروری ہے - رومانہ گوندل

قائد اعظم محمد علی جناح ایک عظیم لیڈر تھے، آج یہ بات پوری دنیا مانتی ہے۔ لیکن دنیا نے یہ تب تسلیم کیا جب وہ انگریزوں اور ہندوؤں کی سازشوں کو نا کام بنا کرمسلمانوں کے لیے ایک الگ ملک پاکستان حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے اور اپنی منزل پر پہنچ گئے۔ مگر قائد اعظم نے یہ سفر شروع کرنے سے بہت پہلے اپنے آپ کو پہچان لیا تھا کہ محمد علی جناح ہی وہ لیڈر ہیں جو مسلمانوں کو انگریز اور ہندو راج سے آزادی دلا سکتے ہیں۔

اسی سفر کی دوسری اہم شخصیت علامہ محمد اقبال تھے۔ علامہ اقبال ایک عظیم انسان اور بہت بڑے فلاسفر تھے، دنیا آج بھی انہیں پوری طرح سمجھ تو نہیں سکی لیکن ان کی عظمت کو مانتی ضرور ہے۔ لیکن سب سے پہلے جس نے محمد اقبال کو علامہ اقبال دیکھا ، وہ اقبال خود تھے۔ انہوں نے خود اپنے آپ کو جانا اور پہچانا کہ جو سوچ اور بصیرت ان کے پاس ہے، دنیا اس سے محروم ہے اور وہ اپنی شاعری سے ایک محروم اور محکوم قوم کو جگا سکتے ہیں اور انہیں اپنے کھوئے ہوئے مقام کا احساس دلا سکتے ہیں۔ اس لیے اقبال فرماتے ہیں کہ

خدایا آرزو میری یہی ہے

مرا نور ِ بصیرت عام کر دے

اور پھر تاریخ گواہ ہے ان دو لوگوں کی سوچ نے مسلمانوں کو متحد کر کے کھڑا کر دیا اور اس جذبے نے ہندوستان کو دو ٹکڑے کر دیا اور انگریز اور ہندو راستہ نہ روک سکے۔

دنیا آپ کوجانے یا مانے، یہ بعد کی بات ہے۔ سب سے پہلے آپ خود اپنے آپ کو پہچانیں کہ آپ کے اندر ایک فلاسفر، لیڈر، شاعر، ادیب، فوجی، ڈاکٹر یا ایک مذہبی سکالر میں سے کون ہے؟ اس لیے خود سے ایک ملاقات ضروری ہے جس میں اپنا تعارف کریں، اپنی صلاحیتیوں کو پہچانیں اور مانیں۔ کامیابی کے سفر کی پہلی سیڑھی یہی ہے کہ انسان اپنی خوبیوں اور خامیوں سے آ گاہ ہو۔ اس پہلی سیڑھی پہ قدم رکھیں لیکن حقیقت پسندی سے۔ نہ تو خود کو اتنا اوپر لے جائیں کہ ہر خوبی آپ کو اپنے اندر ہی نظر آ نے لگے اور نہ اتنا نیچے کہ اپنے آپ میں کوئی خوبی نظر ہی نہ آئے۔ اگر آپ ان دونوں میں سے کسی بھی کیفیت میں ہیں تو ایک بار پھر اپنا جائزہ لیں کیونکہ نہ تو ایک انسان میں ہر خوبی ہو سکتی ہے کیونکہ کاملیت صرف اللہ رب العزت کا خاصا ہے۔ نہ انسان ہر خوبی سے عاری ہو سکتا ہے کیونکہ یہ اشرف امخلوقات کا معیار نہیں۔

خود شناسی کے اس سفر میں اپنی کمزوریوں سے نظریں نہ چرائیں بلکہ ان کا سامنا کریں جب تک خامیوں کا سامنا نہ کیا جائے انسان بہادر نہیں ہو سکتا اور جب تک انسان بہادر نہ ہو وہ اپنے ٹیلنٹ سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔ اس لیے آج سے کامیابی کا سفر شروع کریں اپنی غلطیوں کو قبول کریں اور انہیں درست کریں۔ جھوٹے دلائل کے پردے ڈال کے چھپانے کی کوشش نہ کریں۔ اور اپنی خوبیوں کو تلاش کریں اور انہیں محنت کی پالش سے چمکائیں۔ وہ دن دور نہیں جب آپ دنیا کے لیے ایک مثال بن جائیں۔ ہم قائد اعظم اور علامہ اقبال نہیں ہیں، نہ بن سکتے ہیں لیکن اپنے دائرہ کار میں زندگی کا کوئی نہ کوئی مقصد ضرور ہونا چاہیے جو خود کو پہچانے بغیر ممکن نہیں۔