فیض مرچکے ہیں - محمد حسان

ایکسکیوزمی ! میں مسٹر فیض کو دیکھنے آئی ہوں، وہ یہاں کب آئیں گے؟

فیض تو مر چکے ہیں!

اوہ۔۔۔ سوری!

انگریزی میں ہونے والا یہ مکالمہ لاہور کی مہنگی نجی یونیورسٹی کی طالبہ اور ایک خاتون رپورٹر کے درمیان تھا۔ طالبہ بڑی دور سے الحمرا ہال میں سجے 'فیض فیسٹول' میں پہنچی تھی۔ اس نے بتایا کہ وہ فیض سے بہت متاثر ہے، وہ جانتی ہے کہ فیض بہت بڑے شاعر ہیں۔۔۔ مگر فیض تو مر چکے۔ یہ سن کر اس کے منہ سے "سو سیڈ" نکلا اور ایک لمحہ کے لیے افسردگی کا ہلکا تا ثر دے کر وہ فیسٹول کی رنگینیوں میں گم ہوگئی کہ یہاں اس کے لیے خاصا "فن " موجود تھا۔ میں نے اپنے کچھ دوستوں سے پوچھا فیسٹول میں جانے کے لیے تو ایک سینئر پروڈیوسر نے بتایا کہ کہ اس نے اپنی بیگم کو کہا ساتھ چلنے کو، جس پر بیگم نے پوچھا کہ کتنی ڈسکاؤنٹ لگی ہے؟

فیض میلے میں دوسرے اور تیسرے روز چکر لگا۔ تیسرے روز اس قدر رش تھا کہ پارکنگ کی جگہ نہ تھی۔ دوست سید علی عمران کے ساتھ کچھ فاصلے پر باغ جناح میں گاڑیاں پارک کیں۔ اندر بھی غیر معمولی رش تھا۔ میں نے کہا یہ تو انار کلی بازار جیسا شدید رش لگ رہا ہے۔ ایک ہال کے گرد لمبی قطاریں اور لوگوں کا جم غفیر تھا۔ میں نے عمران سے کہا دیکھیں لوگ فیض کے لیے کس قدر بے تابی سے ہال میں جانے کے لیے لائنوں میں لگے ہیں۔ وہ حیران تھا۔ کچھ دیر بعد پتہ چلا کہ ماہرہ خان اور فواد خان آئے ہیں۔ پھر اس شدید رش اور بے تابی کی وجہ سمجھ آئی۔

بہر حال فیض امن میلہ لاہورمیں ایک اچھی تفریحی سرگرمی تھی، شہریوں نے خوب انجوائے کیا۔ ساتھ ہی لگے فوڈ فیسٹول اورآرام سے بیٹھ کر کھانے پینے کی سہولت نے لوگوں کو دیر تک محفل جمائے رکھنے کی سہولت دیے رکھی۔ جتنے بھی لوگ ملے سب کا یہی کہنا تھا کہ یہاں آکر اچھا لگا، آؤٹنگ ہو گئی، یہ واحد نکتہ تھا جس پر سب کو اتفاق تھا۔

دھواں اڑاتی چائے،گرم سینڈوچز، گھومنے پھرنے، خوش گپیوں اور سیلفیوں کے بعد ذرا سنجیدہ ڈسکشن کی روداد بھی سنیے۔

رپورٹر دوست عمیر احمد نے بتایا کہ ایک سیشن اٹینڈ کیاہے۔ اعتراز احسن، افراسیاب خٹک تو پچھلے سال بھی تھے جبکہ اسد عمر نئے مہمان تھے۔ عمیر اچانک برہم سا ہوگیا، کہنے لگا کوئی نئی بات نہیں کرتے پچھلے سال بھی یہی لوگ تھے، وہی گھسی پٹی باتیں دہراتے رہتےہیں۔ پاکستان میں ہر خرابی اور برائی کا ذمہ دار ضیاء الحق ہے، یہی لب لباب ہوتا ہے سارے سیشنز کا۔ اس کا کہنا تھا کہ ضیا کو مرے تین دہائیاں بیت گئیں، پیپلزپارٹی اور ن لیگ کی حکومتیں آئیں، روشن خیال ڈکٹیٹر شپ بھی آئی۔ اگر خرابیاں ضیاء کی پیدا کردہ تھی تو تیس سالوں میں انہوں نے نئی پالیسیاں کیوں نہیں بنائیں؟ مطالعہ پاکستان اگر فرسودہ ہے تو بدل دیتے، کس نے روکا ہے؟ کہنے لگا کہ یہ سوالات پچھلے سال سیشن میں ہوئے تو ان لوگوں سے جواب نہ بن پائے، اس سال یہی باتیں دوہرا کر بغیر سوال و جواب کیے چل دیے۔

فاروق بھٹی حقیقی آرٹسٹ اور نہایت دل آویز شخصیت کے مالک ہیں ان کے ساتھ باتوں کی خوب محفل جمی۔ انگریزی ادب میں ماسٹر کامران رفیع الگ ہی نکتہ نکالنے کے ماہر ہیں، ذرا گھومنے کے بعد کامران نے مجھے اپنا اسٹیٹس پڑھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ"مجھے یہ خیال بالکل مضحکہ خیز لگتا ہے کہ کمیونسٹ فساد مچانے والوں کے نام پر امن میلے منعقد کیے جائیں ، لینن امن میلہ یا فیض امن میلہ ! یہ ان لاکھوں مقتولوں کے ساتھ مذاق ہے جنہیں کمیونسٹ تحریک کے دوران قتل کیا گیا ۔ مجھے یہ امن کے ساتھ اسی طرح مذاق لگتا ہے جیسے کوئی داعش امن میلہ منعقد کررہی ہو۔"

میں نے اس پر کہا کہ " جناب آپ بھی حد کرتے ہیں۔ انہوں نے کروڑوں کا سرمایہ لگا کر ماضی کی خونی وارداتوں کو امن کی چادر میں ڈھانپا ہے، آپ کے ایک جملے نے ان کا چنگیزی چہرہ بے نقاب کر دیا ۔" پھر میں نے کامران سے کہا کہ ماضی کی خونی واردات کا آج کی نسل کو کیا معلوم؟ اس لیے اشاروں کنایوں کے بجائے تفصیل سے پورا واقعہ بیان کریں۔ اب دیکھیے کہ اس پر وہ کب لکھتے ہیں؟

تیسرے روز اختتام پر عافی، انعم، خرم عباس، عمر دراز اور عبیداللہ صدیقی کے ساتھ محفل جمی۔ انعم واحد لڑکی ہو گی جس نے فیض میلے کے تمام سیشنز انتہائی دلجمعی اور ذوق وشوق سے اٹینڈ کیے۔ کہتی ہیں کہ فیض میرا "لو"، جون ایلیا میرا عشق اور امجد اسلام امجد میرا کرش ہیں۔ فاروق بھٹی نے پوچھا تھا کہ پابجولاں چلو کا مطلب آتا ہے؟ کہنے لگی نہیں!

عمر دراز اور عبیداللہ صدیقی دونوں ہی نیوز اینکرز ہیں۔ سیاسی حرکیات سے واقف اور نظریاتی مباحث سے آگاہ، اس لیے گپ شپ کا مزا رہا۔ میں نے کہا کہ فیض نے جس سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف زندگی بھر جدوجہد کی، اس کے پیروکار اسی کیپٹل ازم کے اسٹیک ہولڈر بنے فیض کو بیچ رہےہیں۔عمر دراز نے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ ہم بھی ایسی ہی بات کر رہے تھے۔ نظریات اور نظریاتی مباحث ختم ہوئیں، اب صرف مفاد اور سرمایہ سمیٹنے کی دوڑ ہے۔ پھر کہنے لگا کہ جس طرح کہا جاتا ہے کہ جمہوری عمل چلتا رہے تو جمہوریت مضبوط ہوگی۔ اسی طرح اگر فیض میلہ بھی تواتر کے ساتھ ہوتا رہے تو شاید آنے والے سالوں میں فائدہ ہوگا۔ میں اور عبیداللہ صدیقی اکٹھے ہی بول پڑے کہ بھائی کیا فائدہ ہوگا؟ کھابوں، میوزک، ماہرہ اور فواد کے شوز سے علم، ادب اور نظریات کو حال کیا فروغ مل سکتا ہے؟ آنے والے سالوں میں کچھ اور نئی چیز اور نیا کلچر ضرور جڑ پکڑ کر تناور درخت بن جائے گا۔ فیض عام نہیں ہوگا!

ویسے جاتے جاتے ہنستے مسکراتے ہم نے بھی آپس میں کہا کہ بہرحال اچھا ایونٹ تھا، خوب فن تھا اور بہت انجوائے کیا۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com