عبایہ کے نت نئے ڈیزائن - ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

چند روز پہلے مارکیٹ جانا ہوا تو عبایہ کے نت نئے ڈیزائنز پر نظر پڑی جو خود بخود توجہ کھینچتے تھے، لامحالہ عبایہ میں ملبوس خاتون بھی توجہ کا مرکز بن جاتی تھی. کچھ نیٹ کے ڈیزائن تھے اور کچھ پر ستاروں کا نفیس کام تھا.

کرسٹل نگوں کی چھب ایسی نرالی تھی کہ نگاہ ان کی چمک سے خیرہ ہوئی جاتی تھی. دامن اور گھیرا سادہ لیکن عقب میں کمر کی ریڑھ کی ہڈی کے عین اوپر منفرد ترتیب سے دھاگے اور موتیوں کا کام، ہر اٹھتے قدم پر سانپ کی مانند دائیں بائیں ہلکورے لیتا تھا. اس ناگن سی لہراتی چال سے، رقص کا گمان ہوتا تھا. یہ سادہ سی سنٹرل کڑھائی کی سیدھی لکیر، زنانہ پشت کے تمام نشیب و فراز کی وضاحت بہ زبان خامشی ایسے کرتی کہ جس نے کبھی خاتون کے عقب کو درخوراعتنا نہ جانا ہوتا، اس نابینا کو بھی بینائی عطا ہو جاتی.

عبایہ کا ایک نسبتا نیا ڈیزائن بھی عام پہنے دیکھا. کم و بیش ایک پورے تھان پر مشتمل مہین کپڑے کی تین چار تہوں سے بنا دیدہ زیب ڈیزائن، ہر اٹھتے قدم کے ساتھ کپڑے کی مختلف تہوں میں چھپے ڈیزائن لکن میٹی کھیلتے تھے. سب سے اوپر نیٹ، درمیان میں پرنٹڈ کنٹراسٹ، اور پھر ایک مہین سادہ تہہ. ذرا ہوا تیز چلی تو ایسے پھڑپھڑانے لگا جیسے سپر مین ہوا میں اڑ رہا ہو. خوبصورت دلکش نظارہ تھا.

اولڈ انگلش لانگ میکسی اسٹائل عبایہ بھی ان ہے. بےحد دیدہ زیب. چلتے چلتے پیروں سے لپٹتا کھلتا گھیردار دامن، ہر قدم پر خاتون کی قدم بوسی کرتا، نظر کے ساتھ ساتھ اپنے دامن میں راستے کے کنکر پتھر بھی سمیٹے چلتا ہے. کچھ یاد پڑتا ہے کہ لباس کی طوالت میں زمین پر گھسٹتا کپڑا منع کیا گیا ہے.

سلکی ریشمی لباس جسم کے خطوط پر اس طرح ڈھلتا ہے کہ بجائے چھپنے کے ابھرنے کا ساماں بنا دیتا ہے. اوڑھنی پھیلانے کا حکم کیوں دیا گیا ہے اس کی حکمت جانیے.

عبایہ کی سلائی کے ایسے ڈیزائن آنے لگے ہیں جس میں زیر جامہ کو عبایہ کے ڈیزائن کا نمایاں حصہ بنا دیا گیا ہے. جسے نہاں ہونا تھا اسے عیاں کرنا مقصود ہو جیسے. حتی کہ ساڑھی کے سے انداز میں سلے عبایہ پر بھی نظر پڑی. دلفریب منظر تھا.

کیونکہ رنگ کی قید نہیں سو رنگوں اور ڈیزائن کے نت نئے استعمال نے بھی منفرد عبایہ کی مالک کی علیحدہ شناخت ممکن بنا دی ہے، اب کالج سے واپس آتی برقعہ پوش سہیلیوں میں سب کی اپنی شناخت آسان ہے.

عبایہ کے ساتھ ہیئر بینڈز کے ڈھیر سے بنائی اونچی پونی یا جوڑے کے ارد گرد لپیٹا حجاب بھی بہت خوبصورت لگتا ہے. ساتھ میں لمبا سا لائنر اور ہلکا پھلکا پارٹی میک اپ کیا گیا تو حجاب اور عبایہ بجائے خود پارٹی ڈریس بن جاتے ہیں.

میرے ساتھ چند ایرانی اسٹوڈنٹ بھی پڑھا کرتی تھیں. لانگ اوور کوٹ کی طرز پر بنے مختلف رنگوں کے کوٹ نما عبائے اور ہم رنگ سکارف سے وہ مکمل سنجیدہ پروفیشنلز لگا کرتیں. ملائشین لیڈی ڈاکٹرز نے لانگ سکرٹس کے اور سر اور کندھے کو مکمل کور کرنے والا سلا سلایا حجاب لیا ہوتا یا کپڑا لپیٹ کر پن کیا ہوتا. ساتھ میں اوور آل پہن لیتیں. محترم اور معزز نظر آتیں.

سکارف، حجاب، برقع، عبایہ، ان سب کا مقصد چھپانا ہے اچھالنا نہیں. اچھی طرز پر سلے خوش رنگ عبائے کو اپنے لیے پسند کیجیے لیکن اس کا مقصد ضرور سامنے رکھیے.

اور ایمان والی عورتوں سے کہہ دیجیے کہ اپنی نظروں کو نیچا کر لیا کریں اور اپنی عصمت کی حفاظت کریں اور اپنی زیبائش کی نمائش نہ کریں سوائے اس کے جو اس میں سے ظاہر ہے اور چاہیے کہ وہ اپنی اوڑھنیاں اپنے سینوں پر لیں اور اپنی زیبائش کسی پر ظاہر نہ کریں سوائے اپنے شوہروں کے یا اپنے باپ کے یا اپنے سسر کے یا اپنے بیٹوں کے یا اپنے سوتیلے بیٹوں کے یا اپنے بھائیوں کے یا اپنے بھتیجوں کے یا اپنے بھانجوں کے یا اپنی عورتوں کے یا ایمان میں (ہجرت کرکے) اپنی سرپرستی میں آنے والوں کے یا اپنے ایسے تابع فرمان مردوں کے جو کوئی خواہش نہ رکھتے ہوں یا ان بچوں سے جنہیں جنسی شعور نہ ہو اور اپنے پاؤں اس انداز سے نہ ماریں کہ انکی چھپی ہوئی زینت پہچانی جاۓ اور اے ایمان والوں سب اللہ کے حضور توبہ کرو تاکہ تم فلاح پاؤ.
(24:31)

Comments

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

دل میں جملوں کی صورت مجسم ہونے والے خیالات کو قرطاس پر اتارنا اگر شاعری ہے تو رابعہ خرم شاعرہ ہیں، اگر زندگی میں رنگ بھرنا آرٹ ہے تو آرٹسٹ ہیں۔ سلسلہ روزگار مسیحائی ہے. ڈاکٹر ہونے کے باوجود فطرت کا مشاہدہ تیز ہے، قلم شعر و نثر سے پورا پورا انصاف کرتا ہے-

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.