ایبٹ آباد آپریشن، کتنی حقیقت کتنا فسانہ؟ حامد میر کا اہم انٹرویو، آخری حصہ

پرنٹ و الیکٹرونک میڈیا میں معروف نام حامد میر کے ساتھ خصوصی انٹرویو

انٹرویو: جمال عبداللہ عثمان


پہلی قسط پڑھیں
دوسری قسط پڑھیں
دلیل: صحافت میں کس نے زیادہ متاثر کیا؟ کون سی شخصیات ہیں جنہیں اساتذہ کا مقام دیتے ہیں؟

حامد میر: صحافت کے مختلف پہلو ہیں۔ رپورٹنگ ایک الگ شعبہ ہے۔ نیوز روم میں جو لوگ کام کرتے ہیں، ان کا مختلف کام ہے۔ کالم نگاری بالکل الگ ہے۔ میں یہاں ایک غلط فہمی دور کردوں۔ ہمارے ہاں یہ تاثر ہے کہ جو کالم نگار ہے، وہی صحافی بھی ہے۔ اسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے اکثر مشہور کالم نگار صرف کالم لکھتے ہیں، مگر صحافی نہیں۔ ان کا اصل پیشہ کچھ اور ہے۔ مثلاً: میں آپ کو مثال دیتا ہوں۔ ایاز امیر صاحب کسی زمانے میں صحافی رہے، لیکن اب وہ ایک سیاست دان ہیں۔ سیاست کے ساتھ ساتھ کالم لکھتے ہیں تو لوگ انہیں بھی صحافی سمجھتے ہیں۔ بابر اعوان صاحب آج کل کالم لکھتے ہیں، اس وقت ان کی پہچان سیاست ہے، صحافت نہیں۔ عطاء الحق قاسمی صاحب یا منو بھائی بھی کالم لکھتے ہیں، لیکن ”ورکنگ جرنلسٹ“ کے زمرے میں نہیں آتے۔

نائن الیون کے بعد اُسامہ بن لادن کا انٹرویو کیا تو صحافت کے حلقوں میں دو اہم شخصیات؛ مجید نظامی صاحب اور احمد بشیر صاحب نے بہت شاباش دی۔

ورکنگ جرنلسٹ میں رپورٹر، سب ایڈیٹر یا کیمرہ مین آتے ہیں۔ کیمرہ مین، جنہیں ہمارے ہاں زیادہ پذیرائی نہیں ملتی۔ لاہور کے سینئر کیمرہ مین عارف نجمی صاحب نے 1985ء میں نواز شریف کی پہلی ماڈلنگ کی۔ اظہر جعفری صاحب مرحوم ڈان کے کیمرہ مین تھے۔ لمبا قد، کسی بھی ہنگامے میں گھس جاتے اور بہت اچھی تصویریں کھینچ لاتے۔ اسی طرح لاہور میں خالد چوہدری، اسلام آباد میں اسحق چوہدری۔ جہانگیر چوہدری اچھے کیمرہ مین ہیں۔ جیو نیوز کے کیمرہ مین عمران الیگزینڈر نے دنیا کے بہت سے جنگ زدہ علاقوں میں میرے ساتھ کام کیا۔ میں یہ نام اس لیے گنوارہا ہوں کہ صرف اینکر پرسن اور کالم نگار صحافت کی پہچان نہیں۔ یہ صحافت کا حصہ ضرور ہیں، لیکن ہم نے ان لوگوں کو ہی صحافت کی پہچان بنادیا ہے۔

میں نے جن لوگوں سے بہت کچھ سیکھا، ان میں کئی نام ہیں۔ نثار عثمانی صاحب اور احمد بشیر صاحب۔ احمد بشیر صاحب ہمارے لیے مزاحمت کی علامت تھے۔ جنرل ضیاء الحق نے پابندی عائد کردی تو ”دلا بھٹی“ کے نام سے لکھنا شروع کردیا۔ یہ نام بھی پابندی کی زد میں آیا تو ”احمد خان کھرل“ کے نام سے سامنے آئے۔ اس پر بھی لگی تو ”بلہے شاہ“ کے نام سے لکھنے لگ گئے۔ ہمیشہ میری بڑی حوصلہ افزائی کرتے۔ مجھے آج تک یاد ہے جب میں نے نائن الیون کے بعد اُسامہ بن لادن کا انٹرویو کیا تو صحافت کے حلقوں میں دو اہم شخصیات تھیں جنہوں نے مجھے بہت شاباش دی اور میری حوصلہ افزائی کی۔ ایک مجید نظامی صاحب، حالانکہ ان کے اخبار میں میرا انٹرویو شائع نہیں ہوا۔ دوسرے احمد بشیر صاحب، انہوں نے خصوصی طور پر مجھے لاہور بلایا اور اپنے بچوں کو ساتھ بٹھاکر ان کے سامنے شاباش دی۔

”ویلڈن! تم نے بہت اچھا کام کیا۔“ ان کے الفاظ مجھے یاد ہیں۔

کالم نگاری میں جنہیں سامنے رکھ کر اس راستے پر چلنے کی کوشش کی، ان میں منو بھائی خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔

حسین نقی صاحب سے بہت کچھ سیکھا۔ ضیاء شاہد صاحب سے سیکھا سرخی کیسے نکالتے ہیں؟ اسی طرح اس زمانے میں خاور نعیم ہاشمی صاحب تھے۔ جواد نذیر صاحب یاد آرہے ہیں۔ یہ نیوز روم کے لوگ تھے۔ عباس اطہر صاحب کے ساتھ کام نہیں کیا، لیکن ان کے ساتھ ایک عقیدت مندی تھی۔ ان سے قربت کی وجہ سے بہت کچھ سیکھا۔ صحافت میں بطورِ ایڈیٹر دیکھوں تو ڈان کے ایڈیٹر احمد علی خان صاحب بہت اچھے ایڈیٹر تھے۔ ڈان ہی کے نیوز ایڈیٹر سلیم عاصمی صاحب کا نام لوں گا۔

نذیر ناجی صاحب نے بڑی حوصلہ افزائی کی۔ عطاء الحق قاسمی صاحب سے ایک بار انٹرویو میں پسندیدہ کالم نگار کا پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا: ”حامد میر!“ مجھے آج تک اس کی سمجھ نہیں آئی انہوں نے یہ کیسے کہہ دیا تھا۔ یہ بیس سال پہلے کی بات ہے۔ ایک نوجوان کے لیے یہ بہت بڑی بات تھی کہ ایک بہت سینئر کالم نگار اس انداز سے حوصلہ افزائی کرے۔

دلیل: کالم نگاری میں کس سے متاثر رہے؟

حامد میر: کالم نگاری میں جنہیں سامنے رکھ کر اس راستے پر چلنے کی کوشش کی، ان میں منو بھائی خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ یہ آج کے منو بھائی نہیں۔ اب ان کی صحت ٹھیک نہیں۔ بہت کم اور مختصر سا لکھتے ہیں۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جب ان کا کالم لوگوں کو رُلاتا یا ہنساتا تھا۔ منو بھائی ہمارے آئیڈیل تھے۔ ابھی بھی ان کے ساتھ عقیدت مندی ہے۔

دلیل: سیکریٹ فنڈ تو اب نہیں رہا، البتہ آپ نے ایک فہرست کا ذکر کہیں کیا تھا، جس میں زاہدہ حنا صاحبہ کا نام بھی تھا، کیا اب بھی صحافیوں اور لکھنے والوں پر نوازشات ہوتی ہیں؟

حامد میر: مشاہد حسین صاحب نواز شریف کے دوسرے دورِ حکومت میں وزیر اطلاعات تھے۔ ان کی وزارت سے ہمارا رپورٹر ایک فہرست اُٹھا لایا۔ اس میں ان لوگوں کے نام تھے، جنہیں حکومت سے پیسے ملتے رہے۔ اس میں زاہدہ حنا صاحبہ کا نام بھی تھا۔ اب یہ معلوم نہیں کہ انہیں پیسے ملے تھے یا نہیں، لیکن نام ان کا تھا۔ میں نے اپنے اخبار میں ان کا نام چھاپ دیا۔ اس کی تردید انہوں نے نہیں کی۔ ان میں سے کچھ نام اب دنیا میں نہیں، اس لیے ذکر کرنا مناسب نہیں۔ ایک صحافی ایسے تھے جو کینسر کے مرض میں مبتلا تھے اور انہیں علاج کے لیے پیسے ملے۔ اس میں صالح ظافر صاحب کا بھی نام تھا۔ ان کا نام ویسے ہر فہرست میں ہوتا ہے۔ جب کافی سالوں بعد میں نے سپریم کورٹ میں ایک رٹ پٹیشن دائر کی کہ میڈیا کا احتساب ہونا چاہیے، وزارتِ اطلاعات کا سیکرٹ فنڈ ختم ہونا چاہیے۔ عدالت نے ان لوگوں کی فہرست منگوائی، جنہوں نے پیسے لیے تھے۔ وہ فہرستیں آئیں ان میں پھر صالح ظافر کا نام آگیا۔ کچھ نام غلط بھی تھے، انہوں نے تردید کردی۔ وہ سیکریٹ فنڈ اب تو ختم ہوگیا ہے، لیکن اب دوسرے طریقوں سے حکومت یہی کام کرتی ہے۔ کچھ کو عہدے دے دئیے جاتے ہیں، وہ اس طرح بک جاتے ہیں۔

مریم نواز کچھ فقرے اچھے بول لیتی ہیں، لیکن بے نظیر بھٹو بننے کے لیے بہت جدوجہد کی ضرورت ہے۔ مریم نواز کو اپنا مطالعہ وسیع کرنا چاہیے۔

دلیل: مریم نواز کا کوئی سیاسی مستقبل دیکھتے ہیں؟ کیا واقعی اپنے والد کی جانشین بن سکتی ہیں؟

حامد میر: مریم نواز کو چاہیے کہ اپنا مطالعہ وسیع کریں۔ دوسرا، اپنے سیاسی حلقہ احباب میں ایسے لوگوں کو شامل کریں، جن کا اپنا بھی کوئی سیاسی تجربہ ہو۔ فی الحال ان کے اردگرد ایسے لوگ زیادہ ہیں، جن کا کوئی سیاسی تجربہ نہیں۔ اس وقت ان کی پہچان یہی ہے کہ وہ نواز شریف کی بیٹی ہیں۔ ان کے کچھ ساتھی زبردستی بے نظیر بھٹو کے ساتھ ان کا موازنہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مریم نواز کو یاد رکھنا چاہیے کہ بے نظیر بھٹو بننے کے لیے کئی سال تک جلاوطنی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جیل جانا پڑتا ہے۔ سڑکوں پر ڈنڈے کھانے پڑتے ہیں۔ ہر طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا ہوتا ہے۔ اب تک میں نے نہیں دیکھا کہ ان میں سے کسی ایک کا بھی سامنا کرنا پڑا ہو۔ اللہ انہیں مشکلات سے بچائے، لیکن بے نظیر بھٹو بننے کے لیے بہت جدوجہد کی ضرورت ہے۔ اگر وہ واقعی سیاست میں اپنا مقام بنانا چاہتی ہیں تو میرا سب سے اہم مشورہ انہیں یہی ہے کہ اپنا مطالعہ وسیع کریں۔ بے نظیر بھٹو کا مطالعہ بہت وسیع تھا۔ وہ جب گفتگو کرتیں تو ہم جیسے انہیں سنتے تھے کہ سیکھنے کو کچھ ملے گا۔ مریم نواز کچھ فقرے اچھے بول لیتی ہیں، لیکن ابھی بہت جدوجہد کی ضرورت ہے۔ انہیں پاکستان کی تاریخ پڑھنی چاہیے۔ ان کے والد جو بات کرتے ہیں کہ میں نظام بدلنا چاہتا ہوں تو انہیں یہ بھی پڑھنا چاہیے کہ دنیا میں نظام کیسے بدلے ہیں؟ انقلاب کس طرح آتے ہیں؟ انقلاب کا لفظ استعمال کرنا ضروری ہے، لیکن اگر اسے استعمال کرنے سے پہلے انقلابِ فرانس، انقلابِ روس اور انقلابِ ایران کی تاریخ پڑھ لیں تو بہت اچھا ہوگا۔

بے نظیر بھٹو صاحبہ نے اپنی آخری ملاقات میں مجھ سے کہا تھا کہ اگر مجھے قتل کیا گیا تو میرے قتل کے ذمہ دار پرویز مشرف ہوں گے۔

دلیل: پرویز مشرف نے کچھ دن پہلے ایک ویڈیو پیغام جاری کیا کہ آصف علی زرداری بی بی کے قتل کا ذمہ دار ہیں؟

حامد میر: محترمہ نے اپنی آخری ملاقات میں مجھ سے کہا تھا کہ اگر مجھے قتل کیا گیا تو میرے قتل کا ذمہ دار پرویز مشرف ہوگا۔ وہ مجھے پاکستان سے واپس بھیجنا چاہتے ہیں۔ اس لیے میں نے ان کے ساتھ اپنا این آر او ختم کردیا ہے۔ میری پاکستان آمد کو وہ خلاف ورزی کہتے ہیں۔ مجھے کہتے ہیں ”کوئی قتل کروادے گا۔“ اور مجھ سے میری سیکیورٹی بھی واپس لے لی ہے۔ جس دن انہیں قتل کیا گیا، اس رات کو ڈی جی آئی ایس آئی ندیم تاج صاحب محترمہ بے نظیر بھٹو کو زرداری ہائوس جاکر ملے۔

انہیں کہا کہ ”بی بی آپ کی جان کو خطرہ ہے۔“

”آپ کو چاہیے تھا کہ آپ مجھے یہ کہتے کہ بی بی لیاقت باغ راولپنڈی میں آپ کی جان کو خطرہ ہے، لیکن آپ فکر نہ کریں آپ وہاں جلسہ ضرور کریں، ہم مل کر دہشت گردوں کو شکست دیں گے۔“ بی بی شہید نے انہیں کہا۔

بی بی نے کہا: ”آپ کے بجائے آپ مجھے ڈرارہے ہیں کہ میں سرینڈر کروں۔ میں دہشت گردوں کے سامنے گردن نہیں جھکائوں گی۔“ وہ چلی گئیں اور شہید ہوگئیں۔

جو سیاست دان فوج کو مداخلت کی دعوت دیتا ہے، وہ اصغر خان بن جاتا ہے۔

بی بی کے قتل کے بعد پرویز مشرف کے قریبی لوگوں نے جائے وقوعہ کو ایک گھنٹے کے اندر دھودیا۔ کیوں دھویا؟ میں پاکستان کا وہ واحد صحافی ہوں جو بے نظیر بھٹو صاحبہ کے قتل کی تحقیقات کے لیے بنائے گئے اقوام متحدہ کی انکوائری کمیشن کے سامنے پیش ہوا۔ میں نے وہاں بے نظیر بھٹو صاحبہ کے ساتھ اپنی آخری گفتگو بتائی۔ مشرف صاحب اگر واقعی بے گناہ ہیں تو اپنے خلاف اس الزام کا عدالت میں سامنا کیوں نہیں کیا؟ وہ بھاگ کیوں گئے؟ پھر پراسیکیوٹر ذوالفقار چوہدری صاحب کا قتل کیوں ہوا؟ جب الزام لگتا ہے، ایف آئی آر درج ہوتی ہے تو سامنا کرنا چاہیے۔ اگر پرویز مشرف سچے ہیں تو وہ عدالتوں کا سامنا کریں اور اپنے آپ کو بے گناہ ثابت کریں۔ مجھ پر خالد خواجہ صاحب کے اغوا کی ایف آئی آر درج ہوئی۔ اب ہر کسی نے کہا یہ تو سراسر جھوٹ ہے اور بلیک میل کیا جارہا ہے۔ میں نے اپنے آپ کو عدالت کے سامنے پیش کیا اور جب تفتیشی نے بلایا تو تھانے میں بھی چلا گیا۔ میں روز یہ بات کرتا ہوں کہ قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے۔ اگر میرے اوپر ایف آئی آر در ج ہوئی ہے اور میں ہی قانون کی پاسداری نہیں کرتا تو پھر کیسے میں کسی اور کے لیے اس کی توقع رکھوں گا؟ مشرف صاحب کو بھاگنے کے بجائے مقابلہ کرنا چاہیے۔

دلیل: کوثر نیازی کی کتاب ”اور لائن کٹ گئی“ کسی زمانے میں پڑھی۔ یہ تاثر ذہن میں قائم ہوتا ہے کہ جنرل ضیاء الحق ہرگز نہیں آنا چاہ رہے تھے، انہیں مجبور کیا گیا کہ وہ اقتدار پر قبضہ کریں، کیا ایسا نہیں کہ سیاست دان اپنی نااہلی کے نتیجے میں اقتدار پر قبضے کی دعوت دیتے ہیں؟

حامد میر: مولانا کوثر نیازی کے ساتھ میری ذاتی طور پر نیاز مندی تھی۔ میں ان کی رحلت کے بعد بھی بڑی عزت کرتا ہوں۔ لیکن ان کا جو سیاسی نقطہ نظر ہے، اس سے مجھے اتفاق نہیں۔ آپ پروفیسر غفور احمد کی کتاب ”اور پھر مارشل لا آگیا“ اور کوثر نیازی کی کتاب ”۔۔۔اور لائن کٹ گئی“، دونوں کا تقابلی جائزہ لیں تو پتا چلتا ہے کہ 1977ء میں قومی اتحاد اور ذوالفقار علی بھٹو کے درمیان معاملات طے پاگئے تھے۔ لیکن ضیاء الحق کو امریکا نے استعمال کیا۔ یہ تو یقینی بات ہے کہ ضیاء الحق خود نہیں آئے تھے، انہیں امریکا لے کر آیا تھا۔ امریکا ذوالفقار علی بھٹو کو پاکستان کے ایٹمی پروگرام شروع کرنے اور بند نہ کرنے کی سزا دینا چاہتا تھا۔ اس کے لیے امریکا نے پاکستان کے فوجی جنرلوں اور پاکستان کی مذہبی جماعتوں کو استعمال کیا۔ یہ ”ملا ملٹری الائنس“ امریکا نے 1977ء میں بنایا تھا۔ بھٹو صاحب کو اس کی سمجھ آچکی تھی اور وہ قومی اسمبلی کے فلور پر یہ کہہ چکے تھے کہ white elephant is after my life۔ سفید ہاتھی میرے پیچھے لگا ہوا ہے۔ اس زمانے میں آئی ایس آئی کے سربراہ نے ایک امریکی سفارت خانے کی کیبل کے ذریعے اس سازش کا پتا بھی لگالیا تھا۔ خود ہنری کسنجر نے بھٹو صاحب سے کہا تھا کہ ہم آپ کو نشانِ عبرت بنادیں گے۔

اسٹیج پر عمران خان اور اصغر خان دونوں بیٹھے تھے۔ اصغر خان صاحب جب تقریر کے لیے آئے تو انہوں نے ایک بات کہی تھی کہ “مجھے خطرہ ہے کہیں عمران خان کا حال وہ نہ ہو، جو میرا ہوا۔“

یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ اس لیے میں یہ سمجھتا ہوں کہ مولانا کوثر نیازی نے جو باتیں لکھیں، ان کی بنیاد پر ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ سیاست دان فوج کو گھسیٹ کر لاتے ہیں۔ اس وقت کی بات کریں تو سیاست دانوں نے تو سمجھوتا کرلیا تھا۔ البتہ سیاست دانوں سے غلطیاں ضرور ہوتی ہیں۔ مثلاً: 1958ء میں ایوب خان صاحب آئے۔ اس لیے آئے کہ اس وقت پاکستان کی سیاسی حکومتیں بڑی کمزور تھیں اور مسلم لیگ کے اندر سے رپبلکن پارٹی بن گئی تھی۔ آئین تشکیل پاچکا تھا لیکن مسلم لیگ کے اندر بہت اختلافات تھے۔ سہروردی صاحب مسلم لیگ چھوڑکر عوامی لیگ بناچکے تھے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ فوج ٹیک اوور کرلے۔ 77ء میں اصغر خان صاحب نے فوج کو خط ضرور لکھا تھا، لیکن آپ یہ بھی دیکھ لیں کہ جو سیاست دان فوج کو مداخلت کی دعوت دیتا ہے، وہ اصغر خان بن جاتا ہے۔ اصغر خان صاحب ہمارے بزرگ ہیں، اللہ انہیں زندگی دے۔ ان کی سیاست تو ناکام ہوگئی نا۔ پھر وہی اصغر خان تھے جو بے نظیر بھٹو کے ساتھ سیاسی اتحاد بنانے پر مجبور ہوئے۔ یہی کوثر نیازی صاحب زندگی کے آخری دنوں میں پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ لاہور میں کوثر نیازی صاحب نے محترمہ بے نظیر بھٹو کی موجودگی میں پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا لیکن واپسی کے باوجود انہیں وہ عزت اور وہ مقام نہیں ملا۔ اللہ ان کی مغفرت کرے۔

جس طرح نواز شریف سے ایک غلطی ہوئی کہ انہوں نے پرویز مشرف کو باہر جانے دیا، اسی طرح کی ایک بڑی غلطی بے نظیر بھٹو صاحبہ سے ہوئی۔ اگر نہ ہوتی تو آج تاریخ مختلف ہوتی۔

دلیل: اصغر خان کا ذکر چھڑا تو عمران خان یاد آگئے۔ کچھ لوگ دونوں کا موازنہ کرتے ہیں اور یکساں انجام کی پیش گوئی بھی۔ کیا آپ اتفاق کرتے ہیں؟

حامد میر: چند سال پہلے اسلام آباد کے میریٹ ہوٹل میں عمران خان کی کتاب کی تقریب رونمائی تھی۔ اسٹیج پر عمران خان اور اصغر خان دونوں بیٹھے تھے۔ اصغر خان صاحب جب تقریر کے لیے آئے تو انہوں نے ایک بات کہی تھی کہ “مجھے خطرہ ہے کہیں عمران خان کا حال وہ نہ ہو، جو میرا ہوا۔“۔۔۔ بس!!!!

یہ بھی پڑھیں:   عمران خان ڈر گئے؟ ڈاکٹر شفق حرا

دلیل: ہمارے ہاں سیاست میں امریکی مداخلت کا کافی ذکر رہتا ہے، کیا اسے حقیقت سمجھتے ہیں اور کیا اب بھی موجود ہے یا اس میں کچھ کمی آگئی ہے؟

حامد میر: امریکا ایک عالمی قوت ہے اور پاکستان کی سیاست میں امریکا کا کردار نیا نہیں، بہت پرانا ہے۔ ہمارے روایتی سیاست دان کوشش کرتے ہیں کہ اقتدار کے حصول کے لیے امریکا کی آشیرباد حاصل کریں۔ جیسے میں نے عرض کیا کہ نواز شریف نے مشرف کو باہر جانے کی اجازت دے کر بہت بڑی غلطی کی، اسی طرح کی ایک بنیادی غلطی محترمہ بے نظیر بھٹو سے 1988ء میں ہوئی۔ انہوں نے وزارتِ عظمیٰ کا عہدہ حاصل کرنے کے لیے صدر غلام اسحق خان صاحب کے ساتھ سودے بازی کی۔ وزارتِ خارجہ صاحبزادہ یعقوب علی خان، جبکہ وزارتِ خزانہ بی اے جعفری کو دے دی اور پھر انہیں دوبارہ صدر بنانے کی حامی بھی بھرلی۔ اس وقت ایم آر ڈی کی جماعتوں کا خیال تھا کہ بہتر ہے محترمہ بے نظیر بھٹو اقتدار حاصل کرنے کے بجائے اپوزیشن میں بیٹھ جائیں۔ اگر بی بی اقتدار اپوزیشن میں بیٹھ جاتیں اور غلام اسحق خان کے مقابلے میں نوابزادہ نصر اللہ خان کو صدارتی اُمیدوار بنادیتیں تو وہ ایک ٹرننگ پوائنٹ تھا۔ فوری طور پر شاید پیپلز پارٹی اقتدار میں نہ آتی لیکن وہ سیاست میں ایک ایسا راستہ متعین کرتی جو کٹھن اور دشوار تھا، لیکن اس راستے کے مسافر آخر کار ایک ایسی منزل پر پہنچتے کہ جس کے اختتام پر پاکستان میں قانون اور آئین کی بالادستی نظر آتی اور ایک صحیح، شفاف اور مضبوط جمہوریت ملتی۔ لیکن محترمہ بے نظیر بھٹو نے کمپرومائز کیا اور ان کی حکومت کو اسی غلام اسحق خان نے برطرف کردیا۔

میر مرتضیٰ بھٹو صاحب نے مجھ سے کہا کہ ”میں بے نظیر بھٹو کو لیڈر تسلیم کرنے کو تیار ہوں۔ بشرطیکہ وہ حسین حقانی اور ناہید خان کو پارٹی سے نکال دیں۔“

میں سمجھتا ہوں کہ امریکا کا پاکستان کی سیاست میں عمل دخل ضرور ہے، لیکن اب یہ کم ہوتا جارہا ہے۔ اب پاکستان کی سیاست میں امریکا کی مرضی یا آشیرباد کے بغیر بھی کوئی چاہے تو صرف پاکستان کے عوام کا اعتماد اور ان کا دل جیت کر بھی اقتدار حاصل کرسکتا ہے۔ یہ اسی صورت ممکن ہے اگر ہماری سیاسی جماعتیں اپنے اندر جمہوریت لے کر آئیں اور اپنی جماعتوں کو نظریاتی بنیادوں پر کھڑی کریں۔ فی الحال پاکستان کی تینوں بڑی سیاسی جماعتوں کے اندر کوئی آئیڈیل جمہوریت ہے نہ ہی وہ نظریاتی بنیادوں پر کھڑی ہیں۔ اگر آپ کی سیاسی جماعتیں کمزور ہوں گی اور ان کے پاس کوئی نظریہ نہیں ہوگا تو امریکا سمیت ہر غیرملکی طاقت کو پاکستان کی سیاست میں مداخلت کا موقع ملتا رہے گا۔

دلیل: میر مرتضی بھٹو قتل کا معمہ آج تک حل نہیں ہوسکا۔ کچھ باتیں آپ کے علم میں رہیں، کیا وقت نہیں آیا کہ آپ ان سے پردہ اُٹھائیں؟ پرویز مشرف نے حال ہی میں اس قتل کا براہِ راست ذمہ دار آصف علی زرداری کو ٹھہرایا ہے۔

حامد میر: اگر پرویز مشرف صاحب کا خیال ہے کہ آصف علی زرداری نے مرتضیٰ بھٹو کو قتل کیا تو وہ ان کے قیدی تھے۔ انہوں نے پورا زور لگایا کہ آصف زرداری کو کسی مقدمے میں سزا دی جائے۔ کیوں ثابت نہیں کرسکے؟

میر مرتضیٰ بھٹو صاحب کے ساتھ میری ذاتی نیاز مندی تھی۔ 1993ء میں جب وہ ابھی پاکستان واپس نہیں آئے تھے، میں نے دمشق میں ان کا انٹرویو کیا۔ اس انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ”میں بے نظیر بھٹو کو لیڈر تسلیم کرنے کو تیار ہوں۔ بشرطیکہ وہ حسین حقانی اور ناہید خان کو پارٹی سے نکال دیں۔“ آج یہ دونوں پیپلز پارٹی میں نہیں۔

کچھ لوگ بے نظیر بھٹو اور مرتضیٰ کے درمیان اختلافات پیدا کررہے تھے اور اس زمانے میں انٹیلی جنس بیورو نے بھی اس میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ پھر مرتضیٰ بھٹو صاحب پاکستان واپس آگئے۔ جب آئے تو میری ان کے ساتھ ملاقاتیں رہیں۔ جس دن اسلام آباد میں میری ان سے آخری ملاقات ہوئی، اس دن نصرت جاوید صاحب بھی تھے، مرتضیٰ صاحب نے کہا کہ مجھے مارنے کا منصوبہ بنالیا گیا ہے۔ لیکن انہوں نے بے نظیر بھٹو کا نام نہیں لیا۔ آپ نے سوال کیا تو میں آپ کو بتادوں کہ میں ان چند لوگوں میں شامل تھا جنہوں نے بے نظیر بھٹو اور مرتضیٰ بھٹو کی ملاقاتیں کروائی تھیں۔ غلط فہمیاں کافی حد تک دور ہوگئی تھیں۔ بے نظیر بھٹو کا خیال تھا کہ مرتضیٰ بھٹو کو قتل کرکے الزام ان پر لگادیا جائے گا اور ایسا ہی ہوا۔ ان پر تو براہِ راست نہیں، زرداری صاحب پر الزام لگا۔ اب یہ ایک بہت بڑا راز ہے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو نے بڑی کوشش کی کہ فاطمہ بھٹو کے ساتھ صلح ہوجائے۔ فاطمہ نے ایک کتاب لکھ دی، اس میں بہت سی صحیح باتیں بھی ہیں، بہت سی غلط بھی۔ زرداری صاحب نے اس الزام میں قید بھی بھگتی۔ ان کا ٹرائل بھی ہوا۔
ایک بات مجھے یاد آرہی ہے۔ جب مرتضیٰ بھٹو صاحب قتل ہوگئے تو میں نے روزنامہ ”پاکستان“ میں کالم لکھا کہ اب ایس ایچ او تھانہ کلفٹن حق نواز سیال کی زندگی کو خطرہ ہے، اسے بچایا جائے۔ جس دن میرا کالم شائع ہوا، اسی دن وہ اپنی جان سے گیا۔ حق نواز سیال قتل ہوا یا اس نے خودکشی کی، اس کا بھی آج تک پتا نہیں چلا۔ مرتضیٰ بھٹو صاحب کا قتل جس طرح اسرار کے سایوں میں ہے، بے نظیر بھٹو کا قتل بھی ایسی mysteryبن گئی ہے۔ بے نظیر صاحبہ کو موقع نہیں ملا۔ مرتضیٰ بھٹو کے قتل کے بعد اگر وہ حکومت میں رہتیں تو وہ شاید تحقیقات کرواتیں اور کچھ لوگوں کو سزا بھی دلوانا چاہتی تھیں۔ جب اپوزیشن میں تھیں تو مجھ سے کہا کہ ”یہ میری زندگی کا المیہ ہے کہ میں وزیراعظم تھیں اور میرا بھائی قتل ہوگیا اور میں قاتلوں تک نہیں پہنچ سکی۔ اب میں کتاب لکھنا چاہتی ہوں۔“

اُسامہ بن لادن ایبٹ آباد میں ہی موجود تھے۔ لیکن ان کی وہاں موجودگی سے پاکستانی فوج یا خفیہ ادارے لاعلم تھے۔ اُسامہ ایبٹ آباد اس لیے گئے کہ وہاں ریاست نے کچھ ”گڈ طالبان“ کو پناہ گاہیں مہیا کی تھیں۔

کتاب کے لیے کچھ نوٹس بھی تیار کیے تھے۔ پتا نہیں اس کا مسودہ تیار ہوا تھا یا نہیں، لیکن مجھ سے انہوں نے ضرور کہا تھا۔ اگر انہیں موقع مل جاتا تو شاید مرتضیٰ بھٹو کے قتل پر کتاب میں کچھ حقائق کا انکشاف کردیتیں۔

دلیل: اُسامہ بن لادن کی ہلاکت اب بھی پراسرار ہے۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ وہ واقعی ایبٹ آباد میں ہی تھے اور انہیں یہاں کسی ادارے نے ہی رکھا تھا؟

حامد میر: میں نے خود بلال ٹائون ایبٹ آباد جاکر اس کی تحقیقات کیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اُسامہ بن لادن ایبٹ آباد میں ہی موجود تھے۔ لیکن ان کی وہاں موجودگی سے پاکستانی فوج یا خفیہ ادارے لاعلم تھے۔ بہت سے لوگ سوال کرتے ہیں کہ پھر اُسامہ بن لادن نے اسی جگہ کا انتخاب کیوں کیا؟ اس کا انتخاب اس لیے کہ اس طرح کی جنگ کرنے والے ہمیشہ اپنے دشمن کی نفسیات سے کھیلتے ہیں۔ وہ ایسا کچھ کرتے ہیں جس کا دشمن سوچ بھی نہ سکے۔ پرویز مشرف، پاکستان کی ریاست اور اسٹبلشمنٹ اُسامہ بن لادن کی دشمن تھی۔ ان کا خیال تھا کہ پاکستانی فوج سوچ بھی نہیں سکتی کہ میں پاکستان ملٹری اکیڈمی کے بالکل قریب ایک گھر میں آرام کی زندگی بسر کررہا ہوں۔

اُسامہ افغانستان اس مقصد کے ساتھ آئے تھے کہ اسے بیس کیمپ کے طور پر استعمال کریں اور آخر کار انہوں نے بیت المقدس کی آزادی کے لیے جنگ میں حصہ لینا تھا۔

اُسامہ وہاں پر کیوں گئے؟ اس لیے بھی کہ وہاں ریاست نے کچھ ”گڈ طالبان“ کو پناہ گاہیں مہیا کی تھیں۔ زین الدین محسود، جو بیت اللہ محسود کے خلاف استعمال ہورہا تھا، وہاں اس کے خاندان کو رہنے کے لیے جگہ دی تھی۔ کچھ اور بھی لوگ تھے جن کا وہاں آنا جانا لگا رہتا۔ لوگوں کو پتا تھا کہ یہاں کچھ طالبان رہتے ہیں، لیکن یہ اچھے طالبان ہیں، برے نہیں۔ اس کا فائدہ اُٹھاکر وہ بھی وہاں بیٹھے۔ اُسامہ بن لادن وہاں زیادہ عرصے سے نہیں تھے۔ اس سے پہلے وہ ہری پور کے کسی علاقے میں چھپے تھے۔ اس سے بھی پہلے شوال میں اور افغانستان کے صوبے کنڑ میں رہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ ایبٹ آباد آپریشن دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت کی ایک بڑی ناکامی ہے۔ افغانستان کے راستے سے غیرملکی فوج ہیلی کاپٹروں میں بیٹھ کر آئی، آپریشن کیا، بندہ مارا اور اُٹھاکر لے گئے، پوری دنیا میں ہم بدنام ہوئے۔ یہ ہماری نااہلی ضرور ہے، لیکن ساتھ ہی ساتھ میں کہوں کہ وہاں ان کی موجودگی سے ریاست بے خبر تھی۔ یہ ملی بھگت نہیں تھی۔ اُسامہ بن لادن کے ساتھ انٹرویو کے سلسلے میں جو میری آخری ملاقات ہوئی، اس میں انہوں نے بار بار پاکستان حکومت اور فوج کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ جو پیغامات اور بیانات جاری ہوتے رہے، اس سے بھی یہی پتا چلتا ہے کہ فوج یا اداروں کے ساتھ ان کا گٹھ جوڑ یا اتحاد نہیں تھا۔ یہ دونوں کے مفاد میں بھی نہیں تھا۔

اُسامہ بن لادن کے کچھ اقدامات سے امریکا کو جواز ملا کہ وہ مسلمانوں کے خلاف طاقت کا استعمال کریں۔

دلیل: کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں اُسامہ بن لادن کو امریکا ہی افغانستان لایا اور آخری وقت تک وہ ان کے پیرول پر رہے۔ نتیجہ دیکھیں تو نقصان مسلمانوں کو ہوا۔ کیا آپ اس تاثر کو درست سمجھتے ہیں؟

حامد میر: نہیں، یہ بات غلط ہے۔ اُسامہ بن لادن کو امریکا نہیں لے کر آیا تھا۔ انہوں نے کبھی سی آئی اے سے رابطہ بھی نہیں رکھا۔ اُسامہ 1979ء میں اپنی مرضی اور شیخ عبداللہ عزام کی ترغیب سے افغانستان آئے۔ جہاں تک میرا علم اور میری معلومات ہیں، وہ افغانستان اس مقصد کے ساتھ آئے تھے کہ اسے بیس کیمپ کے طور پر استعمال کریں اور آخر کار انہوں نے بیت المقدس کی آزادی کے لیے جنگ میں حصہ لینا تھا۔ یہ ان کا ایک لانگ ٹرم منصوبہ تھا۔ ہم کیونکہ آج کل شارٹ ٹرم سیاست اور شارٹ ٹرم جرنل ازم سے گزر رہے ہیں، تو ہم نے کبھی گہرائی میں جاکر ان کی شخصیت کا جائزہ نہیں لیا۔ میں کافی سالوں سے اُسامہ بن لادن پر کتاب لکھ رہا ہوں، مجھے ابھی تک شائع کرنے کا موقع نہیں ملا، لیکن اگر وہ شائع ہوگئی تو اُسامہ بن لادن کی زندگی کے ایسے بہت سے چھپے ہوئے پہلو سامنے آجائیں گے۔

جس القاعدہ کو میں جانتا ہوں، اس کی شوریٰ کا فیصلہ تھا کہ پاکستان میں دہشت گردی کی کوئی کارروائی نہیں کرنی۔

پھر آپ کو ایک اور بات بتائوں۔ مجھے اُسامہ بن لادن نے جب پہلا انٹرویو 1997ء میں دیا۔ اس میں انہوں نے تجویز پیش کی کہ پاکستان، افغانستان، ایران اور چین، ان چار ملکوں کا اتحاد قائم کیا جائے۔ جو شخص 1997ء میں یہ بات کررہا ہے، وہ امریکی ایجنڈے پر کیسے چل سکتا ہے؟ 1998ء میں جب خوست میں ان کے مرکز پر حملہ ہوا تو کچھ امریکی میزائل پھٹنے سے بچ گئے۔ وہ میزائل اسامہ بن لادن نے طالبان حکومت کے ذریعے چین بھجوادئیے کہ یہ ہمارے کسی کام کے نہیں، آپ ذرا دیکھیں کیا ٹیکنالوجی ہے؟ اسی طرح چین کے صوبے سنکیانگ میں مسلمانوں کی تحریک چل رہی ہے۔ کچھ لوگوں نے کوشش کی کہ القاعدہ اور طالبان اس میں ملوث ہوجائیں۔ اُسامہ بن لادن ان لوگوں میں تھے جنہوں نے طالبان اور کچھ پاکستانی عسکریت پسندوں سے کہا کہ آپ سنکیانگ مزاحمت سے دور رہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   سقوط ڈھاکہ کا ذمہ دار بھٹو کیوں؟ ابو محمد

یہ سب امریکی مفادات کے خلاف کام ہیں۔ امریکا کا حامی کس طرح ہوگیا؟ ہاں یہ بات درست ہے اُسامہ بن لادن کے کچھ اقدامات سے امریکا کو جواز ملا کہ وہ مسلمانوں کے خلاف طاقت کا استعمال کریں۔ نائن الیون سے امریکا کو موقع ملا کہ کسی بھی مسلمان ملک پر حملہ کردے اور کہے جناب! یہ القاعدہ کے خلاف آپریشن ہے۔

نائن الیون کا منصوبہ اُسامہ بن لادن ہی کا تھا اور اس پر عملدرآمد بھی القاعدہ نے کرایا تھا۔ اصل منصوبے کے مطابق امریکا کے دس جہاز اغوا کرنے تھے۔ ان میں سے دو یا تین جہاز امریکی ایٹمی تنصیبات پر گرانے تھے۔

دلیل: کیا آپ سمجھتے ہیں کہ القاعدہ حقیقی طور پر پاکستان، پاکستانی ریاست کے خلاف جنگ کے حق میں نہیں تھی؟

حامد میر: پاکستان میں میں نے دیکھا کہ القاعدہ کے نام کو برانڈ کے طور پر استعمال کیا جانے لگا۔ فلاں جگہ آپریشن ہوا، القاعدہ کے دو دہشت گرد پکڑے گئے۔ جس القاعدہ کو میں جانتا ہوں، اس کی شوریٰ کا فیصلہ تھا کہ پاکستان میں دہشت گردی کی کوئی کارروائی نہیں کرنی۔ پاکستان سے باہر غیرملکی فوج کے خلاف کارروائیاں کریں گے۔ ایک بڑا ثبوت یہ ہے کہ ایبٹ آباد آپریشن کے بعد جو دستاویزات نکلیں، ان میں حکیم اللہ محسود کو لکھا گیا خط منظرعام پر آیا ہے جس میں لکھا ہے کہ آپ بھتہ خوری نہ کریں، اغوا برائے تاوان چھوڑدیں، وغیرہ۔ بعد میں القاعدہ کے اندر سے مختلف انتہا پسند گروپ بن گئے، جنہوں نے اپنے آپ کو القاعدہ کا نام دیا۔

دلیل: ٹوئن ٹاورز کی تباہی سے متعلق مختلف تحقیق سامنے آتی ہیں کہ یہ یہودیوں کی کارستانی تھی اور اس کے نتیجے میں وہ مسلمانوں کے خلاف جنگ شروع کرنا چاہتے تھے۔ کیا آپ اس سے اتفاق کرتے ہیں؟

حامد میر: میں یہ ماننے کو تیار نہیں کہ نائن الیون کے حملے یہودیوں نے کیے یا اسے سی آئی اے نے ترتیب دیا تھا۔ یہ منصوبہ اُسامہ بن لادن ہی کا تھا اور اس پر عملدرآمد بھی القاعدہ نے کرایا تھا۔ البتہ ملا عمر یا طالبان کو ایسے کسی منصوبے کا علم نہیں تھا۔ اصل منصوبہ کیا تھا؟ اس کے مطابق امریکا کے دس جہاز اغوا کرنے تھے۔ ان میں سے دو یا تین جہاز امریکی ایٹمی تنصیبات پر گرانے تھے۔ جب القاعدہ مجلس شوریٰ میں یہ منصوبہ پیش ہوا تو شوریٰ کے سربراہ شیخ ابوحفض الموریطانی نے اس کی مخالفت کی اور کہا کہ اس سے ایک تو بہت زیادہ انسانی جانوں کا ضیاع ہوگا۔ دوسرا، امریکا کو مسلمانوں کے خلاف اندھا دھند حملوں کا جواز مل جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ آپ ایٹمی تنصیبات پر حملہ نہ کریں۔ چنانچہ ان کے مشورے پر اس منصوبے میں تبدیلی ہوئی۔ اس کے باوجود آپ دیکھیں کہ اس کا مسلمانوں کو فائدہ تو کچھ نہیں ہوا، نقصان ہی نقصان ہوا۔ آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ اسامہ بن لادن امریکا کے ساتھ اپنی دشمنی اور انتقام میں اس انتہا تک چلے گئے کہ جو اقدامات کیے، اس کا مسلمانوں کو فائدہ نہیں، بلکہ نقصان ہوا۔

دلیل: 2013ء میں آپ نے بنگلہ دیشی وزیراعظم حسینہ واجد سے ایوارڈ وصول کیا، بنگلہ دیشی حکومت کی پالیسیوں کو سامنے رکھ کر یہاں شدید تنقید ہوئی، کیا آپ نہیں سمجھتے کہ آپ کو یہ ایوارڈ وصول نہیں کرنا چاہیے تھا؟

حامد میر: مجھے حاصل بزنجو صاحب اور حبیب جالب صاحب کی بیٹی طاہرہ جالب نے بتایا کہ بنگلہ دیش حکومت نے ہم سے رابطہ کیا اور کہا ہے جن لوگوں نے 1971ء کے فوجی آپریشن کی مخالفت کی تھی، انہیں ہم ”فرینڈز آف بنگلہ دیش“ ایوارڈ دینا چاہتے ہیں۔ ہمیں پتا چلا ہے کہ آپ سے بھی رابطہ کیا گیا ہے؟ میں نے ان سے کہا ”ہاں! مجھے بھی بتایا گیا ہے۔“

بنگلہ دیشی ہائی کمشنر کا اصرار تھا کہ آپ کے کالم کی وجہ سے حسینہ واجد آپ کے والد صاحب سے متعارف ہوئیں۔ اس لیے ان کی خواہش ہے کہ ایوارڈ آپ ہی وصول کریں۔

اس وقت بنگلہ دیش کے ہائی کمشنر سہراب حسین ہوتے تھے۔ انہوں نے مجھے کہا تو انہیں میں نے بتایا کہ مجھے 23 مارچ کو صدرِ پاکستان کی طرف سے ”ہلالِ امتیاز“ ایوارڈ دیا جارہا ہے۔ جبکہ آپ کی تقریب 22 مارچ کو ہے۔ میں نہیں آسکتا، پھر ایوارڈ میرے والد صاحب کا ہے، سو میں یہ ایوارڈ وصول کرنے کے لیے اپنے چھوٹے بھائی کو بھیج دیتا ہوں۔

”بنگلہ دیش کی وزیراعظم حسینہ واجد صاحبہ نے کہا ہے کہ آپ حامد میر صاحب سے درخواست کریں وہ خود آئیں۔“ سہراب حسین صاحب نے مجھے کہا۔

”آپ کا ایک آرٹیکل وزیراعظم صاحبہ نے دی اسٹار ڈھاکہ میں پڑھا ہے۔“ بنگلہ دیشی ہائی کمشنر نے وضاحت کی۔

میرا کالم بنگلہ دیش کے انگریزی اخبار ”دی اسٹار“ اور ایک بنگالی اخبار میں چھپتا تھا۔ اس وجہ سے وہاں لوگ مجھے جانتے تھے۔ مجھے اس آرٹیکل کا حوالہ دیا گیا جو میں نے لکھا اور اس کا عنوان تھا: the apology day۔ اس میں میں نے لکھا کہ ”پاکستان اور بنگلہ دیش دو برادر ملک ہیں۔ ان کے درمیان بہت غلط فہمیاں ہیں۔ انہیں ختم کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ بنگلہ دیش حکومت پاکستان سے کہتی ہے کہ آپ 1971ء کے واقعات پر ہم سے معافی مانگیں۔ اس میں کوئی حرج نہیں، ہمیں معافی مانگ لینی چاہیے۔ چلیں اگر حکومت معافی نہیں مانگتی تو میں مانگ لیتا ہوں۔“

میں نے اپنے کالم میں لکھا کہ میرے والد اکتوبر 1971ء میں سقوطِ ڈھاکہ سے کچھ مہینے پہلے پنجاب یونیورسٹی کے طلبہ کا ایک وفد لے کر ڈھاکہ یونیورسٹی گئے۔ اس وفد میں جاوید ہاشمی، حفیظ خان اور راشد بٹ بھی تھے۔ انہوں نے وہاں کوشش کی کہ پنجاب اور ڈھاکہ یونیورسٹی کے طلبہ مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان پل کا کردار ادا کریں۔ پاکستان واپس آئے، انہوں نے پریس کانفرنس کی، میڈیا میں کوریج نہیں ملی۔ پھر اس کے ایک سال بعد والد صاحب نے جنگ میں ایک سلسلہ مضامین لکھا۔ انہوں نے لکھا کہ وہاں پر بنگالیوں کے ساتھ جو ہوا، اچھا نہیں ہوا۔ یہ بھی لکھا کہ بہاریوں کے ساتھ بھی برا ہوا۔

بنگلہ دیشی ہائی کمشنر نے مجھے کہا کہ آپ کا یہ آرٹیکل حسینہ واجد کو بہت پسند آیا اور وہ چاہتی ہیں کہ آپ آکر یہ ایوارڈ خود وصول کریں۔ سہراب حسین کا اصرار تھا کہ چونکہ آپ کے کالم کی وجہ سے حسینہ واجد آپ کے والد صاحب سے متعارف ہوئیں۔ اس لیے ان کی خواہش ہے کہ ایوارڈ آپ ہی وصول کریں۔

اس دوران میں مجھ سے عاصمہ جہانگیر صاحبہ نے رابطہ کیا۔ رفتہ رفتہ کچھ اور لوگ بھی شامل ہوئے۔ سب نے مجھے کہنا شروع کیا کہ آپ کو ضرور ساتھ چلنا چاہیے۔ میں سمجھ گیا کہ بنگلہ دیشی حکومت نے motivateکیا ہے کہ حامد میر کو ضرور ساتھ لے کر آنا۔

سہراب حسین صاحب نے یہ بھی کہا کہ یہ پاکستان اور بنگلہ دیش کو قریب لانے کا سنہرا موقع ہے۔ بہرحال انہوں نے مجھے قائل کیا اور میں چلا گیا۔ عاصمہ جہانگیر نے اپنے والد ملک غلام جیلانی، حاصل بزنجو کو غوث بخش بزنجو، طاہرہ کو حبیب جالب اور میں نے اپنے والد وارث میر کا ایوارڈ وصول کیا۔ واپس آئے تو ہمارے خلاف ایک مہم شروع ہوگئی۔ میں زیادہ اس کے ہدف پر تھا۔ میں نے اپنی وضاحت پیش کردی کہ یہ ایوارڈ مجھے نہیں، میرے والد صاحب کو ملا ہے۔

میں نے یہ بھی کہا کہ جب ہم وہاں ایوارڈ لینے گئے اور بنگلہ دیشی میڈیا نے پوچھا کہ ”پروفیسر غلام اعظم کے خلاف مقدمہ صحیح چل رہا ہے یا غلط؟“ میں نے کہا: ”یہ غلط چل رہا ہے، یہ مقدمہ فیئر ٹرائل نہیں۔“ جب بھی جماعت اسلامی کے راہنمائوں کو پھانسی دی گئی، ہم نے کہا یہ غلط ہے۔ ہم نے کبھی اپنے قومی موقف سے انحراف نہیں کیا۔

بنگلہ دیشی وزیراعظم سے صرف میں نے اپنے والد کا ایوارڈ وصول نہیں کیا، لیکن ہدف پر میں ہی رہا۔

آہستہ آہستہ میں نے محسوس کیا کہ حسینہ واجد کی پالیسی میں کافی انتہا پسندی آگئی ہے۔ پاکستان مخالف ہوگئی ہیں اور جو وعدے ہمارے ساتھ بنگلہ دیشی حکومت نے کیے تھے، وہ غلط ثابت ہورہے ہیں۔ ایوارڈز کا سلسلہ بھی بند کردیا۔ 2015ء، 2016ء میں کسی معروف پاکستانی کو ایوارڈ نہیں ملا۔ حالانکہ ہم نے انہیں تجویز دی تھی کہ یہ ایوارڈ صاحبزادہ یعقوب علی خان کو بھی دیں۔ انہوں نے بھی آپریشن کی مخالفت کی تھی۔ 2017ء میں انڈیا کی کرکٹ ٹیم نے پاکستان آنے سے انکار کردیا اور اس کے بعد انڈیا نے بنگلہ دیش کو بھی اپنی ٹیم پاکستان بھیجنے سے روکا۔ پاکستان سپر لیگ میں بھی بنگلہ دیشی پلیئرز کو روکنے کی کوشش کی گئی تو مجھے بڑی تکلیف ہوئی۔ میں نے یہی سوچا کہ حسینہ واجد ہمیں کہتی تھیں پاکستان اور بنگلہ دیش قریب آئیں گے۔ ان کی پالیسیوں کے نتیجے میں برعکس ہورہا ہے۔ چنانچہ میں نے ایوارڈ واپس کردیا۔ مجھ سے کہا بھی گیا کہ یہ آپ کے والد کا ایوارڈ ہے، آپ اسے کیسے واپس کرسکتے ہیں؟ میں نے یاد دلایا کہ میں نے یہی کہا تھا کہ اگر یہ میرے والد کا ہے تو میرا بھائی آکر وصول کرلے گا۔ لیکن مجھ سے یہی کہا گیا کہ ”آپ کے آنے سے پاکستان اور بنگلہ دیش میں قربت پیدا ہوگی۔ آپ کو لوگ یہاں جانتے ہیں۔“

”آج مجھ سے پاکستان میں لوگ سوال کرتے ہیں کہ اس کے نتیجے میں تو کوئی قربت پیدا نہیں ہوئی؟ اس لیے میں یہ ایوارڈ واپس کررہا ہوں، اور واپس کردیا۔“