کشمیریوں کی آواز - محمد عتیق الرحمٰن

اگر میں کہوں کہ ہمارے پڑوس میں سوئٹزرلینڈ سے خوب صورت علاقہ موجود ہے تو جھوٹ نہ ہوگا۔یہ ایک ایسا خطہ ہے جسے جنت نظیر کہاجاتا ہے اور جس کے فطرتی حسن سے آنکھیں ٹھنڈک محسوس کرتی ہیں۔ دنیا جہاں کے خوب صورت خطوں میں سب سے خوب صورت خطہ کشمیر ہے۔ کشمیر کا کچھ حصہ پاکستان کے زیرانتظام ہے جو آزاد کشمیر کے نام سے جانا جاتا ہے، کچھ چین کے زیرانتظام اور کچھ پر بھارت قابض ہے۔ پاک وچین کے زیر انتظام علاقے میں کشمیریوں کے حالات بہتر ہیں جبکہ بھارتی مقبوضہ کشمیرمیں حالات آئے دن خراب سے خراب تر ہورہے ہیں۔

کشمیریوں کی کئی نسلیں آزادی کی شمع کو تھامے گزر چکی ہیں۔ موجودہ نسل بھی اپنے آبا و اجداد کی پیروی کرتے ہوئے آزادی کی شمع کو جلائے ہوئے ہندو بنیے کے سامنے سینہ سپر ہے۔ آج بھی 88سالہ سید علی گیلانی جب بھارتیوں کو للکارتا ہے تو پورا کشمیر اس کی للکار میں ساتھ ہوتا ہے۔ یہ کشمیری بوڑھا جب نعرہ لگاتا ہے تو پورا کشمیر اس کے نعرے کا جواب دینا اپنا فرض سمجھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی 88سالہ اس بوڑھے کو اکثر وبیشتر بھارتی جیلوں اورنظربندیوں کا سامنا رہتا ہے۔ دختران ملت کی سربراہ آپا آسیہ اندرابی اپنے شوہر کی صعوبتوں بھری قید سے گھبرانے کی بجائے کشمیری خواتین کو ساتھ ملا کر بھارتی ظلم وستم کے سامنے سینہ سپر ہیں۔ پوری دنیا میں عورت کے حقوق کا ڈھنڈورا پیٹنے والے اس باہمت اور جذبہ آزادی سے سرشار خاتون کے سامنے بالکل بھیگی بلی بنے نظر آتے ہیں۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق باپردہ خواتین کے گروہ درگروہ ان کی سربراہی میں دشمن کو ناکوں چنے چبا چکے ہیں۔ طویل ترین اسیری کاٹنے والے ڈاکٹر قاسم فکتو ابھی بھی بھارتی جیل میں ہیں اور ان کی اہلیہ آسیہ اندرابی بھی ان دنوں جیل میں ہیں اور معلومات کے مطابق آپا آسیہ اندرابی اس وقت دمہ، انفیکشن اور کمرکی شدید درد میں مبتلا ہیں لیکن بھارتی حکمرانوں کے سامنے دونوں میاں بیوی سرنڈر کرنے سے انکاری ہیں۔ جس قوم کی خواتین جذبہ حریت سے سرشار ہو بھلا اس کی آنے والی نسل اس سے کیسے روگردانی کرے گی؟

بھارت مقبوضہ جموں کشمیر میں دنیا جہاں کا اسلحہ وجدید ٹیکنالوجی لانے کے بعد بھی چیخ وپکار کرتا نظر آتا ہے۔ شاید ہی کوئی دن گزرے جب کشمیریوں کو بھارتی ظلم وستم کا نشانہ نہ بنایاجاتا ہو۔دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کی دعویدار ریاست اقوام متحدہ کے فورم پر اپنے ہی کیے گئے وعدوں سے منحرف ہوکر کشمیریوں پر آتش وآہن کادہانہ عرصہ دراز سے کھولے ہوئے ہے۔ گولیوں،پیلیٹ گنوں، بموں اور تشدد سے آگے بڑھتے ہوئے اب بھارت نے کشمیریوں پر کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال بھی شروع کردیا ہے۔ مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی تنظیموں کی رسائی پر روک لگا رکھی ہے جس کی وجہ سے ان خدشات کو مزید تقویت مل رہی ہے کہ بھارت کشمیر میں جو کچھ کررہا ہے وہ باہر آنے والی خبروں سے کئی گنا زیادہ ہولناک ہے۔ آئے روز مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن کی آڑ میں بھارتی سیکیورٹی فورسز کشمیریوں کو شہید اور زخمی کررہی ہے۔ کشمیریوں کی املاک کو جو نقصان پہنچتا ہے اس کا کوئی حساب نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   لاشیں گرنے پر شادیانے بجانا، بیمار ذہنیت؟ - ابراہیم جمال بٹ

ابھی پچھلے دنوں مقبوضہ جموں کشمیرکے ضلع بڈگام میں سرچ آپریشن کی آڑ لیتے ہوئے 5کشمیریوں کو شہید جبکہ متعدد کو زخمی کردیاگیا تھا۔ چادر اور چاردیواری کے تقدس کو شب وروز پامال کیا جاتا ہے۔ آئے روز جعلی مقابلوں میں کشمیریوں کو شہید کیا جاتا ہے۔ کشمیری بھارتی ظلم وستم پر جب اپنی آواز بلند کرتے ہیں تو ان کی آواز میں ہمیں ایک لفظ لازمی سنائی دیتا ہے اور وہ لفظ ہے پاکستان!

کشمیر کی سڑکیں، پگڈنڈیاں، چوراہے اور حتیٰ کہ کشمیریوں کے قبرستان بھی اس بات کے گواہ ہیں کہ کشمیرکے چپے چپے پر ’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ کے نعرے لگ چکے ہیں اور آج بھی وادی بھر میں کشمیریوں کی زبان پرپاکستان کا ہی نام ہوتا ہے۔اکتوبر 2017ء میں 20کشمیریوں کو بھارتی سیکیورٹی فورسز نے شہید کیا اور 217کے لگ بھگ کشمیریوں کو زخمی جبکہ 308کشمیریوں کو گرفتار کیا گیا اور اکتوبر 2017ء میں 4گینگ ریپ بھارتی سیکیورٹی فورسز کی طرف سے کیے گئے اور اگر بات کی جائے صرف نومبر کی تو اس میں 28کشمیریوں کو شہید اور پیلیٹ گن اور گن فائر کی وجہ سے 98کشمیری زخمی ہوئے۔ بھارتی جیلوں میں کشمیریوں پر بدترین تشدد کیا جارہا ہے۔ عالمی قوانین کی صریحاً خلاف ورزی ہونے کے باوجود کشمیریوں کا کوئی پُرسان حال نہیں۔ عالمی ادارے بھارت کو روکنے میں نہ صرف ناکام ہوچکے ہیں بلکہ بھارت کے سامنے بولنے تک کو تیار نہیں۔

پاکستان میں کشمیریوں کے حق میں سب سے بلند آواز اور ہمہ وقت کشمیریوں کا دردمحسوس کرنے والی شخصیت بغیر کسی سرکاری عہدے کے کشمیریوں کے حق میں وہ کام کررہی ہے جو کشمیر کمیٹی اپنے قیام سے لے کر اب تک نہیں کرپائی۔ سرکاری مراعات لیتے یہ عہدیدار کشمیریوں پر ہونے والے بھارتی مظالم کی مذمت تک نہیں کرتے۔ بھارتی میڈیا شاید ہی کشمیر کمیٹی کے سربراہ یا ممبران سے واقفیت رکھتا ہو لیکن ایک پاکستانی امیر جماعۃ الدعوہ پروفیسر حافظ محمد سعید سے بھارتی میڈیا تو کیا بھارتی ایوان تک واقف ہیں۔ پوراپاکستان حافظ محمد سعید اور ان کے کارکنان کے فلاحی کاموں کا معترف ہے تو کشمیری حافظ محمد سعید کو اپنی سب سے بلند آواز سمجھتے ہیں۔ ایک لمبی نظر بندی کے بعد پہلا بیان بھی جو دیا گیا اس میں پروفیسر حافظ محمد سعید نے کشمیر کا ذکر کیا۔ ان کی رہائی پر بھارتی میڈیا حواس باختہ ہوا اور دن رات ان کے خلاف اور پاکستانی عدالتوں کے خلاف ہرزہ سرائی شروع کردی۔ پاکستانی عدالتوں نے جب کشمیریوں کی آواز کو باعزت طور پر رہائی دی اور بغیر کسی وجہ کے ان کی نظر بندی میں اضافہ کی درخواست جب مسترد کردی گئی تو بھارت وامریکہ تک میں چیخیں سنی گئیں۔

یہ بھی پڑھیں:   تہاڑ جیل اور کشمیری قیدی - ایس احمد پیرزادہ

یہ سب کس لیے ؟ کیونکہ امریکا میں بھارتی لابی قدرے مضبوط ہے اور بھارت کشمیریوں کی آواز کو دبانے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔پاکستانی قیادت جب اپنی کرسی بچانے کی فکر میں غلطا ں ہے تو بھارت کشمیر میں اپنے پنجے مزید گہرائی میں گاڑ ھ رہا ہے۔ بھارتی ذہنیت کو کشمیری مکمل طور پر سمجھتے ہیں یہی وجہ ہے جب مہندراسنگھ دھونی کشمیر میں پہنچا تو جبری طور پر جمع کیے گئے کشمیری نوجوانوں نے ’’بوم، بوم آفریدی‘‘سے اس کا سواگت کیا۔ پاکستانی قیادت کو بیرونی ڈکٹیشن پر اب اپنے ہی محب وطن احباب کو مزید تنگ کرنے کی نجائے انہیں سیکیورٹی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ دوسرے ممالک کی آنکھوں میںآنکھیں ڈال کر اپنا موقف منوانا ہوگا۔ پاکستان کو پوری دنیا میں اب کشمیریوں کا مقدمہ بھرپور طریقے سے رکھنا ہوگا یہی ایک حل ہے جس سے بھارتی سازشوں اور مظالم کو دنیا سامنے رکھا جاسکتا ہے۔ مسلم ممالک کے سربراہان سے بصداحترام عرض ہے کہ کشمیر کے مسئلہ پر پاکستانی موقف کی نہ صرف حمایت کی جائے بلکہ بھارت پر اس حوالے سے زور ڈالا جائے۔ پاکستانی قیادت کا بھی یہ حق بنتا ہے کہ وہ کشمیریوں کی وکالت کا حق اداکرتے ہوئے ہر فورم پر ان کے دکھوں کا مداوا کرنے کی کوشش کرے۔