افغانستان میں 22 حفاظ قرآن کی شہادت، المیہ در المیہ - اشفاق پرواز

گزشتہ دنوں جدید تعلیم یافتہ امریکی روشن خیال درندوں نے افغانستان کے صوبہ میدان وردک کے ایک مدرسہ پر میزائل داغ کر ۲۲ نو عمر حافظ قرآن شہید کر دیے۔ امریکی لبرلز کے نزدیک یہ سب اس لیے موت کے سزا وار ٹھہرے کہ وہ قرآنی تعلیمات حاصل کر کے اللہ رب العزت کا پیغام عوام تک پہنچا کر انہیں گمراہی اور تباہی سے بچانا چاہتے تھے۔ حیرت انگیز طور پر سوشل میڈیا پر انسانیت کا رونا رونے والوں کی آنکھیں اشکبار ہوئیں اور کہ کسی سے اس وحشیانہ اور بہیمانہ قتل عام پر مذمت یا افسوس کے طور پر دو لفظ ہی تحریر ہوسکے۔ انسانیت کے ڈھولچیوں کی زبانیں تب گنگ ہو جاتی ہیں، جب مرنے والا کلمہ گو مسلمان ہوتا ہے۔ یقینا مسلمان ان کی طرف سے (مشرکین اور ملحدین کے لیے) مختص کی گئی ’’انسانیت ‘‘ کے دائرہ حدود میں ہی نہیں آتے۔

ان کے نزدیک انسانیت کا خون تب ہوتا ہے جب کوئ مشرک یا ملحد مارا جائے۔ انسانیت کا درد تب پوری قوت کے ساتھ جوش میں آتا ہے جب مرنے والا یہود و نصاریٰ میں سے ہو۔ ویسے دعویٰ تو مذہب سے بڑھ کر کسی انسانیت کا کیا جاتا ہے، مگر کلمہ گو انسانوں کے مرنے پر یہ انسانیت جاگتی نہیں۔ یہ انسانیت تب مکمل طور پر سو جاتی ہے جب افغانستان کے نہتے غریب مسلمانوں پر روس اور امریکہ جیسے عفریت ان کو ان کے وسایل سمیت نگل جانے کی خاطر زہریلی گیسوں، کیمیائی ہتھیاروں اور نت نے مہلک ہتھیاروں کا تجربہ کرتے ہیں۔

مجھے یاد ہے کہ جب گزشتہ سال امریکہ کی طرف سے ایٹم بم کے مقابل ایک روایتی تباہ کن بم افغانستان پر ٹیسٹ کیا گیا تب بھی انسانیت کے ڈھنڈورچی دیسی لبرلز کے لبوں پر ایلفی اور قلم کی سیاہی خشک ہو کر رہ گئی تھی۔تب مذہب سے بھی بڑا انسانیت کا چورن بیچنے والوں کو انسانیت کے اسباق ہی بھول گیے تھے۔امریکہ اسرائیل، بھارت اور اس کے حواری سازشی آلہ کار وں کے ہاتھوں عراق،افغانستان، کشمیر، فلسطین اور میانمار کے مسلمانوں کے قتل عام پر ان میں چھپا ’’انسانیت‘‘ کا جذبہ بیدار نہیں ہوا۔اس کے برعکس مسلمانوں کے ہاتھوں اگر یہود و نصاریٰ اور ملحدین کا کتا بھر مر جائے تو ان کا رونا دھونا شروع ہو جاتا ہے۔ اور ان کی طرف سے مسلمانوں پر ایک دم سے دہشت گردی کا ٹھپہ اور وحشیت کی مہر تصدیق ثبت کر دی جاتی ہے۔

نام نہاد مہذب اور روشن خیال امریکہ اور دیسی لبرلز اس بات کا جواب دیں کہ ان بے گناہ مسلمانوں کا کیا قصور تھا جنہیں آپ نے نائن الیون کے بعد سے اب تک بنا کسی جرم کے موت کی عمیق وادیوں میں دھکیل دیا۔ تب تمہیں انسانیت یاد کیسے نہیں آئی؟ گوانتا ناموبے جیسے بدنام زمانہ ٹارچر سیلز کے اندر انسانیت سوز مظالم ڈھاے جاتے رہے ہیں۔ پاکستان کے قبائلی اور افغانستان کے غریب بچوں کو واشنگٹن ڈی سی کے ٹوئن ٹاورز اور دفاعی مرکز پینٹاگون کا بھلا کیا علم تھا کہ اکتالیس ممالک ان پر آتش و آہن کی برسات کر کے ان کی ایک نسل کو اس دار فانی سے ہی اٹھا دیا گیا۔ان بیچارے بچوں کو تو دو وقت کی روٹی پورا کرنے کے لیے کچرے کے ڈھیروں کو چھاننے سے ہی فرصت نہ تھی۔ انہوں نے امریکہ جیسی سپر پاور کے جدید میزائل شکن دفاعی شیلڈ سے لیس مضبوط ترین حصار کو کیسے توڑ کر امریکیوں کو قتل کر دیا؟ انسانی عقل تو اس منطق کو تسلیم کرنے پر قطعاً راضی نہیں ہو سکتی۔ اگر تم واقعی انسانیت کے ہی علمبردار ہو تو یقیناً یہود و نصاریٰ کی طرف سے انسانیت کا ناحق قتل عام ہے۔

ان بے بس انسانوں پر ظلم و ستم کے کوہ گراں ٹوٹتے دیکھ کر تمہاری زمین و آسمان جتنی وسعت کی حامل انسانیت کہاں اور کیوں دم توڑ گئی؟ ان بے کس اور نادار انسانوں کے قتل عام کے جرم میں تم نے روس، امریکہ اور بھارت پر رجعت پسندی، جہالت، انتہا پسندی اور وحشی پن کے اسٹیکرز کیوں نہیں چپکاے؟ کفار کی چیرہ دستیوں اور وحشیوں پر تمہارے منافقانہ ردعمل سے یہ نتیجہ اخز کرنا بالکل بھی مشکل نہیں رہا کہ تمہارے نزدیک جاہل، رجعت پسند، دہشت گرداور انتہا پسند صرف کلمہ گو مسلمان ہی ہیں۔ اس لیے کہ وہ کمزور، انتشار کا شکار اور معاشی عدم استحکام سے دو چار ہیں۔

بلاشبہ تم بکے ہوئے مطلبی اور مفاداتی عناصر ہو! کفار کی کاسہ لیسی کر کے ان کے ممالک میں پناہ اور دیگ فوائد سمیٹنا تمہارا اولین مقصد ہے۔ تم ایسی مخلوق ہو جو مادی آسائش، ذاتی مفادات اور عیاشی کے لیے منافقت کی کوئ حد بھی پار کرسکتے ہو۔ تمہارے اوپر "باپ بڑا نہ بھیا، سب سے بڑا روپیہ" والی کہاوت بالکل فٹ بیٹھتی ہے۔

Comments

اشفاق پرواز

اشفاق پرواز

اشفاق پرواز ٹنگمرگ، مقبوضہ کشمیر کے جواں سال قلم کار ہیں۔ مقامی اور بین الاقوامی اخبارات میں ان کے کالم شائع ہوتے ہیں۔ دلیل کے مستقل لکھنے والوں میں سے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں