مدینہ - جویریہ سعید

گاڑی بڑے میدان سے جب سڑک کی طرف مڑتی تھی تو ڈم ڈم کی باڑھ اور ناریل کے اونچے درختوں کے پیچھے چھپے اس چھوٹے سے گھر کو کچھ دیر اور تکنے کے لیے کھڑکی سے کافی سارا باہر لٹکنا پڑتا تھا۔ ابو کی تنبیہی آواز سن کر سر تو اندر کر لیتے، مگر پھر یہ سوچتے کہ جب بڑے ہو جائیں گے تو بس چند لمحوں تک نظر انے والے اس پراسرار سے گھر کو دیکھنے جا سکیں گے جس سے عجیب محبت بھری لہریں سی نکلتی محسوس ہوتی تھیں۔

رات گئے ابو کے کلینک سے لوٹ کر انے سے پہلے امی کے بستر میں گھس کر جن "پیارے نبی صلی اللہ وسلم " کے قصے سنا کرتے تھے، دل کہتا تھا کہ یہی اُن کا گھر ہو گا۔ کھلی آنکھوں سے خواب دیکھنے والی اس چھوٹی لڑکی کے لیے یہی چھوٹا سا مدینہ تھا۔ گرم تپتی دوپہروں میں ٹھنڈا ، پرسکون، آوازیں دے کر بلاتا ہوا۔

زندگی انگلی پکڑے نگر نگر گھماتی رہی اور سبزے سے ڈھکا چھوٹا سا گھر دل کی نگری میں کہیں چھپ گیا۔ یہ تو کچھ عرصے بعد علم ہوا کہ ان سے ملاقات کے لیے دو زندگیوں کی مدت کا انتظار لکھا گیا ہے۔

رات کا پچھلا پہر تھا۔ محبت کرنے والی بیوی نے پاس نہ پایا تو دل بے قرار لیے تلاش کرنے نکل گئیں۔ کچھ تلاش کے بعد قبرستان میں سفر آخرت کی فکر میں غلطاں مل گئے۔

ایک اور مرتبہ ساری رات کہیں نہ ملے تو جان نچھاور کرنے والے ساتھی بے تاب ہو کر شہر سے باہر نکل گئے۔

محبت کے دعوے دار دل نے سوچا کہ سچی محبت کرنے والوں کو توکچھ لمحوں کی دوری گوارہ نہیں تھی، تم دو زندگیاں ان کے بغیر چین سے گذارے لینے پر مطمئن کیسے ہو؟ تمہاری بے قراری تمہاری راہنما بن کر اُن کے کوچے، ان کے قصوں اور ان کے نقوش ہاے پا کی جستجو میں کیوں نہیں لے جاتی؟

یہ بھی پڑھیں:   “نہیں، قرآن نہ سنو” عابدہ بانو

سیرت کی کتنی ہی کتابیں اپ صلی اللہ وسلم کے حیات طیبہ کے قیمتی لمحات کو ہمارے سامنے ایسے زندہ کرتی ہیں کہ جیسے ان لمحوں میں خود ہم بھی کہیں اس پاس ہوں۔ غار ثور میں مسکرا کر "لا تحزن!" کہتے ہیں تو خوں ہمارا جوش مارتا ہے۔ طائف میں سنگ باری کے بعد دل سوز دعا کے الفاظ پڑھ کر اپنے دلوں کی سختی پرشرمندگی ہوتی ہے، بدر و حُنین کے معرکوں کا حال ہمیں میدان عمل میں قربانیاں پیش کرنے پر ابھارتا ہے، محبت، نرم خوئی اور اخلاص کے وہ پھول چنتے ہیں جن کے پودوں پر آج خزاں چھائی ہے۔

محبت اپنے دعویداروں سے سوال کرتی ہے کہ کتنے کتنے دن ان کو آس پاس نہ پا کر، ان کی یاد سے دل کا دامن خالی پا کر تمہاری بے قراری تمہیں ان کتابوں تک لے جاتی ہے یا نہیں؟ اللہ نے اپنے ذکر کو ہی نہیں، اپنے محبوب کے ذکر کو بھی ہمارے لیے محفوظ کر دیا۔ محبت کے دعویدار اپنے پیارے نبی صلی اللہ وسلم کی معیت میں ہفتے میں کچھ روز بھی کچھ منٹ بھی گزرانے کی کوشش کرتے ہیں؟

دن میں کوئی ایک کام چپکے سے مسکرا کر صرف اس لیے کر لیا جائے کہ نہر کنارے جب ان سے ملاقات ہوگی، اور لفظ بے وفائی کریں گے، نگاہیں بوجھل ہوں گی، جسم منجمد ہو جائے گا تو دنیا کی نگاہوں سے پوشیدہ کچھ قیمتی اعمال کپکپاتے ہاتھوں سے اُن کو پیش کیے جا سکیں گے۔ بس اسی نیت کے ساتھ جب جب موقع ملے تو کوئی عمل دل کی اسی خفیہ بقچی میں رکھ لیا جائے!

محبت کرنے والا دل زمان و مکان کے فاصلوں کو جبر سمجھ کر ان سے سمجھوتہ نہیں کرتا، ملن کی راہیں تلاش کرتا ہیں۔ محبت کے دعووں کے اس شور و غوغا کے بیچ محبت مسکراتی آنکھوں سے ہمیں جانچ رہی ہے!

یہ بھی پڑھیں:   “نہیں، قرآن نہ سنو” عابدہ بانو

چھوٹی سی بچی نے کچھ برسوں بعد اپنی ڈائری کے ایک ورق پر بڑے سے ناز سے لکھ دیا

مدینے کا فخر ہے فخر موجودات کی ذات

میرا دل بھی مدینہ ہے کہ اس میں آپ رہتے ہیں

صلی اللہ وسلم

اورآج محبت مسکرا مسکرا کر جتانے لگتی ہے،

"مدینہ" اپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یادوں اور نقوش ہاے پا سے خالی تو نہیں ہوتا!

Comments

جویریہ سعید

جویریہ سعید

جویریہ سعید کینیڈا میں رہائش پذیر ہیں. طب اور نفسیات کی تعلیم حاصل کی ہے. ادب، مذہب اور سماجیات دلچسپی کے موضوعات ہیں. لکھنا پڑھنا سیکھنا اور معاشرے کے لیے رضاکارانہ خدمات انجام دیتے رہنا ان کے خصوصی مشاغل ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.