ڈارون ازم ایک زہر - عبید اللہ بوزدار

جس حقیقت پر تمام ادیان متفق ہیں اور جس قضیے کو تمام قدیم عقلاء مانتے چلے آرہے ہیں، یہ ہے کہ زمین پر انسانی وجود کا مقصد اور غایت ہے اور خالق نے اس کو کسی خاص ارادے اور حکمت کے تحت پیدا کیا ہے۔اس غایت کی ماہیت میں آراء ومذاہب کا اختلاف ہے لیکن عام حقیقت میں اختلاف نہیں ہے۔ اس حقیقت نے ہی آنے والی نسلوں کو مسلسل اس ایمان میں پروئے رکھا اور یہ اس وجہ سے بھی نہیں ہے کہ یہ فکر 'مستقل تخلیق' کی فکر سے پھوٹتی ہے بلکہ اس وجہ سے ہے کہ یہ دونوں فکریں انسانی تصور اورفطرت میں انتہائی گہری پیوست ہیں۔

ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ آسمانی رسالتیں اس غایت کے اثبات کے لیے نہیں بلکہ اس کی یاد دہانی کے لیےآئی ہیں۔ فلاسفہ کی محنت بھی اسی بات پر ہوتی تھی کہ انسان وجود کی غایت اوراس کے وجود کے وظیفے پر بحث کریں۔ جب عضویاتی ارتقاء نظریہ ظاہر ہوا اور اس نے اعلان کیا کہ انسان مسلسل ارتقائی مراحل کا ایک طویل سلسلہ ہے۔ انسان ایک بدبو دار جوہڑ میں ایک جرثومے کی صورت میں ظاہر ہوا اور ایک طویل بے ربط ارتقائی عمل کے نتیجے میں اپنی موجودہ شکل کو پہنچا تو اس سے انسانی وجود کی غایت و مقصد کی بحث ہی ختم ہوگئی۔ یہ نظریہ ارتقائی عمل کو خاص فطری عوامل کی طرف منسوب کرتا ہے اور فطرت ڈارون کے بقول 'اندھی اور بہری' ہے۔

ڈارون کے الفاظ اس طرح ہیں؛ فطرت بے سوچے سمجھے اور بغیر ہدایت و بصیرت کے کام کرتی ہے۔ لہٰذا یہ کوشش بیکار ہوگی کہ ہم تخلیقی عمل اور انسانی وجود کی مستقل غایت اورمقصود ہدف کے بارے میں بحث کریں۔ مثال کے طور پر اگر فطرت مینڈک کوارتقاء پر قدرت بخشتی اور اس کو وہ عنایت کرتی جو اس نے انسان کو اتفاقاً عطا کیا توبندر سیّد المخلوقات ہوتا۔جب ڈارون نے اپنا نظریہ پیش کیا اور انسان کو بھی دیگر حیوانات کی ہی طرح ایک حیوان قرار دیا تو گویا اس نے انسان کی عظمت کو تاریخ کا سب سے زوردار تھپڑ رسید کیا اور انسانی شعور کو اُلٹ کر رکھ دیا۔ اس نے ان محسوسات، عقائد اور و روایات کی بنیاد کو ہلا کر رکھ دیا جو انسانی تاریخ میں ابتداء سے چلے آرہے تھے۔

یہ ڈارون ازم کا نظری معیار تھا لیکن ڈارون ازم کے واقعاتی عملی معیارنے تو اس سے کئی گنا خوفناک نتائج پیدا کیے۔ اس نظریے نے زندگی کی قدر و قیمت ہی ملیا میٹ کر کے رکھ دی۔ لوگوں پر قنوطیت و محرومی چھا گئی اور مضطرب اور بے چین نسلیں پیدا ہوئیں جوکسی مقصد کی حامل تھیں اور نہ کسی ہدف پر سوچ و بچار کرتی تھیں۔

فلسفی برٹرینڈ رسل کہتا ہے: 'فلسفی یا الٰہیات کے عالم کے امکان میں ہمیشہ یہ بات ہوتی ہے کہ وہ ہر شے کی غرض و غایت تلاش کرے،لیکن یہ فکر علمی قوانین کی بحث میں مفید نہیں'۔ گویا ایک طرف ڈارون ازم کے حامیوں نے خود کو الٰہیات اور فلسفہ سے علیحدہ قرار دیا لیکن دوسری طرف خالص فلسفیانہ اور الٰہیات کی بحث میں اپنے علمی نظریات سے ایک بھونچال پیدا کیا اور بعد میں آنے والے ملحد فلاسفہ کو خدا اور انسانی وجود کے غایت و مقصد سے انکار کا بزعمِ خود سائنسی جواز بھی دے دیا۔

اسی بات پر نقد کرتے ہوئے ڈاکٹرجیری برگمین نے اپنے ایک مضمون میں لکھا:کیا درست ہوش و حواس کی حالت میں ڈارونی محققین یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم الٰہیات اور مذہب میں دخل اندازی نہیں کرتے، اور پھر دوسرے ہی لمحے یہ اعلان کائنات کے بے مقصد ہونے کا بھی اعلان کردیں؟ ڈاکِنز جو ڈارون ازم کا حامی ہے وہ انسان کے مقصد و غایت کی نفی کرتے ہوئے یہاں تک لکھتا ہے : وہ لوگ جو انسان کی غایت و مقصد پر یقین رکتےم ہیں وہ صرف غلطی پر ہی نہیں ہیں بلکہ وہ جاہل ہیں، 'صرف سائنس سے نابلد لوگ ہی یہ یقین رکھتے ہیں کہ ہم کسی بلند مقصد کے لیے پیدا کیے گئے ہیں' جبکہ سائنس جاننے والوں کو معلوم ہے کہ' ہمارے وجود کی کوئی وجہ نہیں ہےہم محض تاریخ کے ایک حادثے کی حیثیت سے وجود رکھتے ہیں'۔ ڈاکِنزنز دین پر مزید وار کرتے ہوئے کہتا ہے کہ 'خدا کے وجود کے حق میں کوئی ثبوت نہیں ہے' اور آج تعلیم یافتہ افراد یہ بات جانتے ہیں۔ انسانی وجود کی اس غایت اور مقصد کے مذہبی نظریے کے انکار کے بعد ڈارون ازم نے انسان کے وجود کا اپنا ایک نظریہ پیش کیا، جو ڈاکِنز کے الفاظ میں؛ زندگی کا کوئی مقصد نہیں ہے، ہم دنیا میں محض خود غرض 'جینز' کومنتقل کرنے آئے ہیں، ہمارا کوئی بلند مقصد نہیں ہے!

ڈارون ازم انسانی وجود کا مقصد ہی بتانے پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ وہ انسان کے لیے 'رویے' بھی وضع کرتا ہے جن کو ڈاکِنز 'ڈارونی رویے'یا میمز (memes) کہتا ہے اور میمز صرف آگے منتقل ہونے کے لیے ہوتے ہیں اور وہی میمز ترقی کرتے ہیں جو 'خود غرض' ہوں۔ اس طرح ہم جینز کے ساتھ ساتھ میمز کے بھی زیر اثر ہیں اور یہ میمز ہمیشہ ہمارے جینز کے مطابق نہیں ہوتے۔ اس طرح ڈارون ازم کے نزدیک انسان ایک ایسا حیوان ہے جو اپنے جینز اورعادات کا غلام ہے،اس طرح ڈارون ازم کے مطابق اخلاقیات کی باقاعدہ کوئی بنیاد نہیں ہے اور اخلاق ان عادات کی ترقی یافتہ قسم ہےجن کو انسان نے اپنی بقا کی غرض سے کسی زمانے میں اپنے ماحول سے موافقت کی غرض سے اپنایا تھا،اور صحیح یا غلط کا تعین آخر بقا کی اسی کوشش سے ہوتا ہے اور اس طرح وہ تمام جذبات جن کو ہم اخلاق اور اقدار کے ساتھ جوڑتے ہیں وہ محض ماحول سے اسی موافقت کا نتیجہ ہیں۔ پس اخلاق و اقدار کو عادات سے اخذ کرنے کا ہی شاخسانہ ہے کہ ایک کتاب A Natural History of Rape: Biological Bases of Sexual Coercion میں مصنفین نے یہ دعویٰ کردیا کہ Rape ایک قدرتی اور حیاتیاتی عمل ہے جو کہ ہمارے ارتقائی ورثے کاویسا ہی نتیجہ ہے جیسا کہ چیتے کی کھال پر دھبے اور زرافے کی لمبی گردن ہوتی ہے! یا دوسرے لفظوں میں ریپ ایک ایسے حیاتیاتی عمل کا نتیجہ ہے کہ جو ناپسندیدہ مردوں کو اپنے جینز آگے منتقل کرنے کا موقع دیتا ہے۔ پس جب Rape حیاتیاتی ارتقاء کا نتیجہ ہے تو یہ 'غیر اخلاقی' کس طرح ہو سکتا ہے؟

ڈارون ازم نے انسانی وجود کے ازلی غایت و مقصد کا انکار کرکے انسانیت سے عزت و شرف مکمل طور چھین لیے اور انسان کو یکسر خدا کے وجود سے انکار کی بنیاد فراہم کی کرنے کے ساتھ ساتھ انسانی وجود کو محض ایک حادثہ قرار دے کر اسے ایک بے مقصد وجود ثابت کردیا اور ہر طرح کی اخلاقی و معاشرتی قید سے آزاد ی دے دی جس کے نتیجے میں انسان نفس اور شیطان کے جال میں اس طرح پھنس چکا ہے جس کی مثال تاریخ انسانی میں نہیں ملتی۔ اللہ تعالیٰ نے فطرت انسانی میں اپنے مبدا و معاد کے بارے میں جاننے کی جستجو رکھی ہےجو انسانی فطرت کا جوہر ہے لیکن ڈارون ازم اس جستجو کو ہی ختم کرنے کا باعث ہے،اس نظریے نے فطری ہونے کے دعوے میں انسان سے اس کی فطرت کا جوہر ہی مٹا دیا جدید انسان اپنے مبدا و معاد کی جستجو ہی نہیں رکھتا کیونکہ اسے یہ باور کرا دیاگیا ہے کہ اس کاوجود محض حادثاتی ہے، وہ کسی اعلیٰ مقصد کے لیے پیدا نہیں کیا گیا اور وہ بھی باقی حیوانات ہی کی طرح محض ایک حیوان ہے جس کا مقصد دیگر حیوانات کی طرح کھانے پینے اور نسل کو آگے بڑھانےکے علاوہ کچھ نہیں!حقیقت یہ ہے کہ اشرف المخلوقات اور مسجود الملائکہ کومحض حیوانی خواہشات کا غلام بنانے سے بڑھ کر اس کی کوئی توہین اورذلت ممکن ہی نہیں۔