محمد شیخ کی قرآن فہمی کا قرآنی تجزیہ - عادل سہیل ظفر

شروع اللہ کے نام سے جو بہت ہی مہربان اور رحم کرنے والا ہے

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ،

ایک بھائی نے کِسی محمد شیخ نامی صاحب کا، مفتی عبدالباقی صاحب کے ساتھ کوئی مناظرہ سُنا، اور اُس میں محمد شیخ صاحب کی ایسی باتیں مجھے ارسال کی جن پر بحث ہوئی اور اُن صاحب کو اُن کی غلطی واضح کرنے والا کوئی مُناسب جواب نہ دیا جا سکا۔

مجھے یہ باتیں بھیجنے والے بھائی نے اُس مناظرے یا مباحثے کے دورانیہ کے مُطابق اُن باتوں کا وقت بھی ساتھ لکھ دیا ہے، تا کہ اگر کوئی بھائی وہ مناظرہ دیکھ سن کر اُن باتوں تک پہنچنا چاہے تو اُسے آسانی رہے، اِن شاء اللہ


سب سے پہلے تو یہ بتانا چاہوں گا کہ یہ جو مفتی عبدالباقی صاحب کی اِس شخص محمد شیخ کے ساتھ بات چیت کے مختلف ویڈیو کلپس، یا ایک ہی ویڈیو میں اُن کی مجلس کی ریکارڈنگ نشر کی گئی ہے، اِس کے بارے میں خود مفتی صاحب کا کہنا ہے کہ یہ کوئی مناظرہ نہ تھا، اور نہ ہی وہ مناظرہ یا مباحثہ وغیرہ کے لیے وہاں گئے تھے۔

آئیے اب ہم محمد شیخ کی خود ساختہ قرآن فہمی کے زعم میں کیے جانے والے مختلف دعویٰ جات کا جائزہ لیتے ہیں، اور اِن شاء اللہ اُس کی ساری ہی غلط فہمیوں کا قرآن کریم کی آیات کی روشنی میں ہی جائزہ لیا جائے گا، تاکہ اُس جیسے لوگوں کو، جو، حدیث شریف سے اِس طرح بِدکتے ہیں جِس طرح اھلء نفاق موت سے بِدکتے ہیں، ایسے لوگوں کے فرار کی راہیں مسدود رہیں اِن شاء اللہ۔


6:3 مباحثہ شروع

9:45 قرآن میں موسیٰ کے ساتھ توراۃ نہیں آیا بلکہ فرقان وغیرہ آیا ہے

جواب

موسی علیہ السلام کے نام کے ساتھ جڑ کر اگر توراۃ کا بنام ذِکر نہیں آیا تو اِس سے یہ لازم نہیں کہ اُنہیں تورات نہیں دِی گئی تھی، بلکہ کوئی اور کتاب دِی گئی تھی، اللہ عزّ و جلّ نے اپنے اسلوب میں بڑی وضاحت سے بتا رکھا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کو دِی جانے والی کتاب تورات ہی تھی

وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ فَلَا تَكُنْ فِي مِرْيَةٍ مِنْ لِقَائِهِ وَجَعَلْنَاهُ هُدًى لِبَنِي إسرائيل o وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوا وَكَانُوا بِآيَاتِنَا يُوقِنُونَ اور یقیناً ہم نے موسیٰ کو کتاب دِی، لہٰذا آپ اس کتاب کے ملنے بارے میں شک میں مت رہیے گا، اور ہم نے اُسے (کتاب، یا، موسیٰ کو ) بنی اِسرائیل کے لیے ہدیات بنایا، اور اُن میں سے راہنما بنائے تھے جو ہمارے حکم کے مُطابق ہدایت دیتے تھے، جب انہوں نے صبر کیا تھا اور جب وہ ہماری آیات پر یقین رکھتے تھے (سُورت السجدة(32)/ آیات 23، 24)

موسیٰ علیہ السلام کو کونسی کتاب دی گئی ؟

وَإِذْ قَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُم مُّصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرَاةِ وَمُبَشِّرًا بِرَسُولٍ يَأْتِي مِن بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ فَلَمَّا جَاءَهُم بِالْبَيِّنَاتِ قَالُوا هَٰذَا سِحْرٌ مُّبِينٌ اور جب مریم کے بیٹے عیسیٰ نے بنی اِسرائیل سے کہا میں تم لوگوں کی طرف اللہ کا رسول ہوں، جو کچھ مجھ سے پہلے تورات میں آ چکا، اُس کی تصدیق کرنے والا ہوں، اور میرے بعد آنے والے رسول جس کا نام احمد ہے اُس کی(آمد کی) خوشخبری دینے والا ہوں، پھر جب اُن لوگوں کے پاس واضح نشانیاں آگئیں تو اُنہوں نے کہا یہ تو کھلا جادُو ہے (سُورت صف(61)/ آیت6)

وَقَفَّيْنَا عَلَى آثَارِهِمْ بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ مُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ التَّوْرَاةِ وَآتَيْنَاهُ الْإِنْجِيلَ فِيهِ هُدًى وَنُورٌ وَمُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ التَّوْرَاةِ وَهُدًى وَمَوْعِظَةً لِلْمُتَّقِينَ اور ہم نے اُن (پیغمبروں ) کے بعد اُن کے پیچھے ہی عیسی ابن مریم کو بھیجا جو اپنے سے پہلے والی(کتاب) تورات کی تصدیق کرنے والے تھے، اور ہم نے عیسیٰ کو (ایک اور کتاب )انجیل دِی، جِس میں روشنی اور ہدایت ہے، اور وہ اپنے سے پہلے والی (کتاب) تورات کی تصدیق کرنے والی ہے، اور تقویٰ والوں کے لیے ہدایت اور نصحیت ہے (سُورت المائدہ (5)/ آیت46)

سُورت المائدہ کی اِس مذکورہ بالا آیت شریفہ کو اکیلا پڑھنے کے عِلاوہ آیت رقم 44 تا 48 سب ہی آیات کو تسلسل سے پڑھیے تو مزید وضاحت مُیسر ہوتی ہے، و للہ الحمد۔

پس واضح ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام سے پہلے آچکی کتاب تورات تھی جو موسیٰ علیہ السلام کو دی گئی تھی، اور اُن کے بعد آنے والی کتاب انجیل تھی جو عیسیٰ علیہ السلام کو دِی گئی۔

اور دونوں رسولوں کی آمد کی ترتیب کے مُطابق ہی اُن کو دِی جانےو الی کتابوں کا ذِکر ہے کہ وَلَوْ أَنَّهُمْ أَقَامُوا التَّوْرَاةَ وَالْإِنْجِيلَ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِمْ مِنْ رَبِّهِمْ لَأَكَلُوا مِنْ فَوْقِهِمْ وَمِنْ تَحْتِ أَرْجُلِهِمْ مِنْهُمْ أُمَّةٌ مُقْتَصِدَةٌ وَكَثِيرٌ مِنْهُمْ سَاءَ مَا يَعْمَلُونَ اور اگر اُنہوں نے (یعنی بنی اِسرائیل نے ) توراۃ اور انجیل اور جو کچھ اُن کی طرف نازل کیا گیا اُس پرعمل کیا ہوتا تو (انہیں اتنا رِزق ملتا کہ ) وہ اپنے اوپر سے اور اپنے پیروں کے نیچے سے کھاتے، اُن میں سے کچھ تو میانہ رو ہیں اور اکثریت برائی کرنے والی (سُورت المائدہ (5)/ آیت66)


23:43 سارے مُسلمان بنی اسرائیل میں شامل ہیں

جواب

بنی اِسرائیل صِرف یعقوب علیہ السلام کی اولاد ہیں، اُن میں سے جِس کِسی نے اللہ، پر، آخرت کے دِن پر، اور اپنے وقت میں آنے والے رسول و نبی پر ایمان رکھا، اور اُس سے پہلے والے سب نبیوں پر ایمان رکھا، صِرف وہی مُسلمان ہے۔ پس نہ تو سارے بنی اسرائیل مُسلمان تھے اور ہوئے، اور نہ ہی ہر مُسلمان بنی اِسرائیل ہے،

كُلُّ الطَّعَامِ كَانَ حِلًّا لِّبَنِي إِسْرَائِيلَ إِلَّا مَا حَرَّمَ إِسْرَائِيلُ عَلَىٰ نَفْسِهِ مِن قَبْلِ أَن تُنَزَّلَ التَّوْرَاةُ کھانے پینے کی سب چیزیں بنی اِسرائیل پر حلال تھیں، سوائے اُن کے جو اِسرائیل تورات نازل ہونے سے پہلے خود اپنے طور اپنے اوپر حرام کر لی تِھیں

کوئی اِن محمد شیخ صاحب سے پوچھے کہ اِس مذکورہ بالا آیت شریفہ میں ’’اِسرائیل‘‘ کون ہے؟ جِن کی اولاد و نسل کو نبی اِسرائیل کہا گیا؟ کیا وہ یعقوب علیہ السلام کے عِلاوہ کوئی اور ہے؟ یقیناً نہیں، تو پھر جو کوئی یعقوب علیہ السلام کی اولاد و نسل میں سے نہیں وہ نبی اِسرائیل کیونکر ہو سکتا ہے؟


28:23 نزول انبیا کے علاوہ کسی پر بھی ہو سکتا ہے،

جواب

اگر اِس سے مُراد، اِلہام اور خواب کے ذریعے کوئی خبر دینا ہے تو دُرُست ہے، اور اگر اِس سے مُراد اللہ کے احکام، شریعت، یا کتاب ہے تو غلط ہے، اور اِس دُوسرے مفہوم کی کوئی دلیل کتاب اللہ قرآن کریم میں بھی مُیسر نہیں۔


47:59 اھل کتاب مسلمان ہیں

جواب

جو محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم پر اِیمان نہیں رکھتا، اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کا ؤخری نبی اور آخری رسول نہیں مانتا، بلا شک و شبہ وہ کافر ہے، خواہ اھل کتاب میں سے ہی ہو۔

وَمَنْ لَمْ يُؤْمِنْ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ فَإِنَّا أَعْتَدْنَا لِلْكَافِرِينَ سَعِيرًا اور جو کوئی اللہ اور اُس کے رسول پر اِیمان نہیں لایا تو ہم نے (ایسے ) کافروں کے لیے بھڑکیلی آگ تیار کر رکھی ہے (سُورت الفتح (48)/آیت 13)

قَالَ عَذَابِي أُصِيبُ بِهِ مَنْ أَشَاء وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُهَا لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَالَّذِينَ هُم بِآيَاتِنَا يُؤْمِنُونَ o الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الأُمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوباً عِندَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالإِنْجِيلِ يَأْمُرُهُم بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَاهُمْ عَنِ الْمُنكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَآئِثَ وَيَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ وَالأَغْلاَلَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمْ فَالَّذِينَ آمَنُوا بِهِ وَعَزَّرُوهُ وَنَصَرُوهُ وَاتَّبَعُوا النُّورَ الَّذِي أُنْزِلَ مَعَہُ أُولٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ اللہ کہتا ہے میں جسے چاہوں اپنا عذاب دوں اور میری رحمت نے ہر چیز کو گھیر رکھا ہے اور میں اپنی رحمت ان کے لیے لکھوں گا جو تقویٰ والے ہیں اور زکاۃ ادا کرتے ہیں اور جو ہماری آیات ہر اِیمان لاتے ہیں o یہ وہ لوگ ہیں جو اُس رسول(محمد) پر اِیمان رکھتے ہیں جو پڑھ لکھ نہیں سکتے، وہ رسول جسے یہ لوگ اپنے پاس تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں، (وہ رسول)جو انہیں نیکی کا حُکم دیتا ہے اور برائی سے روکتا ہے اور اُن کے لیےپاکیزہ چیزیں حلال کرتا ہے اور ناپاک چیزیں حرام قرار دیتا ہے اور اُن پر سے اُن کے بوجھ اور طوق اتارتا ہے پس جو اس رسول پر اِیمان لائے اور اُس کا ساتھ دیا اور اس کی عزت کی اور اس کی مددکی،اور جو نور اس کے ساتھ نازل ہوا ہے اُس کی پیروی کی، وہی لوگ کامیابی پانے والے ہیں۔ (سورت الاعراف /آیت 156،157)

یہ بھی بتایا گیا کہ اِن محمد شیخ صاحب نے ’’النَّبِيَّ الأُمِّيَّ‘‘ سے مُراد عیسیٰ علیہ السلام سُجھانے کے لیے اِن دو اِلفاظ کا ترجمہ ’’ماں والا نبی‘‘ کر ڈالا ہے،

یہ ترجمہ کِسی بھی طور دُرُست نہیں، اللہ جلّ و عُلا نے فرمایا ہے الرَّسُولَ النَّبِيَّ الأُمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوباً عِندَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالإِنْجِيلِ وہ رسول جو پڑھ لکھ نہیں سکتے، وہ (رسول) جسے یہ لوگ اپنے پاس تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں

تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں تو وہ محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ہی ہیں، نہ کہ عیسی علیہ السلام کہ انجیل تو عیسی علیہ السلام پر ہی نازل ہوئی تھی، اُس میں محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی آمد کی خبریں تھیں نہ کہ عیسی علیہ السلام کی،

اور عربی ز ُبان کے مُطابق بھی ’’ماں والا نبی‘‘ کِسی طور ’’النبی الاُمی‘‘ نہیں بن سکتا۔


51:18 بنی اسرائیل کے علاوہ کتاب، حکومت اور نبوت کسی کو ملی؟

جواب

اِس وضاحت کے بعد، کہ، بنی اِسرائیل صِرف اِسرائیل یعنی یعقوب علیہ السلام کی اولاد ہیں، یہ مذکورہ بالا سوال بھی ھباءً منثورا ہے، کیونکہ آخری کتاب قرآن کریم، اور آخری نبوت، اور پھر بنی اسرائیل سے بھی عظیم الشان حکومت، بنی اسماعیل علیہ السلام میں اللہ جلّ و عُلا کے آخری رسول کریم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو ملی۔

اِن سب ہی باتوں کو کوئی بھی صحت مند عقل والا جھٹلا نہیں سکتا، خواہ وہ محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم پر اِیمان نہ رکھتا ہو، پھر اِن حقائق کو نہیں جُھٹلا سکتا، جی، جِس کے دِل و دِماغ پر وساوس کے اندھیرے چھا چکے ہوں وہ اپنی اُس اندھیر نگری میں کِسی بھی طرف لڑھک سکتا ہے۔


52:35 ہر زمانے میں کتاب قرآن ہی رہی ہے

1:59:49 پچھلے سارے انبیاء قرآن کا ہی ترجمہ کر کے اپنے لوگوں کو بتاتے تھے ان کی اپنی زبان میں

2:12:43 قرآن محمد(ص) سے پہلے کاغذی شکل میں موجود تھا

جواب

مذکورہ بالا تینوں باتیں ایک ہی فلسفے کی شاخیں اور سب کا جواب یہ ہے کہ قرآن کریم صِرف محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم پر نازل فرمایا گیا، اُن سے پہلے کِسی اور نبی و رسول علیہم السلام جمعیاً میں سے کِسی پر بھی نہیں، لہٰذا اِس بات کی تو گنجائش ہی نہیں کہ قرآن کریم محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم پر نازل ہونے سے پہلے کہیں کاغذی شکل میں موجود تھا،

یہ مذکورہ بالا دعویٰ تو گویا کفار کی اِس بات کی تائید ہے کہ وَقَالُوا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ اكْتَتَبَهَا فَهِيَ تُمْلَىٰ عَلَيْهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا اور ( کافر )کہتے ہیں کہ یہ پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں جو اِس نے لکھ رکھی ہیں، اور جو صبح شام اِسے پڑھ کر سِکھائی جاتی ہیں (سُورت طہٰ (20) / آیت 2)

آیے اب دیکھتے ہیں کہ قرآن پاک کِس پر نازل ہوا؟ اور اُس سے پہلے کیا نازل ہوا ؟ جِسے انبیاء و رسل علیہم السلام سناتے تھے ؟

مَا أَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لِتَشْقَى ہم نے (اے محمد ) یہ قرآن آپ پر اِس لیے نازل نہیں کیا کہ آپ اِس کی وجہ سے پریشان ہو ں (سُورت طہٰ (20) / آیت 2)

إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْآنَ تَنْزِيلًا بے شک (اے محمد ) ہم نے یہ قرآن آپ پر تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا ہے (سُورت الانسان (76)/آیت23)

یہ بھی پڑھیں:   شہر رسول میں قرآن کریم نمائش - حافظ خضر حیات

اگر قرآن پاک وہی کچھ ہوتا جو پہلے انبیاء اور رُسل علیہم السلام پر نازل ہوا تھا تو یہود و نصاریٰ قرآن سن کر یہ کہتے کہ یہ تو ہمارے نبیوں کی نقالی کی جا رہی ہے، یہ تو وہی کچھ ہے جو ہمارے نبیوں پر نازل ہوا تھا، لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا، اُنہیں تو یہ دعویٰ نہیں سُوجھا مگر اب صدیوں بعد مُسلمانوں کی صِفوں میں ایسے نام نہاد قرآن فہم ظاہر ہونے لگے جو قرآن پاک کو ہی پہلے والی کتابیں قرار دینے لگے، یا، یوں کہیے کہ پہلے والی کتابوں کو ہی قرآن پاک قرار دینے لگے،

موسیٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام کو دی جانے والی کتابیں الگ تھیں، اور اِسی طرح دیگر انبیاء و رسل علیہم السلام کو دی جانی والی کتابیں اور صُحف الگ، وہ قرآن نہ تھے،

وَقَفَّيْنَا عَلَى آثَارِهِمْ بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ مُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ التَّوْرَاةِ وَآتَيْنَاهُ الْإِنْجِيلَ فِيهِ هُدًى وَنُورٌ وَمُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ التَّوْرَاةِ وَهُدًى وَمَوْعِظَةً لِلْمُتَّقِينَ اور ہم نے اُن (پیغمبروں ) کے بعد اُن کے پیچھے ہی عیسی ابن مریم کو بھیجا جو اپنے سے پہلے والی(کتاب) تورات کی تصدیق کرنے والے تھے، اور ہم نے عیسیٰ کو (ایک اور کتاب )انجیل دِی، جِس میں روشنی اور ہدایت ہے، اور وہ اپنے سے پہلے والی (کتاب) تورات کی تصدیق کرنے والی ہے، اور تقویٰ والوں کے لیے ہدایت اور نصحیت ہے (سُورت المائدہ (5)/ آیت46)

حق یہ ہی ہے کہ قرآن کریم ایک الگ مُستقل کتاب ہے، اپنے سے پہلے نازل کی گئی کتابوں کی تصدیق کرنے والی کتاب نَزَّلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَأَنْزَلَ التَّوْرَاةَ وَالْإِنْجِيلَ O مِنْ قَبْلُ هُدًى لِلنَّاسِ وَأَنْزَلَ الْفُرْقَانَ إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِ اللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ وَاللَّهُ عَزِيزٌ ذُو انْتِقَامٍ (اے محمد ) اُس (اللہ) نے آپ پر یہ حق والی کتاب نازل کی ہے، جو اپنے سے پہلے والی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے، اور اُسی نے تورات اور انجیل نازل کی O اِس( قرآن کے نزول ) سے پہلے ہی، اور (پھر اُن کی تصدیق کے لیے بھی) یہ فرقان (یعنی حق و باطل میں فرق کرنےو الا قران) نازل کیا، بے شک جو لوگ اللہ کی آیات کا اِنکار کرتے ہیں اُن کے شدید عذاب ہے اور اللہ بہت ہی زبردست اور بدلہ لینے والا ہے (سُورت آل عمران (3)/آیات 3،4)

اللہ تعالیٰ نے اِس بات کی گواہی جِنّات سے بھی دِلوا دِی کہ موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہونے والی کتاب اور تھی، اور محمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم پر نازل ہونے والی کتاب اور قَالُوا يَاقَوْمَنَا إِنَّا سَمِعْنَا كِتَابًا أُنْزِلَ مِنْ بَعْدِ مُوسَى مُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهِ يَهْدِي إِلَى الْحَقِّ وَإِلَى طَرِيقٍ مُسْتَقِيمٍ جِنّوں نے کہا، اے ہماری قوم، ہم نے وہ کتاب سُنی ہے جو موسیٰ کے بعد نازل کی گئی ہے، اپنے سے پہلے والی کی تصدیق کرنے والی، جو حق کی طرف اور استقامت والے راستے کی طرف ہدایت دینے والی ہے (سُورت الاحقاف (46)/آیت30)

الحمد للہ، اِن تمام آیات شریفہ سے یہ بالکل صاف صاف سمجھ میں آتا ہے کہ قرآن کریم اُس سے پہلے والی کتابوں سے الگ اور جدا ایک مُستقل کتاب ہے، اور ’’بین یدیہ‘‘ سے مُراد ’’پہلے والا، یا، پہلے والی، آگے والا، یا، آگے والی‘‘ بھی ہوتا ہے، محض سامنے والا، یا، سامنے والی نہیں۔


1:4:8 قرآن میں کہیں نہیں لکھا کہ توراۃ اور انجیل میں تحریف ہو چکی ہے

جواب

اللہ عزّ و جلّ نے قرآن کریم میں کئی مُقامات پر یہود و نصاریٰ کے بارے میں یہ بتایا ہے کہ وہ اللہ کے کلام میں تحریف کرتے تھے۔

یہودیوں کی بدکاریوں کی خبر دیتے ہوئے اِرشاد فرمایا أَفَتَطْمَعُونَ أَنْ يُؤْمِنُوا لَكُمْ وَقَدْ كَانَ فَرِيقٌ مِنْهُمْ يَسْمَعُونَ كَلَامَ اللَّهِ ثُمَّ يُحَرِّفُونَهُ مِنْ بَعْدِ مَا عَقَلُوهُ وَهُمْ يَعْلَمُونَ (اے اِیمان لانے والو) کیا تم لوگ اِس بات پر اطمینان رکھتے ہو کہ یہود تم لوگ کے کہنے پر اِیمان لے آئیں گے، جبکہ اِن میں ایک گروہ ایسا بھی ہ رہا ہے جو اللہ کا کلام سننے اور سمجھنے کے بعد بھی اُس میں تحریف کرتا تھا، اور وہ لوگ جانتے تھے (کہ وہ کیا کر رہے ہیں) (سُورت البقرہ (2)/آیت75)

اِس آیت شریفہ سے آگے تسلسل میں پڑھتے چلیے تو آیت رقم 79 میں یہ خبر ملتی ہے کہ فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ يَكْتُبُونَ الْكِتَابَ بِأَيْدِيهِمْ ثُمَّ يَقُولُونَ هَذَا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ لِيَشْتَرُوا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا فَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا كَتَبَتْ أَيْدِيهِمْ وَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا يَكْسِبُونَ تو تباہی و بربادی ہے اُن لوگوں کے لیے جو اپنے ہاتھوں سے کتاب لکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے پاس سے (آئی) ہے، تا کہ اِس کے ذریعے کچھ تھوڑی بہت کمائی کر لیں، اِن کا ہاتھوں کا لکھا ہوا بھی اِن کے لیے تباہی ہے اورجو کچھ( اِس کے ذریعے ) کمایا وہ بھی اِن کے لیے تباہی ہے (سُورت البقرہ (2)/آیت79)

بنی اِسرائیل کے گناہوں کی خبر دیتے ہوئے اللہ پاک نے اِرشاد فرمایا فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِيثَاقَهُمْ لَعَنَّاهُمْ وَجَعَلْنَا قُلُوبَهُمْ قَاسِيَةً يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَنْ مَوَاضِعِهِ وَنَسُوا حَظًّا مِمَّا ذُكِّرُوا بِهِ وَلَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلَى خَائِنَةٍ مِنْهُمْ إِلَّا قَلِيلًا مِنْهُمْ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاصْفَحْ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ تو اِن کی عہد شکنی کی وجہ سے ہم نے اُن پر لعنت کی (یعنی اپنی رحمت سے دُور کر دیا ) اور اُن کے دِل سخت کر دیے (تو اب اِن کا معاملہ یہ ہے کہ ) باتوں کو اُن کی جگہ سے بدل دیتے ہیں، اور جو نصحتیں اِنہیں کی گئی تھیں اُن کا بڑا حصہ بھول چکے ہیں، اور آئے دِن تمہیں اِن کی کِسی خیانت کا علم ہوتا رہتا ہے، اِن میں بہت ہی کم لوگ ایسی بدکاریوں سے بچے ہوئے ہیں، پس (اے محمد) آپ اِن کو معاف کرتے رہیے اور اِن سے درگذر کرتے رہیے بے شک اللہ احسان کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے (سُورت المائدہ (5) /آیت 13)

اِس مذکورہ بالا آیت شریفہ میں محمد شیخ کے اِس فلسفے کا بھی اِنکار ہے کہ بنی اِسرائیل پر قیامت تک کے لیے اللہ کی نعمتیں نازل ہیں۔

جی نہیں! بلکہ نبی اِسرائیل کی نافرمانیوں اور گھناؤنے گناہوں کی وجہ سے اُن پر اللہ کی لعنت ہو چکی ہے، یعنی اللہ کی رحمتوں سے دُور کیے جا چکے ہیں۔ خیال رہے قارئین کرام کہ دُنیاوی لذتیں اور راحتیں کچھ اور ہیں اور اللہ کی رحمت اور نعمت کچھ اور،اِس آیت شریفہ کے عِلاوہ اور بھی بہت سی آیات ہیں جو اِس امر کی دلیل ہیں کہ بنی اِسرائیل پر ہمیشہ کے لیے اللہ کی لعنت وارد ہو چکی ہے۔

اِس بنی اِسرائیل کے بارے میں اللہ سُبحانہ ُ و تعالیٰ کا ہی فیصلہ ہے کہ وَضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَالْمَسْكَنَةُ وَبَاءُوا بِغَضَبٍ مِّنَ اللَّهِ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ كَانُوا يَكْفُرُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ وَيَقْتُلُونَ النَّبِيِّينَ بِغَيْرِ الْحَقِّ ذَٰلِكَ بِمَا عَصَوا وَّكَانُوا يَعْتَدُونَ اِن پر ذِلت، پستی ومحتاجی اور اللہ کا غضب لازم کر دِیے گئے ہیں، (اور) یہ (ذِلت، اللہ کا غضب، اور پستی ) اِس لیے کہ یہ لوگ اللہ کی آیات کا اِنکار کرتے تھے اور نبیوں کو بغیر حق کے قتل کرتے تھے،(اور) یہ (ذِلت، اللہ کا غضب، اور پستی ) اِس لیے کہ یہ لوگ نافرمانی کرتے تھے اور حد سے تجاوز کرتے تھے (سُورت البقرہ (2)/آیت61)

اللہ عزّ و جلّ نے اھل کتاب کا ذِکر کرتے ہوئے اپنا فیصلہ سُنایا ہے کہ ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ أَيْنَ مَا ثُقِفُوا إِلَّا بِحَبْلٍ مِّنَ اللَّهِ وَحَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ وَبَاءُوا بِغَضَبٍ مِّنَ اللَّهِ وَضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الْمَسْكَنَةُ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ كَانُوا يَكْفُرُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ وَيَقْتُلُونَ الْأَنبِيَاءَ بِغَيْرِ حَقٍّ ذَٰلِكَ بِمَا عَصَوا وَّكَانُوا يَعْتَدُونَ یہ جہاں کہیں بھی ہوں گے اِن پر ذِلت لازم کر دِی گئی ہے سوائے اِس کے کہ، یا تو اللہ کی پناہ میں آ جائیں، یا لوگوں کی پناہ میں، اور یہ لوگ اللہ کے غضب میں گِھر چکے ہیں، اور اِن پر پستی ومحتاجی مُسلط کی جا چکی، (اور) یہ(ذِلت، اللہ کا غضب، اور پستی ) اِس لیے کہ یہ لوگ اللہ کی آیات کا اِنکار کرتے تھے اور نبیوں کو بغیر حق کے قتل کرتے تھے (اور) یہ (ذِلت، اللہ کا غضب، اور پستی ) اِس لیے کہ یہ لوگ نافرمانی کرتے تھے اور حد سے تجاوز کرتے تھے (سُورت آل عِمران (3)/آیت 112)

اھل کتاب، یعنی، یہود و نصاریٰ دونوں کے ہی گناہوں کی خبروں میں یہ بھی پڑھتے چلیے وَإِنَّ مِنْهُمْ لَفَرِيقًا يَلْوُونَ أَلْسِنَتَهُمْ بِالْكِتَابِ لِتَحْسَبُوهُ مِنَ الْكِتَابِ وَمَا هُوَ مِنَ الْكِتَابِ وَيَقُولُونَ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ وَمَا هُوَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ وَيَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ وَهُمْ يَعْلَمُونَ اور اِن( اھل کتاب ) میں سے لوگ بھی ہیں جو کتاب کو پڑھتے ہوئے ز ُبان کو ایسے مڑوڑ مڑوڑ کر پڑھتے ہیں کہ آپ یہ سمجھیں کہ یہ کتاب میں سے پڑھ رہے ہیں جبکہ وہ (جو کچھ پڑھتے ہیں وہ)کتاب میں سے نہیں ہے، اور وہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے پاس سے ہے جبکہ وہ اللہ کے پاس سے نہیں ہے، اور وہ لوگ جان بُوجھ کر اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں (سُورت آل عمران (3)/آیت78)

پس، و الحمد للہ، قرآن کریم میں ہی اللہ تعالیٰ نے یہ بتا دِیا ہے کہ اھل کتاب نے اپنی کتابوں میں تحریف کی، اور تحریف کرنا اُن کی عادت میں شامل ہو چکا، اور یہ بھی نبی اِسرائیل پر خصوصاً، اور اھل کتاب پر عموما ً ذِلت، اللہ کا غضب، پستی اور محتاجی لازم کی جا چکی ہے۔

خیال رہے محترم قارئین کہ دُنیاوی وسائل کی کثرت اللہ کی رحمت کی دلیل یا نشانی نہیں ہوتی، بالخصوص کافروں اور بدکاروں کو ملنے والے وسائل، یہ سب کچھ اللہ کی طرف کوئی نعمت نہیں ہوتے، نہ ہی اُس کی رحمت، اور نہ ہی اُس کے محبوب ہونے کی دلیل، بلکہ یہ اللہ کی طرف سے استدارج ہوتا ہے۔


2:30:20 محمد(ص) شروع سے پڑھے لکھے تھے

جواب

یہ مذکورہ بالا بات بھی اللہ جلّ و عُلا کے فرمان کے خِلاف ہے۔ اللہ سُبحانہ ُو تعالیٰ نے تو اپنے نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی صِفت کے طور پر ذِکر فرمایا ہے کہ وہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم پڑھنا لکھنا نہ جانتے تھے۔

اور یہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی نبوت کی صداقت کی نشانیوں میں سے ایک ہے کہ پڑھنا لکھنا نہ جاننے کے باوجود جو عِلم و عِرفان و حِکمت اُن کی زبان مُبارک پر جاری ہوتا تھا وہ بڑے سے بڑے شاعر ادیب عالم فاضل فلسفی وغیرہ کے گمان میں بھی آنے والا نہیں تھا قَالَ عَذَابِي أُصِيبُ بِهِ مَنْ أَشَاء وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُهَا لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَالَّذِينَ هُم بِآيَاتِنَا يُؤْمِنُونَ o الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الأُمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوباً عِندَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالإِنْجِيلِ يَأْمُرُهُم بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَاهُمْ عَنِ الْمُنكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَآئِثَ وَيَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ وَالأَغْلاَلَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمْ فَالَّذِينَ آمَنُوا بِهِ وَعَزَّرُوهُ وَنَصَرُوهُ وَاتَّبَعُوا النُّورَ الَّذِي أُنْزِلَ مَعَہُ أُولٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ اللہ کہتا ہے میں جسے چاہوں اپنا عذاب دوں اور میری رحمت نے ہر چیز کو گھیر رکھا ہے اور میں اپنی رحمت ان کے لیے لکھوں گا جو تقویٰ والے ہیں اور زکاۃ ادا کرتے ہیں اور جو ہماری آیات ہر اِیمان لاتے ہیں o یہ وہ لوگ ہیں جو اُس رسول(محمد) پر اِیمان رکھتے ہیں جو پڑھ لکھ نہیں سکتے، وہ رسول جسے یہ لوگ اپنے پاس تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں، (وہ رسول)جو انہیں نیکی کا حُکم دیتا ہے اور برائی سے روکتا ہے اور اُن کے لیےپاکیزہ چیزیں حلال کرتا ہے اور ناپاک چیزیں حرام قرار دیتا ہے اور اُن پر سے اُن کے بوجھ اور طوق اتارتا ہے پس جو اس رسول پر اِیمان لائے اور اُس کا ساتھ دیا اور اس کی عزت کی اور اس کی مددکی،اور جو نور اس کے ساتھ نازل ہوا ہے اُس کی پیروی کی، وہی لوگ کامیابی پانے والے ہیں (سورت الاعراف /آیت 156،157)

یہ بھی پڑھیں:   عہد نامہ قدیم، ایک تعارف - مقصود حسین

اِن مذکورہ بالا دو آیت شریفہ میں صِرف یہ ہی مذکور نہیں کہ نبی اکرم محمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم پڑھنا لکھنا نہ جانتے تھے، بلکہ یہ بھی واضح ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے ظہور کے بعد، یہود و نصاریٰ میں سے جو کوئی بھی اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی اتباع نہیں کرتا وہ درحقیقت اِیمان والا نہیں، اِسی لیے اللہ کے
ہاں اِیمان والا نہیں ہے، خواہ وہ اللہ تعالیٰ پر، یوم آخرت پر موسیٰ علیہ السلام پر، عیسیٰ علیہ السلام پر اور تورات و انجیل پر ایمان کا دعویٰ دار ہی کیوں نہ ہو۔


2:42:50 قرآن میں کہاں لکھا ہے جبریل(ع) فرشتہ ہے؟

جواب

یہ تو کچھ ایسی ہی بات ہے جیسے یہ کہا جائے کہ قرآن میں کہاں لکھا ہے کہ کتا کھانا حرام ہے ؟ مُسلمان بچے کے ختنے کیے جانے چاہئیں ؟ چرس، افیم، گانجا، ہیروین وغیرہ حرام ہیں ؟ مُسلمان مُردے کو غسل دِیا جانا چاہیے ؟ کفنایا جانا چاہیے ؟ دفنایا جانا چاہیے ؟اور، اور، اور۔۔۔

بہر حال،،، آئیے پڑھتے اور سمجھتے ہیں کہ قرآن میں کہاں لکھا ہے کہ جبریل علیہ السلام فرشتہ ہیں

اللہ جلّ جلالہُ نے سورت البقرہ میں بنی اِسرائیل کے گناہوں کی خبر دیتےہوئے اِرشاد فرمایا ہے قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِجِبْرِيلَ فَإِنَّهُ نَزَّلَهُ عَلَى قَلْبِكَ بِإِذْنِ اللَّهِ مُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَهُدًى وَبُشْرَى لِلْمُؤْمِنِينَ O مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِلَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَرُسُلِهِ وَجِبْرِيلَ وَمِيكَالَ فَإِنَّ اللَّهَ عَدُوٌّ لِلْكَافِرِينَ O وَلَقَدْ أَنْزَلْنَا إِلَيْكَ آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ وَمَا يَكْفُرُ بِهَا إِلَّا الْفَاسِقُونَ (اے محمد ) فرمایے کہ جو کوئی جبریل کا دُشمن ہے تو( وہ یاد رکھے کہ ) جبریل نے تو قرآن کو آپ کے دِل پر اللہ کے حکم سے نازل کیا ہے، اُس کی تصدیق کے لیے جو کچھ اُس (قرآن ) سے پہلے(نازل شدہ ) ہے، اور اِیمان والوں کے لیے ہدایت اور خوشخبری کے لیے O جو کوئی اللہ کا دُشمن ہے، اور اُس کے فرشتوں کا دُشمن ہے، اور اُس کے رسولوں کا دُشمن ہے، اور(فرشتوں میں سے خاص قدر و منزلت والے ) جبریل اور میکایل کا دُشمن ہے تو اللہ (ایسے ) کافروں کا دُشمن ہے O اور یقیناً ہم نے ہی آپ کی طرف واضح آیات نازل کی ہیں جن کا اِنکارصِرف فاسق ہی کرتے ہیں (سورت بقرہ (2)/ آیات 97 تا 99)

مزید اِرشاد فرمایا قُلْ نَزَّلَهُ رُوحُ الْقُدُسِ مِنْ رَبِّكَ بِالْحَقِّ لِيُثَبِّتَ الَّذِينَ آمَنُوا وَهُدًى وَبُشْرَى لِلْمُسْلِمِينَ ہی بے شک قرآن کو آپ کے رب کی طرف سے مقدس رُوح (جبریل ) نے ہی حق کے ساتھ نازل کیا ہے، تا کہ اِیمان لانے والوں کو ثابت قدم کرے، اور مُسلمانوں کے لیے ہدایت اور خوشخبری (بنا نازل کیا ہے ) (سورت النحل(16)/ آیت 102)

اِن آیات مُبارکہ میں بڑی وضاحت سے اِرشاد فرمایا گیا ہے کہ جبریل علیہ السلام اللہ ہی وہ ہستی ہیں جو اللہ کے حکم سے محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے قلبء اطہر پر قرآن نازل فرماتے تھے۔

اللہ عزّ و جلّ کے پیغامات اُس کے زمین والے رسولوں تک اُس کے آسمان والے رسول یعنی فرشتے ہی لاتے تھے، کوئی اور مخلوق نہیں۔

لہٰذا بالکل واضح ہے کہ جبریل علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے فرشتے ہیں، رُوح القُدس ہیں، اور وہی اللہ تعالیٰ کے حکم کے مُطابق محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم پر قرآن کریم نازل فرماتے تھے، وہ قرآن جو اپنے سے پہلی والی کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے۔

یہ آیات مُبارکہ اِس بات کی بھی دلیل ہوئیں کہ قرآن کریم ایک الگ مُستقل کتاب ہے، جِس سے پہلے دیگر کتابوں کا نزول ہو چکا تھا، اور یہ قرآن کریم محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم پر نازل ہونے سے پہلے اِنسانوں میں کِسی بھی صُورت میں موجود نہ تھا۔


2:47:53 قبلہ شروع سے ایک رہا ہے،

جواب

اِس خلاف قرآن دعویٰ کا جواب جاننے کے لیے تو سورت بقرہ کی آیات 143 تا 145کو سمجھ لینا ہی کافی ہے، ملاحظہ فرمائیے:

وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِي كُنْتَ عَلَيْهَا إِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ يَتَّبِعُ الرَّسُولَ مِمَّنْ يَنْقَلِبُ عَلَى عَقِبَيْهِ وَإِنْ كَانَتْ لَكَبِيرَةً إِلَّا عَلَى الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ إِنَّ اللَّهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوفٌ رَحِيمٌ O قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ وَإِنَّ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَيَعْلَمُونَ أَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَبِّهِمْ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا يَعْمَلُونَ O وَلَئِنْ أَتَيْتَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ بِكُلِّ آيَةٍ مَا تَبِعُوا قِبْلَتَكَ وَمَا أَنْتَ بِتَابِعٍ قِبْلَتَهُمْ وَمَا بَعْضُهُمْ بِتَابِعٍ قِبْلَةَ بَعْضٍ وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ أَهْوَاءَهُمْ مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ إِنَّكَ إِذًا لَمِنَ الظَّالِمِينَ اور اِسی طرح (اے اِیمان لانے والو) ہم نے تم لوگوں کو معتدل اُمت بنایا تا کہ تم لوگ دُوسرے لوگوں پر گواہ رہو اور رسول تم لوگوں پر گواہ رہے، اور (اے رسول) آپ جِس قِبلہ پر پہلے تھے (یعنی بیت المقدس )اُسے ہم نے صِرف یہ جاننے کے لیے قِبلہ بنایا تھا کہ کون رسول کی تابع فرمانی کرتا ہے اور کون اُلٹے پاؤں پِھر جاتا ہے، اور یہ (قِبلہ کا بدلا جانا ) یقیناً کافی گراں ہے سوائے اُن لوگوں کے لیے جنہیں اللہ نے ہدایت دِی، اور اللہ تم لوگوں کے اِیمان ضائع کرنے والا نہیں، بے شک اللہ لوگوں پر بڑا شفیق اور رحم کرنے والا ہے O بے شک اللہ نے آپ کے چہرے کا بار بار آسمان کی طرف اُٹھنا اور پلٹنا دیکھ لیا ہے، پس ہم آپ کو وہی قِبلہ عطاء کرتے ہیں جو آپ کو پسند ہے، پس(اب سے نماز کے لیے ) آپ اپنا چہرہ مسجد الحرام کی طرف پھیریے، اور تم لوگ جہاں کہیں بھی ہو اپنے چہرے مسجد الحرام کی طرف کیا کرو، اور جن لوگوں کو کتاب دِی گئی بے شک وہ جانتے ہیں کہ یہ (نئے قِبلہ کا تقرر ) اللہ کی طرف سے حق ہے، اور جو کچھ وہ لوگ کرتے ہیں اللہ اُس سے بے خبر نہیں O اور اگر آپ اھل کتاب کے پاس ساری ہی دلائل کے کر بھی آئیں گے تو بھی یہ آپ کے قِبلہ کی پیروی نہیں کرین گے، اور نہ ہی (اب اِس تحویلء قِبلہ کے بعد سے ) آپ اِن کے قِبلہ کی پیروی کرنے والے ہیں، اور نہ ہی اھل کتاب ایک دُوسرے کے قِبلہ کی پیروی کرنے والے ہیں، اور اگر آپ نے، آپ کے پاس پہنچنے والے عِلم کے بعد اُن لوگوں کی خواہشات کی پیروی کی تو آپ بھی ظلم کرنے والوں میں سے ہو جائیں گے۔

اس مذکورہ بالا آیت شریفہ میں اِک رَتی برابر بھی اشکال والا معاملہ نہیں ہے کہ آغازء امر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم جِس قِبلہ کی طرف رُخ کر کے نماز پڑھتے تھے وہ مسجد الحرام نہ تھا۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی خواہش یہی تھی کہ مسجد الحرام کو قِبلہ مقرر فرما دِیا جائے اور اِسی خواہش کی تکمیل کے لیے وہ دُعائیہ نگاہوں سے اپنا چہرہ مُبارک آسمان کی طرف فرماتے تھے، کہ اللہ آسمانوں سے اوپر ہے۔

اِس آیت شریفہ میں اِس بات کی بھی دلیل ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذات پاک ہر جگہ موجود نہیں، بہرحال، ہمارا موضوع یہ ہے کہ ایک پہلے والے قِبلے یعنی بیت المقدس کو اِس آیت شریفہ کے ذریعے تبدیل فرما دِیا گیا اور مسجد الحرام کو قِبلہ مقرر فرمایا گیا۔

پس اِس شک کی کوئی گنجائش ہی نہیں کہ قِبلہ ہمیشہ سے ایک ہی رہا ہے، ایسی بات تو اللہ پاک کے اِن مذکورہ بالا فرامین کو جُھٹلانے کے مترادف ہے۔

اِس مذکورہ بالا آیت شریفہ کے بارے میں محمد شیخ صاحب نے یہ تاویل بھی کی کہ ’’بیت المقدس کوئی آسمان میں تو نہیں‘‘۔ گویا معاذ اللہ، اِن محمد شیخ صاحب کو اللہ پاک کے کلام پر اعتراض ہے۔ اُس میں بھی نقص سجھائی دے رہا ہے، جبکہ حق یہ ہے کہ نُقص اِن کی خود ساختہ قرآن فہمی میں ہے، کیونکہ آیت شریفہ میں آسمان کی طرف چہرہ مُبارک اٹھائے اور پلٹائے جانے کا ذِکر ادائیگی نماز کے لیے قِبلہ رُخ ہونے کے بارے میں ہے ہی نہیں، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا اپنے رب کی طرف اُمید کی نگاہ کرنے کا بیان ہے۔

اِس مذکورہ بالا آیت شریفہ کے عِلاوہ، یہ بھی سمجھیے کہ اللہ پاک نے موسیٰ علیہ السلام کو دِیے گئے ایک حکم کی خبر عطاء فرماتے ہوئے بتایا ہے کہ وَأَوْحَيْنَا إِلَىٰ مُوسَىٰ وَأَخِيهِ أَن تَبَوَّآ لِقَوْمِكُمَا بِمِصْرَ بُيُوتًا وَاجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ قِبْلَةً وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ اور ہم نے موسیٰ اور اُس کے بھائی کی طرف وحی کی کہ تم دونوں اپنی قوم کے لیے مصر میں گھر بناؤ، اور تم لوگ اپنے گھر قبلہ رُخ بناؤ، اور نماز قائم کرو، اور اِیمان والوں کو خوشخبری دو (سُورت یُونس (10)/آیت 87)

اگر قبلہ ایک ہی تھا تو، پھر تو بنی اِسرائیل کو چاہیے تھا کہ وہ لوگ موسیٰ علیہ السلام کو دِیے جانے والے اِس حکم کے مُطابق مسجد الحرام ( کعبہ شریفہ )کو اپنا قبلہ بناتے، جو اُنہوں نے کبھی بھی نہیں بنایا، اور یہ اِس بات کی بھی دلیل ہے کہ بنی اِسرائیل اللہ تعالیٰ اور اُس کے نبیوں کے نافرمان تھے، اللہ کے احکام میں تحریف کرتے تھے۔

لہٰذا، اگر بنی اِسرائیل کے لیے مقرر کردہ قبلہ بھی مسجد الحرام ( کعبہ شر یفہ) ہی تھا تو، نبی اسرائیل کی نافرمانی اور تحریف ثابت ہوئی اور بنی اسرائیل کو ہمیشہ سے اب تک حق پر ہونے والے، نعمت یافتہ ہونے کا دعویٰ کرنے والوں کا دعویٰ اور فلسفہ غلط ثابت ہوا۔ اور اگر محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے ظہور سے پہلے والی اُمتوں کا قبلہ مسجد الحرام (کعبہ شریفہ) نہ تھا تو پھر بھی خود ساختہ قرآن فہموں کی قرآن فہمی کا بطلان ثابت ہوا، و للہ الحمد۔


2:56:50 زید(ر) کا نام قرآن میں آیا ہے تو ان کو مسلمان ابوبکر(ر)، عمر(ر)، عثمان(ر) اور علی(ر) سے زیادہ اہمیت کیوں نہیں دیتے؟

جواب

یہ بھی کچھ ایسا ہی فلسفہ ہے جیسا کہ لوگ اپنے بچوں کے نام قرآن میں آنے والے الفاظ کے معانی مفاہیم اور سیاق و سباق کے مُطابق اُن اِلفاظ کے اِستعمال کو جانے بغیر رکھ دیتے ہیں، مثلاً، شجرہ، اقصیٰ، صفا، عرفات، حفظہ، عِشاء، فجر، تحریم، حریر، جنّت، سُندس، وغیرہ۔

قرآن کریم میں زید رضی اللہ عنہ ُ کا ذِکر اُن کے ایک ایسے کام کی وجہ سے آیا جو اُنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی عنایت کے مُطابق نہیں کیا تھا۔

کوئی اِن صاحب سے یہ پوچھے کہ قرآن کریم میں مذکور کِسی شخصیت کا نام اُس کی دُوسروں پر افضلیت کی دلیل کِس طرح ہے؟

قرآن کریم میں تو ابو لہب کا نام بھی آیا ہے، اُس نابینا صحابی رضی اللہ عنہ ُ کا ذِکر بھی آیا ہے جِن کی طرف توجہ نہ دینے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو ڈانٹ بھرا خطاب ہوا۔ اُس صحابیہ رضی اللہ عنہا کا ذکر بھی آیا ہے جو اپنے خاوند رضی اللہ عنہ ُ کی شکایت لے کر آئی تھیں۔ تو کیا اِن شخصیات کے نام اور ذِکر کی وجہ سے انہیں ابو بکر، عمر، عثمان، علی، عشرہ مبشرہ، حسن، حسین، اُسامہ بن زید، حمزہ، صہیب، مصعب، خبیب، سعد بن ابی وقاص، سعد بن معاذ، معاذ ابن جبل اور دیگر ایسے صحابہ رضی اللہ عنہم سے افضل مانا جائے گا جِن کی افضلیت کی بے شمار سچی خبریں اللہ تعالیٰ کی طرف سے دِی گئی ہیں؟ كُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ کیا ہوگیا ہے تم لوگوں کو، کس طرح کے فیصلے کرتے ہو، سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ بہت برے فیصلے ہیں جو یہ لوگ کرتے ہیں۔

وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ اور ہماری ذمہ داری تو صاف صاف بات پہنچا دینا ہے۔

Comments

عادل سہیل ظفر

عادل سہیل ظفر

عادِل سُہیل ظفر جیاد ، معاشی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے ملٹی فنگشن پراڈکٹس ٹیکنیشن کے طور پر ملازمت کرتے ہیں۔ اللہ عزّ و جلّ کا دِین ، اللہ ہی کے مُقرر کردہ منہج کے مُطابق سیکھنے اور جو کچھ سیکھا اُسے نشر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں