رب رحمان کی نعمت عظمیٰ ﷺ - نوید احمد

2005 کا زلزلہ پاکستان کے بالائی علاقوں سوات، کالام، بالاکوٹ، مانسہرہ اور آزاد کشمیر کے لوگوں کے لیے ایک قیامت صغریٰ تھی۔ آن ہی آن میں ہزاروں مرد و خواتین لقمہ اجل بن گئے۔ مجھے ان دنوں بالا کوٹ میں امدادی سرگرمیوں کے سلسلے میں چند دن گزارنے کا اتفاق ہوا۔ ایک دن شام کو جب ہم ایک گاؤں سے واپس کیمپ آ رہے تھے تو اتفاق سے دو بزرگ خواتین کے درمیان ہونےوالی مختصر گفتگو سننے کا موقع ملا۔ یہ دونوں خواتین ایک دوسرے کو اپنے، اپنے خاندان کے ہلاک ہونےوالے افراد کی تعداد بتا رہی تھیں ایک نے شاید 30 بتایا اور دوسرے نے 60 یا اس سے کچھ زیادہ جب کہ ان میں سے ایک خاتون نے کم و بیش ایک سال کا بچہ اٹھایا ہوا تھا جو باقی رہنے والوں میں بچا تھا۔ اس خاص لمحے مجھے جس چیز کا شدت سے احساس ہوا کہ یہ عورت جو خود بمشکل چل رہی ہے، وہ اس ننھے بچے کو کیسے پالے گی؟ لیکن اگلے ہی لمحے خیال آیا کہ جس رب نے اس کے والدین کو موت دی ہے، وہی اس بچے کی کفالت کرے گا۔ کوئی ماں یا باپ کسی بچے کو نہیں پالتے جب تک کہ رب نہ چاہے لیکن یہ دونوں ہستیاں جن کے دل میں اللہ نے اولاد کی محبت کوٹ کوٹ کر بھر دی ہے، وہ اپنا سب کچھ لٹا کر اس اولاد کی نشوونما کرتے ہیں، یہ اتنی بڑی نعمت ہیں کہ اس کا اندازہ وہی کر سکتا ہے جس کے والدین نہ ہوں۔

میں جب کبھی بھی اپنے گردوپیش کا جائزہ لیتا ہوں تو مجھے اپنے رب کی رحمت ہی رحمت ہر طرف بکھری نظر آتی ہے، سورج کا نکلنا، دن اور رات کا آنا جانا، موسموں کی تبدیلی، رنگ برنگے پھول اور پودے، موسم کے مطابق پیدا ہونے والی فصلیں، ہزاروں میل پر پھیلے وسیع سمندر و دریا، میخوں کی مانند آسمان کو چھوتے پہاڑ وغیرہ۔ اسی طرح جب رشتہ داریوں پر غور کیا تو دادا دادی، نانا نانی، خالہ، پھوپھی، ماموں چچا، ساس سسر، داماد، بہو وغیرہ کے رشتوں کو نہایت مقدس پایا۔ اپنے اساتذہ، علما کرام، خلفائے راشدین، صحابہ کرام و دیگر محترم ہستیوں کی زندگی کو اپنے لیے مشعل راہ جانا۔ ان تمام نعمتوں میں سے اکثر نعمتوں سے ہم سب بلاکسی تفریق مذہب، رنگ، نسل و گروہ بندی وغیرہ مستفید ہوتے ہیں لیکن کیا ان نعمتوں کے علاوہ کوئی اور ایسی نعمت بھی ہے جو ان تمام نعمتوں پر حاوی ہو؟ جی ہاں آئیے کائنات کی سب سے بڑی نعمت کے بارے میں جانیں جو اگر نہ ہوتی تو سب بے فائدہ ہوتا!

یہ نعمت عظمیٰ ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات۔ یہ اللہ کا احسان عظیم ہی ہے کہ اس نے بندوں کی رہنمائی کے لیے بندوں ہی میں سے صالح ترین فرد کو دنیا کا امام و پیشوا بنایا۔ جس نے انسان کو اپنے جیسے انسانوں کا بندہ بنانے کی بجائے خالق کائنات کا بندہ بنایا۔ شرک کی تمام شکلوں سے پرہیز کرنے کی دعوت دی۔ انسانوں کو اس پیغام سے منور و روشناس کرایا جس کی تعلیم اللہ رب العزت نے قرآن مجید کی صورت میں ہمیں دی۔ زندگی بعد موت یعنی آخرت میں پیش آنے والے حوادث سے خبردار فرمایا۔ باوجود یتیم پیدا ہونے کے لوگوں کو منہ بولے بیٹے زید سے محبت کر کے دکھلایا کہ باپ کی شفقت کیسی ہوتی ہے۔ بیٹیوں کی تعلیم تربیت کیسے کی جاتی ہے؟ جسے جاننا ہو وہ زینب، رقیہ، ام کلثوم اور فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ آپ کی محبت کا مطالعہ کرے۔ ایک جری، نڈر اور بہادر سپہ سالار کیسے جنگ میں تلواروں کے سایے میں کھڑا کمان کرتا ہے تو وہ بدر، احد، خندق و حنین جیسے غزوات میں نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا جائزہ لے۔

غرض کہ زندگی کا کوئی گوشہ ایسا نہیں ہے کہ جس کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ ہماری رہنمائی نہ کرتا ہو۔ ان تمام عوامل کا جائزہ لینے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا کہ کائنات میں اللہ رب العزت کی سب سے بڑی نعمت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے۔ رب کی اس عظیم نعمت کا شکر ادا کرنے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کو، آپ کے اقوال و افعال کو اتھارٹی مان لیا جائے، جس چیز کا حکم دین اسے بے چون و چرا مان لیں، کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کو خاطر میں نہ لائیں۔ اس نعمت کا دنیامیں شکر ادا کرنے کے ساتھ یاد رکھیں کہ کل روز قیامت آخرت جب کوئی شفاعت نہ کروا سکے گا تو یہی حبیب کبریا شفاعت کروائیں گے، حوض کوثر پر جام کوثر بھی پلوائیں گے۔

اللہ کریم ہم سب کو اس نعمت عظمیٰ کی قدر دانی کا حق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!