نازک آبگینے اور سیرت کے نگینے - مریم خالد

کائناتِ لامحدود کی بے کراں وسعتیں حیران تھیں۔ کون ومکان میں ایک نئی ہی مخلوق کی تخلیق کاشہرہ تھا۔ نوری اور ناری مخلوق کے بعد اب مادّی وجود تخلیق کیا جا چکا تھا، جس کے خاکی خمیر کو اللہ نے خود آدم کے سانچے میں ڈھالا تھا۔ پھر خود اس میں روح پھونکی اور نورِعلم سے ایسے منور کیا کہ ساری نوری مخلوق اس کے آگے سجدہ ریز ہوگئی۔ جس ملعون نے انکارِمغرور کیا، وہ ابد تک کےلیے راندۂ درگاہ قرار پایا۔ اسی عالم میں اللہ نے آدم کی بائیں پسلی سے ایک اور ہستی تخلیق فرمائی۔ وہ ہستی جو آدم کی پہلی ہم جنس اور مجسمِ رفاقت تھی۔ اس کی ذات اک وجودِسکون وموودت تھی---وہ عورت تھی! اور پھر آدمؑ وحواؑ جنت کی لافانی لذتوں کے بعد خلافتِ ارضی میں بھی ایک دوسرے کے رفیق وہمدم رہے۔ بندگی رحمٰن کا یہ فریضہ وہ جان ودل سے نبھاتے رہے۔ اپنی اولاد کے دل میں محبت سے محبتِ پروردگار کے بیج اگاتے رہے۔

گزرتے وقت کے ساتھ ابلیس کے ہتھکنڈے شر بن کر اٹھتے رہے۔ اس کا بنیادی وار ہی لباس نوچنے کا تھا جس کا مرکزی نشانہ عورت تھی۔ عورت۔۔کہ جس کا مطلب ہی پردے میں مستور، تھا۔ سو اب اس کی عزت و عصمت کی ردا، محبت کا لباس، شرف ووقار کا حجاب اور اعتماد کا دلفریب آنچل ملعون کے خونیں پنجوں کی زد میں تھا۔ ابلیس نے عزت ومحبت کے یہ ملبوسات دھجی دھجی کر کے اسے ذلتوں کے پاتال میں دھکیل دیا۔ ہر ذلت اور گناہ اسی کے نام دھر دیا گیا۔ نوعِ انسان کا پہلا گناہ بھی اسی کا ذمہ قرار پایا۔ بائبل کے باب پیدائش میں اس ناکردہ گناہ کی ایف آئی آر یوں کاٹی گئی: آدم نے کہا، جس عورت کوتونے میرے ساتھ کیا، اس نے مجھے درخت کا پھل دیا اور میں نے کھایا۔ آگے اس جرم کی خودساختہ سزا یوں سنائی گئی: خداوند نے عورت سے کہا، میں تیرے دردِ حمل کو بہت بڑھاؤں گا اور تو تکلیف کے ساتھ بچہ جنے گی۔

عورت کی تذلیل اور حقارت مذہب کا حصہ بنا دی گئی۔ یہودیت میں عورت باقاعدہ خریدی اور بیچی جاتی تھی۔ والدین کو اختیار تھا کہ وہ اپنی بیٹی کو بیچ دیں یا قتل کر دیں، کیونکہ وہ اس کے مطلقاً مالک ہوتے تھے۔ (المراة فی الشعرالجاھلی) تہذیب وتمدن کے خونخوار دانتوں نے بھی اس کی روح میں بےپناہ چھید کیے۔ قدیم ہندوستان کی تاریخ میں منوسمرتی کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ مشہور تھا کہ عورت گندگی کی پوٹلی ہے اور اس کی ذات سراپا عذاب ہے۔ (الاسلام والمراة الحاضرہ) سید مودودی اپنی کتاب 'پردہ' میں لکھتے ہیں: یونانیوں کے مطابق دنیا میں شر اور فساد پنڈورا نامی عورت کی وجہ سے پھیلے۔ سید محمد سلیم اپنی کتاب 'مسلمان خواتین کی دینی وعلمی خدمات' میں لکھتے ہیں: بدھ مت کے مطابق عورت نجات نہیں حاصل کر سکتی تھی اور مجوسیت کے مطابق عورت صرف مرد کی حیوانی خواہش پوری کرنے لیے آئی تھی اور اس تہذیب میں مرد اپنی ماں اور بہن سے شادی رچا سکتا تھا۔ چھٹی صدی عیسوی میں مسیحیوں کی دو کانفرنسوں میں طویل بحث کے بعد طے پایا کہ عورت روح سے خالی ہے، سوائے مریمؑ کے!(مصطفی السباعی، المراة بین الفقہ والقانون) عربوں میں دستور تھا کہ کوئی شخص مر جاتا تو اس کی بیویاں اس کے بڑے بیٹے کی ملکیت ہوتیں۔ معصوم بیٹیوں کو مٹی کی نرم آغوش میں سلادیا جاتا۔ فاروقِ اعظمؓ کہتے ہیں: ہم زمانہ جاہلیت میں عورتوں کو کوئی حیثیت نہیں دیتے تھے، یہاں تک کہ الله تعالیٰ نے ان کے بارے میں ہدایات نازل کیں اور ان کا جو حصہ مقرر کرنا تھا، مقرر کیا۔ (صحیح مسلم، کتاب الطلاق)

وہ جو جنتوں کی رفیق تھی، اسے دنیا میں ذلتوں کی مہیب دوزخ میں دھکیل دیا گیا۔ وہ جو خانہ دل کے قریب ترین بائیں پسلی کی تخلیق تھی، اسے قدموں کے نیچے رگڑا،گھسیٹا اور روندا گیا۔ کتنے ہی زمانوں، کتنے ہی قرنوں تک بنتِ حوا ابلیس کے اس انتقام کو سہتی رہی۔ ظلمت کی یہ راتیں ابلیس کی مسرتوں کو ہوا دیتی رہیں، یہاں تک کہ فاران کی چوٹیوں سے خورشیدِ ہدایت طلوع ہوا۔ نورِ ہدٰی کے وہ پیامبرﷺ تشریف لائے، کہ جن کی زندگی نے زندگی کو زندگی بخشی، گلوں کو خوشبو، تاروں کو نئی تابندگی بخشی۔ ہادی امم ﷺ نے جہاں لوگوں کو الله کا بھولا ہوا حق یاد دلایا، وہیں اپنے حق کے لیے ترستی ہوئی انسانیت بھی آپ کی آمد سے شاداب ہو گئی۔ اس نبی کی سیرت میں حقوقِ نسواں کی لہکتی اور مہکتی ہوئی دلفریب بہاروں کا احاطہ کیونکر ممکن ہو کہ جس نبیﷺ کی تحریک کے آغاز کے لیے ہی ایک عورت نے ایمان ووفا کے انمول موتی لٹائے تھے۔ پہلی وحی جس پر خاتم الانبیاﷺ کانپ گئے اور سرعت سے گھر چلے آئے، انہیں اسی نے سکون اور حوصلے کی چادر دی۔ اسی نے بےساختہ وہ الفاظ کہے، جو قلبِ مصطفیﷺ پہ ٹپکتے ہوئے تاریخ کےماتھےپہ امر ہو گئے کہ زمین کے انسانوں پر آپ جس قدر شفیق ہیں، آسمانوں والا رب آپ کے ساتھ کچھ برا کر ہی نہیں سکتا! اور جب ورقہ بن نوفل نے ان کی نبوت کی گواہی دی، تو فوراً ایمان لے آئیں کہ ان کا عظمت سے گندھا شوہر نبی ہی ہوسکتا ہے، اسے نبی ہی ہونا چاہیے! ابلیس کی سازشیں الٹنے جارہی تھیں۔ خالق نے کس قدر محبت پاش نگاہوں سے انہیں دیکھا ہو گا!

اور پھر عکاظ، حرم، حرا اور شعبِ ابی طالب کی تمام راہوں سے آقائے صادقﷺ کی راہوں سے جس نے کانٹے چنے، وہ خدیجہؓ ہی کی پلکیں تھیں۔ حیاتِ دوراں کے لمحہ آخر تک دونوں ایک دوسرے کے رفیقِ جاں بنے رہے اور جس وقت انہوں نے خالق کی جانب سفر باندھا، وہ وقت اور وہ دن ہی کیا، وہ پورا سال ہی بزبانِ مصطفیﷺ غم کا سال قرار پایا۔ محبت کا یہ سلسلہ بعدازِ مرگ بھی ٹوٹنے نہ پایا۔ آقا ﷺ باقی زندگی میں بھی اکثر انہیں یاد کرتے، جب بھی یاد کرتے، بہت ہی یاد کرتے۔ جب کبھی بکری ذبح کرتے،اس کے بڑے بڑے ٹکڑے کرتے اور خدیجہؓ کی سہیلیوں کو بھیج دیتے۔ محبتوں کا یہ زمزم جدائی میں بھی اس طور بہتا کہ عائشہؓ کہہ اٹھی تھیں: 'یوں لگتا ہے جیسے خدیجہؓ کے سوا دنیا میں کوئی اور عورت تھی ہی نہیں!'

یہ بھی پڑھیں:   فیمنزم کا آشیاں اور مسلم خواتین - ڈاکٹر رضوان اسد خان

اس پر حضورﷺ فوراً کہنے لگے: وہ ایسی (خوبیوں کی مالک) تھی اور میری اس سے اولاد بھی تھی۔ (بخاری، کتاب مناقب الانصار) جس کی ذات کوسراپا عذاب اور جس کے وجودکو گندگی کا ڈھیر کہا جاتا تھا، وہ 'سیدہ طاہرہ' کے روپ میں آئی تو اس کی پاکیزگی پہ جبرائیلؑ سلام پہنچانے آئے۔ یہ کیسے نہ ہوتا؟ کہ جو اس کی آنکھوں کا سرور تھے، وہ میرے حضورﷺ تھے!

رسولِ رحمتﷺ سراپا الفت، سراپا شفقت تھے۔ محمدﷺ بس محبت تھے! وہ جہاں گئے، فضا کے ماتھے پر رحمتوں کی نئی ہی داستانیں رقم کرتے گئے۔ صحیح مسلم، کتاب الاشربہ میں انسؓ بتاتے ہیں کہ رسولﷺ کا ایک فارسی ہمسایہ شاندار شوربا تیار کرنے کا ماہر تھا۔ ایک دن اس نے بہترین شوربا تیار کیا اور حضورﷺ کو دعوت دینے کے لیے آگیا۔ سرورِ عالمﷺ نے پوچھا: کیا یہ دعوت عائشہؓ کے لیے بھی ہے؟ کہا: نہیں۔ فرمایا: پھر نہیں۔ وہ گیا اور پھر آگیا۔ پھر پوچھا: عائشہؓ بھی چلے؟ کہا: نہیں۔ فرمایا: پھر نہیں۔ وہ تیسری دفعہ آیا۔ پھر پوچھا: عائشہؓ کوبھی دعوت ہے؟ کہا: جی۔ اب وہ دونوں اٹھے، کہ اکیلے اٹھنا حضورﷺ کوگوارا نہ تھا۔ دونوں چلے کہ اکیلے چلنا ان کے لیے بار تھا۔ اس طرح چلے کہ حضورﷺ آگےآگے اور صدیقہؓ پیچھے۔ تاکہ صدیقہؓ کے راستے کے پتھر وہ صاف کرتے جائیں، ان کے لیے محفوظ راستے کا انتخاب کریں اور ان کا سایہ صدیقہؓ کے لیے چھاوٴں بنا رہے!

کبھی عائشہؓ کے گمشدہ ہار کے لیے پورے لشکر کو روک لینے والے، کبھی اونٹ کے پاس بیٹھ کر اپنا گھٹنا پھیلا دینےوالے، کہ صفیہؓ اس پر پاوٴں رکھ کر اونٹ پر سوارہو سکیں اور کبھی عائشہؓ کے ساتھ دل لگی کے لیے دوڑ لگانے والے، ان کی حیات کے گوشے راحتِ نسواں سے معمور تھے، وہ میرے حضورﷺ تھے!

ان کی شفقتوں کی ایک تابناک گواہی یوں محفوظ ہے: انسؓ کہتے ہیں: میں نے ایسا کوئی شخص نہیں دیکھا جو رسولﷺ سے بڑھ کر اپنے بیوی بچوں کے لیے مہربان ہو۔ (صحیح بخاری ) جو بےروح قرار دی گئی تھی، اس کی روح کے خانے اب محبتوں سے بھرپور تھے۔ کہ اب اس کے درمیاں جو تھے، وہ میرے حضورﷺ تھے!

ان کی اپنی ماں بچپن میں چلی گئی تھی، مگر وہ وہ زمانے بھر کی ماوٴں کے لیے رحمت کی گھٹا بن کر آئے۔ جس ماں کی آہوں کی بازگشت زمانوں تک پتھر دلوں سے ٹکراتی رہی، اس ماں کو اب اُف تک کہنے سے روک دیا گیا۔ قیامت تک کے لیے ماوٴں کی نافرمانی حرام قرار دے دی گئی۔ اس صحابیؓ کی حیرت کا نجانے کیا ٹھکانہ رہا ہوگا جب اس نے رسولﷺ سے پوچھا تھا: لوگوں میں سب سے زیادہ کون میرے حسنِ سلوک کا مستحق ہے؟ جواب آیا: تمہاری ماں۔ پوچھا، پھر کون؟ فرمایا: تمہاری ماں۔ پوچھا:پھر کون؟ فرمایا: تمہاری ماں۔ پوچھا، پھر کون؟ فرمایا: تمہارا باپ! (البانی،سلسلۃ الصحیحہ) ایک صحابیؓ کو توبہ کی قبولیت کے لیے ماں اور پھر خالہ کی خدمت کا کہا گیا۔ جس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ نجات حاصل نہیں کرسکتی، وہی مردوں کی نجات کا ذریعہ ٹھہری! ظلمت کے اندھیرے اب پیچھے کہیں دور، بہت دور تھے، کہ اب دنیا میں جو آگئے تھے، وہ میرے حضورﷺ تھے!

جس بیٹی کی پیدائش پر باپ کا چہرہ سیاہ پڑجاتا تھا، اس کی زندگی میں حضورﷺ ایسے نیرِ تاباں بن کر آئے کہ روح تک میں اُجالا پھیل گیا۔ دخترِ رسولﷺ جب گھر آتیں، تو حضورﷺ اٹھ کھڑے ہوتے، فاطمہؓ کی جانب بڑھتے، ہاتھ تھامتے، بوسہ لیتے اور اپنی جگہ پر لا بٹھاتے۔ (ابوداود، کتاب الادب)جس بیٹی کی قبر کے اندر سے اٹھتی ہوئی ہزار دلگیر چیخوں پر سنگدل باپ پیر پٹختا دور چلا جاتا تھا، اس بیٹی کی جوانی میں طبعی وفات پر حضورﷺ اسے لحد میں اتارنے سے قبل قبر کے پاس بیٹھ گئے۔ آنکھوں سے آنسو بہتے ہوئے قبر کی مٹی میں جذب ہوتے رہے۔ وہ محبتوں کے قلزم، شفقتوں کے زمزم، کرب سے بہتی ہوئی رم جھم، وہ آنکھیں ہوتی رہیں نم۔ کیسے چشمے تھے جو اس دل میں مستور تھے، وہ میرے حضورﷺ تھے!

جس کی آواز منوں مٹی تلے دبادی جاتی تھی، اب وہ حاکمِ وقت کو عین خطبے میں ٹوک سکتی تھی، اسے سرِراہ روک سکتی تھی۔ وہ وراثت اور حق مہر کی حقدار ٹھہری تھی۔وہ نکاح کے لیے ولی کی اجازت کی پابند تھی مگر ولی بھی اس کی اجازت کے بغیر اسکا نکاح نہ کر سکتا تھا۔ وہ عورتوں پر ایسے رؤف ورحیم تھے کہ وہ معمولی مسائل پران کے ہاں پہنچ جاتی تھیں۔ عبداللہ بن عمرؓ کہتے ہیں: جب تک آقائے دوجہاںﷺ ہمارے درمیان رہے، ہم عوتوں سے بات کرنے میں احتیاط کرتے رہے کہ مبادا ہمارے بارے میں کوئی حکم نازل نہ ہو جائے۔ جب آپﷺ نے وفات پائی، تب ہم نے کھل کر بات کرنا شروع کی۔ (بخاری، کتاب الوصایا)

وہ جب تک رہے، گوشہ نسواں میں عافیت کے گلاب کھلے رہے۔ زندگی کے ہونٹوں پر مسکراہٹوں کے لالہ زار سجے رہے۔ آقاﷺ۔۔۔۔۔!!ــ تابانیوں کا، محبت کی فراوانیوں کا، رحمت کے بہتے پانیوں کا ایک امڈتا ہوا سمندر تھے۔ انہوں نے نکہتِ وفا سے عالم بسا دیا۔ نورِحق سے جہان جگمگا دیا۔ معیارِانسان بلندئی کوہ سے بھی اوپر اٹھا دیا۔ ان کے بعد زمانے نے بہت سی کروٹیں بدلیں۔ بہت قرنوں بعدجب نورِ ہدایت کے پروانے غافل ہونے لگے تو ابلیس کے چیلے پھرسے پر پھیلانے لگے۔ تحفظ کی ردا جو وہﷺ بہت شفقت سے اس پر ڈال کرگئے تھے، پھر سے ملعون کے دانتوں میں جکڑی گئی تھی۔ صورتحال اب خطرناک تر تھی، کہ وہ خود بتا کر گئے تھے: دجال کا آخری وار عورتوں پر ہوگا۔ (مسنداحمد)

یہ بھی پڑھیں:   مرد قوام تو کیا عورت باندی ہے؟ - عاصمہ شفیع

اب کی بار شکاری نے طریقہٴ واردات بدل لیا تھا۔ عورت کو اب یہ نعرہ دیا گیا کہ "تم آزاد ہو!" تحریک آزادیٴ نسواں کے پہلے نقیب کمیونزم کے بانی کارل مارکس اور اینجلز تھے. 1848ء میں انہوں نے اپنے کمیونسٹ منشور میں اعلان کیا: شادی، گھر اور خاندان ایک لعنت ہیں۔ عورت اسی وجہ سے 'دائمی غلامی' میں گرفتار ہوئی ہے۔ عورتوں کو صنعتوں اور کارخانوں میں ایک ہمہ وقتی کارکن کی حیثیت سے ملازمت اختیار کر کے 'اقتصادی آزادی' سے ہمکنار ہونا چاہیے۔ اب تباہیوں کا ایک طوفان تھا جو پوری 'آزادی' سے اٹھا۔ اب رشتے ختم اور منڈیاں آباد تھیں۔اس آتش فشاں نے عورت کی زندگی کی دھجیاں کس طور بکھیریں، اس کا جوا ب ہمیں ہلیری کلنٹن سے ملتا ہے جو انہوں نےمارچ 1995ء میں دورہٴ پاکستان کے دوران اسلام آبادکالج فارگرلز کی طالبہ کے امریکی طالبات کے مسائل بابت سوال پر دیا: پاکستانی طالبات کا بنیادی مسئلہ تعلیم کی بنیادی سہولتوں کا فقدان ہے جبکہ امریکی طالبات کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ شادی سے پہلے حاملہ ہو جاتی ہیں اور ان کی باقی زندگی بچے سنبھالنے میں گزر جاتی ہے۔ پاکستان میں کسی حد تک مذہبی اقدار کے مطابق شادیاں ہوتی ہیں، اس لیے عورتوں کے مسائل کم ہیں۔ روزنامہ جنگ کراچی 15مئی 2011 کی رپورٹ کے مطابق مغربی ممالک میں 15 سے 20فیصد بچے اپنے باپوں کو نہیں جانتے۔ یوں یہ تنہا مائیں نام نہاد آزادی کی بھیانک تصویر بنی بیٹھی ہیں۔ مغربی تہذیب نے خاندانی نظام کا شیرازہ کس طرح بکھیرا ہے، ڈاکٹر ایل ایل ہولنگ اپنی کتاب Rediscovering of message of Christ میں لکھتے ہیں: ہماری رقص گاہیں؛ طلاق والی عدالتوں کی نرسریاں، طوائفوں کی تربیتی دکانیں اور بدنامی اور برائیوں کے گریجویشن سکول ہیں۔

ان تمام مسائل کے حل کی شاہِ کلید رسولِ رحمتﷺکا پہنچایا ہوا وہ پیغامِ مبارک ہے: وقرن فی بیوتکن۔ جس کی ایک بڑی مثال غیرمعمولی شہرت کی حامل امریکی اداکارہ آئن سبرگ کی ہے، جس کی وفات کے بعد اس کی ڈائری میں یہ لکھا ہوا ملا I wish I had stayed at home. (ٹائمزآف انڈیا:8-11-81)

آقاﷺکے ایک عاشقِ صادق اقبال رحمۃ الله علیہ نے نصیحت کی تھی:

در نگر ہنگامہ آفاق را

زحمت جلوت مدہ خلّاق را

حفظِ ہر نقشِ آفریں از خلوت است

خاتم اُو رانگیں از خلوت است

آفاق کے سارے ہنگامے پر نظر ڈالو۔ تخلیق کرنے والی ہستی کو جلوت کے ہنگاموں کی تکلیف نہ دو۔ اس لیے کہ ہر تخلیق کی حفاظت کے لیے خلوت کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کے صدف کا موتی خلوت میں جنم لیتا ہے۔ (جاوید نامہ)

مغرب کی 'غیرتہذیبی' یلغار میں غیر شادی شادہ عورتوں کی نسوانیت یوں تارتار ہے تو شادی شدہ آشیانوں کے تنکے یوں بکھرے ہیں کہ ڈائریکٹر ادارہ انسانی حقوق یورپ مورٹن جیرم کا کہنا ہے کہ ایک تہائی یعنی 6 کروڑ بیس لاکھ یورپی خواتین کوان کے شوہروں کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اور تشدد کی بنیادی وجہ کثرت شراب نوشی تھی۔ دوسری جانب کاشانہ نبوت کا حال یہ تھا کہ ہاتھ اٹھانا تو ایک طرف رہا، بلکہ عائشہؓ کہتی ہیں کہ رسولﷺ جب گھر میں ہوتے تو اپنے اہلِ خانہ کے کام کاج کیا کرتے اور جب نماز کا وقت ہوتا تو نماز کے لیے چلے جاتے۔ (بخاری، کتاب الاذان)

مغرب میں تعلیم نسواں کی صورتحال یہ تھی کہ کولیرز انسائیکلوپیڈیا لکھتا ہے: بیسویں صدی کے آغاز تک مغرب میں عورت کی تعلیم ایک متنازعہ موضوع تھی۔ (جلد 23 صفحہ80) دوسری جانب عہدِ رسالت میں عالم یہ تھا کہ رسولﷺ خود ہفتے میں ایک بار عورتوں کو تعلیم دیا کرتے تھے۔ نعیم صدیقی اپنی کتاب، رسولﷺ بحثیت معلم میں لکھتے ہیں: ایک اندازے کے مطابق قرنِ اول کی محدثات کی تعداد 1543 ہے۔ 2210 احادیث روایت کرنے والی عائشہؓ کے فتاوی محفوظ کرنے والوں کی تعداد 180 ہے۔ ان کے بارے میں عروہؓ کہتے ہیں: میں نے نزولِ آیات، علم الفرائض، شاعری، ایام العرب، علم القضا، علم الانساب اور طب کے بارے میں عائشہؓ سے زیادہ کوئی جاننے والا نہیں دیکھا۔ (امام الذہبی، سیراعلام النبلاء)

معاشی ترقی کے لیے عورت کو آزادی کی دلدل میں دھنسا کر مغرب جس طرح بال بال مسائل میں جکڑا ہوا ہے، اس کا خوبصورت ترین حل اس مہربان ہستی نے دیا تھا جس کے نامِ نامی کی محبت میں لاتعداد دلوں کے تار دھڑکتے ہیں۔ جب فاروقِ اعظمؓ نے پوچھا تھا، الله نے سونے اور چاندی کو جمع کرنے سے منع فرما دیا ہے، پھر ہم کس قسم کا مال اپنے پاس رکھیں؟ تومہکتا ہوا جواب آیا: تم میں سے ہر ایک کو شکرگزار دل، ذکر کرنے والی زبان اور مومن بیوی جو نیک کاموں میں اس کی مدد کرے، اپنے پاس رکھنی چاہیے! (ترمذی، ابواب التفسیر، التوبہ) یہی وہ رفیقہ، وہ متاعِ خیر ہے جسے الله نے خلافتِ ارضی کے لیے مرد کا اولین ہمدم بنایا تھا۔ اسی کو ابلیس کے حملوں سے بچا کر جنت کی راہوں پر چلانے کے لیے ساقئ کوثرﷺتشریف لائے۔ حقیقت یہی کہ عورت نہ ہوتی تو کچھ بھی نہ ہوتا اور عورت کے لیے رسولِ رحمتﷺ نہ ہوتے تو بھی کچھ بھی نہ ہوتا! خدائے بزرگ وبرتر کی بےشمار رحمتیں ہوں آقائے رحمتﷺپر، انکی عظمت پر، شفقت پر، شانِ رسالت پر اور ان کی آل پر، اصحاب پر، امت کی ماؤں پر!