پرویز مشرف کیخلاف خاموشی پر کیا پیشکش ہوئی؟ حامد میر کا خصوصی انٹرویو (2)

پرنٹ و الیکٹرونک میڈیا میں معروف نام حامد میر کے ساتھ خصوصی انٹرویو

انٹرویو: جمال عبداللہ عثمان


پہلی قسط پڑھیں
دلیل: آپ نے صحافت میں مشکلات کا ذکر کیا، یہ سب واقعی بہت مایوس کن ہے۔ لیکن زندگی میں ایسے مواقع بھی تو آئے ہوں گے جب اپنے صحافی ہونے پر فخر محسوس کیا ہوگا؟

حامد میر: بہت سے ایسے مواقع آئے۔ 2006ء میں اسرائیل نے لبنان پر حملہ کیا تو میں یہ جنگ کور کرنے گیا۔ میں تین چار ہفتے تک وہاں رہا۔ صبح سے شام تک اسرائیل کے حملے ہوتے اور یقین نہیں تھا کہ زندہ واپس آسکیں گے یا نہیں۔ اسی جنگ کے دوران میں رابرٹ فسک بھی وہیں تھا، ان سے دوستی ہوگئی۔ بیروت بہت ہی پیچیدہ شہر ہے۔ وہاں ایسی ہی تقسیم تھی جیسے کراچی میں۔ انتہائی غیرمحفوظ۔ لبنان کی فوج بہت کمزور تھی۔ حزب اللہ مقابلہ کررہی تھی، ان کے جنگجوؤں میں بڑا جذبہ تھا، لیکن اسرائیل کی فضائی بمباری کا مقابلہ آسان نہیں تھا۔ اس وقت مجھے پہلی دفعہ احساس ہوا کہ پاکستان کتنی بڑی نعمت ہے۔ میں اس وقت دنیا کے ان چند صحافیوں میں سے ایک تھا، جنہوں نے وہ جنگ کور کی۔ جب واپس پاکستان آیا تو بہت پذیرائی ملی۔

”آپ بڑا کام کرکے آئے ہیں۔“ جہاں جاتا، لوگ گلے لگاتے۔ فخر کا احساس تھا جو خوشی سے نہال کرتا۔

2016ء میں ایوارڈ وصول کیا تو خوشی سے آنسو جاری ہوگئے۔ ایوارڈ ان پاکستانیوں کے نام کیا جنہوں نے پچھلے پندرہ سالوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور آخر میں ”پاکستان زندہ باد“ کا نعرہ بھی لگادیا۔

اس کے بعد 2009ء میں غزہ گیا۔ وہاں پر کوریج کی، واپس آیا تو اس وقت بھی لوگوں نے یہی احساس دلایا۔ لوگ کہتے تھے ہمیں آپ پر فخر ہے کہ آپ فلسطین سے بھی ہو آئے ہیں۔ یہ مواقع ایسے ہوتے ہیں جن سے آپ کو قوت ملتی ہے۔ لوگ آپ کی طاقت بن جاتے ہیں۔

ایک واقعہ ایسا تھا جب خوشی سے آنسو جاری ہوگئے۔ دو نومبر 2016ء کو ہالینڈ کے شہر ہیگ میں مجھے Most Resilient Journalist ایوارڈ ملا۔ پوری دنیا سے وہاں صحافی آئے تھے۔ جب ہال میں میرا نام پکارا گیا۔ میں نے ایوارڈ وصول کیا اور کہا گیا کہ کچھ گفتگو بھی کریں۔ میری کوئی تیاری نہیں تھی نہ ہی بتایا گیا تھا کہ یہاں بات کرنی ہوگی۔ میں نے اپنا یہ ایوارڈ ان پاکستانیوں کے نام کیا جنہوں نے پچھلے پندرہ سالوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور آخر میں ”پاکستان زندہ باد“ کا نعرہ بھی لگادیا۔ پوری دنیا کا میڈیا موجود تھا، صحافت کے بڑے بڑے نام تھے۔ پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگاکر مجھے فخر کا احساس ہوا۔ مجھے یاد ہے جب میں اسی دورے سے واپس آیا تو اسلام آباد ایئرپورٹ پر امیگریشن افسر کے سامنے پاسپورٹ رکھا۔ اس نے پاسپورٹ پر نظر ڈالی اور پھر میری طرف دیکھا، مجھے گلے لگایا۔

”آپ نے ایوارڈ پاکستانیوں کے نام کیا، وہاں پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگایا۔ آج آپ سے مل کر خوشی ہورہی ہے۔“ اس نے کہا۔

اس سے مجھے یہ بھی اندازہ ہوا کہ پاکستان میں حالات خراب ہیں، لیکن عام لوگ آپ کے مثبت کاموں کی قدر بھی کرتے ہیں اور اس کے اظہار میں بھی کنجوسی سے کام نہیں لیتے۔ آپ دیکھیں پاکستان کے عام لوگوں کو اس بات کی خوشی تھی کہ حامد میر نے ایک عالمی ایوارڈ حاصل کیا اور اس نے یہ ان تمام لوگوں کے نام کردیا جو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مارے گئے۔ کسی نے تو ان کی قربانیوں کا اعتراف کیا ہے۔ اس قسم کے واقعات سے آپ کو احساس ہوتا ہے کہ واقعی صحافی ہونا فخر کی بات ہے۔

جب ہم اسکول کے لیے صبح سویرے اُٹھتے تو دیکھتے ماں مصلّے پر بیٹھی ہیں۔ جب صحافت میں قدم رکھا، رات کو دیر سے گھر آتا تو دیکھتا ماں مصلّے پر بیٹھی ہیں۔

دلیل: مشکل وقت آتا ہے تو والدین میں کس کی یاد زیادہ ستاتی ہے؟

حامد میر: والد اور والدہ، دونوں کا اپنا اپنا مقام ہے، اپنی اپنی اہمیت۔ ماں اس لیے زیادہ یاد آتی ہیں کہ ماں کی دُعا آپ کو مشکل سے نکالتی ہے۔ مجھے بہت سے خطرات کا سامنا رہا اور ان میں سرخروئی ہوئی۔ میری والدہ کو فوت ہوئے کافی عرصہ ہوگیا ہے۔ لیکن ان کی ایک شبیہ آج تک ذہن پر نقش ہے۔ جب بھی ماں کے بارے میں سوچتا ہوں تو ایک تصویر بن جاتی ہے کہ وہ مصلّے پر بیٹھی دُعا مانگ رہی ہیں۔ یہ تصویر اس لیے ثبت ہے کہ جب ہم اسکول کے لیے صبح سویرے اُٹھتے تو دیکھتے ماں مصلے پر بیٹھی ہیں۔ جب صحافت میں قدم رکھا، رات کو دیر سے گھر آتا تو دیکھتا ماں مصلّے پر بیٹھی ہیں۔ کوئی وظیفہ پڑھ رہی ہیں یا پھر ہاتھ اُٹھاکر دعا مانگ رہی ہیں۔ اس لیے مشکل وقت میں ماں کا یاد آنا فطری بات ہے۔ والد صاحب کا اپنا مقام ہے۔ لیکن مشکل وقت میں اللہ یاد آتا ہے یا پھر ماں۔

2008ء میں نواز شریف اور آصف زرداری نے قومی اسمبلی کی نشست آفر کی، لیکن میں نے انکار کردیا۔ 2012ء میں نواز شریف نے لاہور کے کسی بھی حلقے سے الیکشن لڑنے کی پیشکش کی۔

جمال عبداللہ عثمان انٹرویو لیتے ہوئے

دلیل: سیاسی جماعتوں کی طرف سے کچھ صحافیوں کو پیشکش ہوتی ہے کہ ہماری جماعت جوائن کرلیں، آپ کو رکن اسمبلی بنادیں گے یا سینیٹرشپ مل جائے گی، کیا آپ کو بھی ایسی آفرز ہوئیں؟

حامد میر: کئی بار ایسا ہوا۔ 2008ء میں نواز شریف اور آصف علی زرداری نے اتحاد کیا اور ان کی حکومت بنی۔ راولپنڈی میں قومی اسمبلی کی ایک نشست خالی ہوگئی۔ ان دونوں نے مجھے کہا کہ آپ ہمارے مشترکہ اُمیدوار بنیں اور یہاں سے انتخاب لڑیں۔ میں نے معذرت کرلی۔ مجھے کہا گیا کہ انتخابی مہم پر پیسہ بھی ہم لگائیں گے۔ 2012ء میں مجھے نواز شریف صاحب نے کہا کہ لاہور میں ہماری ساری نشستیں محفوظ ہیں، آپ جو حلقہ منتخب کریں، آپ کو وہاں سے انتخاب لڑواتے ہیں۔

”مجھے اس میں کوئی دلچسپی نہیں۔“ میں نے ان کا شکریہ ادا کیا۔

پیپلز پارٹی کے کچھ دوستوں نے کئی بار کہا کہ آپ سینیٹر بن جائیں۔ لیکن ہر بار انکار کیا۔ میں سمجھتا ہوں اگر میں سیاست میں چلا جاتا تو شاید مجھے اتنی عزت اور پذیرائی نہ ملتی جتنی کہ صحافت میں ملی ہے۔ صحافت میں لوگوں نے بڑی عزت اور بڑا احترام دیا ہے، اسی لیے میں یہ سمجھتا ہوں کہ لوگوں کے ساتھ بھی ہمیں سچ بولنا چاہیے۔ ان کے ساتھ جھوٹ نہیں بولنا چاہیے۔

دلیل:  صحافت روبہ زوال ہے، سنتے ہیں کہ ایڈیٹر کا ادارہ ختم ہوچکا ہے، اس لیے یہ زوال مزید بڑھتا جارہا ہے، کیا آپ اتفاق کرتے ہیں؟

حامد میر: میں تھوڑا سا پیچھے چلا جاؤں۔ 1947ء سے پہلے صحافت کئی خانوں میں بٹی ہوئی تھی۔ اردو صحافت تھی، جسے مسلم صحافت کہہ سکتے ہیں۔ ہندو صحافت، جو ہندی میں چھپتی تھی۔ ”سول اینڈ ملٹری گزٹ“ کی شکل میں ایک انگریزی صحافت تھی۔ اگر آپ دیکھیں تو آج کی صحافت کا سرخیل آپ کو مولانا ظفر علی خان نظر آئیں گے۔ بہت سی باتوں پر ان سے اختلاف ہوسکتا ہے۔ ان کا ایک نظریہ ضرور تھا، لیکن جدید طرزِ صحافت میں ان کے کردار سے انکار نہیں۔ انہوں نے ”زمیندار“ کے ذریعے اس کی بنا ڈالی۔ بعد میں ”زمیندار“ جاری نہیں رہ سکا۔ ”جنگ“ کے بانی مدیر میر خلیل الرحمٰن صاحب اور ”نوائے وقت“ کے حمید نظامی صاحب بھی جدید صحافت کے معماروں میں شمار ہوتے ہیں، لیکن ان سے بھی پہلے اگر کسی نے یہ کام شروع کیا تو وہ مولانا ظفر علی خان ہیں۔

آج کے دور کا المیہ ہے کہ ایڈیٹر کا ادارہ تقریباً ختم کردیا گیا ہے۔ مالکان ہی ایڈیٹر بن گئے ہیں۔ اب کرسی پر ایسا شخص بٹھاتے ہیں جو ان کی ہاں میں ہاں ملائے۔ پروفیشنل ازم کی وجہ سے ایڈیٹر کم، مالک کی پسند ناپسند کے مطابق یہ عہدہ زیادہ مل رہا ہے۔

مولانا ظفر علی خان ایڈیٹر تھے۔ آج کے دور کا یہ المیہ ہے کہ ایڈیٹر کا ادارہ تقریباً ختم کردیا گیا ہے۔ اب مالکان ہی ایڈیٹر بن گئے ہیں۔ اب وہ اس کرسی پر ایسا شخص بٹھاتے ہیں جو ان کی ہاں میں ہاں ملائے۔ آج کل ہم دیکھتے ہیں کہ پروفیشنل ازم کی وجہ سے ایڈیٹر کم، مالک کی پسند ناپسند کے مطابق یہ عہدہ زیادہ ملتا ہے۔ اسی لیے آپ دیکھیے پاکستان میں صحافت روبہ زوال ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ٹیکنالوجی کے لحاظ سے ہم نے کافی ترقی کی ہے۔ لیکن کونٹینٹ اور اخلاقی لحاظ سے صحافت میں ترقی نہیں ہوئی، بلکہ مزید تنزل آیا ہے۔ اس طرح صحافت کی آزادی بھی ختم ہورہی ہے۔ جینوئن صحافیوں کی تعداد تیزی کے ساتھ کم ہوتی جارہی ہے۔

بہت سے لوگ اپنے کاروبار کو وسعت دینے، یا کاروبار کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے اخبار نکال لیتے ہیں یا ٹی وی چینل کھول لیتے ہیں۔ یہ کوئی راز نہیں کہ اکثر بڑے ٹی وی چینلز اور بہت سے اخبارات مالکان کا اصل بزنس کچھ اور ہے۔ اور اپنے اسی بزنس کو تحفظ دینے کے لیے صحافت کا راستہ اختیار کرلیا ہے۔

ایک زمانے میں ہم نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ صرف اس شخص کو اخبار کا ڈکلیئریشن دیا جائے، جس کا صحافتی پس منظر ہو یا اس کی تعلیم اچھی ہو۔ اب آپ دیکھیے بہت سے لوگ اپنے کاروبار کو وسعت دینے، یا کاروبار کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے اخبار نکال لیتے ہیں یا ٹی وی چینل کھول لیتے ہیں۔ یہ کوئی راز نہیں کہ اکثر بڑے ٹی وی چینلز اور بہت سے اخبارات مالکان کا اصل بزنس کچھ اور ہے۔ اور اپنے اسی بزنس کو تحفظ دینے کے لیے صحافت کا راستہ اختیار کرلیا ہے۔ یہ صحافت میں بڑے نامور لوگوں کو اپنا ملازم بنالیتے ہیں اور یہی ہمارا آج کا سب سے بڑا المیہ ہے۔ ہر بڑا صحافی، کالم نگار، اینکر کسی نہ کسی سیٹھ کا ملازم بن جاتا ہے اور سیٹھ کی پالیسی ہی اس کی پالیسی بن جاتی ہے۔ بہت کم ایسے ہیں جو سیٹھ کی پالیسی کے مطابق نہیں چلتے۔ انجام کار ہماری ساکھ داؤ پر لگ گئی ہے، اسے جو دھچکے پہنچ رہے ہیں، اس کے نتیجے میں صحافت کی کشتی ہچکولے کھارہی ہے۔ خدانخواستہ یہ اُلٹ گئی تو ان سیٹھوں کو بھی نقصان پہنچے گا جو اس کشتی پر چڑھ کر اپنے اپنے مفادات کی تکمیل کررہے ہیں۔ ان کی ساری سرمایہ کاری غارت جائے گی۔

ہر بڑا صحافی، کالم نگار، اینکر کسی نہ کسی سیٹھ کا ملازم بن جاتا ہے اور سیٹھ کی پالیسی ہی اس کی پالیسی بن جاتی ہے۔ بہت کم ایسے ہیں جو سیٹھ کی پالیسی کے مطابق نہیں چلتے۔ انجام کار ہماری ساکھ داؤ پر لگ گئی ہے۔

دلیل: کئی سینئرز سے سنا کہ آپ بہت محنتی ہیں۔ یعنی کہہ سکتے ہیں کہ آپ اپنے کام کے ساتھ عشق کرتے ہیں۔ لیکن ہمارے ہاں ”عشق“ جن معنوں میں معروف ہے، کیا اس ”عشق“ کا سامنا بھی کبھی ہوا ہے؟

حامد میر: صحافیانہ انٹرویوز میں یہ سوال اکثر اوقات کیا جاتا ہے۔ یہ بہت وسیع موضوع ہے۔ اس کے جواب میں پوری کتاب لکھی جاسکتی ہے۔ فی الحال میں یہ کہوں گا کہ عشق ہر انسان کرتا ہے۔ لیکن عشق اور محبت میں بہت فرق ہے۔ میرا خیال ہے کہ عشق محبت کی انتہا ہے۔ محبت کی معراج کو عشق کہہ سکتے ہیں۔ صنفِ نازک کے ساتھ کبھی عشق نہیں ہوا، محبت ضرور کی ہے۔ اس سے انکار نہیں کرسکتا۔ آج کے زمانے میں عشق متروک ہوتا جارہا ہے۔ بہت سے لوگ صنفِ نازک یا صنفِ مخالف میں اپنی تھوڑی سی دلچسپی یا ذرا سی محبت کے جذبے کو عشق کا نام دے دیتے ہیں۔ یہ عشق نہیں۔ عشق بہت وسیع مفہوم رکھتا ہے۔ پھر یہ بھی ضروری نہیں کہ آپ کو عشق صرف صنفِ نازک یا صنفِ مخالف کے ساتھ ہو۔ یہ عشق آپ کو اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے۔ اپنے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق بھی بن سکتے ہیں۔ آپ کو اپنے کام سے بھی عشق ہوسکتا ہے۔ فی الحال اگر میں اپنے آپ کو دیکھوں تو یہ بات درست ہے کہ میں نے اگر کسی چیز کے لیے سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں، سب سے زیادہ جس کے لیے اسٹینڈ لیا ہے، وہ صحافت ہے۔ ابھی تک تو ایسا لگتا ہے کہ اپنے پروفیشن کے ساتھ ہی عشق کیا ہے۔ مجھے نہیں پتا کہ یہ محبت ہے یا عشق، البتہ قربانیاں اتنی زیادہ دی ہیں کہ اسے عشق کا نام دے سکتے ہیں۔

نواز شریف کو میں، آپ یا کوئی ادارہ سیاست سے نہیں نکال سکتا، البتہ پارلیمنٹ سے وہ نکل چکے ہیں۔

دلیل: کچھ سیاست کی بات کریں تو نواز شریف یہ باور کرارہے ہیں کہ وہ اس وقت مزاحمت کی علامت ہیں، کیا واقعی ان کی سیاست ایک نئے مرحلے میں داخل ہوئی ہے یا وہ قصہ پارینہ بن چکے ہیں؟

حامد میر: پاکستان میں بہت سے سیاست دانوں کو ہماری فوج اور عدلیہ نے سیاست سے باہر کرنے کی کوشش کی، لیکن یہ کسی بھی سیاست دان کو سیاست سے باہر نہیں کرسکتے۔ پاکستان میں نہ ہی پاکستان کے باہر کسی ملک میں یہ تجربہ کامیاب ہوسکا ہے۔ کسی بھی سیاست دان کو سیاست سے باہر کرنے کا پہلا اور آخری اختیار یا تو اللہ کے پاس ہے یا پھر عوام ہی یہ کرسکتے ہیں۔

نواز شریف کی اس وقت سیاست کا مرکز و محور پارلیمنٹ میں واپسی ہی ہے۔ سماج میں تبدیلی کے لیے ان کے پاس کوئی پروگرام ہے نہ ہی اس کے لیے وہ سنجیدہ دکھائی دیتے ہیں۔

جہاں تک نواز شریف کا تعلق ہے، وہ بہت سے تضادات کا مجموعہ ہیں۔ ہر سیاست دان بلکہ ہر انسان میں تضادات ہوسکتے ہیں۔ لیکن نواز شریف صاحب ایک طویل عرصے سے جن تضادات کو اپنے ساتھ لے کر چل رہے ہیں، وہ ان کی نفی تو کرتے ہیں، لیکن ان پر نہ تو معذرت کرنے کے لیے تیار نہ ہی آیندہ اس سے بچنے کا کوئی وعدہ کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ تو طے ہے کہ نواز شریف کو میں، آپ یا کوئی ادارہ سیاست سے نہیں نکال سکتا، البتہ پارلیمنٹ سے وہ نکل چکے ہیں۔ پارلیمنٹ سے نکالے جانے کا قطعاً یہ مطلب نہیں کہ ان کی سیاست بھی ختم ہوچکی ہے۔ بہت سے لوگ پارلیمنٹ کے باہر بیٹھ کر سیاست کرتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ نواز شریف کی اس وقت سیاست کا مرکز و محور پارلیمنٹ میں واپسی ہی ہے۔ سماج میں تبدیلی کے لیے ان کے پاس کوئی پروگرام ہے نہ ہی اس کے لیے وہ سنجیدہ دکھائی دیتے ہیں۔ انہوں نے کبھی اس ملک کے دانشوروں کو بٹھاکر کوئی غوروفکر کیا ہے نہ ہی اس سوشل چینج کے لیے ان کی گفتگو میں کوئی جھلک نظر آئے گی۔ یہی نظر آئے گا کہ ”مجھے کیوں نکالا؟“ کہاں سے نکلے ہیں؟ پارلیمنٹ سے! تو پارلیمنٹ میں واپسی ہی ان کا مطمع نظر ہے۔ نواز شریف صاحب کی مزاحمت ساری کی ساری اتنی ہے کہ پارلیمنٹ میں واپس چلے جائیں۔ آپ ان کے بیانات دیکھ لیں، ان کے قریبی لوگوں کے ساتھ بات چیت کرلیں۔ جبکہ مزاحمت کسی بہت بڑے مقصد کے لیے ہوتی ہے۔

نواز شریف اگر پرویز مشرف پر آئین کی دفعہ چھ کی خلاف ورزی کا مقدمہ چلاتے تو وہ خودبخود مزاحمت کی ایک علامت بن جاتے۔

ذوالفقار علی بھٹو نے جیل میں کتاب لکھی تھی If I am Assassinated۔ اس میں ایک فقرہ لکھا کہ ”میں تاریخ کے ہاتھوں مرنے کے بجائے فوج کے ہاتھوں مرنا پسند کروں گا۔“ اس وقت آمریت تھی۔ اگر نواز شریف صاحب تاریخ میں زندہ رہنا چاہتے تھے تو وہ بھی امر ہوسکتے تھے۔ جب وہ وزیراعظم تھے اور پرویز مشرف پر آئین کی دفعہ چھ کی خلاف ورزی کا مقدمہ چل رہا تھا۔ اس وقت جنرل راحیل شریف، چوہدری نثار اور شہباز شریف کے ذریعے دباؤ ڈال رہے تھے کہ مشرف کا ٹرائل نہ کیا جائے اور انہیں پاکستان سے باہر بھیج دیا جائے۔ وہ ایک لمحہ تھا جب نواز شریف کو فیصلہ کرنا تھا کہ انہیں دباؤ قبول کرنا ہے یا نہیں؟ اگر وہ راحیل شریف، شہباز شریف اور چوہدری نثار کی ٹرائیکا کے سامنے ہتھیار نہ ڈالتے اور ڈٹ جاتے۔ وہ کہتے کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ ایک ڈکٹیٹر کا احتساب ہورہا ہے۔ اور ضرور ہونا چاہیے چاہے اس کے نتیجے میں حکومت ختم ہوجائے۔ انہیں جیل میں ڈال دیا جائے۔ غائب کردیا جائے۔ بے شک وہ ایک لفظ نہ بولتے، وہ خودبخود مزاحمت کی ایک علامت بن جاتے۔ اب جو اسٹینڈ لیا ہے، یہ ان کی ایک ذاتی محرومی ہے۔ لوگ اسے وزارتِ عظمیٰ سے محرومی کا ردِعمل کہیں گے۔ آپ میرے اس وقت کے کالم اُٹھاکر پڑھ لیں۔ میں بار بار یہ کہہ رہا تھا کہ نواز شریف اگر مشرف کو پاکستان سے بھگادیتے ہیں، تو ان کی مشکلات کم نہیں، بڑھیں گی۔

آصف زرداری نے کچھ جنرلوں کے خلاف تقریر کی تو نواز شریف نے ملاقات سے انکار کردیا۔

میں یہ سمجھتا ہوں کہ نواز شریف کو سیاست سے نہیں نکالا جاسکتا، پارلیمانی سیاست سے وہ نکل گئے ہیں۔ اگر وہ واپس آنا چاہتے ہیں تو انہیں کچھ سوالات کے جواب دینے ہوں گے اور اپوزیشن کے گلے شکووں کا انہیں عوامی طور پر جواب دینا ہے۔ اگر نواز شریف واقعی اس ملک میں تبدیلی کے خواہاں ہیں اور ان قوتوں کے خلاف مزاحمت چاہتے ہیں جو جمہوریت کو ختم کرنا چاہتی ہیں تو اس کے لیے انہیں ایک ٹھوس پروگرام اور نظریہ بھی سامنے لانا ہوگا۔ وہ کہتے ہیں کہ میں ملک میں ایک ”گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ“ کرنا چاہتا ہوں، اس کے خدوخال کیا ہوں گے؟ اب تک سامنے نہیں لاسکے۔ وہ ڈائیلاگ کن ایشوز پر ہوگا، کچھ معلوم نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   مسئلہ پنجاب - ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

جو کہتے ہیں کہ ہم نے عدالتی حکم پر پرویز مشرف کو پاکستان سے باہر جانے دیا، بالکل غلط ہے۔ یہ سفید جھوٹ ہے۔ عدالت نے واضح طور پر لکھا کہ پرویز مشرف کے خلاف آرٹیکل چھ کی خلاف ورزی کا مقدمہ چلتا رہے گا اور ان کی آمدورفت کی ریگولیشن کا اختیار وفاقی حکومت کے پاس ہوگا۔

اسی طرح عمران خان صاحب بھی کہتے ہیں کہ میں تبدیلی لانا چاہتا ہوں، اس کے لیے جو منشور ہمیں دیا تھا، وہ بھی اس پر عملدرآمد نہیں کرسکے۔ آصف علی زرداری صاحب کہتے ہیں وہ بے نظیر بھٹو کے راستے پر چل رہے ہیں۔ وہ بے نظیر بھٹو کےر استے پر نہیں چل رہے، وہ ذوالفقار علی بھٹو کے راستے پر نہیں چل رہے۔ اس لیے پاکستان کی جو تینوں بڑی پارٹیاں ہیں، انہیں واقعی تبدیلی یا مزاحمت کی علامت بننے کے لیے جو ذمہ داریاں ادا کرنی ہیں، وہ نہیں ادا کررہیں۔

دلیل: کیا آپ سمجھتے ہیں کہ پاکستان پیپلز پارٹی جمہوریت کی خاطر نواز شریف کا ساتھ دینے کو تیار ہوجائے گی؟

حامد میر: نواز شریف صاحب اس وقت 62 ون بی ختم کرنا چاہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں آصف علی زرداری صاحب میرے ساتھ مل جائیں۔ لیکن آصف زرداری کیا کہتے ہیں؟ دیکھیں!  آصف زرداری نے 2015ء میں ایک تقریر کی تھی۔ جس میں کچھ جنرلوں کو مخاطب کرکے کہا تھا کہ ”آپ کو تو تین سال رہنا ہے، پھر چلے جانا ہے۔ لیکن ہم نے یہیں رہنا ہے۔“ اس تقریر کے اگلے روز نواز شریف اور آصف زرداری کی پہلے سے ملاقات طے تھی۔ نواز شریف نے آصف زرداری سے ملاقات سے انکار کردیا۔ نواز شریف بتائیں نا کہ انہوں نے ملاقات سے کیوں انکار کیا تھا؟ آصف زرداری صاحب نے انہیں بالواسطہ پیغام بھجوایا تھا کہ کم ازکم اس پر ایک معذرت تو بنتی ہے۔ آپ معذرت بھی نہیں کرتے اور پیپلز پارٹی کو اپنی کلائی کی گھڑی بھی بنانا چاہتے ہیں۔ جب چاہا اسے اُتار پھینک دیا، جب چاہا پہن لیا۔ ہر کوئی آپ کی کلائی کی گھڑی کیوں بنے؟

پرویز مشرف کے ٹرائل سے متعلق زبان بندی پر مجھے اور پرویز رشید کو پیشکش ہوئی۔

پھر آپ یہ بھی بتائیں کہ مارچ 2015ء میں جب پیپلز پارٹی کا چیئرمین سینیٹ منتخب ہوا تو اسی رات ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پر چھاپا مارا گیا۔ کیا اس لیے کہ ایم کیو ایم نے پیپلز پارٹی کو ووٹ دیا تھا؟ چوہدری نثار وزیر داخلہ تھے، انہوں نے اسے own بھی کیا۔ آپ کہتے ہیں چوہدری نثار ہماری بات نہیں سنتے۔ پھر آپ نے انہیں وزارتِ داخلہ سے ہٹایا کیوں نہیں؟ ڈاکٹر عاصم حسین پر میاں صاحب نے دہشت گردی کا مقدمہ بنادیا۔ کہتے ہیں وہ ہم نے نہیں، اسٹبلشمنٹ نے بنایا۔ اس نے کیسے بنایا؟ جس جے آئی ٹی نے وہ مقدمہ بنایا، اس میں آئی بی تھی، اس میں رینجرز تھی، یہ وفاقی حکومت کے ہی ادارے ہیں۔ پھر ایان علی کا معاملہ دیکھیں، صحیح تھا یا غلط! اس سے قطع نظر، اس میں کیوں میاں صاحب اسحاق ڈار کے ذریعے زرداری صاحب کو پیغامات بھیجتے رہے کہ ہم اس میں نہیں۔ کس نے انہیں کہا تھا؟ جبکہ وزیر داخلہ چوہدری نثار دھمکیاں دے رہے تھے کہ میں ایسے ایسے راز منکشف کروں گا کہ ”انہیں نانی یاد آجائے گی۔“ یہ کچھ تضادات ہیں جن کی وجہ سے آصف علی زرداری اور نواز شریف آپس میں نہیں مل پارہے۔

”اگر میں شہید کردی گئی تو اس کا ذمہ دار پرویز مشرف ہوں گے۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ میں پاکستان واپس آؤں۔ اب میں آئی ہوں تو یہ مجھے مروادیں گے۔ تم یاد رکھنا اگر میں ماری گئی تو ذمہ دار مشرف ہوں گے۔ تم نے میرے قاتلوں کو بے نقاب کرنا ہے۔“

دلیل: نواز شریف بزبان حال کہتے دکھائی دیتے ہیں کہ پرویز مشرف کو تو عدالتیں باہر بھجوادیتی ہیں، لیکن ہمیں عدالتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وہ اسے دوہرے معیار کا نام دیتے ہیں، کیا آپ نہیں سمجھتے کہ یہ واقعی دوہرا معیار ہے؟

حامد میر: جو کہتے ہیں کہ ہم نے عدالتی حکم پر پرویز مشرف کو پاکستان سے باہر جانے دیا، بالکل غلط ہے۔ یہ سفید جھوٹ ہے۔ میں نے ذاتی طور پر سپریم کورٹ کا وہ حکم نامہ نواز شریف کے سامنے رکھا۔ وزیراعظم ہاؤس میں ان کے دفتر میں ان کے ساتھ باقاعدہ بحث کی۔ مجھے کہا کہ میں نے جیو نیوز پر آپ کا پروگرام دیکھا، آپ کہتے ہیں کہ حکومت دعویٰ کررہی ہے مشرف صاحب کو عدالتی حکم پر بھجوایا گیا اور یہ سراسر غلط ہے۔

”میر صاحب! ہم نے عدالتی حکم پر ہی انہیں باہر بھجوایا ہے۔“ نواز شریف صاحب نے مجھ سے کہا۔

”آپ عدالتی حکم منگوائیں۔“ میرا جواب تھا۔

جب آرڈر منگوایا تو میں نے ان سے کہا: ”آپ دکھائیں کہاں لکھا ہے؟“

پھر میں نے انہیں پوری کہانی بتائی۔ میں نے ان سے کہا کہ سپریم کورٹ آپ کے اٹارنی جنرل سلمان اسلم بٹ سے بار بار پوچھتی رہی کہ ہم پرویز مشرف کا نام ای سی ایل پر ڈالے رکھیں یا نہیں؟ اٹارنی جنرل کا جواب تھا: ”جو آپ کی مرضی۔“ اس کے باوجود عدالت نے یہ واضح طور پر لکھا کہ پرویز مشرف کے خلاف آرٹیکل چھ کی خلاف ورزی کا مقدمہ چلتا رہے گا اور ان کی آمدورفت کی ریگولیشن کا اختیار وفاقی حکومت کے پاس ہوگا۔

”آپ عدلیہ کا کندھا استعمال کرنا چاہ رہے تھے، اس نے استعمال ہونے سے انکار کردیا۔“ میں نے میاں صاحب سے کہا۔

”پھر آپ کے وزیر داخلہ نے پریس کانفرنس کی کہ پرویز مشرف چار چھ ہفتے میں واپس آجائیں گے۔ وہ واپس نہیں آئے۔“ میں نے مزید اپنی بات کی وضاحت کی۔

پرویز مشرف باہر گئے تو انہوں نے انٹرویوز میں کہنا شروع کیا کہ ”لال مسجد آپریشن حامد میر نے کروایا۔“ یہ سفید جھوٹ تھا۔

میں نے نوازشریف صاحب سے کہا کہ میں سمجھ سکتا ہوں کہ آپ پر کتنا دباؤ ہوگا، اس لیے کہ مجھ پر بھی دباؤ تھا۔

میں آج آپ کو ایک چھوٹی سی کہانی بتادیتا ہوں۔ جن دنوں شہباز شریف صاحب اور چوہدری نثار صاحب، نواز شریف کو یہ کہہ رہے تھے کہ آپ مشرف کو باہر جانے دیں۔ یہ راستے کا پتھر ہے، یہ سامنے سے ہٹ گیا تو پاکستان کے لیے ترقی کے راستے کھل جائیں گے۔ انہی دنوں ایک صاحب نے مجھے اور پرویز رشید صاحب کو اسلام آباد میں ایک جگہ اکٹھا کیا اور مختلف قسم کے لالچ دیے۔ ان صاحب کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے اردگرد پرویز رشید صاحب وہ آدمی ہیں جو مشرف کے ٹرائل کے بہت حامی ہیں۔

”میڈیا میں حامد میر صاحب! آپ پرویز مشرف کے ٹرائل کی بہت حمایت کرتے ہیں۔“

میں سمجھتا ہوں اگر آرٹیکل 6 کے تحت مشرف کا احتساب ہوجاتا تو آج ملک میں حالات یکسر مختلف ہوتے۔ نواز شریف کے بارے میں میرے موقف میں جو سختی پیدا ہوئی ہے، اس کی وجہ بھی پرویز مشرف ہیں۔

ان صاحب کا اصرار تھا کہ آپ دونوں خاموشی اختیار کرلیں۔ جو صاحب ہمیں یہ پٹی پڑھارہے تھے، وہ بھی نواز شریف کے بہت قریبی دوست ہیں۔ لیکن ان کا پرویز مشرف کے آدمیوں سے بھی رابطہ تھا۔ پرویز رشید صاحب نے بہت جارحانہ انداز میں اس پیشکش کو مسترد کردیا تو مجھ سے مخاطب ہوکر کہا:

”آپ لاپتا افراد کی بہت بات کرتے ہیں، آپ کا یہ خیال ہے کہ پرویز مشرف نے بڑی تعداد میں لوگوں کو لاپتا کیا ہے۔ ان کے دور میں جتنے لوگ غائب ہوئے، ہمیں ان کی فہرست دے دیں، آپ جتنی رقم کہیں گے، ہم ان کے خاندان کو دینے کے لیے تیار ہیں۔“

پہلے ہمیں خریدنے کی کوشش، جب انکار دیکھا تو پھر یوں ٹریپ کرنے کی کوشش ہوئی۔ پرویز رشید صاحب نے وہ پیشکش بھی مسترد کردی۔ میں نے مگر اندازہ لگانے کے لیے کہ یہ کتنے سنجیدہ ہیں، پرویز رشید صاحب کے مشورے سے انہیں کہا:

”صرف پرویز مشرف کے دور میں لاپتا افراد کے ایک ایک خاندان کو آپ ایک ایک ملین ڈالر دینے کے لیے تیار ہیں؟“

”یہ بہت زیادہ رقم ہے، میں پوچھ کر بتاؤں گا۔ بہرحال ہم کچھ نہ کچھ ضرور کرلیں گے۔“ پیشکش کرنے والے نے بتایا۔

اگر مارچ 2007ء میں وکلا تحریک نہ چلتی تو مشرف اور منموہن سنگھ کشمیر پر ایسا اعلان کرنے والے تھے کہ اس وقت کشمیر میں انڈیا نہیں، پاکستان کے خلاف مظاہرے ہورہے ہوتے۔

پھر میں نے انہیں پرویز مشرف کے دور میں 120 کے قریب لاپتا افراد کی فہرست دی۔ انہوں نے کہا: ”ٹھیک ہے ہم کردیں گے۔“ لیکن میں اور پرویز رشید انکاری ہوگئے۔ جو صاحب یہ کررہے تھے، وہ بڑے مخلص تھے۔ ان کا خیال تھا کہ مشرف کو پاکستان سے نکال دیا جائے تو نواز شریف کی مشکلات ختم ہوجائیں گی۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اگر مجھ جیسے بندے پر یہ دباؤ تھا تو نواز شریف صاحب پر یقیناً بہت زیادہ ہوگا۔ لیکن مجھ میں اور نواز شریف میں یہ فرق ضرور ہے کہ میں ایک عام صحافی اور وہ اس ملک کے وزیراعظم تھے۔

دلیل: پرویز مشرف سے متعلق آپ کی تحریر وتقریر میں بہت تلخی پائی جاتی ہے، آپ کے کچھ کالم آج بھی سوشل میڈیا پر گردش کررہے ہوتے ہیں جن میں آپ نے انہیں خوش آمدید کہا، بعد میں اس قدر تلخی پیدا ہونے کی وجہ؟

حامد میر: سوشل میڈیا پر جو کالم گردش کررہے ہیں، ان میں کچھ غلط بھی ہیں۔ مثلاً: ایک کالم کی سرخی یہ ہے کہ ”پھانسی بہت ضروری ہے۔“ یہ کالم کا عنوان ہے، کالم کی تفصیل پڑھیں تو لکھا ہے کہ اس نظام کی پھانسی ضروری ہے، نواز شریف کو پھانسی نہیں لگانی چاہیے۔ اس نظام کو پھانسی دیں جس نے نواز شریف جیسے سیاست دان پیدا کیے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ اس وقت نواز شریف کو پھانسی دینے کا مطالبہ کیا جارہا تھا۔ میں نے اس کی مخالفت کی۔ پھر یہ بھی لکھا کہ آپ نواز شریف کو پھانسی دے دیں گے تو جن معاملات میں ان کا احتساب ہونا ہے، وہ کیسے ہوگا؟ اس میں، میں نے 1999ء میں لندن کی جائیدادوں کا ذکر کیا۔

پرویز مشرف نے جو یوٹرن لیا، وہ بہت بڑا تھا۔ اگر وہ خدانخواستہ نواز شریف لیتے تو اب تک غدار قرار دے کر انہیں گولی مارچکے ہوتے۔

پھر، جب پرویز مشرف نے اقتدار سنبھالا تو نواز شریف کی حکومت عدلیہ سے بھی لڑرہی تھی، فوج سے بھی لڑائی تھی اور میڈیا سے بھی جھگڑا تھا۔ مجھے تو باقاعدہ مار پڑی۔ سیف الرحمٰن نے میرے اخبار کے دفتر پر ایف آئی اے اور آئی بی کے ذریعے حملہ کروایا۔ ہمارے اخبار کے بنڈلوں کو آگ لگادی۔ اس زمانے میں نواز حکومت جنگ گروپ کے بہت خلاف تھی۔ سیف الرحمٰن صاحب نے جنگ گروپ کا نیوز پرنٹ بند کردیا۔ ایک دن جنگ والوں کے پاس اپنا اخبار چھاپنے کے لیے کاغذ نہیں تھا۔ میں اس وقت روزنامہ ”اوصاف“ کا ایڈیٹر تھا۔ میر شکیل الرحمٰن صاحب نے فون کیا اور کہا کہ آپ ہمیں اخبار چھاپنے کے لیے کاغذ دے دیں۔ میں نے دیا۔ سیف الرحمٰن نے مجھے فون کیا اور کہا کہ تم نے اچھا نہیں کیا، میں دیکھ لوں گا۔ اس ”جرم“ کی پاداش میں پہلے ہمارے اخبار کی بجلی بند کی، ہم نے اخبار کہیں اور سے چھپوایا تو اس کے بعد ایف آئی اے اور آئی بی والوں کے ذریعے حملہ کروادیا۔ ہماری دست بدست لڑائی ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں:   سقوط ڈھاکہ کا ذمہ دار بھٹو کیوں؟ ابو محمد

میں ذکر کروں کہ جب ہمارے اخبار کے دفتر پر حملہ ہوا تو سینیٹ اور قومی اسمبلی میں اس پر احتجاج ہوا۔ بیگم کلثوم نواز، اللہ انہیں صحت دے، انہوں نے میرے لیے کلمہ خیر کہا اور نواز شریف صاحب کو مجبور کیا کہ وہ فون کرکے مجھ سے معذرت کرلیں۔ نواز شریف نے بطورِ وزیراعظم مجھے فون کرکے معذرت کی۔ شہباز شریف نے مجھے بتایا کہ یہ کال بیگم کلثوم نواز نے کروائی ہے۔ یہ بات میں نے آج تک یاد رکھی ہوئی ہے۔

کچھ لوگ یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ جب حامد میر، مشرف پر تنقید کرتا ہے، تو یہ دراصل فوج پر تنقید ہے۔ میری فوج کے ساتھ کوئی لڑائی نہیں۔ ہمارے سپاہی اور افسر اس دھرتی کی خاطر اپنا لہو بہاتے ہیں۔

کہنے کا مقصد یہ ہے کہ نواز شریف کی حکومت ایسے حالات میں ختم ہوئی کہ سب کے ساتھ جھگڑا تھا۔ جب وہ گئے تو آپ کو پتا ہے کہ پیپلز پارٹی نے اسے خوش آمدید کہا اور مٹھائیاں بانٹیں۔ پھر مشرف صاحب نے کمال یہ کیا تھا کہ فوری طور پر نہ تو عدلیہ کو ختم کیا نہ ہی میڈیا پر زیادہ پابندی لگائی اور نہ ہی اسمبلی فوری طور پر ختم ہوئی۔ ایک طرح سے مارشل لا نہیں تھا۔ ہماری بھی کوشش یہ تھی کہ نظام چلتا رہے۔ اس وقت ہم نواز شریف حکومت کے ظلم وستم سے براہِ راست متاثر تھے، اس لیے ہم نے حکومت کے خاتمے کی بہت زیادہ مزاحمت نہیں کی۔ لیکن آہستہ آہستہ غبار چھٹتا گیا۔ اسمبلیاں ختم ہوئیں، ججوں پر دباؤ شروع ہوا، آپ میرے کالم پڑھیں میں نے مزاحمت شروع کردی۔ بعد میں جب مشرف صاحب کی پالیسیاں کھل کر سامنے آنے لگیں تو تلخی مزید بڑھی۔ جب انہوں نے نواب اکبر بگٹی صاحب کو شہید کیا تو مزید اضافہ ہوا۔ میں سمجھتا ہوں کہ نواب اکبر بگٹی کی شہادت پاکستان کے ساتھ بہت بڑا ظلم تھا۔ پھر پرویز مشرف کے دور میں لاپتا افراد کا مسئلہ پیدا ہوا، ڈرون حملے ہوئے، لال مسجد آپریشن کے بعد خودکش حملے شروع ہوگئے۔ نومبر 2007ء میں مجھ پر پابندی لگی۔

2007ء میں اپنی شہادت سے چند روز پہلے محترمہ بے نظیر بھٹو نے مجھ سے آخری گفتگو کی۔

”اگر میں شہید کردی گئی تو اس کا ذمہ دار پرویز مشرف ہوں گے۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ میں پاکستان واپس آؤں۔ اب میں آئی ہوں تو یہ مجھے مروادیں گے۔ تم یاد رکھنا اگر میں ماری گئی تو ذمہ دار مشرف ہوں گے۔ تم نے میرے قاتلوں کو بے نقاب کرنا ہے۔“ انہوں نے مجھ سے کہا۔

یہ وہ وجوہات تھیں جن کی وجہ سے میں ان کے بارے میں لکھتا رہا، کوئی ذاتی وجہ نہیں تھی۔ پرویز مشرف باہر گئے تو انہوں نے انٹرویوز میں کہنا شروع کیا کہ ”لال مسجد آپریشن حامد میر نے کروایا۔“ یہ سفید جھوٹ تھا۔ ایک صحافی پر وہ پورا ملبہ ڈال رہے ہیں۔ حالانکہ میں تو لال مسجد میں مذاکرات کا حامی تھا۔ میں نے خود جاکر وہاں ”کیپٹل ٹاک“ کروایا۔ مشرف کے وزرا کو اندر لے کر گیا۔ مولانا عبدالعزیز اور عبدالرشید غازی سے ان کے مذاکرات کروائے۔

جو لوگ پاکستان کو ترکی سے تشبیہ دیتے ہیں، انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ ترکی کو ترک فوج نے مصطفیٰ کمال پاشا کی قیادت میں آزاد کروایا۔ اس کی آزادی کا دفاع کیا۔ اس کے باوجود ترکی میں آج فوج کے لیے سیاست میں حصہ لینا مشکل ہے تو پاکستان کی تشکیل میں تو فوج کا کردار ہی نہیں، پھر یہاں کیسے رول ہو؟

میرے اندر تلخی کی وجہ یہ بھی ہے کہ مشرف صاحب جھوٹ بہت بولتے ہیں۔ اس قدر جھوٹ کو کتنا برداشت کریں گے؟ آپ دیکھیے وہ پاکستان سے یہ کہہ کر گئے تھے کہ میری کمر میں درد ہے، علاج کروانے جارہا ہوں، باہر جاکر وہ ڈانس کررہے ہیں۔ اب کیا اسے بھی میں نظرانداز کروں؟ جب ذکر آئے گا، مجھ سے کوئی سوال کرے گا تو یہی کہوں گا نا کہ وہ جھوٹا آدمی ہے۔

مشرف نے پاکستان کے ساتھ جو کیا، میں سمجھتا ہوں اگر آرٹیکل 6 کے تحت مشرف کا احتساب ہوجاتا تو آج ملک میں حالات یکسر مختلف ہوتے۔ نواز شریف کے بارے میں میرے موقف میں جو سختی پیدا ہوئی ہے، اس کی وجہ بھی پرویز مشرف ہیں۔ نواز شریف نے بہت بڑا سمجھوتا کیا۔ انہیں اسٹینڈ لینا چاہیے تھا۔ پرویز مشرف نے جتنا پاکستان کو نقصان پہنچایا، کسی نے نہیں پہنچایا۔ مشرف کے دور میں فوجی اڈے امریکا کو دیے گئے۔ پرویز مشرف کی کشمیر پالیسی کو دیکھ لیں۔ آگرہ مذاکرات میں جب پرویز مشرف گئے تو مجھے بھی ان دنوں انڈیا جانے کا اتفاق ہوا۔ دلّی میں میری سید علی گیلانی صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے مجھے کہا کہ یہ آدمی کشمیر کی سیاست کو نہیں سمجھتا۔ یہ ہمیں نقصان پہنچائے گا۔ اس کے بعد جب مشرف صاحب کی کشمیر پالیسی کا جائزہ لینا شروع کیا تو پتا چلا کہ وہ کشمیر کو مذاکرات کی میز پر ہارنے کا مکمل فیصلہ کیے بیٹھے ہیں۔ اگر مارچ 2007ء میں وکلا تحریک نہ چلتی تو مشرف اور منموہن سنگھ کشمیر پر ایسا اعلان کرنے والے تھے کہ اس وقت کشمیر میں انڈیا نہیں، پاکستان کے خلاف مظاہرے ہورہے ہوتے۔

جمہوری حکومتوں نے پاکستان کے رقبے میں اضافہ کیا، ڈکٹیٹروں نے ملک کے حصے گنوادیے۔

جب نواز شریف نے UFA ڈکلیریشن سے صرف کشمیر کا نام نکالا، کوئی پالیسی تبدیلی نہیں کی، ہم نے تب بھی آواز اُٹھائی۔ آج بھی ان سے ہم یہی پوچھتے ہیں کہ ایسا کس کے کہنے پر کیا؟ جو پرویز مشرف نے یوٹرن لیا، وہ بہت بڑا تھا۔ اگر وہ خدانخواستہ نواز شریف لیتے تو اب تک غدار قرار دے کر انہیں گولی مارچکے ہوتے۔ اس لیے میری پرویز مشرف کے ساتھ کوئی ذاتی لڑائی نہیں۔ یہی وہ تمام مسائل اور ایشوز ہیں جن کی وجہ سے میں تنقید کرتا ہوں۔

دلیل: آپ کے مخالفین الزام لگاتے ہیں کہ آپ فوج کے خلاف ہیں، اس الزام پر کیا کہیں گے؟

حامد میر: اگر میں پرویز مشرف کے حوالے سے کوئی بات کروں تو اس کا قطعاً یہ مطلب نہیں کہ میں فوج کا مخالف ہوں۔ کچھ لوگ یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ جب حامد میر، مشرف پر تنقید کرتا ہے، تو یہ دراصل فوج پر تنقید ہے۔ ایسی بات بالکل نہیں۔ میری فوج کے ساتھ کوئی لڑائی نہیں۔ ہمارے سپاہی اور افسر اس دھرتی کی خاطر اپنا لہو بہاتے ہیں۔

کچھ لوگ کہتے ہیں ڈکٹیٹر کے دور میں ترقی ہوتی ہے۔ اس لیے کہ وہ پاکستان کے فوجی اڈے امریکا کو دے دیتا ہے۔

جہاں تک مارشل لا اور فوجی آمریت کی مخالفت کا تعلق ہے، میری ایک رائے ہے۔ پاکستان ایک سیاسی اور جمہوری عمل کا نتیجہ ہے۔ قائداعظم ایک وکیل تھے، سیاست دان تھے، فوجی جنرل نہیں تھے۔ جو لوگ پاکستان کو ترکی سے تشبیہ دیتے ہیں، انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ ترکی کو ترک فوج نے مصطفیٰ کمال پاشا کی قیادت میں آزاد کروایا۔ اس کی آزادی کا دفاع کیا۔ اس کے باوجود ترکی میں آج فوج کے لیے سیاست میں حصہ لینا مشکل ہے تو پاکستان کی تشکیل میں تو فوج کا کردار ہی نہیں۔ جن جرنیلوں نے پاکستان میں پہلا مارشل لا لگایا، وہ تو انگریز کے نوکر تھے۔ قائداعظم نے پاکستان کو ایک سیاسی اور جمہوری عمل کے ذریعے تشکیل دیا۔ قائداعظم کے پاکستان میں فوجی ڈکٹیٹر شپ کا مطلب ایسا ہے جیسے آپ دودھ میں زہر ملادیں۔ دودھ میں زہر ملاکر آپ پئیں گے تو حالتِ نزع طاری ہوگی نا؟ فوری طور پر مریں گے یا پھر قسطوں میں موت واقع ہوگی۔

آپ ڈکٹیٹر شپ اور جمہوریت کا ایک تقابلی جائزہ لے لیں۔ مختصر سا، پہلا مارشل لا جب 1958ء میں لگا تو جس وزیراعظم کو نکالا گیا، اس کا نام ملک فیروز خان نون تھا۔ ستمبر 1958ء میں انہوں نے اپنے وزیر داخلہ نواب اکبر بگٹی کے ذریعے گوادر کو پاکستان کا حصہ بنوایا۔ اکتوبر 1958ء میں جنرل ایوب خان نے فیروز خان نون کی حکومت برطرف کردی۔ ایک ایسی حکومت جس نے پاکستان کے جغرافیہ میں گوادر شامل کیا۔ پھر ایوب خان نے 1962ء میں صدارتی نظام نافذ کیا۔ اس کے خلاف اس کے وزیر قانون جسٹس محمد ابراہیم نے استعفیٰ دیا اور لکھا کہ یہ صدارتی نظام پاکستان توڑ دے گا۔ پھر شیخ مجیب کے چھ نکات آگئے۔ آج بھی ہمارے کچھ دانشور پاکستان میں ڈکٹیٹروں کی خدمات گنواتے ہیں۔ ان میں ڈاکٹر عطاء الرحمٰن بھی شامل ہیں۔ کہتے ہیں بڑی معاشی ترقی ہوتی ہے۔ اس لیے ہوتی ہے کہ ڈکٹیٹر اقتدار سنبھالتے ہی پہلا کام یہ کرتا ہے کہ پاکستان کے فوجی اڈے امریکا کو دے دیتا ہے۔ ایوب خان نے بڈھ بیر کا فوجی اڈا امریکا کو دیا۔ اس خطے میں امریکا کی پراکسی بن گئے تھے۔

ایک دن ایوب خان نے اپنے وزیر قانون سے کہا کہ جاؤ، جاکر بنگالیوں کے ساتھ مذاکرات کرو، یا ہماری جان چھوڑدیں یا کنفیڈریشن کرلیں۔

مشرقی پاکستان میں علیحدگی کی تحریک ایوب خان کی پالیسی کی وجہ سے شروع ہوئی۔ ایوب خان خود پاکستان توڑنا چاہتا تھا۔ جسٹس محمد منیر، جو ان کے وزیر قانون تھے، کتاب ”From Jinnah to Zia“ میں لکھا کہ ایک دن ایوب خان نے ان سے کہا کہ جاؤ، جاکر بنگالیوں کے ساتھ مذاکرات کرو، یا ہماری جان چھوڑدیں یا کنفیڈریشن کرلیں۔ جب جسٹس منیر صاحب نے جاکر بنگالی ارکانِ اسمبلی کے ساتھ مذاکرات کیے اور کہا کنفیڈریشن بنالیں یا ہم سے علیحدہ ہوجائیں تو بنگالیوں نے کہا کہ ہم اکثریت میں ہیں، ہم پاکستان ہیں، تم نے علیحدہ ہونا ہے تو ہوجاؤ۔

یہ ڈکٹیٹر کی approach ہوتی ہے۔ وہ اپنے مفاد پر پاکستان کے مفاد کو ترجیح دیتا ہے۔ یہ پہلا ڈکٹیٹر تھا، اس کا بڑا کارنامہ یہ بھی تھا کہ اس نے قائداعظم کی بہن محترمہ فاطمہ جناح کو دھاندلی کے ذریعے شکست دی اور اس فاطمہ جناح کا ڈھاکہ میں چیف پولنگ ایجنٹ شیخ مجیب الرحمٰن تھا۔ جب ایوب خان نے فاطمہ جناح کو ہرایا تو پاکستان کو شکست دی۔ خود جیت گیا، پاکستان کو شکست سے دوچار کرگیا۔

1984ء میں سیاچن پر انڈیا نے قبضہ کیا، ایک اور ڈکٹیٹر جنرل ضیاء الحق پاکستان میں حکمران تھا۔ یہ باتیں بہت تلخ ہیں۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ فوج کے خلاف بیانیہ ہے، یہ فوج کے خلاف نہیں، یہ تاریخ کی سچائیاں ہیں کہ جب پاکستان میں کرپٹ سیاست دانوں کی کمزور حکومتیں تھیں، پاکستان کی حدود میں اضافہ ہوا۔ جب بھی پاکستان میں محب وطن اور کردار کے غازی ڈکٹیٹروں کی حکومت آئی تو پاکستان کے علاقوں میں غیرملکی فوجی اڈے قائم ہوئے۔ پاکستان نے اپنے علاقے گنوادیے۔ کبھی مشرقی پاکستان کی صورت میں کبھی سیاچن کی شکل میں۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے جسے آپ جھٹلا نہیں سکتے۔

اگر ایک ڈکٹیٹر کے دور میں لسانی سیاست کو فروغ ملے گا۔ فرقہ وارانہ تنظیمیں بنیں گی۔ بم دھماکے ہوں گے۔ غیرجماعتی انتخابات کے ذریعے برادری ازم کی سیاست کو فروغ ملے گا تو ایسے ڈکٹیٹر کی ذاتی زندگی میں خوبیاں تلاش کرنے سے کیا فائدہ۔

میں دوبارہ بتاؤں کہ اس کا قطعاً یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم اپنی فوج کے ان جوانوں اور افسران کی ان قربانیوں کا اعتراف کرنے کے لیے تیار نہیں جو آئے دن اپنا خون اس دھرتی کی خاطر بہاتے ہیں۔

میں سمجھتا ہوں کہ ڈکٹیٹر اپنی پالیسی کے ذریعے پاکستان کے عوام اور فوج میں خلیج پیدا کرتا ہے۔ جنرل ضیاء الحق صاحب کی پاکستان کے لیے کچھ خدمات بھی ہیں۔ انہوں نے ایٹمی پروگرام پر کمپرومائز نہیں کیا۔ اگر وہ بھٹو کی پالیسی کو آگے نہ بڑھاتے تو ہم ایٹمی پاکستان نہ بنتے۔ یہ پلس پوائنٹ ہے، لیکن اگر ایک ڈکٹیٹر کے دور میں لسانی سیاست کو فروغ ملے گا۔ اس کے دور میں فرقہ وارانہ تنظیمیں بنیں گی۔ اس کے دور میں بم دھماکے ہوں گے۔ اس کے دور میں اگر غیر جماعتی انتخابات کے ذریعے برادری ازم کی سیاست کو فروغ ملے گا تو ایسے ڈکٹیٹر کی ذاتی زندگی میں خوبیاں تلاش کرنے سے کیا فائدہ؟ آج پاکستان جن حالات کا شکار ہے، یہ جو مذہبی انتہا پسندی ہے، یہ جنرل ضیاء کا تحفہ ہے۔ یہ جو کلاشنکوف، بم دھماکے، ہیروئن کلچر ہے، یہ جنرل ضیاء الحق کے تحفے ہیں۔ ان سے ہماری جان ہی نہیں چھوٹ رہی۔
اس انٹرویو کا آخری اہم حصہ

Comments

جمال عبداللہ عثمان

جمال عبداللہ عثمان

جمال عبداللہ عثمان نے صحافتی زندگی کا آغاز کراچی سے کیا۔ مختلف روزناموں کے ساتھ وابستہ رہے۔ چار کتابوں کے مصنف ہیں۔ آج کل ایک نجی ٹی وی چینل کے ساتھ بطورِ پروگرام پروڈیوسر وابستہ ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں