جدید مغربی سوچ کاا سمِ اعظم، آزادی! - وقاص احمد

جب سولہویں اور سترہویں صدی میں یورپ کی سائنسی ترقی نے چرچ کی بنیادیں ہلائیں تو تاجر و کاروباری اشرافیہ سمیت عام عوام کو کلیسا اور بادشاہ کا گٹھ جوڑ مزید کھَلنے اور چبُھنے لگا۔ ان کی زیادتی، ان کا ظلم و استبداد برداشت سے باہر نکلتا محسوس ہوا۔ سائنسدانوں نے پادریوں کی تعلیمات میں پائے جانے والے شگافوں کو جیسے جیسے واضح کیا ویسے ویسے یورپی دورِ تنویر کا سفر بھی آگے بڑھتا چلا گیا ۔ بندشوں سے آزاد خیالات کے بازار گرم ہوئے، پابندیوں سے بے پروا محفلیں پر رونق ہوئیں۔ انسان کی آزادی سے متعلق تمام ہی گوشوں پر بحثوں اور موشگافیوں کی دور شروع ہوا۔ روایات کی مذمت اور مروجہ ضوابط پر تنقید و مزاحمت ہی عقل و شعور کا معیار و کمال قرار پایا۔ عقائد، رسومات، معاشرت، معیشت اور سیاست سب ہی معاملات انسانی عقل کی خرد بین کے نیچے رکھ دیے گیے۔ بادشاہوں اور مذہبی راہنماؤں پر بے اعتمادی بتدریج اپنی ساری حدیں پار کر گئی جو بہت حد تک جائز بھی تھی۔ جب تورات اور انجیل کی سائنسی اور علمی ڈوریاں کٹیں تو عقائد، عبادات اور اخلاقی قدروں پر بھی عقلی سوالات اٹھے۔ نفس جو علمی اور قانونی پابندیوں کی موجودگی میں بھی کسی بدمست ہاتھی سے کم نہیں ہوتا، گویا اسے پورا کھیت تہس نہس کرنے کو مل گیا۔

مغربی دور تنویر میں مجرد عقل و شعور کی بنیاد پر جو فکری و علمی عمارتیں کھڑی کی گئیں اس کی تعمیر میں ایک عنصر مشترک تھا اور وہ تھا ’’ آزادی‘‘ کا عنصر۔ ہمارے ایک استاد تو کہتے ہیں کہ یورپی نشاطِ ثانیہ اور دورِ تنویر سے جنم لینے والی جدید مغربی تہذیب کا اگر کوئی اسم اعظم ہے تو وہ ہے ’’آزادی‘‘ جسے انگریزی میں لبرٹی اور فریڈم کہا جاتا ہے۔ سترہویں صدی میں انگلستان کا گلوریئس (Glorious) انقلاب، اٹھارہوں صدی کے امریکی اور فرانسیسی انقلابا ت کا مرکز و محور اور جذبہ محرکہ یہی آزادی اور لبرٹی تھا۔ ان تمام انقلابات نے ہی مروجہ مغربی جمہوریت کی داغ بیل ڈالی۔ اپنے یورپی علمی ورثہ سے متاثر ہونے والے اولین یورپی حکمرانوں نے آزادی اور اجتماعی فیصلوں کا حق صرف سفید فام امیر یورپی مردوں کو دیا۔ اس آزادی نے حیرت انگیز طور پر اپنے ابتدائی دور میں ہی کئی آزادیوں کو رنگ، نسل، جنس اور علاقے کی بنیاد کچلا۔ گلوریئس انقلاب کے بعد اگلے سو سال تک کیتھولکس کو ووٹ ڈالنے کا حق نہیں ملا اور نہ ان کو پارلیمنٹ میں بیٹھنے کی اجازت تھی۔

اسی حسین آزادی و حریت کے نظریات میں نجانے کہاں سے نو آبادیاتی اور نسلی امتیاز کا فلسفہ کشید کیا گیا جس کے بعد یہ آزادی کے پرستار ساری دنیا پر چڑھ دو ڑے۔ 1688 ء میں بل آف رائٹس بنانے والے، 1776ء میں ’’لبرٹی‘‘ اور ’’خوشی کے حصول میں آزاد ی‘‘ کے حق کا دلفریب نظریہ دینے والو ں نے باقی ساری دنیا کی خوشیوں کو مَسلنا اور غلام بنانا اپنی اخلاقیات کا حصہ بنا لیا۔ یہ تو باہر کا حال تھا۔اندر امریکہ میں ریڈ انڈینر کا قتل عام جاری و ساری رہا۔ سفید فام عورتوں کو ووٹ کا حق 1920 ءمیں ملا۔ 1870 ء میں گو کہ سیاہ فام امریکیوں کو ووٹ دینے کا آئینی حق تو ملا لیکن بہت سی ریاستوں نے حیلے بہانوں سے افریقی امیریکیوں کو یہ حق استعمال نہیں کرنے دیا گیا۔ یہ حق کئی دہائیوں بعد بڑی جدو جہد کے بعد میں 1965 ء میں دیا گیا۔ مقامی ریڈ انڈینز کو حقوق کی فراہمی کی تاریخ تو اس سے بھی المناک ہے۔ فرانس کے تو کیا کہنے، عورتوں کو نشاطِ ثانیہ اور عہدِ تنویر میں لٹریچر اور شاعری میں بے حیائی اور فحاشی کی ترغیب دینے، مصوری کے نام پر برہنہ کرنے والے اس ملک نے عورتوں کو ووٹ کا حق 1945 ءمیں دیا۔ برطانیہ میں یہ حق عورتوں کو 1920 ء میں ملا۔ یعنی حریت و مساوات کے بنیادی اصولوں پر بھی عمل کرنے میں ہمارے مغرب زدہ پاکستانی لبرلز کے آقاؤں کو ڈیڑھ دوسو سال لگ گئے۔

کہنے کا مطلب یہ ہے کہ یورپ کے ’’عظیم‘‘ عقل پرستوں، انسانی حقوق کے چیمپئنوں اور آزادی کے پرستاروں نے، جن کے گُن گا گا کر ہمارے مغرب زدہ، مرعوب لبرلز آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں ، انہیں بھی انسانی برابری و مساوات، عورتوں کا شرف، ان کی حق رائے دہی کا ادراک ہونے میں انقلاب کے بعد بھی کہیں سو سال اور کہیں ڈیڑھ سو سال سے بھی زیادہ عرصہ لگ گیا۔ یعنی انگلستان، امریکہ اور فرانس کے انقلابا ت کہیں دور دور تک بھی ہمہ گیر انقلاب نہیں تھے بلکہ معاشی اور سیاسی طور پر بھی صرف اونچے طبقات کے لیے تھے۔ دوسرے طبقات کو علیحدہ کرنے اور محروم رکھنے کی وجہ صرف ان کا نظریات سے اختلاف ہی نہ تھا بلکہ انتہائی جاہلانہ، بے عقل، اور شرمناک قسم کے عوامل بھی تھے۔ جن کا تعلق نسلی و صنفی تعصبات، دولت و امارت اور سرمائے و جاگیر پر مبنی امتیازات سے تھا۔ اس سیاہ تاریخ پر آج کا مغربی مفکر اور مؤرخ یا تو گفتگو سے اعراض کرتا ہے یا پھر مذمت کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔

اس کے مقابلے میں اگر ہم جزیرہ نمائے عرب میں وقوع پزیر ہونے والے تاریخِ انسانی کے واحد ہمہ گیر انقلاب کو دیکھیں تو اس کے علمی اور نظریاتی طور پر کامل اور من جانب اللہ ہونے کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ فتح مکہ کے بعد اگلے پچیس سال، بلوچستان، خراسان سے لیکر شام اور حبشہ سے لیکر لیبیا، تیونس تک پھیلی اسلامی خلافت میں زندگی کے انفرادی اور اجتماعی، تمام گوشے ترقی کے لحاظ سے بہترین زمانہ رہے۔ بلا مبالغہ کہا جاسکتا ہے کہ تاریخ انسانی، انسانیت کی فلاح و خدمت، حکومت کی خدا خوفی اور بندہ پروری، احتساب کے معاملے میں حساسیت، عدل و انصاف میں مساوات کی کوئی دوسری نظیر پیش نہیں کر سکتی۔ جبکہ یورپی دورِ تنویر میں جنم لینے والے انقلابات کے فوری بعد کے حالات کے بارے میں اوپر بات کر چکا ہوں۔

خیر، آزادی کا راگ الاپتے الاپتے آج یورپ اور امریکہ جس جگہ پہنچے ہیں وہ ہمارے سامنے ہے۔ جہاں جسم و جاں کی تسکین کے لیے سود اور سولہ سے اٹھارہ سال سے اوپر ہر مرد و عورت حلال ہے۔ (یہ میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ ریاستی قوانین میں سزا صرف کم عمری اور جبر کے معاملے میں ہے )۔ جمہوریت ان کے نزدیک مجرد کوئی قدر نہیں۔ جی ہاں، یورپ کے نزدیک جمہوریت محض ایک ذریعہ ہے جس سے ’’آزادی ‘‘ کی قدر کا حصول ہوتا ہے۔ جمہوریت، اگر مغربی لبرل قدروں کے ساتھ نہیں یعنی وحی بیزار عقل پرست نہیں ہے تو اس سیاسی آزادی یعنی جمہوریت سے ان کو کوئی غرض نہیں۔ الجزائر میں مسلم فرنٹ کا یا مصر میں اخوان کا باقاعدہ آزاد، شفاف الیکشن سے جیتنا اگر ان کے لیے قابل احترام اور مغربی روایات کے حساب سے ایک بڑا عملی کام ہوتا تو اس پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور قتل عام کرنے پر یہ اور ان کا میڈیا اسی طرح کہرام مچاتے اور دباؤ بڑھاتے جس طرح یہ مسلم ملکوں میں عورتوں کے حجاب، اقلیتو ں کے حقوق اور ہم جنس پرستوں کے معاملات پر کرتے ہیں۔

تو بس مغربی جمہوریتوں میں حکومت کا بنیادی کام انہی لبرل اور سیکولر اقدار کا تحفظ کرنا ہے جس سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والے یورپ اور امریکہ کی ہی اشرافیہ، سرمایہ دار طبقات ہیں۔ جنکی غالب اکثریت وائٹ اینگلو سیکن پروٹیسٹنٹ اور زائیونسٹ (Zionist) پرمشتمل ہے۔

اس کے بر خلاف ساتویں صدی میں یعنی یورپی نشاط ثانیہ سے بھی نو سو، ہزار سال پہلے، جزیرہ نمائے عرب پر انقلاب رسول اللہ ﷺ پر اگر طائرانہ نظر ڈالی جائے تو وحی جلی، وحی خفی اور اسی پر مبنی اجتہادات کی روشنی نے دنیا کوکس طرح منور کیا، انسان کو انسان کی غلامی سے نکال کر کس طرح رب العالمین کا غلام بنانے کے روحانی اہتمام کے ساتھ ساتھ قانونی انتظام بھی کیا گیا، یہ ایک الگ مضمون کا متقاضی ہے۔ مگر ابھی یہ بات سمجھنا اہم ہے کہ علمی، نظری اور فکری طور پر اسلام کاپیش کردہ کامل ضابطہ حیات قرآن حکیم، سنت اور تعامل خلفائے راشدین و صحابہ کرام کی صورت میں کتابوں میں تو ہے ہی، لیکن یہ سمجھنا بھی اتنا ہی اہم ہے عملی طور پر بھی یہ ضابطہ حیات اسلام کی سیاسی چھتری یعنی خلافت کے زیر سایہ تقریباًتین دہائیوں تک اپنی اول و اصل انقلابی شکل اور اس کے نتیجے میں ظاہر ہونے والے عدیم المثل ثمرات کے ساتھ قائم و دائم رہا۔ بعد کے حالات ایک دوسری بحث ہے لیکن جہاں جہاں درمیان میں بھی مسلمانوں نے ’’ایمانِ حقیقی ‘‘ کا مظاہرہ کیا وہاں وہاں عملی طور پر اسلام کے نصوص، نظریات اور فکریات نے ثابت کیا کہ و ہ سب سے بلند، عادلانہ، پاکیزہ، اعلیٰ اور ارفع فکری و نظری نظام ہے۔ اسلام پر حقیقی طور پر عمل پیرا لوگوں کی سوچ و فکر میں جو انقلاب پیدا ہوتا ہے وہ پابندیوں کی حکمت کو بھی سمجھتا ہے کہ انسان، اس کے خاندان، اس کی معاشرت و معیشت، اس کے اخلاق، اجتماعی معاملات و سیاست کو فساد و فتنے سے بچانے کے لیے یہ کتنا ضروری ہیں۔ اور سب سے بڑھ اسے یقین ہوتا ہے کر اس پر دل و جان سے عمل کرنے والے کے لیے دوسری دنیا میں فوز و فلاح کا وعدہ ہے۔

ٹیگز

Comments

وقاص احمد

وقاص احمد

کراچی یونیورسٹی سے کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرز اور سنہ2000 سے انفارمیشن ٹیکنالوجی میں خدمات سرانجام دینے والے وقاص احمد ایک دنیا دیکھ چکے ہیں۔ مشرق وسطیٰ ، مشرقِ بعید اورآسٹریلیا کے سفر کر چکے ہیں ۔مطالعہ کا شوق تو بچپن سے تھا لیکن گزشتہ کئی برسوں سے باقاعدہ فلسفۂ دین،احیائے دین کی تحاریک، فلسفہِ اخلاق ، سیاست، احتساب اور تاریخ کے موضوعات ان کی تحقیقات اور فکر کا حصہ ہیں۔ اس حوالے سے علمائے کرام اور دینی اسکالرز کے بے شمار دروس اور لیکچرز میں شرکت کر چکے ہیں۔ ان سے ٹوئٹر پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com