پروں کو جوڑ کر اڑنا - محمد عامر خاکوانی

یہ امریکہ کی معروف وسکانسن یونیورسٹی کا واقعہ ہے۔ یونیورسٹی کے غیر معمولی ذہین طلبہ کے ایک گروپ نے فیصلہ کیا کہ اپنی صلاحیتوں کے اظہار اور اس میں بہتری لانے کے لیے ایک گروپ تشکیل دیا جائے۔ مختلف کلاسز سے تعلق رکھنے والے تیز طرار ذہین لڑکوں نے ایک سٹڈی گروپ بنایا، جس کا ہر ہفتے اجلاس ہوتا۔ مرکزی خیال یہ تھا کہ قدیم یونانی فلسفیوں کی محافل کی طرح ایک ایسی علمی نشست برپا ہو، جہاں مختلف سوچ رکھنے والے اکٹھے ہوں اور اپنی تخلیقات سامنے لائیں۔ اجلاس ہونے لگے۔ مختلف طلبہ اپنی تخلیقات پیش کرتے، جن پر دھواں دھار بحث ہوتی۔ علم و ادب، فلسفہ اور مختلف سماجی ایشوز پر مضامین، کہانیاں، نظمیں لکھی جاتیں اور پھر سب شرکا باری باری اس پر بات کرتے۔گروپ کے تمام احباب کا انداز جارحانہ تھا اور کوشش کی جاتی کہ لکھاری کی تخلیق کے پرخچے اڑا دیے جائیں۔ لکھنے والا بھی جواب میں تیز دھار جملے اچھالتا اور اپنی تحریر کا دفاع کرنے کی کوشش کرتا۔ یونیورسٹی کے میگزین میں گروپ اور اس کی سرگرمیوں کا جائزہ چھپنے لگا۔

میگزین کے مدیر نے اس گروپ کو ”جکڑنے والے“ کا نام دیا۔ اس طرف اشارہ تھا کہ یہاں کسی نے معمولی سی کمزوری دکھائی، اس کی تحریر مضبوط نہ ہوئی یا بحث مباحثے میں کمزور استدلال دیا تو دوسرے اسے فورا اپنے تنقیدی دلائل سے جکڑ لیتے اور فرار کی کوئی راہ باقی نہ رہتی۔ کئی ماہ تک یہ نشستیں ہوتی رہیں۔

اس دوران یونیورسٹی کی لڑکیوں کو خیال آیا کہ لڑکوں نے گروپ بنایا تو انہیں بھی کچھ کرنا چاہیے، وہ مردوں سے کم تر تو نہیں۔ انہوں نے اپنے انداز میں ایک سٹڈی سرکل شروع کیا، اس کی نشست بھی ہفتہ وار ہوتی۔ لڑکیوں کا گروپ البتہ بہت مختلف تھا۔ انہوں نے اس کا نام ”بحث والیاں“ رکھا۔ یہاں بھی علم وادب کے حوالے سے گفتگو ہوتی، تخلیقات پیش کی جاتیں، ان پر رائے زنی ہوتی۔ لڑکیوں نے البتہ سخت تنقید اور جارحانہ حملوں کے بجائے ایک دوسرے کو سپورٹ کرنے کی راہ اپنائی۔ کھل کر دوسروں کی تخلیقات کو سراہا جائے۔ تحریر زیادہ معیاری نہ ہوتی، تب بھی اس پر ٹوٹ پڑنے کے بجائے محتاط الفاظ میں سمجھانے کی کوشش ہوتی اور زیادہ زور حوصلہ افزائی پر دیا جاتا۔ جس تحریر میں تھوڑی سی بھی جان ہوتی، اسے کھل کر سراہا جاتا اور آئندہ کے لیے مزید لکھنے کی تاکید کی جاتی۔ یہ سلسلہ چلتا رہا، حتیٰ کہ وہ سیشن یونیورسٹی سے گریجوایشن کر کے رخصت ہوگیا۔

کوئی دو عشروں بعد ایک ریسرچر نے یونیورسٹی کے ان دنوں پر تحقیق کرتے ہوئے یہ جاننے کی کوشش کی کہ ان دونوں گروپوں کے ارکان پر بعد میں کیا گزری؟ نتائج بہت دلچسپ تھے۔ تحقیق سے علم ہوا کہ جکڑنے والے گروپ کے لڑکوں نے یونیورسٹی کے بعد لکھنے کے عمل کو سنجیدگی سے نہ اپنایا، بظاہر جن کے بارے میں یہ اندازہ لگایا جاتا تھا کہ یہ اپنی ذہانت اور تخلیقی صلاحیتوں سے ملک بھر میں معروف ہوجائیں گے، وہ سب نوجوان گمنامی میں کھو گئے۔ ایک بھی لڑکا قومی سطح پر شہرت نہ پا سکا۔ ایک دوسرے پر حملے کرتے کرتے، ان کے اپنے اندر سے اعتماد رخصت ہوگیا اور اپنے فقروں سے دوسروں کو قتل کرنے کی کوشش میں وہ اپنی ذات کو ختم کر بیٹھے۔

یہ بھی پڑھیں:   احسن اقبال سے تین سوال- آصف محمود

دوسری طرف ”بحث والیاں“ گروپ کی لڑکیوں کی مثبت سوچ اور ایک دوسرے کو سپورٹ کرنے کی حکمت عملی کا انہیں فائدہ پہنچا۔ بہت سی لڑکیاں معروف ہوئیں، چھ سات نے تو قومی سطح پر نام منوایا ۔حوصلہ افزائی نے انہیں پختہ لکھاری بنا دیا۔ ان میں سے ایک مارجوری رالنگ نے امریکہ بھر میں تہلکہ مچا دیا۔ مس مارجوری نے ایک ناول ”یرلنگ“ تخلیق کیا جو نہ صرف بیسٹ سیلر رہا بلکہ اس کا متعدد زبانوں میں ترجمہ بھی ہوا۔ پورے تئیس ہفتے تک یہ ناول نیویارک ٹائمز کی بیسٹ سیلر کیٹیگری میں ٹاپ پر رہا۔ حتیٰ کہ اسے امریکہ کا بلند ترین صحافتی ایوارڈ پلٹرز پرائز ملا۔ امریکی محقق، جس نے اس تجربے پر تحقیق کی، اس نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ زندگی کے سفر میں کامیاب وہی لوگ ہوئے، جو ایک دوسرے پر نفرت آلود تیر برسانے کے بجائے اپنے دوستوں کو سپورٹ کرتے اور انہیں آگے کی طرف بڑھاتے رہے۔ کامیابیوں نے ان کے قدم چومے اور وہی طالبات اپنی یونیورسٹی کی نیک نامی کا باعث بنیں۔ پرندے وہی کامیاب رہے جو طوفانی ہواؤں میں اپنے پر جوڑ کر اجتماعی پرواز کرتے رہے۔

یہ کہانی معروف ادیب، خاکہ نگار عرفان جاوید نے بیان کی ہے۔ عرفان جاوید اعلیٰ تخلیق کار، نفیس اور علم دوست انسان ہے، بےپناہ پڑھنا اور اپنے مطالعے کو شیئر کرنا اس کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔ عرفان کی بیان کردہ اس کہانی کو پڑھتے ہوئے میں سوچ رہا تھا کہ سوشل میڈیا، خاص کر فیس بک پر بھی اس سے ملتی جلتی صورتحال نظر آتی ہے۔ زیادہ تر لوگوں کاحال ”جکڑنے والوں“ جیسا ہے۔ ایک دوسرے پر حملے کرنے، مخالف کی پوسٹوں کو دندان شکن جواب دینے اور بغیر سوچے سمجھے تنقیدی، زہریلی پوسٹیں شیئر کرنے کا مزاج انہیں ایک خاص قسم کی منفی کیفیت میں لے گیا ہے۔ جنہیں لکھنے کا ہنرآتا ہے، وہ اسے کسی مثبت کام میں استعمال کرنے کے بجائے، دوسروں کی کاٹ اور جوابی بیانیہ دینے میں لگا رہے ہیں۔ جو لکھنے کے ہنر سے ناآشنا ہے، وہ بھی اپنے ٹوٹے پھوٹے دلائل کے ساتھ چپو کے بغیر کشتی چلانے میں لگا ہے۔ ناکامی ہر دو کے حصے میں آنی ہے۔ اصل اہمیت نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرنا اور کسی ہمدردانہ حلقے میں انھیں رہنمائی بہم پہنچانا ہے۔

امریکی یونیورسٹی میں لڑکیوں کے گروپ نے جس طرح کیا اور اپنا نام ”بحث والیاں“ رکھا۔ جو تعمیر بحث مباحثے کو آگے بڑھاتی تھیں اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ چند سال بعد ان میں سے کئی نامور ہوئیں۔ ہمارے بیشتر سینئر اور معروف لکھنے والے سوشل میڈیا سے الرجک ہیں، ان کے ذہن میں بیٹھ چکا ہے کہ اگر وہ فیس بک یا ٹوئٹر پر آئے تو انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان کے مخالفین دشنام طرازی کریں گے اور یوں ان کی بھد اڑے گی۔ اس خوب سے یہ لوگ سوشل میڈیا کا حصہ نہیں بن رہے، حالانکہ انہیں آکر اپنا کنٹری بیوشن دینا چاہیے۔ ابتدا میں ممکن ہے کچھ لوگ سخت تنقید کریں، مگر مجموعی طور پر ان کی بات کو سنا، سمجھا جائے گا، نئے لکھنے والوں کے لئے خاص طور سے سینئرز کی موجودگی کسی نعمت سے کم نہیں ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں:   احسن اقبال سے تین سوال- آصف محمود

عرفان جاوید نے ایک اور دلچسپ کہانی بھی بیان کی۔ انہوں نے ایک بزرگ آدمی کا قصہ بیان کیا، جسے ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ پہاڑی جھرنوں، چشموں سے جھاڑ جھنکار چنتا رہے تاکہ نیچے واقع گاؤں کی نہر کوصاف شفاف پانی کی فراہمی جاری رہے۔ گاؤں کی کونسل نے اس بابے کو یہ ملازمت دی، وہ جاں فشانی سے اپنے کام میں لگا رہتا۔ ایک بار کونسل کے اجلاس میں فنڈز کی کمی کا مسئلہ اٹھا تو کسی نے تجویز پیش کی کہ اس بزرگ شخص کو نکال دیا جائے، وہ معلوم نہیں اپنی ملازمت پر آتا بھی ہے یا نہیں۔ فیصلے پر عمل درآمد ہوگیا۔ موسم خزاں کی آمد تھی، پتے گرنے لگے، درختوں کی چھوٹی ٹہنیاں ٹوٹ کر نیچے چشموں میں گرتی گئیں، کچھ ہی دنوں میں گاؤں والوں کو محسوس ہوا کہ ندی کے پانی میں پیلاہٹ اور گدلا پن آ رہا ہے، دو تین ہفتوں میں یہ مزید بڑھ گیا، جلد ہی پانی کی سطح پر رقیق مادہ نظر آنے لگا اور پھر پانی قابل استعمال نہ رہا۔ اس پر گاؤں کی کونسل کا ہنگامی اجلاس ہوا اور اس بزرگ شخص کو دوبارہ ملازمت پر رکھ لیا گیا۔ لوگوں کو احساس ہوگیا کہ نہایت مؤثر مگر غیر محسوس انداز میں وہ بابا اپنا کام کرتا تھا، جس کے نتیجے میں گاؤں والوں کو ندی کا شفاف پانی بھی میسر تھا اور بستی کی فضائیں، پھولوں، سبزے سے معطر رہتیں۔ اس بزرگ کو ”بہار کے رکھوالے“ کا نام بھی دے دیا گیا۔

کہانی تو تمام ہوئی، مگراس کا سبق زندہ ہے اور رہے گا۔ بات سادہ ہے، کچھ لوگ ایسے چاہیے ہوتے ہیں جو غیر محسوس انداز میں دوسروں کا کام بٹائیں، خود سامنے آئے بغیر اس انداز میں اپنا حصہ ڈالیں کہ خوبصورتی دوچند ہوجائے۔ کوئی تنظیم، گروہ ہو یا کسی بھی نوعیت کا فورم، جب ہر کوئی مرکزی سٹیج پر توجہ کا مرکز بنا رہنا چاہے، اس کی بقا کا دارومدار دوسروں کو نیچا دکھانے اور شکست دینے پر ہو، تب عملی نتیجہ صفر نکلے گا۔ معاملات تب سنوریں گے، جب ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے بجائے انھیں ساتھ چلنے، پر سے پر ملا کر اڑنے کے لیے تیار کیا جائے۔ ایسے میں ان کے آس پاس کی دنیا خوبصورت ہوجائے گی اور ہر ایک کو اپنے حصے کا میٹھا پھل بھی ملے گا۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں