[نظم کہانی] اے کاش یوں ہو - محمد عثمان جامعی

جلوس وہ میلادِ نبی کا

گزرنا تھا جس راہ گزر سے

میں نے گزرتے ہوئے اُدھر سے

اپنی گلی کے اک لڑکے کو

پتھر کانٹے ہٹاتے دیکھا

راہ میں پھول بچھاتے دیکھا

حیراں ہوکر اس سے پوچھا

تم ہو جس مسلک والوں کے

وہ تو یہ دن نہیں مناتے

پھر یہ تمھارا جذبہ کیا ہے؟

یہ تو بتاؤ قصہ کیا ہے؟

بولا، ”یوں حیراں ہونا کیا

پیار نبی سے سب کو سانجھا

صاف جو میں کرتا ہوں رستہ

میرے عشق کا ہے یہ تقاضا

راہ نہیں میں سجا رہا ہوں

پُل الفت کے بنا رہا ہوں

اور خلیجیں مٹا رہا ہوں“