پانی: اللہ تعالی کی عظیم نعمت - خطبہ جمعہ مسجد نبوی

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر  جسٹس عبد المحسن بن محمد القاسم حفظہ اللہ نے13-ربیع الاول-1439  کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں "اللہ تعالی کی عظیم نعمت: پانی" کے عنوان پر ارشاد فرمایا، جس  میں انہوں نے  کہا کہ  اللہ تعالی ہر وقت لوگوں پر نعمتیں برساتا ہے لیکن پھر بھی اس کی نعمتوں میں کمی نہیں آتی، انہیں نعمتوں میں  پانی بھی شامل ہے جو ہماری زندگی کے ہر لمحے کے لیے از بس ضروری ہے، اللہ تعالی بارش کے ذریعے  بنجر زمین کو آباد کر دیتا ہے  یہ اللہ تعالی کے خالق اور حقیقی معبود ہونے کی دلیل ہے، بلکہ مرنے کے دوبارہ جی اٹھنے کا عملی نمونہ بھی ہے، بارش کب اور کتنی ہو گی اس کا حتمی اور یقینی علم اللہ تعالی کے پاس ہے، جس طرح پانی اللہ کی رحمت ہے اور اللہ تعالی نے پانی کے ذریعے ہر چیز کو زندگی بخشی  تو یہی پانی قومِ نوح، آل فرعون، قوم سبا اور دیگر کے لیے عذاب بھی بنا، اللہ تعالی نے قرآن مجید میں بار ہا مرتبہ پانی کی نعمت پر احسان جتلایا ہے۔ پانی اپنی لطافت کی بنا پر جسم کے رگ و پے میں سرایت کر جاتا ہے  جبکہ پانی میں طغیانی آئے تو ہر چیز کو بہا کر بھی لے جاتا ہے، اللہ تعالی نے بارش کو جنگ بدر میں مسلمانوں کی فتح کے لیے نازل فرمایا، اسی پانی سے وضو کرتے ہوئے انسانی اعضا گناہوں سے پاک ہو جاتے ہیں، بارش کی صورت میں پانی اللہ تعالی کے معین کردہ پیمانے کے مطابق ہی نازل ہوتا ہے، پھر اس پانی کو اللہ تعالی زیر زمین ذخیروں میں محفوظ فرما دیتا ہے تا کہ لوگ بعد میں استعمال کر سکیں، بسا اوقات پانی پتھروں سے بھی نکل پڑتا ہے،  اور یہ اللہ تعالی کی عظیم نشانی ہے، پانی کی نعمت ملنے پر انسان کو گھمنڈ نہیں کرنا چاہیے جیسے فرعون نے کیا تھا تو اللہ تعالی نے اسی پانی میں فرعون کو غرق کر کے اس کا گھمنڈ پانی میں ملا دیا، پانی کے لیے انسانی ضرورت  اور تمام جانوروں کو اللہ کی عنایت  اس بات کی متقاضی ہے کہ صرف ایک اللہ کی عبادت کی جائے، اس پر اسی کا شکر کریں، اس سے نعمتوں کو دوام ملے گا اور اللہ تعالی راضی بھی ہو گا، پھر انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ہم دنیا میں پانی کو آخرت بنانے کیلیے استعمال میں لائیں اور اس نعمت کو ضائع مت کریں، آخر میں انہوں نے سب کے دعا فرمائی۔

عربی خطبہ کی آڈیو، ویڈیو اور ٹیکسٹ حاصل کرنے کیلیے یہاں کلک کریں

پہلا خطبہ:

یقیناً تمام  تعریفیں اللہ  کیلیے ہیں، ہم اس کی تعریف بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد کے طلب گار ہیں اور اپنے گناہوں کی بخشش بھی مانگتے ہیں، نفسانی اور  بُرے اعمال کے شر سے اُسی کی پناہ چاہتے ہیں، جسے اللہ تعالی ہدایت عنایت کر دے اسے کوئی بھی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جسے وہ گمراہ کر دے اس کا کوئی بھی رہنما نہیں بن سکتا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں ، وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد   اللہ کے بندے اور اس کے رسول  ہیں، اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی آل ، اور صحابہ کرام پر ڈھیروں درود  و سلامتی نازل فرمائے۔

حمد و صلاۃ کے بعد: اللہ کے بندو! اللہ سے کما حقّہ ڈور ؛ خلوت و جلوت میں اس کو اپنا نگہبان سمجھو۔

مسلمانو!

اللہ تعالی نے اپنے بندوں پر ظاہری اور مخفی نعمتوں کے دریا بہا دئیے ہیں، اللہ کے دونوں ہاتھ  جود و سخا کے لیے کھلے ہیں، وہ دن رات عنایت کر رہا ہے، ان عنایتوں سے اس کے خزانوں میں کمی نہیں آتی، اللہ تعالی نے اپنے بندوں کو ایک ایسی نعمت بھی دی ہے جس کے بغیر کوئی چارہ نہیں، اللہ تعالی اپنی خاص حکمت کے مطابق اس نعمت کو لوگوں کی آنکھوں کے سامنے پیدا فرماتا ہے تا کہ لوگ اللہ کا شکر ادا کریں، تو فرشتوں کو حکم دیتا ہے وہ  ہوائیں کر بادلوں کو ہانکتے ہیں، پھر قطروں کی شکل میں بارش ہوتی ہے تا کہ لوگ اس نعمت سے مستفید ہوں، {أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يُزْجِي سَحَابًا ثُمَّ يُؤَلِّفُ بَيْنَهُ ثُمَّ يَجْعَلُهُ رُكَامًا فَتَرَى الْوَدْقَ يَخْرُجُ مِنْ خِلَالِهِ} کیا آپ نے دیکھا نہیں  اللہ تعالی بادلوں کو چلاتا ہے پھر انہیں جمع کر کے تہ بہ تہ  بنا دیتا ہے، پھر بارش کے قطرے ان کے درمیان سے نکلنے لگتے ہیں۔[النور: 43]

اللہ تعالی نے اس نعمت کو آسمان سے نازل فرمایا تا کہ لوگ  خود اپنی آنکھوں سے اسے دیکھ لیں اور اس کی طلب دلوں میں پیدا ہو پھر بارش ہونے کے بعد اللہ کا شکر بھی کریں۔

اس نعمت کو اللہ تعالی نے اپنی ربوبیت کے دلائل میں شامل فرمایا اور کہا: {أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا نَسُوقُ الْمَاءَ إِلَى الْأَرْضِ الْجُرُزِ فَنُخْرِجُ بِهِ زَرْعًا تَأْكُلُ مِنْهُ أَنْعَامُهُمْ وَأَنْفُسُهُمْ أَفَلَا يُبْصِرُونَ} کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ ہم پانی کو بنجر زمین کی طرف ہانک لاتے ہیں جس سے ہم کھیتی پیدا کرتے ہیں تو اس سے ان کے چوپائے بھی کھاتے ہیں اور وہ خود بھی کھاتے ہیں۔ پھر کیا یہ غور نہیں کرتے۔ [السجدة: 27]

بلکہ اللہ سبحانہ و تعالی نے ساری مخلوقات کو  پانی لانے کا چیلنج کیا اور فرمایا: {أَفَرَأَيْتُمُ الْمَاءَ الَّذِي تَشْرَبُونَ (68) أَأَنْتُمْ أَنْزَلْتُمُوهُ مِنَ الْمُزْنِ أَمْ نَحْنُ الْمُنْزِلُونَ } بھلا دیکھو! جو پانی تم پیتے ہو [68] کیا تم نے اسے بادل سے اتارا ہے یا ہم نے اتارا ہے؟ [الواقعہ: 68 - 70]

بارش کی صورت میں پانی کا نزول غیب میں شامل ہے، چنانچہ بارش برسنے کا حتمی علم ، مقدار اور حاصل ہونے والے فوائد اللہ تعالی ہی جانتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ} بیشک اللہ کے پاس ہی ہے قیامت کا علم اور وہی بارش برساتا ہے اور رحموں میں جو کچھ بھی ہے اسے جانتا ہے۔[لقمان: 34]

اللہ تعالی کا آسمان سے بارش برسانا الوہیتِ الہی اور استحقاقِ عبادت  کے دلائل میں شامل ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَأَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَخْرَجَ بِهِ مِنَ الثَّمَرَاتِ رِزْقًا لَكُمْ فَلَا تَجْعَلُوا لِلَّهِ أَنْدَادًا وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ } اور آسمان سے پانی نازل کیا پھر اس کے ذریعے پھل پیدا کئے جو تمہارے لیے رزق  ہیں، اس لیے اللہ کا کسی کو شریک مت بناؤ، حالانکہ تم جانتے ہو۔[البقرة: 22]

بلکہ بارش کا نزول مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھنے کی دلیل بھی ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَمِنْ آيَاتِهِ أَنَّكَ تَرَى الْأَرْضَ خَاشِعَةً فَإِذَا أَنْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ إِنَّ الَّذِي أَحْيَاهَا لَمُحْيِ الْمَوْتَى إِنَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ} اور اللہ کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ تم دیکھتے ہو کہ زمین سونی (بے آباد) پڑی ہوئی ہے۔ پھر ہم اس پر پانی برساتے ہیں تو وہ حرکت میں آتی ہے اور پھل پھول جاتی ہے۔ جس (اللہ) نے اس زمین کو زندہ کیا وہ یقیناً مردوں کو بھی زندہ کر سکتا ہے ؛ بیشک وہ ہر چیز پر قادر ہے [فصلت: 39]

پانی کے ذریعے اللہ تعالی رحمت بھی فرماتا ہے اور اسی کو زحمت بھی بنا دیتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَأَلَّوِ اسْتَقَامُوا عَلَى الطَّرِيقَةِ لَأَسْقَيْنَاهُمْ مَاءً غَدَقًا} اور اگر وہ لوگ راہ راست پر سیدھے رہتے تو یقیناً انہیں بہت وافر پانی پلاتے۔ [الجن: 16]

پانی عظمت اور شان و شوکت ہے ، رحمن کا عرش بھی پانی پر ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ} اور اس کا عرش پانی پر [ہی] تھا۔[هود: 7]

پانی اللہ تعالی کی بے کنار نعمتوں میں سے ، سابقہ اقوام پر اللہ تعالی نے اس نعمت کا احسان بھی جتلایا، چنانچہ جن لوگوں نے اللہ کا شکر کیا تو انہیں مزید عطا فرمایا اور جس نے ناشکری کی تو اسے عذاب سے دوچار کر دیا، فرمان باری تعالی ہے: {أَلَمْ يَرَوْا كَمْ أَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِنْ قَرْنٍ مَكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ مَا لَمْ نُمَكِّنْ لَكُمْ وَأَرْسَلْنَا السَّمَاءَ عَلَيْهِمْ مِدْرَارًا وَجَعَلْنَا الْأَنْهَارَ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهِمْ} کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی قوموں کو ہلاک کر دیا۔  انہیں ہم نے زمین میں اتنا اقتدار بخشا تھا جتنا تمہیں نہیں بخشا۔ اور ہم نے ان پر آسمان سے خوب بارشیں برسائیں، اور ان کے نیچے سے بہنے والی نہریں بنائیں۔ [الأنعام: 6]

چونکہ پانی ایک عظیم نعمت ہے اس لیے بارش ہونے سے پہلے اللہ تعالی بارش کی خوش خبری دینے والی ہوائیں بھیجتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَهُوَ الَّذِي يُرْسِلُ الرِّيَاحَ بُشْرًا بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهِ} وہی تو ہے جو اپنی رحمت (بارش) سے پیشتر ہواؤں کو خوش خبری کے طور پر بھیجتا ہے [الأعراف: 57]

بارش آنے پر زمین بھی لہلہا اٹھتی ہے، اور اپنی خوب صورتی سب کے لیے عیاں کر دیتی ہے،  جس کی وجہ سے آنکھیں بھی دنگ رہ جاتی ہیں، فرمانِ باری تعالی ہے: {فَإِذَا أَنْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ وَأَنْبَتَتْ مِنْ كُلِّ زَوْجٍ بَهِيجٍ} پھر جب ہم اس پر بارش برساتے ہیں تو وہ ابھرتی ہے ، پھلتی پھولتی ہے اور ہر قسم کی رونق دار نباتات اگاتی ہے [الحج: 5]

بارش کے باعث بنجر زمین بھی آباد ہو جاتی ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَيُنَزِّلُ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَيُحْيِي بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا} اور آسمان سے بارش برساتا ہے اور اس سے مردہ زمین کو زندہ کر دیتا ہے [الروم: 24]

بارش کی خبر لوگ ایک دوسرے کو خوشی خوشی بتلاتے ہیں، فرمانِ باری تعالی ہے: {فَإِذَا أَصَابَ بِهِ مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ إِذَا هُمْ يَسْتَبْشِرُونَ} پھر جب اللہ اپنے بندوں  میں سے جن پر چاہے بارش برسا دیتا ہے تو وہ خوش ہو جاتے ہیں۔  [الروم: 48]

اگر انسان پانی کی نعمت پر اللہ کا شکر ادا کرے تو یہ رضائے الہی کا موجب ہے، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (بیشک اللہ تعالی بندے کے اس عمل سے راضی ہوتا ہے کہ ایک لقمہ بھی کھائے تو الحمدللہ کہے ، یا پانی کا گھونٹ بھی پئے تو اس پر بھی الحمدللہ کہے)مسلم

اللہ تعالی نے پانی کو بے رنگ پیدا کیا، اس کا کوئی ذائقہ نہیں بنایا، بارش کے پانی کی بو نہیں ہوتی۔ ایک زمین پر ایک ہی پانی برستا ہے لیکن اس سے پیدا ہونے والے باغات  میں انگور، فصلوں، کھجوروں، کئی تنوں والے یا ایک تنے والے درخت ہوتے ہیں، ان میں سے ہر ایک کا ذائقہ دوسرے سے بڑھ کر ہوتا ہے، کچھ میٹھے تو کچھ کڑوے، کسی میں بیماری تو کوئی شفا کا باعث ہوتا ہے۔

پانی  کو ہر جگہ اور زمانے میں پانی ہی کہتے ہیں، پانی اللہ تعالی اتنی لطیف تخلیق ہے کہ انسان کے رگ  و پے میں شامل ہو جاتی ہے ، لیکن اتنی طاقتور بھی کہ وادیوں کو پاٹ دے، پہاڑوں کی چوٹیوں تک پہنچ جائے، پانی اللہ تعالی کی بہت عظیم مخلوق ہے اگر اللہ تعالی اسے عذاب بنا کر نازل کر دے تو اسے اللہ کے سوا کوئی رفع نہیں کر سکتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {قَالَ سَآوِي إِلَى جَبَلٍ يَعْصِمُنِي مِنَ الْمَاءِ قَالَ لَا عَاصِمَ الْيَوْمَ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ إِلَّا مَنْ رَحِمَ} [نوح کے بیٹے ]نے جواب دیا کہ میں تو کسی بڑے پہاڑ کی پناہ لے لوں گا جو مجھے پانی سے بچا لے گا (١) نوح نے کہا آج اللہ کے امر سے بچانے والا کوئی نہیں، صرف وہی بچیں گے جن پر اللہ کا رحم ہوا۔ [هود: 43]

پانی کے بے پناہ فوائد ہیں، بارش کا پانی پاک، میٹھا  اور مفید ہوتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَأَسْقَيْنَاكُمْ مَاءً فُرَاتًا } اور ہم نے تمہیں نہایت میٹھا پانی پلایا۔ [المرسلات: 27]

بارش کا پانی جسم اور دل کو پاک کرتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {إِذْ يُغَشِّيكُمُ النُّعَاسَ أَمَنَةً مِنْهُ وَيُنَزِّلُ عَلَيْكُمْ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً لِيُطَهِّرَكُمْ بِهِ وَيُذْهِبَ عَنْكُمْ رِجْزَ الشَّيْطَانِ} اس وقت کو یاد کرو جب اللہ تم پر اونگھ طاری کر رہا تھا اپنی طرف سے سکون دینے کے لئے  اور تم پر آسمان سے پانی برسا رہا تھا کہ اس پانی کے ذریعے سے تم کو پاک کر دے اور تم سے شیطانی وسوسے دفع کر دے۔ [الأنفال: 11]

اللہ تعالی نے پانی کو بابرکت بنایا  ہے چنانچہ معمولی  سے قطرے بھی زمین اور اہلیان زمین کی زندگی کو جلا بخشتے ہیں، اور وادیاں بہ پڑتی ہیں، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَنَزَّلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً مُبَارَكًا} اور ہم نے آسمان سے بابرکت پانی نازل فرمایا۔[ق: 9]

اسی پانی کے ذریعے اللہ تعالی تمام فصلوں کو پیدا فرماتا ہے، {فَأَخْرَجْنَا بِهِ مِنْ كُلِّ الثَّمَرَاتِ} پس ہم نے اس کے ذریعے تمام پھل پیدا کئے۔[الأعراف: 57]

اللہ تعالی نے وضو کے دوران پانی کو گناہ دھونے والا قرار دیا ، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (جب کوئی مسلمان یا مومن بندہ  وضو کرتے ہوئے اپنا چہرہ دھوئے  تو اس کے چہرے کے تمام گناہ پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ نکل جاتے ہیں جن کی جانب اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہوتا ہے۔) حتی کہ حدیث کے آخر میں ہے: ( یہاں تک کہ وہ گناہوں سے پاک صاف ہو جاتا ہے) مسلم

زمین پر بارش کا نزول  معین مقدار  میں ہوتا ہے جس میں بارش کے قطرے تک شمار ہوتے ہیں، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَالَّذِي نَزَّلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً بِقَدَرٍ} اور وہ ذات جس نے آسمان سے معینہ مقدار میں پانی نازل کیا۔[الزخرف: 11]  اس کی تفسیر میں ابن کثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں: "یعنی تمہاری فصلوں، پھلوں، تمہارے اور تمہارے جانوروں کے پینے  کیلیے جتنا ضروری ہے اتنا ہی پانی اللہ تعالی برساتا ہے"

نیز اللہ تعالی نے بارش کے پانی سے زمین پر ندیاں بھی چلائیں جنہیں لوگ سر عام دیکھتے ہیں تا کہ ان ندیوں کے چلنے سے اللہ کا کیا ہوا وعدہ پورا ہو، { فَسَالَتْ أَوْدِيَةٌ بِقَدَرِهَا فَاحْتَمَلَ السَّيْلُ زَبَدًا رَابِيًا} تو ندیاں اپنی اپنی کشادگی کے مطابق بہ نکلیں، پھر اس ریلے نے ابھرا ہوا جھاگ اٹھا لیا ۔[الرعد: 17] اور معینہ مقدار سے زیادہ پانی عذاب بن جاتا ہے۔

پانی اللہ تعالی کی انتہائی تعجب خیز نشانی ہے، زیر زمین اس کے راستے اللہ تعالی ہی جانتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: { أَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَسَلَكَهُ يَنَابِيعَ فِي الْأَرْضِ} اللہ نے آسمان سے پانی اتارا، پھر اسے چشموں کی صورت زمین میں چلایا ۔[الزمر: 21]

پینے کا  پانی پتھروں سے بھی نکلتا ہے، بلکہ کچھ تو ایسے بھی ہیں جن سے نہریں بہہ پڑتی ہیں، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَإِنَّ مِنَ الْحِجَارَةِ لَمَا يَتَفَجَّرُ مِنْهُ الْأَنْهَارُ وَإِنَّ مِنْهَا لَمَا يَشَّقَّقُ فَيَخْرُجُ مِنْهُ الْمَاءُ} پتھروں میں  سے تو کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ ان سے نہریں پھوٹ نکلتی ہیں۔ اور کچھ ایسے ہیں جو پھٹ جاتے ہیں تو ان سے پانی نکلنے لگتا ہے [البقرة: 74]

پانی انتہائی دل پذیر نعمت ہے اگر بارش کا نزول چٹیل زمین پر ہو تو اسے بھی دلکش منظر مل جاتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ أَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَتُصْبِحُ الْأَرْضُ مُخْضَرَّةً إِنَّ اللَّهَ لَطِيفٌ خَبِيرٌ} کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالی آسمان سے پانی برساتا ہے، پس زمین سر سبز ہو جاتی ہے، بیشک اللہ تعالی مہربان اور باخبر ہے۔ [الحج: 63]

یہ اللہ تعالی کی نعمتوں کا تسلسل ہے کہ اللہ تعالی نے بارش برسنے کے بعد پانی کو زمین میں محفوظ فرما دیا، تا کہ لوگ زیر زمین پانی کی موجودگی پر مطمئن رہیں، زیر زمین پانی وسیع ذخائر ہیں: {فَأَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَسْقَيْنَاكُمُوهُ وَمَا أَنْتُمْ لَهُ بِخَازِنِينَ} پھر آسمان سے پانی برسا کر اس سے تمہیں سیراب کرتے ہیں۔ اس پانی کا ذخیرہ رکھنے والے تم نہیں  ہو [الحجر: 22]

پانی کی نعمت  بڑی آسانی سے مل جاتی ہے، اللہ تعالی میٹھے پانی کو چٹانوں اور مٹی کے درمیان سے  نکالتا ہے، اگر مخلوق  اللہ تعالی کی نافرمانی پر اتر آئے تو انہیں پانی سے محروم کر دیتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: { قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَصْبَحَ مَاؤُكُمْ غَوْرًا فَمَنْ يَأْتِيكُمْ بِمَاءٍ مَعِينٍ} آپ کہہ دیجیے ! کہ اچھا یہ تو بتاؤ کہ اگر تمہارے (پینے کا) پانی زمین میں اتر جائے تو کون ہے جو تمہارے لئے نتھرا ہوا پانی لائے ؟ [الملك: 30]

تو جس طرح بارش کے چھوٹے چھوٹے قطرے لوگوں کے دلوں کو بھاتے ہیں یہ کبھی کبھار اللہ کے حکم سے عذاب بھی بن جاتے ہیں، چنانچہ اللہ تعالی نے  اسی پانی کے ذریعے ایسی اقوام کو بھی غرق کیا جنہوں نے اللہ سے رخ موڑا، بلکہ سابقہ امتوں میں سب سے پہلے عذاب ہی پانی کا آیا تھا، چنانچہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: {كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوحٍ فَكَذَّبُوا عَبْدَنَا وَقَالُوا مَجْنُونٌ وَازْدُجِرَ (9) فَدَعَا رَبَّهُ أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانْتَصِرْ (10) فَفَتَحْنَا أَبْوَابَ السَّمَاءِ بِمَاءٍ مُنْهَمِرٍ (11) وَفَجَّرْنَا الْأَرْضَ عُيُونًا فَالْتَقَى الْمَاءُ عَلَى أَمْرٍ قَدْ قُدِرَ } ان سے پہلے قوم نوح نے بھی ہمارے بندے کو جھٹلایا تھا اور دیوانہ بتلا کر جھڑک دیا گیا تھا  [9] تب انہوں نے اپنے رب سے دعا کی کہ میں بے بس ہوں تو میری مدد فرما [10] تب ہم نے موسلا دھار بارش سے آسمان کے دروازے کھول دیئے۔  [11] اور زمین کو پھاڑ کر ہم نے کئی چشمے بہا دیئے۔ (نیچے اور اوپر کا) پانی ایک ایسے کام  کے لئے مل گیا جو مقدر ہو چکا تھا۔   [القمر: 9 - 14]

اسی طرح فرعون نے موسی علیہ السلام پر تکبر کیا  اور اسی پانی پر  شیخی بگھارتے ہوئے  کہا: {أَلَيْسَ لِي مُلْكُ مِصْرَ وَهَذِهِ الْأَنْهَارُ تَجْرِي} کیا میں مصر کا بادشاہ نہیں! اور یہ میرے نیچے سے نہریں نہیں بہہ رہیں؟ [الزخرف: 51] تو اللہ تعالی نے اسی پانی میں اسے ڈبو کر غرق کیا تا کہ دوسروں کے لیے نشان عبرت بن جائے، فرمانِ باری تعالی ہے: {حَتَّى إِذَا أَدْرَكَهُ الْغَرَقُ قَالَ آمَنْتُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا الَّذِي آمَنَتْ بِهِ بَنُو إِسْرَائِيلَ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ} حتی کہ جب فرعون ڈوبنے لگا تو بولا : میں اس بات پر ایمان  لاتا ہوں کہ "معبود صرف وہی ہے جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں اور میں اس کا فرمانبردار ہوتا ہوں " [يونس: 90]

اللہ تعالی نے اسی پانی کو قوم سبا پر بھی بہت بڑا سیلاب بنا دیا؛ کیونکہ انہوں نے اللہ تعالی کی نعمتوں کی ناشکری کی ، تو اللہ تعالی نے ان کا شیرازہ بکھیر کر دکھ دیا، فرمانِ باری تعالی ہے: {فَأَعْرَضُوا فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ سَيْلَ الْعَرِمِ وَبَدَّلْنَاهُمْ بِجَنَّتَيْهِمْ جَنَّتَيْنِ ذَوَاتَيْ أُكُلٍ خَمْطٍ وَأَثْلٍ وَشَيْءٍ مِنْ سِدْرٍ قَلِيلٍ} مگر ان لوگوں نے رو گردانی کی تو ہم نے ان پر زور کا سیلاب چھوڑ دیا۔ اور ان کے دونوں باغوں کو دو ایسے باغوں میں بدل دیا جن کے میوے بد مزہ تھے اور ان میں کچھ پیلو کے درخت تھے کچھ جھاؤ کے اور تھوڑی سی بیریاں  تھیں۔  [سبأ: 16]

اللہ تعالی نے اسی پانی کو غزوہ بدر میں مومنوں کے لیے فتح کا باعث بنایا، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {إِذْ يُغَشِّيكُمُ النُّعَاسَ أَمَنَةً مِنْهُ وَيُنَزِّلُ عَلَيْكُمْ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً لِيُطَهِّرَكُمْ بِهِ وَيُذْهِبَ عَنْكُمْ رِجْزَ الشَّيْطَانِ وَلِيَرْبِطَ عَلَى قُلُوبِكُمْ وَيُثَبِّتَ بِهِ الْأَقْدَامَ} اور (وہ وقت یاد کرو) جب اللہ نے اپنی طرف سے تمہارا خوف دور کرنے کے لئے تم پر غنودگی طاری کر دی اور آسمان سے تم پر بارش برسا دی تاکہ تمہیں پاک کر دے، اور شیطان کی (ڈالی ہوئی) نجاست تم سے دور کر دے، اور تمہارے دلوں کو مضبوط کر دے اور تمہارے قدم جما دے [الأنفال: 11]

پانی ایسی نعمت ہے کہ جسے دیکھ کر جنت میں بھی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی، فرمانِ باری تعالی ہے: {فِيهَا أَنْهَارٌ مِنْ مَاءٍ غَيْرِ آسِنٍ} اس میں پانی کی نہریں ہیں جو بد بو والا نہیں [محمد: 15]

جہنم میں جہنمی بھی پانی طلب کریں گے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَنَادَى أَصْحَابُ النَّارِ أَصْحَابَ الْجَنَّةِ أَنْ أَفِيضُوا عَلَيْنَا مِنَ الْمَاءِ أَوْ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّهُ } اور دوزخ والے جنت والوں کو پکاریں گے کہ ہمارے اوپر تھوڑا پانی ہی ڈال دو، یا اور ہی کچھ دے دو جو اللہ نے تم کو دے رکھا ہے ۔[الأعراف: 50]

ان تمام تر تفصیلات کے بعد: مسلمانو!

پانی اللہ تعالی کی نشانیوں میں سے ہے اور اللہ تعالی پر ایمان لانا اس نشانی کا تقاضا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ} اور ہم نے پانی سے ہر چیز زندہ بنائی۔ [الأنبياء: 30]

یہ اللہ تعالی کی واضح ترین نشانی ہے، کسی کو بھی اس میں اختلاف نہیں ہے کہ پانی اللہ کی طرف سے ہے، کوئی بھی اللہ کے سوا کسی کو پانی کا خالق نہیں سمجھتا، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَلَئِنْ سَأَلْتَهُمْ مَنْ نَزَّلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَحْيَا بِهِ الْأَرْضَ مِنْ بَعْدِ مَوْتِهَا لَيَقُولُنَّ اللَّهُ} اور اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمان سے پانی کس نے برسایا پھر اس پانی سے مردہ پڑی ہوئی زمین کو زندہ کس نے کیا ؟ تو ضرور کہیں گے کہ "اللہ نے "[العنكبوت: 63]

پانی اللہ تعالی کی طرف سے عظیم احسان ہے، جو کہ ہر وقت اور ہر جگہ ہمارے ساتھ ہوتا ہے، اس لیے ہمیں اس نعمت کا شکر ادا کرنا چاہیے اور اس کے خالق  کی اطاعت گزاری کرنی چاہیے، نیز اللہ تعالی کی اس عنایت پر گھمنڈ میں نہ رہیں ،  پانی کے استعمال میں اسراف سے بچیں، اور اپنی آخرت سنوارنے کے لیے اسے استعمال میں لائیں۔

أَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ: {فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا (10) يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُمْ مِدْرَارًا} پھر میں [نوح]نے ان سے کہا: تم اپنے پروردگار سے بخشش مانگو، بیشک وہ بخشنے والا ہے۔ [10] وہ تم پر موسلا دھار بارش نازل فرمائے گا۔ [نوح: 10-11]

اللہ تعالی میرے اور آپ سب کیلیے قرآن مجید کو خیر و برکت والا بنائے، مجھے اور آپ سب کو ذکرِ حکیم کی آیات سے مستفید ہونے کی توفیق دے، میں اپنی بات کو اسی پر ختم کرتے ہوئے اللہ سے اپنے اور تمام مسلمانوں کے گناہوں کی  بخشش چاہتا ہوں، تم بھی اسی سے بخشش مانگو، بیشک وہی بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

دوسرا خطبہ

تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں کہ اس نے ہم پر احسان کیا ، اسی کے شکر گزار بھی ہیں کہ اس نے ہمیں نیکی کی توفیق دی، میں اس کی عظمت اور شان کا اقرار کرتے ہوئے گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود بر حق نہیں وہ یکتا اور اکیلا ہے ، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد  اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، اللہ تعالی ان پر ، ان کی آل اور  صحابہ کرام پر ڈھیروں رحمتیں ،سلامتی اور برکتیں نازل فرمائے۔

مسلمانو!

اللہ تعالی نے اپنے نیک اور بد تمام لوگوں کو روزی دینے کا وعدہ کیا ہوا ہے   {وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا} دھرتی پر کوئی بھی چوپایہ ہے اس کا رزق اللہ پر ہے۔[هود: 6]

اللہ تعالی کی اطاعت اور اسی کی جانب توبہ کرنے سے آسمان اور زمین اپنی اپنی برکتوں اور خزانوں کے دروازے کھول دیتے ہیں، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْقُرَى آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَرَكَاتٍ مِنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ} اور اگر بستی والے ایمان لاتے اور متقی بنتے تو ہم ان پر آسمان و زمین سے برکتیں کھول دیتے ۔[الأعراف: 96]

شکر نعمتوں کو تحفظ دیتا ہے بلکہ ان میں اضافے کا باعث بھی بنتا ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ وَلَئِنْ كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ} اور جب تمہارے رب نے اعلان کیا تھا : اگر تم شکر کرو گے تو تمہیں اور زیادہ دوں گا اور اگر ناشکری کرو گے تو پھر میرا  عذاب بھی بڑا سخت ہے ۔[ابراہیم: 7]

یہ بات جان لو کہ اللہ تعالی نے تمہیں اپنے نبی پر درود و سلام پڑھنے کا حکم دیا اور  فرمایا: {إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا} اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام  بھیجا  کرو۔ [الأحزاب: 56]

اللهم صل وسلم وبارك على نبينا محمد ،یا اللہ! حق اور انصاف کے ساتھ فیصلے  کرنے والے خلفائے راشدین:  ابو بکر ، عمر، عثمان، علی سمیت  بقیہ تمام صحابہ سے راضی ہو جا؛ یا اللہ !اپنے رحم و کرم اور جو د و سخا کے صدقے ہم سے بھی راضی ہو جا، یا اکرم الاکرمین!

یا  اللہ !اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، شرک اور مشرکوں کو ذلیل فرما، یا اللہ !دین کے دشمنوں کو نیست و نابود فرما،  یا اللہ! اس ملک کو اور مسلمانوں کے تمام ممالک کو خوشحال اور امن کا گہوارہ بنا دے۔

یا اللہ! پوری دنیا میں مسلمانوں کے حالات سنوار دے، یا اللہ! مسلمانوں کے تمام ممالک کو خوشحال اور امن کا گہوارہ بنا دے۔

یا اللہ! ہمیں دنیا  اور آخرت میں بھلائی عطا فرما، اور ہمیں آخرت کے عذاب سے محفوظ فرما۔

یا اللہ! تو ہی معبود حقیقی ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو ہی غنی ہے ہم فقیر ہیں، ہمیں بارش عطا فرما اور ہمیں مایوس مت فرما، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما۔

یا اللہ! ہم نے اپنی جانوں پر بہت ظلم کیا  اگر تو ہمیں نہ بخشے اور ہم پر رحم نہ کرے تو ہم خسارہ پانے والے بن جائیں گے۔

یا اللہ! ہمارے حکمران کو تیری رہنمائی کے مطابق توفیق عطا فرما، اور ان کے سارے اعمال تیری رضا کیلیے مختص فرما، یا اللہ! تمام مسلم  حکمرانوں کو تیری کتاب پر عمل کرنے اور نفاذِ شریعت  کی توفیق عطا فرما، یا ذالجلال والا کرام!

یا اللہ! ہماری فوج کی مدد فرما، انہیں ثابت قدم بنا، ان کی تمام تر کاروائیاں  اپنے رضا کے خاص فرما، یا اللہ! ہمارے ملک کی ہمہ قسم کی منفی سرگرمیوں سے حفاظت فرما، یا قوی! یا عزیز!

اللہ کے بندو!

{إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ} اللہ تعالی تمہیں عدل، احسان اور قرابت داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی، برے کام اور سرکشی سے  منع کرتا ہے۔ وہ تمہیں وعظ کرتا ہے تا کہ تم نصیحت پکڑو۔ [النحل: 90]

تم عظمت والے جلیل القدر اللہ کا ذکر کرو تو وہ بھی تمہیں یاد رکھے گا، اللہ تعالی کی نعمتوں کا شکر ادا کرو تو وہ  تمہیں اور زیادہ دے گا، یقیناً اللہ کا ذکر بہت بڑی عبادت ہے ، تم جو بھی کرتے ہو اللہ تعالی جانتا ہے ۔

پی ڈی ایف فارمیٹ سے پرنٹ یا ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے کلک کریں۔

Comments

شفقت الرحمن مغل

شفقت الرحمن مغل

شفقت الرحمن جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں ایم ایس تفسیر کے طالب علم ہیں اور مسجد نبوی ﷺ کے خطبات کا ترجمہ اردو دان طبقے تک پہنچانا ان کا مشن ہے. ان کے توسط سے دلیل کے قارئین ہر خطبہ جمعہ کا ترجمہ دلیل پر پڑھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں