بے مثال شوہر نامدار - عرفان الحق

میں ایک آئیڈیل قسم کا شوہر ہوں۔ نہیں جی میں اپنے منہ میاں مٹھو نہیں بن رہا ہوں بلکہ جو حقیقت ہے وہی بیان کر رہا ہوں اور یہ بات صرف میں نہیں کہتا بلکہ میری جان سے پیاری بیوی اور میرے ملنسار سسرالی رشتہ دار بھی میری اس خاصیت کونہ صرف تسلیم کرتے ہیں بلکہ سراہتے بھی ہیں۔ باقی جو میرے اپنے رشتہ دارمیرے بارے میں کہتے ہیں اس کا ذکر کرنے کی یہاں کوئی ضرورت نہیں ہے۔ مجھے پوری طرح اندازہ ہے ہر اس مشکل کا جس سے میری اکلوتی بیوی گزرتی ہے اور ہر اس مشکل کا حل نکالنا میں اپنا اولین فرض سمجھتا ہوں۔

شادی کے فوراً بعد مجھے اندازہ ہوگیا کہ میری حسین بیگم کے لیے اپنے گھر سے دور رہنا انتہائی دکھ کی بات ہے۔ اگر چہ میری بیگم نے کبھی اس خواہش کا اظہار دبے لفظوں میں بھی نہیں کیا تھا پر میں اس کے اماں کے گھر سے واپسی پر اس کا چہرہ دیکھا کرتا تھا۔ جہاں مجھے اکثر غم کی پرچھائیاں دِکھا کرتی تھی۔ جیسے اس کا میرے ساتھ واپس جانے کا موڈ نہیں ہے۔ وہ وہیں اپنی اماں کے گود میں سر رکھ کے لیٹنا چاہتی ہے۔ اپنے باپ بھائی کہ کاندھوں پر جھول کہ اپنی بات منوانا چاہتی ہے۔ اپنی بہن سے محبت بھری نوک جھونک میں مشغول رہنا چاہتی ہے۔ آپ خود اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ جہاں اوہں نے اپنا حسین بچپن گزارا، اپنی سکھیو ں کے سنگ جس آنگن میں کھیلا، اسے چھوڑ کر آنا ان کی حسین آنکھوں میں آنکھوں میں آنسو لانے کا باعث بنتا ہوگا یا نہیں؟ اس بات کا اندازہ ہونا تھا کہ میں بے چین ہوگیا کہ کیا کروں کہ میری بیوی کو سکون ملے؟

پہلے پہل میں نے سوچا کہ چلو سسرال چل کے رہا جائے۔ ساتھ رہیں گے تو سسرال والوں سے اچھے تعلقات اور اچھے بلکہ خوشگوار حد تک اچھے ہوجائیں گے۔ مگر پھر ایک دم سے ابا مرحوم کا جلالی رخسار مبارک ان کے مشہور زمانہ قول کے ساتھ یاد آگیا۔ مرحوم فرمایا کرتے تھے سسرال میں رہتے داماد اور گلی میں پھرتے کتے میں سے میں کتے کو زیادہ قابل احترام اور با عزت سمجھتا ہوں۔ مرحوم کے خیالات اتنے شدت پسندانہ تھے کہ پورے 40 سالہ ازدواجی کیرئیر میں مجال ہے جو کبھی کسی سسرالی رشتہ دار سے سیدھے منہ بات کی ہو۔ ان کا ریکارڈ تھا کہ اپنی زندگی کے آخری ایام تک سسرال کے نمک کے ذائقے سے بھی اپنی زبان کو محروم رکھا۔ وہ تو ٓآخری ایام علالت میں ہماری نانی مرحومہ اللہ انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے ابّا کے لیے یخنی بنا کے لے آتی تھی اور خدا رسول کا واسطہ دے کر انہیں کسی نہ کسی طرح پلا دیا کرتی تھیں۔ ابا مرحوم کے ان خیالات کے باوجود میں ذاتی طور پر تو سسرال میں رہنے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتا ہوں مگر قبر میں موجود ابا محترم کے جسد خاکی کی بےچینی کے خیال سے اس خیال کو اپنے ذہن سے نکال دیا۔

یہ بھی پڑھیں:   کام بھی آدھا بانٹو اور کمائی بھی - ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

آپ سب یقیناً اس بات پر حیران ہوں گے کہ ایک ایسے سخت مزاج باپ کا بیٹا اس قدر درد دل رکھنے والا کیسا ہوسکتا ہے؟ بس جیسے فرعون کے گھر موسیٰؑ پروان چڑھے تھے ویسے ہی اپنے ابا جی اور ان کی حد سے بڑھی خاندانی ناک کو کاٹنے کا فریضہ میرے رب نے میرے ہاتھوں لکھا تھا۔ میں نے شدت سے اپنی ماں کے وہ غم محسوس کیے تھے جو ابا جی کی بے اعتنائی اور ان کی سختی نے ان کو پہنچائے تھے۔ یہ بات نہ تھی کے ابو نے کبھی اپنے فرائض کی ادائیگی میں کبھی کوتاہی کی ہو، بس انہوں نے اماں سے تعلق ہمیشہ فرض کی طرح ہی نبھایا۔ اماں کی لاکھ کوششوں کے با وجود اس تعلق میں کبھی محبت شامل نہیں ہوسکی تھی۔ ابا جی کے بقول بیوی جتنی بھی اچھی ہو، ہوتی پاؤں کی جوتی ہی ہے۔ اسے اس کی اوقات میں رکھنے میں ہی بھلائی ہے ۔

اپنی اماں کی زندگی بھر کی محرومی نے میری شخصیت پر گہرا اثر ڈالا تھا۔ جوانی میں قدم رکھتے ہی میں نے اپنے آپ سے یہ وعدہ کیا کہ میں اپنی بیوی کو دنیا بھر کی خوشیاں اور سکون دینے کے لیے ہمارے تعلق کی بنیاد پیار اور محبت پر رکھوں گا۔

یہی مقصد ذہن میں رکھتے ہوئے میں یہ مسئلہ حل کرنا چاہتا تھا۔ میں نے سوچا سسرال نہیں جا سکتے توکیا ہوا؟ چلو سسرال کے پاس چل کر رہتے ہیں۔ اپنا گھر بھی کوچۂ ساس میں بنا لیتے ہیں تاکہ بیگم ہماری جب بھی اپنی اماں ابا کی شفقت اور بہن بھائیوں کی بے لوث محبت سے خود کو محروم محسوس کرے تو بنا کسی مشکل کے اپنی اماں کی آغوش میں جا کر قلبی سکون پا سکے۔ مگر اس خیال کے ساتھ ہی میری پانچ عدد شادی شدہ بہنوں کے مسکین چہرے میری نظر کے سامنے باری باری گھوم گئے۔ جو اماں ابا کے جانے کے بعد سے جب بھی گھر آتیں، گھر کا کوئی نہ کوئی کونہ پکڑ کر روتی پائی جاتیں۔گھر کی ہر منڈیر ہر چوکھٹ سے انہیں اماں ابا کی خوشبو آتی تھی۔ اس گھر سے ان کی جذباتی وابستگی نے مجھے اس کام سے بھی باز رکھا۔

یہ بھی پڑھیں:   "ظالم" بیویاں - ابوبکر قدوسی

اب یہ مسئلہ میرے حواسوں پر حاوی ہوچکا تھا۔ میں کسی بھی حال میں اس کا حل نکال کر اپنی بیوی کی نظروں میں تشکر کے جذبات دیکھنا چاہتا تھا۔ میں اٹھتے بیٹھتے کھاتے پیتے اسی مسئلہ پر غور و فکر کرنے لگا۔ ہر صورت اپنی بیگم کی نظر میں سرخرو ہونا میرامقصدبن گیا۔ پریشانی اتنی بڑھی کہ اس نیک بخت کی نظروں سے بھی چھپ نہ سکی۔ کہنے لگی سرتاج آپ آج کل کافی پریشان لگ رہے ہیں؟ خیریت تو ہے نا؟ اگر کوئی پریشانی ہے تو مجھے بتائیے۔ میں اسے دور کرنے کی ہرممکن کوشش کروں گی۔ پہلے پہل تو میں نے اسے ٹالنے کی کوشش کی کہ میں اپنی پریشانی کیوں اس تک منتقل کروں، کیوں خوامخواہ اس کی پریشانی کا با عث بنوں؟ مگر اس کے بے حد اصرارنے مجھے زیادہ دیر تک خاموش نہ رہنے دیااور میں نے اپنی ساری سوچ، ساری پریشانی اس کے گوش گزار کردی۔ وجہ کا سننا تھا کہ ایک زوردارقہقہہ اس کے حلق سے برآمد ہوا، وہ اتنا ہنسی کہ اس کے آنکھوں میں آنسوں کے موتی چمکنے لگے۔

جب ہنستے ہنستے تھک گئی تو محترمہ بولیں سرتاج ایک وعدہ کریں آپ کبھی بدلیں گے نہیں۔ ہمیشہ ایسے ہی میری فکر کریں گے۔ ایسے ہی میرے چین اور سکون کیے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔

میں نے کہا ہاں میری جان! نہیں بدلوں گا مگر مجھے تو بتاؤ ایسا کیا لطیفہ سنا دیا میں نے جو تم اتنا دل کھول کر ہنسی ہو؟

"لطیفہ ہی تو سنایا ہے آپ نے،" بیگم اپنے ہاتھوں میں میرا ہاتھ تھام کر بولیں۔ "کسی بیٹی کو ماں کا گھر بس تب تک اچھا لگتا ہے جب تک اس کا اپنا گھر نہیں ہوتا۔ جب اپنے پیا کے سنگ وہ اس دہلیز کو پار کرلیتی ہے، پھر بس اپنی ماں کے گھر میں اس کی حیثیت ایک مہمان سی رہ جاتی ہے۔ ایک ایسا مہمان جس کی خوب آؤ بھگت تو کی جاتی ہے مگر کبھی گھر کا فرد نہیں سمجھا جاتا۔ اس کا اپنا گھر بسا رہے بس یہ دعا کی جاتی ہے اور جہاں تک میرے افسردہ ہونے کی بات ہے تو ہاں وقتی طور پر دل چاہتا ہے کہ کچھ اور وقت اپنے والدین کے گھر گزار لوں مگر سکون اپنے گھر آ کر ہی ملتا ہے۔ یہ میرا گھر اور آپ جیسے پیار کرنے والے شوہر کا ساتھ ہی میری جنت ہے جسے مجھے ہمیشہ قائم رکھنا ہے۔ "

یہ سنتے ہی مجھے ایسا لگا جیسے میں مکمل ہوگیا ہوں۔

ٹیگز