"سیکولرزم کیا ہے؟ " کا جواب - ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

معروف لبرل دانشور جناب وجاہت مسعود صاحب نے کچھ عرصہ پہلے "سیکولرزم کیا ہے؟" کے عنوان سے پانچ قسطوں میں سلسلہ وار ایک مضمون لکھا۔ انہوں نے قارئین کو اس پر لکھنے کی دعوت دی تھی۔ فکری موضوعات خاص طور پر راقم کی دل چسپی کی چیز ہیں، اس ضمن میں اس مضمون’’ سیکولرزم کیا ہے؟‘‘ کی پانچوں قسطیں دل چسپی اور غور سے پڑھیں۔ اس مضمون کوپڑھ کر ذہن میں جو سوالات پیدا ہوئے وہ "دلیل" کے قارئین کے سامنے رکھے جارہے ہیں۔

پہلی چیز تو یہ ہے کہ مصنف نے عنوان سیکولرزم کا لگایا ہے مگر عملاً مضمون کی تمام قسطوں میں سیکولر ریاست کی تفصیل و تشریح کی ہے۔ سیکولرزم اور سیکولر ریاست میں فرق ہے جیسے کہ اسلام اور اسلامی ریاست میں فرق ہوتا ہے۔ منطقی طور پر ان کو پہلے سیکولرزم کے تاریخی پس منظر، نظریاتی اساس اور اس کے جواز پر روشنی ڈالنی تھی اس کے بعد سیکولر ریاست کے خط وخال زیر بحث آتے تو بات مربوط ہوتی۔ اب اس میں ایک طرح کا ابہام در آیا ہے۔ محترم نے اپنے گہر بار قلم سے سیکولر ریاست کی بڑی خوبصورت اور دل فریب تصویر کھینچ دی ہے، بالکل جنت ارضی کا سماں باندھ دیا ہے۔ ایسی ریاست واقع میں دنیا میں وجود میں آجائے تو ہر آدمی پکار اٹھے کہ جا اینجا ست۔

راقم کا دوسرا اشکال ہے کہ سیکولر ریاست ہی کیوں؟ جدید اسلامی ریاست کیوں نہیں؟ وہ فرماتے ہیں: ’’سیکولر ریاست اپنے شہریوں کے پیٹ میں غذا، بدن پر لباس اور سر پر چھت فراہم کرنے کی ذمہ داری اٹھاتی ہے۔ ان کے لیے مناسب روزگار اور مناسب تفریحات کی فراہمی ریاست کی ذمہ دار ہے‘‘۔ یہاں ایک چیزجناب فراموش کر رہے ہیں۔ انسانی زندگی کا ایک اہم پہلو روحانیت بھی ہے جس کی تکمیل مذہب کرتا ہے اگر ریاست صرف’’ روٹی کپڑا اور مکان‘‘ تک محدود ہو کر رہ جائے تو عمل کی دنیا میں وہ یا تو مذہب دشمنی پر اتر آتی ہے یاکسی ایک مذہب کو بڑھانے اور دوسرے مذاہب کو دبانے کا کام کرتی ہے۔

اگرچہ دعویٰ اس کا یہی ہو کہ وہ ’’اپنے شہریوں کے عقائد میں مداخلت نہیں کرتی‘‘ سوویت یونین، چین اور خود انڈیا کی مثالیں سامنے ہیں۔ وجاہت صاحب لکھتے ہیں کہ ’’جہاں تک مذہب کا تعلق ہے، سیکولر ریاست کا ایک ہی فرض ہے کہ مذہبی عقائد کے اختلاف میں الجھے بغیر تمام شہریوں کے اس حق کا تحفظ کرے کہ وہ جو چاہیں عقیدہ اختیارکریں‘‘ میں عرض کروں گا کہ ایک جدید ترقی یافتہ اسلامی ریاست بھی یہ امر ملحوظ رکھے گی جس کی مثال میں خلافت راشدہ کو پیش کیا جا سکتا ہے۔

سیکولر ریاست کی جو تفصیل مصنف نے پیش کی ہے، مجھے تسلیم ہے کہ مغربی دنیا نے اس آدرش کو حاصل کرنے کی بڑی جدوجہد کی ہے اور کافی کامیابی حاصل کی ہے۔ تاہم ایسا نہیں ہے کہ ان کے سارے مسائل اس سے حل ہوگئے ہوں۔جہاں سیکولر ریاست نے بہت سے مسائل حل کیے ہیں وہیں بہت سے نئے مسائل پیدا بھی کیے ہیں۔ مثال کے طور پر وہاں بھی دائیں بازو کی قوتیں ابھر رہی ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ جیسے سرپھرے جمہوری و سیکولر اداروں کو استعمال کرکے وہائٹ ہاؤس تک پہنچ گئے۔ نسلی اختلافات اور علیحدگی کی تحریکیں اٹھ رہی ہیں۔ امیر و غریب میں فرق گہرا ہوتا جارہا ہے، معاشی استحصال وہاں بھی ہے۔ تیسری دنیاکے ملکوں کو یہ سیکولر قوتیں کس طرح لوٹتی ہیں جان پلگر نے Economic Hitmen (معاشی رہزن) میں اس کی تفصیل بیان کردی ہے۔ سیکو لراور جمہوری مغرب مشرق وسطی اور مسلم دنیا میں آمریت و بادشاہت کو مسلسل سپورٹ کر رہا ہے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اسی سیکولر مغرب نے اتنا مہلک اسلحہ بنا ڈالا ہے کہ چشم زدن میں دنیا کو ہلاک کیا جاسکتا ہے۔ روس کے پاس 8 ہزار نیوکلیئر بم ہیں، امریکہ کے پاس5 ہزار، اسرائیل کے پاس 80 اور جرمنی و فرانس کے پاس بھی بھاری تعداد میں دنیا کو چشم زدن میں برباد کرنے والے یہ ہتھیار موجود ہیں۔ ہائیڈروجن بم ان کے علاوہ ہیں جو ایٹم بم سے زیادہ خطرناک ہیں۔ پھر آج کے سیکولر جمہوری مغرب کا مشینی تمدن ماحولیات کو شدید نقصان پہنچارہا ہے، گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج، ایٹمی تابکاری کے مضر اثرات اور فضائی آلودگی نے لائف سپورٹ سسٹم کو تباہ کرنا شروع کردیا ہے۔ نیز، یہی سیکولر اور جمہوری طاقتیں تیسری دنیا کے ممالک کو مہلک اسلحہ بیچتی ہیں۔

پھر مغرب میں خاندان کا ادارہ زوال پذیر ہوا ہے۔ کچھ غیر اخلاقی رویّوں کو قانونی جواز مل گیا ہے وغیرہ۔ آج مغربی دنیامیں چند سو یا چند ہزار افرادکی اقلیت ہے جس کے ہاتھ میں پوری دنیاکا معاشی کنٹرول ہے اور دنیا بھر کے معاشی وسائل کی اجارہ دار یہی اقلیت ہے جو سیکولر اور جمہوری ہے۔

دور کیوں جائیں؟ اپنے پڑوسی انڈیا کو دیکھ لیں۔ میں انڈیا میں رہتا ہوں جس نے آزادی کے بعد علی الاعلان سیکولر جمہوریت کا راستہ اختیار کیا تھا اور اس میں شک نہیں کہ اس سیکولر جمہوریت سے ملک آگے بڑھا ہے، سیاسی استحکام حاصل ہوا۔ کم سے کم یہ کہ مذہب کے نام پر بننے والے پاکستان کی طرح دولخت ہونے سے بچارہا ہے۔ ہند کے سیکولر جمہوری آئین میں تما م شہریوں کے حقوق برابر ہیں۔ لیکن یہاں کوئی مسلمان کبھی ملک کا وزیراعظم نہیں بن سکتا۔ (یہ غیرآئینی اور غیر دستوری فیصلہ ملک کی اکثریت کا طے کردہ ہے،کہیں لکھا ہوا نہیں )۔ اسی سیکولر و جمہوری ملک میں آج ہم مسلمان ملک کے دوسرے درجہ کے شہری بنا کر رکھ دیے گئے ہیں۔ گجرات میں چند سال پہلے دوہزار نہتے مسلمان اکثریتی فسادیوں نے پولیس اور انتظامیہ کی ملی بھگت سے زندہ جلادیے مگر سیکولر عدالتیں کسی مجرم کو سزا نہ دے سکیں۔ سب سے بڑا مجرم (اُس وقت گجرات کا وزیراعلیٰ) آج اسی سیکولر ملک کے سیکولر اور جمہوری اداروں کو استعمال کرکے ملک کا وزیراعظم بنا ہوا ہے۔ سیکولر او رجمہوریت کا استعمال کرکے میڈیا پر فسطائیت نے کنٹرول کرلیا ہے۔ ملک کی تاریخ بدلی جا رہی ہے۔ ملک میں مخالف ادیبوں اور دانشوروں کو مارا جارہا ہے۔ دلت اورغریب رسوا ہیں۔ گائے ماتا کے نام پر معصوموں کے خون سے ہولی کھیلی جارہی ہے اور جمہوری و سیکولر ادارے تماشا دیکھ رہے ہیں۔ سیکولر اور جمہوری ریاست میں ملک کی سب سے بڑی ریاست کا وزیراعلیٰ ایک ’’یوگی‘‘ ہے جو رات دن اپنے عمل سے سیکولرزم کو منہ چڑاتا ہے۔ اسی سیکولر و جمہوری ریاست میں بابری مسجد اکثریت کے غنڈوں نے ڈھا دی مگر ملک کا سیکولر اور جمہوری قانون اپاہج بن کر رہ گیا۔ ملک کی سیکولر آرمی اجودھیا کے شہر میں مسجد سے ذرا سے فاصلہ پر موجود تھی مگر مسجد کو بچا نہ سکی۔

یہ بھی پڑھیں:   مذہبی ہم آہنگی کے نام پر سیکولرازم کا منجن - محمد سعد

میں مانتا ہوں کہ آزادی کے بعد سے ہم مسلمانوں سے بھی ہمالیائی غلطیاں ہوئی ہیں، مگر سیکولر اور جمہوری ریاست نے کہاں اپنا فرض ادا کیا؟ مسئلہ صر ف مسلمانوں کا نہیں بلکہ ہندوستان کے 85 فیصد غیر برہمن لوگوں کو 15 فیصد برہمنوں نے سیکولر اور جمہوری اداروں کے ذریعے ہی کنٹرول کرکے اپناغلام بنانے کی تیاریاں کر رکھی ہیں۔ اصولی طور پر ہم سیکولر اور جمہوری ریاست کے مخالف نہیں کیونکہ انڈیا میں ہمیں جو بھیspace ملا ہوا ہے وہ اسی کی وجہ سے ہے۔ ہمارا مدعا صرف اتنا ہے کہ یہ دنیا آئڈیل دنیا نہیں ہے، یہاں کوئی بھی نظام آئڈیل نہیں ہوسکتا، نہ سیکولر نہ نام نہاد اسلامی۔ کوئی اسلام پسند ادیب و دانشور بھی اپنے موئے قلم سے اسلامی نظام کی ایسی ہی دل فریب تصویر کشی کرسکتا ہے، جبکہ اس کے پاس خلافت راشدہ کا (آخری چند سالوں کو چھوڑ کر ) ایک عملی مثال بھی موجود ہے جس کو تاریخ نے مجسم دیکھا ہے۔

اصل سوال عملیت کا ہے۔ ریاست سیکولر ہو یا اسلامی دونوں کے اپنے Merits اور Demerits ہوتے ہیں۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ سیکولرزم کی ایک تعبیر انتہا پسندانہ ہے اور جو اپنی نہادمیں کسی مذہب و روحانی نظام کے لیے کوئی جگہ نہیں چھوڑتی۔ مسلمان اپنی دینی فکر اور مسلمات کے ساتھ سیکولرزم کی اُس تعبیر کو قبول نہیں کرسکتے، البتہ انڈیااور امریکہ جیسے ملکوں میں ہم سیکولرزم کی اُس تعبیر کو مانتے ہیں جو مذہب مخالف نہیں ہے۔ ظاہر ہے کہ کسی بھی نظام فکر کی طرح سیکولرزم کی بھی مختلف تشریحات و تعبیرات ہیں۔ ہمارے قدامت پسند مفکرین سیکولرز م کو ایک حتمی اور جامد فکر تصور کرکے اس پر جارحانہ تنقید کر تے ہیں اور اس کی بنیاد پر مغرب سے مکالمہ کی بھی کوئی گنجائش قبول نہیں فرماتے۔

اصل میں غلطی وجاہت مسعودجیسے لبرل حضرات کی نہیں، موجودہ زمانہ میں مسلمانوں نے جو بھی عملی نمونے ’’اسلامی ریاست‘‘ کے پیش کیے ہیں وہ سعود ی عرب کی بادشاہت، طالبان کی مسلکی سخت گیری اور دولت اسلامیہ یا داعش کی دہشت گردی کے ہیں۔ مؤخر الذکر کو چھوڑ کر ہماری مذہبی قوتیں کسی نہ کسی طور پر ان کی حامی ہیں۔ تاہم ہمیں یہ کہنے میں ذرا بھی پس و پیش نہیں کہ یہ ’’سخت گیر اسلام‘‘حقیقی اسلام نہیں بلکہ اس کی انتہاپسندانہ تعبیروں کا شاخسانہ ہے۔ جہاں تک پاکستان میں سیکولرسٹوں اور اسلامسٹوں کی کشمکش یا قدامت پسنداور لبرل قوتوں کی کشاکش کی بات ہے تومیں اس کو بالکل دوسرے تناظر میں دیکھتا ہوں۔ خاکسار کا خیال ہے کہ قائداعظم کا تصور ریاست ایک جدید جمہوری اسلامی ماڈل ریاست بنانے کا تھا۔ اس جدید ماڈرن ریاست کا دستور قرآن و سنت پر مبنی ہونا تھا (مگر وہ ایسی تھیوکریسی نہ ہوتی جس کی تبلیغ ہمارے مختلف رنگ کے مذہبی حلقے کرتے ہیں جس میں وہ آج بھی لونڈی غلاموں سے تمتع فرما سکیں، دوسرے مذاہب والوں کو دوسرے درجے کا شہری بنا کر ان سے جزیہ لیں وغیرہ ) قائد کے بیانات عمومی اور کسی قدر مبہم ہیں مگر ان کے پالیسی اسٹیٹمینٹ کی روح کہتی ہے کہ اس کے خط وخال موجودہ پاکستان سے یکسر مختلف ہوتے جہاں خادم رضوی جیسے لوگ اہانت رسول کی غلط تعبیر کرکے تاجدار ختم نبوت بن جاتے ہیں یا ممتاز قادر ی جیسے قاتل شہیدِ ناموس رسالت کا درجہ پالیتے ہیں، جہاں کی سول سوسائٹی اور تقریباً سارا میڈیا مذہبی جنونیوں سے خوف زدہ اور انہی کی بولی بولتا ہے اور جمہوری طور پر منتخب حکومت ان جنونیوں کے آگے گھٹنے ٹیک دیتی ہے کیونکہ فوج اس کا کہنا ماننے سے انکار کردیتی ہے۔

المیہ یہ رہا کہ قائداعظم کو اپنے تصور ریاست پر کام کرنے کا موقع نہیں ملا۔ ان کے جانشینوں میں کوئی بھی فکر و علم کے لحاظ سے اس درجہ کا نہ تھا کہ قائد کے تصور ریاست کے نقشے پر کوئی کام کرتا جو دنیاکے لیے بھی نمونہ بن سکے۔ جان کی امان پاؤں تو عرض کروں کہ غالباً قائداعظم اور مسلم لیگ نے تحریک پاکستان کے لیے مذہب کا بے محابا استعمال کیا مگر اس کے آئندہ کے تلخ نتائج و عواقب کا کوئی ادراک نہ کرسکے۔ کیا وہ اس حقیقت کا شعورنہ رکھتے تھے کہ صدیوں سے اسلامی فکر جمودکا شکار ہے۔ جس کی وجہ سے جدید اسلامی سیاسی فکرِ سرے سے ڈیولپ ہی نہ ہوسکی۔ اقبال کے خطبات میں اور کلام میں بھی اشارے ہیں مگر قوم کو علما نے باور کرادیا ہے کہ ان کے خطبات کو ہاتھ لگانا گناہ ہے اور اقبال کی شاعری کے بھی رومانوی حصہ سے دل بہلایا جاتا اور نفس کو تسکین دی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   اسلامی سیکولرازم - محمد عامر خاکوانی

مولانا مودودی کی جماعت اسلامی پاکستان میں اسلامی نظام کی سب سے بڑی علمبردار جماعت ہے اور اس کی فکر کو متعدل سمجھا جاتا ہے مگر اس کے سیاسی اقدامات بتاتے ہیں کہ وہ بھی جس اسلام کو ڈھورہی ہے وہ ہرگز بھی روایتی جامد اسلام سے مختلف نہیں۔

ہمارا المیہ یہ ہے کہ روایتی طرز فکر ہم پر پیرتسمہ پاکی طرح مسلط ہے۔ ہمارا جو بھی عبقری اٹھتاہے اور فقہ قدیم میں جینے والے جامد مذہبی فکر کی اصلاح شروع کرتا ہے، روایتی طرز فکر اس شدت سے اس کی مزاحمت کرتا ہے کہ اس کو سمجھوتے کرنے پڑتے ہیں۔ سرسید ہماری حالیہ تاریخ کے ایک بڑے آدمی ہیں لیکن اپنے قائم کردہ کالج کو بچانے اور چلانے کے چکر میں ان کو اپنی مذہبی فکر کو خیر باد کہنا پڑا۔ کالج کا شعبہ دینیات اپنے دشمنوں کے حوالہ کرنے پر مجبور ہوئے۔ سرسید کے جانشین بھی بیشتر بس ’’بڑ ے میاں‘‘ کی عزت اور خلوص کی قدر کرتے تھے، ملت کے لیے ان کی درمندی پر فدا تھے، مگر ان کے مذہبی خیالات کو سخت ناپسند کرتے تھے۔ مولانا مودودی ذہین آدمی تھے وہ مسلم سیاسی فکر اور نظام تعلیم کی اصلاح کے سلسلہ میں اضافہ کرسکتے تھے، مگر انہوں نے دین کی نئی تعبیر شروع کردی اور جماعت اسلامی کی بنا ڈالی اور جماعت نے ان کو بت۔ جماعت میں غوروفکر کا سلسلہ مولانا مودودی پر ہی رک گیا۔ اب ایسا لگتا ہے کہ یہ جماعت بھی بنیادی طورپر فقہ قدیم کوہی ڈھورہی ہے اس فرق کے ساتھ کہ اس میں ملّا کے ساتھ کچھ مسٹر بھی شامل ہیں۔ مولانامودودی نے حقوق الزوجین، خلافت وملوکیت (بعض تحقیقات سے اختلاف کے ساتھ)، تنقیحات اور تجدید و احیائے دین سے جو سفر شروع کیا تھا وہ رک گیا۔ ان کے افکار کو مزید آگے بڑھانے اور معاصر دنیا سے اس کوRelate کرنے کی ضرورت تھی اور فکر اسلامی کی نئی تشکیل درکار تھی۔جماعت اسلامی انتخابی سیاست کے خارزار میں الجھ گئی اور وہ بھی بغیر زمینی تیاری کے اور زیادہ تر مذہبی و جذباتی نعروں پر انحصار کرکے۔ اور جو کام کسی حقیقی انقلاب کے لیے ناگزیر تھا وہ پیچھے چھوٹ گیا۔

روایتی مسلم سیاسی فکر نصوص پر مبنی ہے اس سے استفادہ ناگزیر ہے۔ مگر اس میں انسانی تجربی حصہ بہت کم ہے۔ ابن خلدون کے بعد سے اس میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ اس لیے خاکسار کی ناقص رائے میں ضرورت یہ نہیں کہ ہم پاکستان جیسے مسلم اکثریتی معاشرہ میں لبرل اور سیکولر فکر کو عام کریں، ضرورت فکر اسلامی کو جمود سے باہر نکالنے اور نیا اسلامی سیاسی تصورڈیولپ کرنے کی ہے۔ جو اسلام کے روحانی تصورات، جمہوری اقدار (شوریٰ، حکمرانوں کے احتساب، عام آدمی کی امور مملکت میں شراکت اور پرامن انتقال اقتدار ) اور جدیدیت کے مفید عناصر پر مبنی ہو اور ایک جدید ترقی یافتہ اسلامی ریاست بناسکے، جس میں تمام شہریوں کے حقوق برابر ہوں، مرد و عورت دونوں اپنے فطری رجحانات اور امکانات کی بنیاد پر شرعی حدودمیں رہ کرترقی کرسکیں۔ فرداپنے تمام امکانات بروئے کار لانے کے لیے آزاد ہو۔ بنیادی انسانی حقوق کا احترام کیا جاتا ہو۔ جہاں مذہب اور مذہبی روحانی اقدار کا احترام ہو مگر مذہب کا استحصال مذموم سیاسی مقاصد کے لیے نہ کیا جاسکے۔ جنونیت اور مسلکی انتہاپسندی کے لیے جہاں کوئی جگہ نہ ہو۔ جہاں قانون کی حکمرانی ہو اور ہر فرد اپنے عقیدہ و فکر میں آزاد اور ریاست اس کی فطری آزادیوں کی محافظ ہو۔ یہ ہوائی باتیں نہیں، قرآن ان چیزوں کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ البتہ قرآن کے گرد جو انسانی تعبیرات کا حصار کھینچ دیا گیا ہے ان کے باعث ہم اب بے آمیز انداز میں قرآن کو پڑھنے اور سمجھنے کے لائق نہیں رہ گئے۔

خوش آئند یہ ہے کہ جدید مسلم تحریکات نے کئی امکانات دریافت کیے ہیں مثال کے طور پر تونس کے راشد غنوشی کا طرز فکر خاصاماڈرن اور ترقی یافتہ ہے۔ اس طرز فکر کو عام کرنے کی ضرورت ہے اور میری ناقص رائے میں جناب جاوید احمدغامدی کا فکر بھی اس بارے میں ہماری رہنمائی کرسکتاہے۔


ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی، ریسرچ ایسوسی ایٹ مرکز برائے فروغ تعلیم و ثقافت مسلمانان ہند، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ