پاکستان کا دفتری نظام اور مسئلہ ختمِ نبوت - محمد نعمان کاکا خیل

ہمارے ایک قریبی دوست اور رفیق نے گریجویشن (بی ایس) کرنے کے بعد چین کی ایک یونیورسٹی کی اندر ایم فل اور پی ایچ ڈی کے لیے درخواست کے ساتھ اپنے تعلیمی اسناد اور دستاویزات جمع کیے۔ اس کا داخلہ اس بنیاد پر رد کر دیا گیا کہ اس کے سکول اور یونیورسٹی کے تعلیمی اسناد کے اندر ان کے والد صاحب کا اسم گرامی غلط درج تھا۔ ایسے ہی کچھ معاملہ راقم کے ساتھ بھی پیش آیا جب دستاویزات بشمول تعلیمی سند (ڈگری) اور مارکس شیٹ توثیق (Attestation)کی غرض سے ہائیر ایجوکیشن کمیشن (HEC)لے جائے گئے۔ دستاویزات کی توثیق اس لیے نہیں ہو سکی کیوں کہ ڈگری اور مارکس شیٹ کے اندر ناموں میں تھوڑا فرق تھا۔

یہ معاملہ صرف تعلیمی اسناد، دستاویزات یا پھر تعلیمی نظام کے دفتری مسائل تک محدود نہیں بلکہ نادرا کے اندر بھی ایسی کئی مثالیں پائی جاتی ہیں جہاں قومی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کے اندر ایک ہی شخص کے دو مختلف نام مختلف ہجوں (Spellings)کے ساتھ لکھے ہوتے ہیں۔ ہم اس حقیقت سے قطعاً انکاری نہیں کہ انسان کمزور ہے اور غلطیوں کا پتلہ ہیـــــ۔ لیکن مذکورہ محاورہ خال خال غلطیوں اور کوتاہیوں کے اندر لاگو ہو سکتا ہے نا کہ غلطیوں کے انبار کے اندر۔

یہ تمام مذکورہ مسائل تب وجود میں آتے ہیں جب سارا دفتری اور دستاویزاتی نظام کسی دفتر کے کلرک یا بابو کے ہاتھ میں ہو۔جب کہ افسران بالا کو صرف ضروری دستخط کے لیے زحمت دی جاتی ہو۔ اکثر و بیشتر مشاہدے میں آتا ہے کہ افسران بالا کو جلدی جلدی میں دستخط کی جگہ بتائی جاتی ہے کہ فلاں جگہ دستخط کر کے درخواست گزار کے اوپر خصوصی مہربانی اور شفقت فرمائیں۔

بلاشبہ مسلمان معاشرے اور ایک اسلاامی ریاست کے اندر ختم نبوت ﷺ کا مسئلہ ایک نہایت ہی حساس اور اہم مسئلہ ہے جس کا ایمان کے ساتھ براہ راست اور بنیادی تعلق ہے۔ اور اس مسئلے کے اندر الفاظ کے چناؤ کے اندر بھی انتہائی احتیاط سے کام لیا جاتا ہے۔ نہیں معلوم کہ حکومت وقت کو الفاظ کی تبدیلی کا مشورہ کسی مشیر کی طرف سے ملا تھا، پیچھے کوئی سازش کارفرما تھی یا پھر یہ معمول کی غلطیوں کی طرح ایک دفتری غلطی تھی؟ (واللہ اعلم) ان تمام سوالات کے جوابات تحقیقات مکمل ہونے اور رپورٹ آنے کے بعد ہی ممکن ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   ختم نبوت کیاہے؟ ڈاکٹر ساجدخاکوانی

الیکشن بل 2017ء کے اندر اس ترمیم کے خلاف دینی حلقوں کی طرف سے سخت رد عمل کے بعد قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق صاحب کی طرف سے بیان آیا کہ یہ ایک دفتری غلطی (Clerical mistake) تھی۔ تمام حیلوں کے اندر یہ حیلہ اس لیے زیادی وزنی ہے کہ سپیکر صاحب کو دفتری نظام کی کمزوریوں کا شائد بخوبی اندازہ تھا اس لیے یہ موزوں سمجھا۔

جیسا کہ مضمون کے شروع میں تذکرہ ہو چکا ہے کہ ملک کے دفتری نظام کے اندر کمزوریوں کی وجہ سے کاغذات کے اندر غلطیاں نظر آنا ایک عام اور معمول کی بات ہے۔ لیکن یہ اندازہ بالکل بھی نہیں تھا کہ اتنے اہم امور کے اوپر کام کرنے والے اور اس وابستہ بابو اور کلرکوں کی قابلیت اس حیرت انگیز مقام کے اوپر ہے!

بہرحال معاملے کی مکمل تحقیقات کی ضرورت ہے تا کہ سراغ لگایا جاسکے کہ آیا یہ حقیقتاً ایک کلرک کی غلطی تھی یا پھر ایک منظم سازش اور قوت پیچھے کارفرما تھی۔ اگر تو غلطی قصداً اور ارادتاً کی گئی ہے تو ملزموں کو کٹہرے میں لا کھڑا کیا جائے اورقرار واقعی سزا دی جائے اور اگر یہ ایک دفتری غلطی ہے تو پھر بھی اس سے سیکھنے کی اشد ضرورت ہے تا کہ اداروں کے اندر میرٹ کی بالا دستی اور میرٹ کی بنیادوں پر افراد کے چناؤ اور تقرری کو یقینی بنایا جا سکے۔

Comments

محمد نعمان کاکاخیل

محمد نعمان کاکاخیل

محمد نعمان کاکا خیل بنیادی طور پر شعبہ طبیعیات سے وابستہ ہیں۔ سنجیدہ قلم نگاری کے ذریعے نوجوان نسل کی تربیت میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اس وقت کینگ پوک نیشنل یونیورسٹی ساؤتھ کوریا میں پی ایچ ڈی ریسرچ سکالر ہیں اور یونیورسٹی آف واہ میں تدریس کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.