12 ربیع الاول اور عشقِ رسول ﷺ، علامہ اقبال کی نظر میں - ثاقب تبسم ثاقبؔ

ربیع الاول کا مقدس مہینہ تمام مسلمانوں کے لیے عقیدت و احترام کا محور ہے۔وجہ تخلیقِ کائنات، فخرِ موجودات، رحمت للعالمین، انسانیت کو معراجِ انسانیت پر فائز کرنے والے،سرکارِ دو عالم خیر الامم، روزِ محشر شفاعت کرنے والے، کفر و الحاد کی طاغوتی طاقت کو سر نگوں کرنے والے، حق و صداقت کو نقطہ عروج تک پہنچانے والے، ہمارے پیارے اور مکرم و محترم نبیﷺ اس ماہِ مقدس میں دنیا میں تشریف لائے۔یہ مہینہ آپﷺ کی ولادت کا مہینہ ہے جو ہم سب کے لیے باعثِ رحمت اور برکت ہے۔12ربیع الاول کو یہ کائنات آپﷺ کے نورِ مبارک سے روشن ہو گئی۔آئیے، اسی مناسبت سے حضور اکرمﷺ کو ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ کی نظر سے دیکھتے ہیں۔

سرورِ کائنات حضرت محمدﷺ کی ذاتِ اقدس سے شاعرِ رسالت، علامہ محمد اقبالؒ کی عقیدت اور عشق ٹھوس حقائق پر مبنی ہے۔ان کی نظر میں نبی کریمﷺ کی ذاتِ مبارکہ خدائے واحد کی پہچان اور بنی نوعِ انسان کی مساوات و اخوت کے قیام کا ذریعہ ہے۔اقبالؒ نے یہ بھی محسوس کیا کہ رسالتِ محمدی ﷺکی ہی بدولت ہمیں ایک مقصد حاصل ہوا جس کی وحدت و پختگی نے ہمیں ایک ملت بنایا اور نبی پاک ﷺ کے فیض سے ہماری قوم متحد،مستحکم اور لازوال ہو گئی ہے۔گویا رسالتِ محمدیہ ﷺ میں ملت کا سارا وجود حضور اکرمﷺ کی ذاتِ اقدس سے عشق و محبت کی وجہ سے قائم ہے۔اس بات کا ادراک علامہ اقبالؒ کو بھی بخوبی تھا اور وہ نبی پاکﷺ کے بے شمار فیوض و برکات اور احسا نات پر نگاہ ڈالتے ہوئے عقیدت و عشق کے اس مرتبے تک جا پہنچتے ہیں جہاں ہجر و وصل کے سبھی فرق مٹ جاتے ہیں۔اسی عشق سے ذات کی تکمیل ہوتی ہے۔

عشق دمِ جبرئیل، عشق دلِ مصطفیٰﷺ

عشق خدا کا رسول، عشق خدا کا کلام

شاعرِ اعظم حضرت علامہ اقبالؒ کی سیرت و کردارکا سب سے محبوب اور قابلِ قدر جذبہ’’عشقِ رسول ؐ‘‘ ہے۔حضورؐ سے اقبالؒ کو جو والہانہ محبت اور عقیدت تھی، اس کا اظہار ان کی چشمِ نمناک اور دیدۂ تر سے ہوتا ہے۔جہاں کہیں کسی نے حضورؐ کا نامِ مبارک ان کے سامنے لیا تو ان پر جذبات کی شدت اور رِقّت طاری ہو گئی اور آنکھوں سے بے اختیار آنسو جاری ہو گئے۔اس حقیقت کا واضح ثبوت ان کے اردو اور فارسی کلام کے علاوہ ان کے خطبات،مقالات،بیانات اور مکاتیب میں بھی ملتا ہے۔فقیر وحید الدین نے اپنی کتاب ’’ روزگارِ فقیر‘‘ میں لکھا ہے ’’ ڈاکٹرصاحب کا دل عشقِ رسولﷺ نے گداز کر رکھا تھا۔زندگی کے آخری زمانہ میں تو یہ کیفیت ہو گئی تھی کہ آنحضرت علیہ وسلم کا ذکر آجاتا تھا تو ڈاکٹر صاحب کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلتے تھے اور آخرعمر میں یہ کیفیت اس انتہا کو پہنچ گئی تھی کہ ہچکی بندھ جاتی،آواز بھرا جاتی تھی اور وہ کئی کئی منٹ مکمل سکوت اختیار کر لیتے تھے تا کہ اپنے جذبات پر قابو پاسکیں اور گفت گو جاری رکھ سکیں۔‘‘ اقبال ؒروح کی گہرائیوں تک اس عشق میں مبتلا ہیں اور روضئہ رسولؐ کی زیارت کی زبردست آرزو لیے ایک جگہ فرماتے ہیں ؎

اللہ رے! خاکِ پاک مدینہ کی آبرُو

خورشید بھی گیا اُدھر، تو سر کے بل گیا

اقبالؒ کے دل و دماغ میں حضوراکرمؐ سے سچی عقیدت ٹھاٹھیں مارتی تھی اور اسی عقیدت کی نسبت سے انہیں مدینہ اور عرب کی زمین معتبر نظر آتی تھی کہ’’اے عرب کی مقدس سر زمین!تجھ کو مبارک ہو،تُو ایک پتھر تھی جسے دنیا کے معماروں نے رَد کر دیا تھا، مگر ایک یتیم بچے نے خداجانے تجھ پر کیا فسوں پڑھ دیا کہ موجودہ دنیا کی تہذیب و تمدّن کی بنیاد تجھ پر رکھی گئی۔‘‘ اسی لیے تو اقبالؒ مدینہ کی مٹی کی عظمت یوں بیان کرتے ہیں ؎

اقبالؒ نے حضوراکرمؐ سے عقیدت و عشق کا بے پناہ اظہار کیا ہے۔عشقِ رسولﷺ ان کے رگ و پے میں پوری طرح سرایت کر چکا تھا۔حیرت ہے کہ اقبالؒ ایک زبردست فلسفی تھے اور فلسفی کی ساری پرکھ عقل کے بل بوتے پر ہوتی ہے لیکن ان کا عشق رسول اللہ کی سیرت مبارکہ کو عقل کی کسوٹی پر پرکھنے کی جرات نہ کر سکا بلکہ ان کے حکیمانہ دل و دماغ نے یہ محسوس کر لیا تھا کہ حُبِ نبویﷺ کے بغیر سارا علم و عمل حجاب ہی حجاب ہے کیونکہ انسانیت کی حقیقی تعمیر کے لیے جس فکرو عمل کی ضرورت ہے بباس کا مرجع اور مرکز ذاتِ رسالت مآب ہی ہے۔اس بار گاہ میں کسی دلیل کی گنجائش ہی نہیں ہے۔ان کی نظر میں حضورؐ کی ہستی مبارک ہی سب کچھ ہے اور وہ اسی عشق کی وجہ سے ’’دانائے راز‘‘ کہلاتے ہیں۔ اُن کے نزدیک حضور اکرم ؐ عشق کی ابتدا بھی ہیں اور انتہا بھی ہیں۔ کائنات میں جو کچھ بھی ہے وہ سب آپؐ کی ذاتِ مبارک کا صدقہ ہے۔ ؎

نگاہِ عشق و مستی میں وہی اوّل وہی آخر

وہی قرآں، وہی فرقاں، وہی یٰسیں، وہی طہٰ

اسی طرح فارسی میں اقرار کرتے ہیں ؎

ایں ہمہ از لطف بے پایان تو

فکر ما پروردہ احسان تو

(سب کچھ آپﷺ کی عنایتِ بے پایاں ہی سے حاصل ہوا،ہماری فکر آپﷺ کے آغوشِ احسان کی پروردہ ہے)

علامہ اقبالؒ پہلے مجتہد ہیں جنہوں نے ختمِ نبوت کو اجتہاد کی اساس قرار دیا ہے۔وہ اپنے انگریزی خطبات کے باب ’’ مسلم ثقافت کی روح‘‘ کے صفحہ ۱۲۶پہ لکھتے ہیں کہ،

’ ’ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو پیغمبرِ اسلام ﷺ کی حیثیت دنیائے قدیم اور زمانہ جدید کے درمیان ایک واسطے کی ہے۔اپنے سر چشمہ وحی کے اعتبار سے آپ کا تعلق دنیائے قدیم سے ہے لیکن اپنی وحی کی روح کے اعتبار سے آپ کا تعلق زمانہ جدید سے ہے۔ آپ کے وجود سے حیاتِ انسانی پر علم و حکمت کے وہ سر چشمے منکشف ہوئے جو اس کے آئندہ رخ کے عین مطابق تھے۔‘‘

علامہ اقبال نے اس اجتہاد سے یہ نتائج نکالے کہ عقیدہ ختمِ نبوتﷺ نے حیاتِ انسانی پر علم و حکمت کے وہ سر چشمے منکشف کیے جو اسے آئندہ نبوت سے بے نیاز کر دیں گے گویا ختمِ نبوت بذاتِ خود ایک معجزہ ٹھہرا۔ختمِ نبوت کو ایک معجزہ قرار دینا اقبالؒ ایسے عاشق کا ہی کام ہے۔نبی کریمﷺ سے محبت کا جو جذبہ اور ولولہ ا قبال ؒ کے دل میں ٹھاٹھیں مارتا تھا وہ چاہتے تھے کہ کے دل میں یہ انتہائی خواہش تھی کہ وہ سب مسلمانوں میں پیدا ہو جائے۔اسی لیے وہ ہر انسان کی قلبی اور دماغی تربیت کے لیے اُسوئہ حسنہ کو لازمی اور ابدی سمجھتے تھے اور اسے ہر ایک کے لیے ذریعہ نجات قرار دیتے تھے۔اسی لیے تو وہ اللہ کی طرف سے یہی اعلان کرتے ہیں اور گارنٹی دیتے ہیں کہ جو محمدؐ کی اطاعت کرے گا،کامیابی اُسی کے قدم چومے گی۔ اسی لیے ’’شکوہ ‘‘ کے بعد ’’جوابِ شکوہ ‘‘ کے آخر پر انہوں نے تمام بحث کا نتیجہ ہمارے سامنے اس شعر کی صورت میں رکھ دیا ؎

کی محمدؐ سے وفا تُو نے تو ہم تیرے ہیں

یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں

اس لحاظ سے اقبالؒ کے نزدیک ایک مسلمان کے لیے اللہ نے بخشش کی شرط عائد کر دی کہ حضورؐ سے وفا کے بغیر کچھ نہیں ملے گا اور اس کے لیے ضروری ہے کہ ہمیں حضورؐ سے سچا اور سُچا عشق ہو۔اسی لیے تو اقبال ؒ فرماتے ہیں ؎

حضرتِ اقبالؒ عشقِ مصطفیؐ میں پوری طرح سرشار اور بے قرار نظر آتے ہیں،میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ وہ کائنات کے منفرد، بڑے اور سچے عاشقِ رسولؐ شاعر اور فلسفی ہیں؛جن کا دل اور کلام ہر وقت اپنے نبیؐ کی محبت سے لبریز ہے۔ وہ نبی پاک کو اپنے خیالات کا محور اور امیدوں کا مرکز سمجھتے ہیں۔اس کے لیے اقبالؒ کا یہ کہنا ہے ؎

کافر ہوں میَں ہند کا،دیکھ میرا ذوق و شوق

دل میں صلٰوۃ و درود لب پہ صلٰوۃ و درود!

عشق اور عقیدت کی ایسی مثال اور کہیں نہیں ہے۔کون ہے جس نے یہ اللہ سے یہ دعا اور خواہش کی ہو کہ روزِ قیامت، اعمال کے حساب کتاب کے دوران کہیں کوئی لغزش نظر آئے تو اسے حضورؐ کی نگاہ سے اوجھل رکھا جائے تا کہ آپؐ کے حضور شرمندگی نہ ہو۔ایسا یقین،توانا لہجہ اور عشق اور کہاں ہے؟دراصل یہ ایک طرح کا دعویٰ ہے جو حضرتِ اقبالؒ پہ ہی جچتا ہے،میرا نہیں یہ خیال کہ ایسا دعوٰی آج کے دور میں کوئی کر سکے

تُو غنی اَزہر دَو عالَم مَن فقیر

روزِ محشر عُذر ہائے مَن پذیر

رَا تُو بِینی حِسَابَم ناگذِیر

اَز نِگاہِ مُصطفیٰ پِنہاں بگیر

اقبالؒااسلام اور حضورؐ کے پیرو کار ہیں اس لیے انہوں نے ہمیشہ زور دیا کہ اسلام کی تقویّت کے لیے حضورؐ کی سیرتِ طیبہ کی پیروی کی جائے کیوں کہ ہر طرح کی کامیابی کے لیے اُسوہ حسنہ کی تقلید لازم ہے۔وہ چاہتے تھے کہ ہم ۱۲ ربیع الاول کو یومِ اتحاد،یوم اُخوت،یومِ فلاح اور یومِ ثواب کے طور پر منائیں۔اُس دن ہم زیادہ سے زیادہ حضورؐ کی سنتوں کو اپنائیں اور پھر یہ سلسلہ مستقل اپنا لیں۔اقبالؒ کی شدید تمنا تھی کہ اس مقدس اور عظیم دن کوپوری ملتِ اسلامیہ ایک نبیؐ کی اُمت کی تصویر بن جائے،کیوں کہ اسی میں سب کی نجات ہے۔اس ضمن میں ایک واقعہ ہے کہ ایک بزرگ نے ڈاکٹر صاحب سے کہا، ’’ مجھے آنحضرت ﷺ کے دیدار کا بڑا شوق ہے لیکن یہ آرزو پوری نہیں ہوتی۔‘‘ ڈاکٹر صاحب نے فرمایا ’’ اگر واقعی آنحضرت ﷺ کے دیدار کا شوق ہے تو اسوہ رسول ﷺ پر چلیے اور وہ اوصاف پیدا کیجیے جو صحابہ نے سنتِ رسول ﷺ ُپر عمل کر کے اپنے اندر پیدا کر لیے تھے،آپ کی آرزو خود بخود پوری ہو جائے گی۔‘‘(فقیر وحیدالدین) اقبالؒ کی نظر میں مسلمان اسی وجہ سے زوال کا شکار ہیں کہ وہ حضورؐ کی تعلیمات سے بہت دور ہو چکے ہیں۔ اسی وجہ سے مسلمان ذات پات اور فرقہ بندی جیسی امراضِ مہلکہ میں مبتلا ہیں۔

منفعت ایک ہے اس قوم کی نقصان بھی ایک

ایک ہی سب کا نبیؐ،دین بھی ایمان بھی ایک

حرم پاک بھی، اللہ بھی، قرآن بھی ایک

کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک

فرقہ بندی ہے کہیں او ر کہیں ذاتیں ہیں

کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں؟

قلب میں سوز نہیں،روح میں احساس نہیں

کچھ بھی پیغامِ محمدؐ کا تمہیں پاس نہیں

ہم اقبالؒ کو اپنا قومی شاعر کہتے ہیں،مفکرِ پاکستان کے نام سے یاد کرتے ہیں،اُن کی تعلیمات اور فکر کے معترف بھی ہیں،اُن کی حضور اکرم ؐ سے والہانہ عقیدت اور لگن کو بھی تسلیم کرتے ہیں لیکن افسوس کہ اُن کی فکر اور اُن کے پیغام کو صرف اپنی گفت گُو کو رنگین اور پُر تاثیر بنانے کے لیے استعمال کرتے ہیں اور بھول جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو پیارے اور عظیم نبی حضرت محمدؐ کے اُسوۂ حسنہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور اس کے طفیل ہمیں دنیا میں بھی کامیابی دے اور آخرت میں بھی ہماری بخشش کرے۔(آمین)