دینی جماعتوں کو ووٹ کیوں نہیں ملتے؟ مولانا محمد جہان یعقوب

یہ سوال آج کل بڑی شدت سے اٹھایاجا رہا ہے کہ دینی جماعتوں کو ووٹ کیوں نہیں ملتا؟حالاں کہ ان کے چاہنے والوں کی کمی نہیں، ان کے اجتماعات میں عوام کی بڑی تعداد شریک ہوتی ہے، ان کے ساتھ لوگوں کی جذباتی وابستگی بھی ہوتی ہے۔ لاکھوں کی تعداد میں ملک کے طول وعرض میں پھیلے ہوئے مدارس وجامعات، مساجد و خانقاہیں، ان ہی کو سپورٹ کرتی ہیں، پھرآخر کیا وجہ ہے کہ جب الیکشن ہوتا ہے توان کے ووٹ اس سے آدھے بھی نہیں ہوتے، جتنے ان کے ہم نوااور سپورٹرز ہوتے ہیں۔ اس کی متعدد وجوہات ہوسکتی ہیں۔

ایک بڑی وجہ تو یہ ہے کہ ان جماعتوں کو کسی بیرونی دشمن کی کبھی ضرورت نہیں رہی، خود ان کے ہم مسلک وہم مشرب ان کی مخالفت کے لیے کافی ہوتے ہیں۔ ایک تحریک لبیک کو ہی دیکھ لیجیے۔ باباخادم حسین رضوی نے ممتاز قادری کی قربانی کو کیش کرنے کی کوشش کیا کی، کہ ان ہی کے ہم نوا ان کے دشمن بن گئے۔ ایک نومولود جماعت کے تادم تحریرتین گروپ سامنے آچکے ہیں: خادم رضوی گروپ، اشرف جلالی گروپ اور ضیاء اللہ قادری گروپ۔ ہر گروپ اس بات کا مدّعی ہے کہ ممتاز قادری ان کے تھے، تحریک لبیک کی سربراہی کا تاج ان کے سر سجنا چاہیے۔ فتوے بازیاں، الزام تراشیاں، دشنام گفتاریاں۔ ۔ ۔ غرض م خالف کو نیچا دکھانے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی جارہی ہے۔ اب خدالگتی کہیے، ان کو ووٹ کس کا اور کتنا ملے گا؟ خود ہی اپنا ووٹ کاٹیں گے اور فائدہ لبرل، سیکولر اور دین بے زار جماعتوں کو ہوگا۔

دوسری طرف یہی حال جمعیت علمائے اسلام اور جمعیت علمائے پاکستان کا ہے، اول الذکردیوبند مکتبہ فکر کی اور مؤخرالذکربریلوی مکتبہ فکر کی نمائندہ جماعت ہے۔ جمعیت علمائے اسلام کے کئی گروپ مولانا فضل الرحمٰن کی جماعیت کا حصہ بن چکے ہپں، اس کے باوجود مولانا سمیع الحق کا گروپ مولانا کے مقابلے میں کھڑا ہے، اور ان کے ہم نواؤں کی بھی کمی نہیں، ان کا اپنا توووٹ بینک اتنا زیادہ اور مستحکم نہیں، لیکن مولانا محمد احمد لدھیانوی، مولانا فضل الرحمٰن خلیل، حافظ محمد سعید کی جماعتوں کا کافی ووٹ بینک ہے اور یہ جماعتیں ماضی میں دفاع پاکستان کونسل کے پلیٹ فارم پر مولانا سمیع الحق کی اتحادی رہ چکی ہیں، کوئی بعید نہیں کہ آئندہ الیکشن میں بھی یہی صورت حال رہے، پھر ان کا عمران خان کے ساتھ اتحادبھی مولانا فضل الرحمٰن کوٹف ٹائم دے سکتا ہے۔ اب نتیجہ ملاحظہ فرمائیے، دینی جماعت ہی دوسری دینی جماعت کا ووٹ کاٹے گی۔ جس کا منطقی انجام یہ ہوگا کہ چھ جماعتی مجلس عمل کا اتحاد بھی حکومت بنانے کی پوزیشن میں شاید نہ آسکے۔

یہ بھی پڑھیں:   سیکولر مولوی، بھائی بھائی - اسامہ الطاف

ان جماعتوں کے ووٹ بینک کے حوالے سے ان کی ایک اور اجتماعی کم زوری کی نشان دہی کرنا ضروری سمجھتے ہیں، کیوں کہ جلسے، جلوسوں، مظاہروں اور عوامی طاقت کے مظاہرے کے دوسرے مواقع پر ان جماعتوں کی کال پر جو جمِ غفیر امڈآتا ہے، اس تناسب سے انہیں ووٹ نہیں ملتے۔ کہا جاسکتا ہے، کہ پاکستان میں الیکشن نہیں سلیکشن ہوتا ہے، عوام کی رائے کا احترام نہیں کیا جاتا، بلکہ ووٹنگ محض ایک رسمی کارروائی ہوتی ہے۔ سیٹوں کی بندر بانٹ کہیں اور سے، کسی اور کے اشاروں پر ہوتی ہے۔ یہ سب تسلیم، لیکن دینی جماعتوں کے ہم نواؤں کے ووٹ تواس تعداد میں کاسٹ بھی نہیں ہوتے، جس تعدا د میں ان کے اجتماعات میں لوگ نظر آتے ہیں۔ اس جانب سے تمام دینی جماعتوں کو توجہ دینی اور اس کم زوری کی تلافی کے لیے الیکشن آنے سے پہلے اسی تن دہی ومستعدی سے کوشش کرنی چاہیے، جس تن دہی اورپھرتی سے اتحادوں کی داغ بیل ڈالی جارہی ہے۔

ایک وجہ تو یہ بھی ہے کہ دینی جماعتوں کے منتخب ارکان اپنے حلقے کے مسائل حل کرنے اور وہاں ترقیاتی کام کرنے میں عمومی طور پر وہ دل چسپی نہیں لیتے، جو دوسری جماعتوں کے ارکان لیتے ہیں۔ ایم ایم اے کی سابقہ خیبر پختونخواحکومت کی کارکردگی کا منصفانہ جائزہ لیجیے، توآپ کو ہماری بات کی صداقت کا یقین ہوجائے گا، یا اگر آپ کے حلقے سے کسی دینی جماعت کا نمائندہ منتخب ہواہے، تو اس کی کارکردگی کا دوسرے حلقوں کے اراکین کی کارکردگی سے موازنہ کرلیجیے، حقیقت سامنے آجائے گی۔ اس کی ایک وجہ فنڈ کی عدم دستیابی بھی ہوسکتی ہے، لیکن اس کے باوجود سستی وغفلت کا عنصر غالب ہے۔ ۔ دینی جماعتوں کو اس جانب توجہ دینی چاہیے۔ کسی امیدوار کوٹکٹ دیتے ہوئے اس کے علمی قد کاٹھ کے بجائے اس کی عوامی کاموں میں دل چسپی کو محور بناناچاہیے۔

سب سے اہم وجہ، دینی جماعتوں کے ووٹ بینک کے مؤثر نہ ہونے کی یہ ہے کہ ووٹ دینے کے لیے ضروری ہے کہ ووٹر کے پاس قومی شناختی کارڈ ہو، اس کا ووٹر لسٹ میں اندراج ہو، اسے ووٹ دینے کا شعور ہو۔ شومیٔ قسمت، اس جانب دینی جماعتوں کی مطلق توجہ نہیں ہے۔ ایک جمعیت علمائے اسلام ہی کو لے لیجیے۔ اس کی سب سے بڑی طاقت مدارس سے منسلک علما وطلبہ ہیں۔ کیا کبھی اس جانب توجہ دی گئی کہ کتنے اساتذہ وطلبہ کے پاس یہ دستاویزات موجود ہیں؟ان کا ووٹر لسٹ میں انداراج ہے یا نہیں؟ جب مختلف مدارس کے باہر بلڈ ڈونرز اور مختلف اداروں کی مفت خدمات فراہم کرنے والی گاڑیاں اور عملی نظر آتا ہے، تو دل ودماغ میں ایک سوال کلبلانے لگتا ہے، کہ نادرا کے عملے کو بھی یوں کیوں نہیں بلایا جاتا تاکہ وہ طلبہ واساتذہ، جو اپنے مصروفیات کی وجہ سے وقت نہیں نکال پاتے، ان کے کارڈآسانی سے بن جائیں؟ اگر اس جانب دینی جماعتوں کے ذمے داران توجہ دیں اور اپنے کارکنوں اور ہم نواؤں کی اس جانب راہ نمائی کریں، تو ان کا ایک بڑاووٹ ضایع ہونے سے بچ سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   دھرنا، مصالحت اور ریمارکس - یاسر محمود آرائیں

دینی جماعتوں کا ایک مشترکہ المیہ، قیادت کا فقدان ہے۔ ان کے پاس ایسا کوئی زمانے کا سرد وگرم چشیدہ قائد اب نہیں رہا، جو ان کے ووٹ کوضایع ہونے سے بچانے کے لیے انہیں آپس کی رنجشوں اور ذاتی مفادات کو عظیم ترقومی مفاد پر قربان کرنے کے لیے آمادہ کرسکے۔ جس کی وجہ سے خودرو کھمبیوں کی طرح، جوبرسات کے موسم میں اگ آتی ہیں۔ اتحاد پر اتحاد اور جماعتوں پر جماعتیں تو بنتی جارہی ہیں، لیکن اس کا فائدہ دینی کاز کے بجائے ذاتی مفادات تک محدود ہوتاہے۔ ملک کی تمام سیکولر قوتیں ملک سے اسلام کو دیس نکالا دینے کے ایجنڈے پر متفق ومتحد ہوچکی ہیں اور دینی لیڈران کرام اب تک ذاتیات کے خول سے ہی نہیں نکل پائے۔ حالیہ دھرنے نے ایک بار پھر مجتمع ہوتے دینی ووٹ بینک کا شیرازہ بکھیر کررکھ دیا ہے۔

کاش!دینی راہ نما ایک پلیٹ فارم پر یک جا ہو جائیں اور مستقبل میں ملک کو سیکولربنانے کے لیے کی جانے والی منصوبہ بندی کا کوئی عملی توڑ کرسکیں، ورنہ ملک کی نظریاتی اساس کا سوداکرنے کے جس طرح سیکولر سیاست دان مجرم ہوں گے، تاریخ ان لیڈروں کو بھی معاف نہیں کرے گی۔