استاد - حفصہ عبدالغفار

پرانے وقتوں کی بات ہے، جب ہمارا بی-ایس تقریباً مکمل ہو چکا تھا کہ ایک نجی کالج کی پرنسپل صاحبہ نے اپنے کالج میں ٹیچنگ کے لیے بلا لیا۔ کوئی دو تین دن بعد ایک کلاس پڑھانے کے بعد باہر نکل رہی تھی تو ایک سٹوڈنٹ میرے پاس آئی "میڈم! ایک سوال پوچھنا ہے۔" میں نے کہا پوچھو، تو جس انداز میں اس نے کتاب کے صفحات پلٹے اور جس انداز میں ایکسرسائز کے ایک سوال پر 'رینڈملی' انگلی رکھی، اس سے صاف معلوم ہوا کہ سوال پوچھا نہیں پوچھوایا گیا ہے۔ البتہ میری عادت ہے کہ چھٹی حس کے اشاروں کو ذہن میں تو رکھ لیتی ہوں مگر ان کی بنیاد پہ ایکٹ فوراً نہیں کرتی، سو نظر انداز کیا۔

اگلے ایک دو دن کے بعد پرنسپل سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے چہرے پر کچھ تاثرات لانے کی کوشش کرتے ہوئے فرمایا کہ بچے مجھ سے مطمئن نہیں ہیں۔ میں نے کہا کہ میرے بچے مجھ سے مطمئن ہیں یا نہیں یہ مجھے بہتر معلوم ہے لہٰذا کوئی اور بات ہے تو وہ آپ کہہ لیں۔ بعد میں ایک سینیئر لیکچرار نے کہا کہ ایسا تو انہوں نے کرنا ہی ہوتا ہے انڈر پریشر رکھنے کے لیے، اس لیے نظر انداز کرو۔ بہرحال، اسی طرح کی ایک آدھ بات کے بعد میں نے بھی چھوڑنے کا ارادہ کرلیا اور وہ بھی اپنے مطلب پر آگئیں۔

سب جاننے والوں نے کہا کہ یہ غلط فیصلہ ہے، کسی نے کہا کہ میں اچھا پڑھا نہیں سکی، کسی نے کہا کہ مجھ میں ورک ایتھکس نہیں ہیں، کسی نے کہا بے وقوفی ہے۔

سیدھی سی بات ہے پیسہ تو مجھے بھی نظر آرہا تھا، اگر میری جاب وہاں ٹیچر کے علاوہ کوئی اور ہوتی تو شاید نظر انداز کرکے، کچھ سن سنا کر جاری رکھ بھی لیتی، لیکن ایک تو اپنی بات پہ قائم نہ رہنے والوں کے ساتھ میرا گزارا نہیں ہوتا۔ ایک ہفتے میں اپنی پہلے دن والی باتوں سے پھر جانے والوں کے ساتھ تو بالکل نہیں۔ دوسرا یہ کہ میرے نزدیک ایک ٹیچر کو ادارے میں سر اٹھا کر ہی چلنا چاہیے۔ جہاں ہر وقت اس بات کا ڈر ہو کہ باس کس وقت کیا کہہ کر فارغ کردے؟ وہاں کوئی بھی جاب کی جا سکتی ہے سوائے ٹیچنگ کے۔

یہ بھی پڑھیں:   یہ بیکار ڈگریاں - علی معین نوازش

اور ایسی جگہ ٹیچنگ کرنے والا استاد میرے نزدیک پڑھا تو شاید سکتا ہے، مگر سکھا نہیں سکتا۔ استاد کو ایک شان کے ساتھ رہنا چاہیے، یہ بات اساتذہ کو خود بھی اور تعلیمی اداروں کے سربراہان کو بھی سمجھنی چاہیے۔ استاد کلاس میں بیٹھا ہو اور راؤنڈ ہونے کی اطلاع پر کھڑا ہوجائے تو شاگردوں کے لیے کچھ اچھا نظارہ تو نہیں ہوتا۔ ابھی پنجاب میں سکول ریفارمز پر کچھ ڈسکشن فارمز پہ اسی قسم کی کچھ باتیں نظر سے گزریں تو اچھا نہیں لگا۔ فیس بک پر سکول گوئنگ بچوں کی بھی بڑی تعداد موجود ہے تو ایسی چیزیں ایک اچھا تاثر تو نہیں چھوڑتیں۔ پرائیوٹ سکولز میں بھی کچھ چیزیں بہت چبھتی ہیں۔ مطلب کہ شاگرد کیسا محسوس کرتے ہوں گے جب ان کو معلوم ہوتا ہوگا کہ ہماری کلاس روم سے ٹیچر کی کرسی اٹھوا دی گئی ہے؟

باقی سمسٹر سسٹم کے بعض اساتذہ نے تو لفظ استاد کو مذاق کا نشانہ ہی بنا کر رکھ دیا ہے۔ یہ ایک استاد کی پختہ شخصیت، اعلیٰ اخلاق و آداب، اس کا وقار اور متانت ہی ہوتے ہیں جو نہ صرف اس کے سٹوڈنٹس کو گرویدہ بناتے ہیں بلکہ اس سے بڑی عمر کے لوگ بھی اس سے سیکھنے میں فخر محسوس کرتے ہیں ورنہ پرچے تو آخری راتوں کی برکتوں سے بھی پاس ہو جاتے ہیں۔

میرے نزدیک تو استاد وہ ہے جو سر اٹھا کر چل سکے، جو جینا سکھا سکے۔ جس کی ٹانگوں میں اتنا دم ہو کہ اپنی غلطی کا بوجھ اٹھا سکے نا کہ سٹوڈنٹ کے سر ڈالنے کی کوشش کرے۔ میں نہیں کہتی غلطی ہونے پر استاد معذرت کرے البتہ اس میں ماننے کا حوصلہ اتنا ہو کہ شاگرد خود اپنے سر لے لے۔ استاد تو وہ ہوتا ہے جس کی ایک نگاہ کا ڈر ہو، اور جسے اپنا آپ استاد ثابت کرنے کے لیے فیل کرنے کی دھمکی دینے پڑے وہ سرکاری یا نجی ملازم ہی کہلا سکتا ہے۔

ایک پروفیسر نے میرے بارے میں کہا کہ میری تربیت میرے والدین نے اچھی نہیں کی۔ اپنی ذات پہ تبصروں کے حوالے سے میں اور ڈونلڈ ٹرمپ ایک جیسے واقع ہوئے ہیں۔ تو مجھے اس تبصرے کا دکھ وکھ تو کیا ہونا تھا البتہ اتنا یاد آیا کہ ان پروفیسر کے ساتھ میری ایک ہی ملاقات ہوئی تھی جس کے بعد انہوں نے میرے امی ابو کا نام پوچھا اور اپنا نام بتاتے ہوئے کہا تھا کہ میں اپنے والدین کو ان کا سلام دوں۔ کیوں کہ تب ان کا کہنا اور ماننا یہ تھا میری اچھے والدین کی اچھی تربیت کے بغیر ممکن ہی نہیں کہ جو میں ہوں وہ بن پاتی۔ کم از کم استاد کو تو اپنی بات پہ کھڑا رہنا آنا چاہیے، جو اپنی رائے دوسروں کی باتوں سے فوراً بدل لیتے ہوں، مجھے ایسے اساتذہ سے پریشانی ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   یہ بیکار ڈگریاں - علی معین نوازش

میں نہیں کہتی آج کی نوجوان نسل پرفیکٹ ہے، لیکن میں اتنا کہتی ہوں کہ اس پہ تنقید کرتے ہوئے اکیسویں صدی کی سہولیات کا تو طعنہ دینا اور اسی صدی کے المیوں کو نظر انداز کردینا نا انصافی ہے۔ چند دہائیاں پہلے میٹرک پاس شخص کو زندگی میں کتنے کتنے اساتذہ میسر آجاتے تھے اور آج سولہ سالہ تعلیم رکھنے والے کو کتنے آتے ہیں؟

اس فرق کے مطابق اس نسل کا ہر جگہ سیلفیاں لینا، بالی ووڈ کا شیدائی ہونا اور ویلیاں مارنا تھوڑا 'جسٹیفائڈ' تو لگتا ہے۔

میرے نزدیک انسان اپنی ذات کی پہچان دو صفات سے رکھتا ہے۔ ایک حیوان ہونا، وہی جو سکول میں مضامین کا پہلا جملہ ہوتا تھا ’مین از آ سوشل اینمل' جبکہ دوسری صفت اس کا اخلاق ! تو ہر انسان کو ایسا استاد چاہیے جو نہ صرف اس کے سوشل اینمل والے انسان کی تکمیل کرے اور اسے کمانا، کھانا، اور زندگی گزارنا سکھائے اور ساتھ میں انسان کے اخلاقی شعور کی غذا کا بھی انتظام کرے جس کے ادراک کے بغیر انسان کے لیے اپنی زندگی کو کوئی مطلب دینا مشکل ہے۔ اسی لیے ہمیں اسلاف کے اس قسم کے اقوال ملتے ہیں کہ میں نے تیس سال ادب سیکھا اور بیس سال علم حاصل کیا۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں اخلاقی شعور کی نمو کا اہتمام کرنے کے بجائے اس کی 'ایگزسسٹینس' کے احساس کو ہی ختم کر دیا جاتا ہے۔ اگر اخلاقی و شعوری پختگی استاد کو میسر آ جائے تو ہمارے ان گنت سماجی مسائل خود بخود ختم ہو جائیں۔

Comments

حفصہ عبدالغفار

حفصہ عبدالغفار

حفصہ عبدالغفار ایم فل کیمسٹری کی طالبہ اور موٹیویشنل سپیکر ہیں۔ زاویہ ڈیبیٹنگ سوسائٹی کی صدر رہیں۔ دلیل کی مستقل لکھاری ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.