تمہی کہو کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے - صبا فرحت

وہ بہت پرانی بات تھی جب سیکھنے والا قلم اور دفتر لیے گھنٹوں استاد کے سامنے زانو تلمذ تہہ کیے مؤدّب بیٹھا رہتا۔ دور بدل چکاہے سیکھنے، سکھانے کے طورطریقوں میں بڑی تیزی سے تبدیلی آچکی ہے۔

انسان اپنے کمرے میں بیٹھا پندرہ سے بتیس انچ کے اسکرین سے میلوں کی مسافت پر موجود اپنے معلم سے علم حاصل کررہا ہوتا ہے۔ طورطریقوں میں فرق ضرور آیا ہے لیکن علم کی اہمیت اسے سیکھنے کی ضرورت اور شوق اب بھی اپنی جگہ مسلّم ہیں بلکہ سچ کو جاننے اور سمجھنے کے لیے اب دنیا کی تشنگی مزید بڑھ گئی ہے اور اسے حاصل کرنے کے لیے جہاں بہت سے الگ الگ ذرائع استعمال میں ہیں، جن میں سب سے آسان اور 'کنوینینٹ' پلیٹ فارم ہے "انٹرنیٹ"!

لہٰذا اس بات کا ذکر یہاں بے محل نہیں ہے کہ علم دین سیکھنے والوں کی بھی ایک کثیر تعداد سوشل میڈیا کے ذریعے مذہب اسلام کو سمجھنے، سمجھانے کی کوشش کررہی ہے اور اس کے مثبت اورمنفی دونوں ہی قسم کے نتائج برآمد ہورہے ہیں لیکن یہاں ہم مثبت زاویے سے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

آج لوگوں میں اسلام سیکھنے سکھانے کے حوالے سے طلب جس قدر بڑھ رہی ہے اس کی خاطرخواہ تکمیل کےلیے شاید یہ پلیٹ فارم اور وقت ناکافی ہیں۔ یا پھر سکھانے والوں کا جذبہ مدھم اور سست رو ہوگیا ہے۔

یہ بات باعث فکر ہے کہ جب اہل علم کی جانب سے ایسے اسٹیٹس یا معذرت ناموں کا سامنا ہوتا ہے جن میں لکھا ہوتا ہے "برائے کرم سوالات سے پر ہیز سے کریں،" "انباکس کی گستاخی نہ کریں،" "بار بار میسج یا تبصرہ کرنے والوں کو بلاک کردیاجائے گا،" "ایک ہی سوال کو دوبارہ پوچھ کر اپنا اور ہمارا وقت برباد نہ کریں،" "انباکس یا اوپن فورم پر آکر اپنے مسلک کا دفاع کرنے والوں کو دفع کردیا جائےگا،" "جس کسی نے انباکس آکر نصیحت کی وہ اپنی نصیحت لپیٹ کر اپنے گھر تشریف لے جائے،" "اپنی تحریریں انباکس میں بھیجنے والے ضربِ انفرینڈ کا شکار ہوں گے۔ "

مداحوں کی ریکوئسٹ قبول کرنے پر لمبا چوڑا نوٹ لکھ مارنا وہ بھی کچھ اس طرح کہ آج جن لوگوں کی ریکوئسٹ قبول کی ہے وہ اپنے ذہن میں یہ چند باتیں بٹھالیں کہ آپ کی ریکوئسٹ، فلاں کو میوچوئل فرینڈ دیکھ کر قبول کی ہے۔ لہٰذا اپنے دائرے میں رہیں ، زیادہ پھیلنے کی کوشش نہ کریں ورنہ آپ کے پھیلے ہوئےدائرے کو صفر کی شکل دے دی جائے گی۔

اسی طرح سوال کرنے والوں سے بچنے کے لیے ان کی کال ریسیو نہ کرنا یا نمبر بلاک لسٹ میں ڈال دینا ، وغیرہ وغیرہ

بہر حال یہ کچھ باتیں تھیں، جو دین سیکھنے والوں کے ساتھ پیش آرہی ہے۔ میں ایسے لوگوں سے یہ ضرور پوچھنا چاہوں گی کہ یہ جو چار، پانچ ہزار دوستوں کا ہجوم کیا آپ کو اپنے عقیقے میں بطور تحفہ ملا تھا یا پھر شادی میں ؟

جناب والا ! اتنی بڑی تعداد اگر آپ کو فالو کررہی ہے، آپ سےکچھ سیکھ رہی ہے تو اس میں آپ کے وائی فائی، پروفائل پکچر، یا یا فون کا کمال نہیں بلکہ آپ کے علم کا کمال ہے جو اللہ کی عطا اور اس کی امانت ہے۔ دوسروں کی دی گئی چیز پر ناز و ادا دکھانا، کبر کا اظہار کرنااہل علم ودانش کو زیب نہیں دیتا۔ بالخصوص صاحبِ علمِ دین کو، آج آپ کے پاس جو کچھ بھی ہے یہ سب اللہ عز وجل کا خصوصی انعام و اکرام ہے۔

رب کریم نے آپ کو تمام مومنین پر فضیلت دی، کیونکہ آپ کے پاس کتاب وسنت کا علم ہے۔ اللہ نےدوسرے لوگوں کے مقابلے میں آپ کے سینے کو ایسے نور سے پُر کردیا جو ظلمت و جہل کی تیرگی کو ختم کرنے والا ہے۔ اور وہ نور "علم کا نور "ہے جسے قرآن اس طرح بیان کرتا ہے: قَدْ جَاءَكُمْ مِنَ اللہِ نُورٌ [المائدة : 15]

خدا کا یہ نور آپ کو اس کے بندوں کی، خیر وبھلائی، داد رسی اور رہنمائی کے لیے عطاکیا گیا ہے نہ کہ اپنے سے کم جاننے والوں کی اہانت اور بے عزتی کرنے کے لیے

آپ بولتے بہت اچھا ہیں، یہ تو آپ کے رب نے آپ کو سکھلایا ہے

آپ لکھتے بہت اچھا ہیں، الفاظ و تراکیب آپ کے گھر کی لونڈی ہیں ، یہ بھی تو رب کی ہی عنایت ہے جو اس نے آپ کو ایسی صلاحيتوں کا مالک بنایا اور آپ کی نوک قلم کو تلوار کی دھار بخشی۔

آپ کو سننے اور پڑھنے والے بے شمار مداح ہیں۔ آپ کے چاہنے والوں کی کمی نہیں ، یہ بھی اسی رب کا ہی کرم ہے جس نے لوگوں کے دل میں عزت واحترام پیدا کیا۔

سوچنے اور افسوس کرنے کی بات ہے کہ شیطان اپنا پانسہ پھینکتا ہے اور اس کا ازلی ٹارگٹ "اہل علم " اس میں پھنس جاتے ہیں۔ بلاوجہ لوگوں کو ڈانٹنا، ان کی تحقیروتذلیل کرنا، سیکھنے سکھانے کے معاملات میں صرف اپنی شرطوں پر بات کرنا، مخاطب کی عزتِ نفس کا خیال رکھے بغیر بار بار ان کو جھڑکنا غیر اخلاقی حرکتیں ہیں۔ اپنے دل میں وسعت پیدا کریں، سائل کواپنے علم کے مطابق کتاب وسنت کی روشنی میں جواب دیں یا لا علمی کی صورت میں سلیقے سے معذرت کرلیں۔ صرف یہ جتلانے کے لیے کہ لوگ آپ سے علم سیکھتے ہیں اور اس دوران وہ کیا کیا حرکتیں کرتے ہیں، کس قدر مضحکہ خیز سوال پوچھتے ہیں ان سب باتوں کو اوپن فورم پر لاکر خود کو سقراط و افلاطون ظاہر نہ کریں۔

آپ کا ہر ایک قاری، ہر ایک سامع آپ کے لیے بیش قیمت ہے یہ ان کی محبت اور چاہت ہی ہے، جنہوں نے آپ کو عروج دیا ہے۔ ورنہ آج آپ بھی کسی اور کی مدح سرائی کررہے ہوتے۔

کوئی بدتمیزی، یا غیر شرعی یا غیر اخلاقی حرکتیں کرتا ہے تو پہلی فرصت میں اس کا راستہ روک دیں۔ لیکن اس کا اثر اوروں پر نہ پڑے کیونکہ بہت سے لوگ خلوص دل کے ساتھ آپ کی تقریر وتحریر سے فائدہ اٹھانے والے ہوں گے، تواضع اور منکسر المزاجی کے ساتھ ان کو احترام دیں۔

اس ضمن میں ہمارے سامنے سب سے بڑی مثال سرور کائنات کی ہے، کیا ہوا جب سرداران قریش کے قبول اسلام کی خواہش میں آپ نے عبداللہ ابن مکتوم رضی اللہ عنہ کے سوال کو کچھ وقت کے لیے مؤخر کیا ۔ اللہ کو اپنے محبوب نبی کی یہ ادا پسند نہیں آئی اس نے آیتیں اتاردیں وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّهُ يَزَّكَّىٰ اور (اے پیغمبر) تمہیں کیا خبر ؟ شاید وہ سدھر جاتا۔ أَوْ يَذَّكَّرُ فَتَنفَعَهُ الذِّكْرَىٰ یا وہ نصیحت قبول کرتا، اور نصیحت کرنا اسے فائدہ پہنچاتا۔

یہ آیت سبھی کے لیے ایک انتباہ ہے کہ اللہ کو یہ بات کتنی ناپسند ہے کہ مومن بندہ اس کے دین کو سیکھنا چاہتا ہو اور سکھانے والا ٹال مٹول کرے یا دوسروں کو اپنے بھائی پر فوقیت دے۔ یقیناً یہی ہمارے لیے مشعل راہ ہے کہ جو حق کا متلاشی ہو اس کی ہر ممکن مدد کی جائے اپنی دوسری مصروفیات اور معذوریوں کو نظر انداز کرکے۔

تبھی شاید ہم اللہ کے دیے گئے علم کاحق صحيح طور پر ادا کر سکیں گے اور اگر کبھی کبر دل میں گھر بنانے لگے تو یہ سوچ لیجیے گا کہ ہر کسی کی شروعات صفر سے ہی ہوتی ہے صفر ہی زندگی کا سب سے بڑا اصول ہے جس نے اسے اہمیت نہیں دی اس نے زندگی سے کچھ نہیں سیکھا۔

نوٹ: خواتین کے انباکس یا اوپن فورم پر انٹریکٹ نہ کرنے اور جواب نہ دینےکو بد تمیزی میں شمار نہیں کیا جائے گا

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */