میں ایک پولیس والا ہوں - سجاد سلیم

میں اس تصویر میں موجود پولیس والا ہوں۔ آج میری کہانی بھی سن لیں۔ بہت سے خیر خواہ، میری یہ تصویر دیکھ کر ہمدردی کا اظہار کر رہے ہیں۔ میں کیا سوچ رہا ہوں، بہت سے لوگ اندازے لگا رہے ہیں۔ کوئی بھی شخص، مجھے ذاتی طور پر نہیں جانتا، لیکن ہر شخص کو پہلے سے پتا ہے کہ میں کرپٹ ہی ہوں گا۔ ہر ٹی وی چینل پر آئے روز میری کرپشن کی کہانیاں، مزے، لے لے کر، چلائی جاتی ہیں۔ کوئی بات نہیں! آج آپ نے میری طرف دیکھ ہی لیا ہے تو میں آپ کو تصویر کا دوسرا رخ بھی دکھاتا ہوں۔

میں بھی آپ ہی کی طرح اپنے والدین کا بچپن سے ہی لاڈلا بیٹا ہوں۔ مجھے ذرا سی چوٹ لگتی تو میرے والدین، میری بلائیں لیتے۔ میری بھی ایک بیٹی ہے، جو دور دراز گاؤں میں رہتی ہے، اور ایک سرکاری سکول میں پہلی جماعت میں، پڑھتی ہےاور مجھ سے بہت پیار کرتی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ ہر عید اس کے ساتھ گزاروں لیکن، نہیں گزار سکتا کیونکہ مجھے عید نماز پڑھنے والوں کی، دہشت گردوں سے، حفاظت کرنی ہے۔

شہر میں حالات کشیدہ ہو جائیں، مائیں، اپنے بڑے ، بچوں کو بھی گھر سے باہر نہیں جانے دیتیں لیکن، مجھے پھر بھی ناکے پر ڈیوٹی دینی ہے۔ میں اپنے فرض سے کوتاہی نہیں کر سکتا۔ میری بندوق بھی پرانے زمانے کی ہے۔ پتا نہیں وقت پہ چلے یا نہ چلے، لیکن مجھے پھر بھی دہشت گردوں سے فرنٹ لائن پر مقابلہ کرنا ہے۔ اگر کسی بلڈنگ میں بم رکھے جانے کی اطلاع ملے تو مجھے سب سے پہلے وہاں پہنچنا ہے۔ عام لوگوں سے بلڈنگ خالی کروانی ہے، لیکن خود وہیں کھڑے رہنا ہے۔ یہ بھی خطرہ ہے کہ دہشت گرد وہاں فائرنگ کر سکتے ہیں یا بم پھٹ سکتا ہے لیکن مجھے پھر بھی حفاظت کرنی ہے۔

اگر میری ڈیوٹی والے علاقے میں، زلزلہ آجائے، سیلاب آجائے، بارشیں آجائیں، بند ٹوٹ جائے تو مجھے سب سے پہلے وہاں پہنچنا ہے لائف جیکٹ ہو نہ ہو، مجھے سب سے پہلے لوگوں کی مدد کرنی ہے اور رپورٹ بنا کر فوراً حکام بالا تک پہنچانی ہے۔

اب آج کے واقعے کی طرف بھی آتا ہوں۔ مجھے میرے افسران ، نے بتایا کہ شہرکی ایک سڑک پر کچھ بلوائیوں نے قبضہ کر لیا ہے۔ حکومت اور ریاست کی رٹ کو چیلنج کیا جا رہا ہے۔ عدالت، جو آئین اور قانون کی تشریح کرتی ہے، اس کا حکم ہے کہ ہم نے ان سے سڑک خالی کروانی ہے اور مظاہرین کو مجبور کرنا ہے کہ وہ سڑک کے علاوہ ، کسی اور جگہ پر دھرنا دیں، یا منتشر ہو جائیں۔ ہمیں یہ بھی بتایا گیا کہ ، مظاہرین کے مذہبی جذبات بھی بھڑکے ہوئے ہیں۔ بڑا مشکل آپریشن ہے لیکن ہمیں حکم کی تعمیل کرنی ہے۔

آپریشن کا آغاز کر دیا گیا۔ میں سب سے آگے تھا۔ ہم تقریباً مظاہرین کو دھکیل چکے تھے، کہ ہمارے پیچھے سے جدید ماسک پہنے اور آنسو گیس پھینکنے والے جدید آلات سے لیس، تربیت یافتہ لوگوں نے حملہ کر دیا۔ اس اچانک حملے کی وجہ سے، ہمارے اپنے لوگ منتشر ہونا شروع ہو گئے۔ ہم نے کنٹرول روم سےرابطہ کیا کہ، ہمیں مدد چاہیے، لیکن ہمیں کوئی مدد نہ مل سکی۔ ہم نے اپنے زخمی ساتھیوں اٹھایا اور پیچھے ہٹ گئے۔ اس وقت بھی ہمارے کئی ساتھی لاپتہ ہیں، 100 سے ذیادہ زخمی اور ایک شہید بھی ہو چکے ہیں۔ ہمارے کئی ساتھیوں کی ذاتی موٹرسائیکلوں کو بھی آگ لگا دی گئی ہے۔

کافی دیر سے بیٹھا، آج کے واقعات کے بارے میں دلبرداشتگی کے ساتھ سوچ رہا ہوں۔ خبر آئی ہے کہ حکومت اور بلوائیوں میں معاہدہ طے پا گیا ہے اور اب ہم سے ہی تفتیش کی جائے گی کہ ہم نے ان کے خلاف آپریشن کیوں کیا؟

اب میرے ذہن میں یہ سوال ابھر رہا ہے، کہ اگر ہم سے ہی تفتیش کرنا تھی، تو آپریشن کے لیے کیوں کہا؟ کیا ایسے ذلیل ہونا ہی میری قسمت ہے؟ میں آنکھیں بند کر کے اپنے افسران اور حکومت کی بات مانتا ہوں۔ میں دن رات اس قوم کی خدمت میں لگا ہوں، چوبیس چوبیس گھنٹے کی ڈیوٹی دیتا ہوں۔ پھر بھی یہ سلوک؟ میں وہ سب کام کرتا ہوں، جو فلموں میں ایک ہیرو کرتا ہے۔ پھر میرے ساتھ ہی یہ سلوک کیوں؟ میں تو کیمروں کے بھی پہنچنے سے پہلے حادثے کی جگہ پر پہنچتا ہوں۔ اگر کسی آپریشن کے دوران میری ہڈی ٹوٹ جائے تو، میرے لیے تو کوئی پولیس ہسپتال بھی نہیں ہے۔ جو تھوڑے بہت پیسے ملتے ہیں، وہ بھی پچاس لوگوں کے دستخطوں سے ملتے ہیں۔ میری ننھی سی بیٹی کی قسمت میں تو کوئی انگلش میڈیم پولیس سکول بھی نہیں ہے۔ مجھے تو اپنی وردی بھی اپنی جیب سے خریدنی پڑتی ہے۔ اگر میں قانون کی عملداری کے لیے اغواء ہو جاؤں، تو میرے لیے تو کوئی ٹی وی شو بھی نہیں ہو گا۔ میں جن مجرموں کو پکڑتا ہوں، ان کے پاس تو مجھ سے بھی بہتر اسلحہ ہوتا ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ میرے مرنے کی صورت میں، مجھے نہیں پتا کہ میں ہیرو کہلاؤں گا یا ولن؟ اگر میں اپنی ڈیوٹی انجام دیتے ہوئے، مارا گیا، تو لوگ تو میری فاتحہ پڑھتے ہوئے بھی شاید یہی سوچیں کہ اس کی فاتحہ کیوں پڑھیں، پتا نہیں اس نے کتنی کرپشن کی ہو گی؟

نہیں نہیں، اب مزید یہاں نہیں رکنا۔ اپنی بچی سے دور، رہ کر اتنی ذلالت کمانے کا کیا فائدہ؟ میں یہ نوکری چھوڑ کر کوئی اور چھوٹا موٹا کام کر لوں گا۔ یہ سوچتے ہوئے میری آنکھوں میں پانی بھر رہا ہے۔ اچانک سے میرے اردگرد، سفید چمکدار روشنی چھانا شروع ہو گئی ہے۔ اس روشنی میں ایک نحیف بزرگ ، شیروانی پہنے کھڑے ہیں۔ غور سے دیکھتا ہوں، اوہ، یہ تو حضرت قائداعظم ہیں۔ وہ مجھے اپنے پاس بلاتے ہیں، شفقت سے میری پیشانی چومتے ہیں اور کہتے ہیں کہ، میرے بیٹے کیوں، غمزدہ ہے، تجھے اس زمینی عزت اور ذلت کی فکر کیوں ستائے جا رہی ہے؟ کیا تمہارے لیے، یہ کافی نہیں ہے، کہ تم نے کئی سیاہ راتیں، جاگ کر گزاریں لیکن، اللہ کے محبوب ترین اور آخری نبی محمد ﷺ کے امتی پر سکون نیند سوئے؟ کیا تم اس لیے بھی غمزدہ ہو کہ تم نے حکومت کی غلط بات مانی؟ توکیا تمہیں مسلم امہ کے عظیم ترین جرنیل، حضرت خالد ؓ بن ولید یاد نہیں ہیں، جو فتوحات پر فتوحات کر رہے تھے کہ حکومت وقت نے ان کی معزولی کا حکم جاری کر دیا اور قاصد کو یہ بھی حکم دیا گیا کہ عظیم سپہ سالار کویہ حکمنامہ، سناتے وقت، خالدؓ کے ہاتھ ان کی کمر کے پیچھے باندھ دیے جائیں۔ اس وقت کون کہتا تھا کہ حضرت عمرؓکا یہ فیصلہ صحیح ہے؟ سب نے کہا کہ اسلامی فتوحات کا راستہ روک دیا گیا۔ عظیم سپہ سالار ہیرو بن کر بغاوت بھی کر سکتے تھے، لیکن انہوں نے خلیفہ کی بات مان کر، ہیرو سے بڑھ کر مسیحا بننا پسند کیا۔ طارق بن زیاد اور محمد بن قاسم نے بھی بے شمار فتوحات کیں، لیکن جب حکومت وقت نے ان کو عہدوں سے فارغ کر دیا، تو انہوں نے بھی حکم قبول کیا، اور، اپنی آخری زندگی، گمنامی میں گزار دی۔

ان عظیم لوگوں ، مسیحاؤں نے حکومت کی بات صرف اس لیے مانی ، کیونکہ حکومت کی بات ماننا ہی صحیح راستہ ہے، باقی سب فساد ہے۔ حضرت قائد اعظم کے الفاظ میرے زخموں کے لیے مرہم بن رہے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں تم کیوں چاہتے ہو، کہ ایک ہیرو کی طرح، تمہارے بھی دائیں اور بائیں، آگے اور پیچھے کیمرے والے ہوں۔ تم پر بھی ڈاکومنٹریاں، اور ترانے بنائے جائیں۔ میرے بیٹے، میرے ملک کے وارث! میری بات ذہن، نشین کر لو کہ تم ہیرو نہیں ہو، تم ہر گز ایک ہیرو نہیں ہو۔ تم ہیرو سے بھی بڑھ کر ہو، تم ایک مسیحا ہو، جسے اللہ نے اس مملکت خداداد کی حفاظت کے لیے بطور فرنٹ لائنر چنا ہے۔ ایک مسیحا کو نام ونمود کی ضرورت نہیں، ہوتی، اسے اس زمینی عزت اور ذلت کی بھی پروا نہیں ہوتی۔

اس کو اس بات کی بھی پروا نہیں ہوتی کہ لوگ اسے صرف اچھے الفاظ میں ہی یاد کریں۔ مسیحااپنا فرض پورا کرتا ہے اور اندھیرے میں گم ہو جاتا ہے۔ اسے ضرورت نہیں ہوتی کہ لوگ اس کے نام کے ترانیں گائیں یا کتابیں لکھیں۔ تم اس ملک کے قانون کے پہلی صف کے محافظ ہو، تم مسیحا ہو، تم ایک پولیس والے ہو۔ تمہاری کالی وردی مسیحائی کی علامت ہے۔ اے پولیس والے، میرے ملک کا خیال رکھنا! اللہ حافظ!

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */