جمہوریت مغرب سے کیوں طلوع ہوئی؟ جواب یہ ہے! - عاطف الیاس

خدا کسی کو ناخن نہ دے اور اگر دے تو ساتھ ہوش بھی دے ورنہ امکان موجود ہے کہ انسان اپنی ہی صورت خود ہی بگاڑ لے گا۔ کچھ ایسا ہی حال ہمارے دیسی سیکولراور لبرل طبقے کا ہے۔ ایک "خرد مند" نے فرمایا کہ اس سوال کہ جمہوریت مغرب سے کیوں طلوع ہوئی؟ کے جواب کے لیے ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا۔ گویا ہم اس مقدس و متبرک ایجاد سے کیوں محروم رہے؟ اس کا حساب دینا ہوگا لیکن جب خود حساب لیا تو کسی عام و خاص کو معاف کیا نہ کسی اُڑتی خبر کو۔ گویا ہر اس گمان کو بھی اُچک لیا جو کسی جن نے کسی کاہن کے کانوں میں پھونکا تھا۔

یہ جملہ بذاتِ خود اپنے اندر جس محرومی کے احساس کو سمیٹے ہوئے، وہ صرف ذہنی غلامی ہی سے جنم لیتا ہے۔ یہ احتسابی واردات نہیں ہےبلکہ یہ اس جرم کی اعترافی واردات ہے جو ہم سے سرزد ہی نہیں ہوا۔ پھر ایک شخص یا قوم جب ذہنی غلامی کے گرداب میں پھنس جاتی ہےتو اسے ساحل بھی مقتل ہی نظر آتا ہے۔ اپنی ہر شے سے نفرت اور بیزاری کا یہ عالم ہوجاتا ہے کہ 'لنڈے کے دانشور' کہلانا بھی اعزاز سمجھتے ہیں۔ خیر، یہ اُن کا ذاتی معاملہ ہے۔ ہم کون ہوتے ہیں ابنِ انشا کی طرح بال کی کھال اتارنے والے؟

لیکن آہ! اس 'خاندانِ ذہنی غلاماں' کے امامِ اول سرسیداحمد خان یاد آگئے۔ وہ بھی انگریزی سرکار کے اتنے شوقین تھے کہ چُن چُن کر باغیوں پر وار کرتے رہے اور سرکارِ انگلشیہ کے راستے میں آنے والی ہر رکاوٹ دور کرتے رہے۔ ایک جگہ فرماتے ہیں: "ہم کو نہایت خوشی ہے کہ مسٹر بلنٹ نے ہمارے ملک کو دیکھا، ہماری قوم کے مختلف گروہوں سے ملے، ہم کو امید ہے کہ انہوں نے ہر جگہ ہماری قوم کو تاجِ برطانیہ کا لائل اور کوئین وکٹوریا ایمپریس آف انڈیا کا دلی خیرخواہ پایا ہو گا۔ "

یہ مرض جب بڑھتا ہےتو غیرت صرف تیمور کے خاندان ہی سے رخصت نہیں ہوتی بلکہ لنڈے کے انگریز بھی اس کی لپیٹ میں آجاتے ہیں۔ اس لیے سرسید اگر ہندوستان کو انگریزوں کی رکھیل بنانے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتے تو آج بھی حیرانی کی بات نہیں۔

ایک اور جگہ فرماتے ہیں: "یہ بات سچ ہے کہ ہم نے ہندوستان میں کئی صدیوں تک شہنشاہی کی۔ یہ بھی سچ ہے کہ ہم اپنے باپ دادا کی شان و شوکت کو نہیں بھول سکتے، لیکن اگر یہ خیال کسی شخص کے دل میں ہو کہ ہم مسلمانوں کو انگلش نیشن کے ساتھ، اس وجہ سے کہ انہوں نے ہماری جگہ ہندوستان کی حکومت حاصل کی، کچھ رشک و حسد ہے تو وہ خیال محض بے بنیاد ہو گا۔ وہ زمانہ جس میں انگریزی حکومت ہندوستان میں قائم ہوئی، ایسا زمانہ تھا کہ بے چاری انڈیا بیوہ ہو چکی تھی، اس کو ایک شوہر کی ضرورت تھی، اس نے خود انگلش نیشن کو اپنا شوہر بنانا پسند کیا تھا تا کہ گاسپل کے عہد نامہ کے مطابق وہ دونوں مل کر ایک تن ہوں۔ ، مگر اس وقت اس پر کچھ کہنا ضرور نہیں ہے کہ انگلش نیشن نے اس پاک وعدہ کو کہاں تک پورا کیا۔"

الغرض اس خاندانِ ذہنی غلاماں کے جد اَمجد اگر غلامی کو جواز دینے کی کوشش کرتے ہوئے یہ کہتے ہیں:
"گو ہندوستان کی حکومت کرنے میں انگریزوں کو متعدد لڑائیاں لڑنی پڑی ہوں مگر درحقیقت نہ انہوں نے یہاں کی حکومت بزور حاصل کی اور نہ مکر و فریب سے، بلکہ درحقیقت ہندوستان کو کسی حاکم کی اس کے اصلی معنوں میں ضرورت تھی، سو اسی ضرورت نے ہندوستان کو ان کا محکوم بنا دیا۔"

تو اولاد تو باپ دادا سے دو قدم آگے ہی چلتی ہے۔ اس لیے آج خود کو ذلیل کہنے والے، اپنی قوم کو گھٹیا سمجھنے والے، اپنے ماضی پر شرم کھانے والے، افکارِ مغرب پر دل و جان سے ایمان لانے والے، انھیں حرزِ جاں بنانے والے اور ہرزمانے بھر کے قصور اپنے گلے میں ڈال کر ڈھول بجانے والے لنڈے کے انگریزوں کی آج بھی کوئی کمی نہیں۔ یہ ہر جگہ خصوصاً ایلیٹ کلاس اور میڈیا میں پائے جاتے ہیں اور وہاں زہر پھونکتے رہتے ہیں۔

خیر، تو موصوف اس سوال کہ جمہوریت مغرب سے کیوں طلوع ہوئی؟ کے جواب میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے شروع ہوئے اور خلافتِ عثمانیہ تک جو چلے تو ہر حد ہی سے گزر گئے۔ کسی کلی سے نہ پوچھا کہ یہ جو میں خبر دے رہا ہوں، کوئی اس کا شناسا بھی ہے کہ نہیں؟ یہ خبرِ واحد ہے یا متواتر؟ جس نے رپورٹ کی وہ معتبر ہے بھی کہ نہیں؟ بس جو زبان پر آیا، قلم کے راستے صفحہ قرطاس پر اتار دیا۔ الغرض تاریخ اسلامی کا ایسانقشہ کھینچا کہ قتل و غارت گری سے بھرپور ہارر فلم بن گئی۔ وہ رپورٹر یاد آگیا جو چار لوگوں کے "ہجوم" پر کیمرہ مار تے ہوئے کہنا لگا کہ لاکھوں لوگ جمع ہیں، گننا مشکل ہے بس میری بات پر یقین کرلیجیے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت سے شروع ہوئے اور پھرہر روزنامچے سے قتل کی گواہیاں ڈھونڈ ڈھونڈ کر لائے۔ پھر اپنی ہی بنائے گئے کلیے سے اس نتیجے پر پہنچے:" اس گہما گہمی میں اورمارا ماری میں تاریخ بنتی گئی۔ مسلمان تاریخ کی شاہراہ پہ بے فکری کی بکل مارے بیٹھے رہے۔ "

پھر مزید اس نتیجے پر پہنچے: "ان کا خیال تھا کہ تجربات محض تجربات ہوتے ہیں۔ خدا کو دھوکہ اور انسان کو چکمہ دیتے رہے۔ بدلتی دنیا کے بدلتے سوالات پہ کان نہیں دھرا۔ سترہ صدیاں گزر گئیں۔ مسلم علمائے کرام وخلفائے عظام اتنا سا جواب تک نہ دے سکے کہ اقتدار سے کسی کو رخصت کرنے کا طریقہ کیا ہوگا؟ رخصتی کا طریقہ کیا بتاتے، آمد کا قرینہ بھی غلاف کعبہ سے ڈھانپ دیا۔ "نئی دنیا نے ایک نئے عمرانی معاہدے کا تقاضا کیا تھا۔ ہم نہ دے سکے، تو مغرب بھی نہ دیتا؟ وہ کیوں؟"

لیجیے کہانی ختم ہوئی! لیکن میرا خیال ہے کہ کہانی تو ابھی شروع ہوئی ہے۔ خدا شاہد ہے کہ ان کے دی ہوئی ہر خبر، ہر قتل، ہر حادثے، ہر ظلم کو کیلوکولیٹر پر شمار کیا تو بھی کُل ملا کر اکتیس لاکھ پچاس ہزار ستاسی (3150087) لوگ شمار میں آئے۔ ان میں وہ خلفا، امرا اور امیر بھی شامل ہیں جو سیاسی اختلافات، اقتدار کی جنگ اور ذاتی مناقشات کی نذر ہوئے اور عام لوگ بھی شامل ہیں۔ اگرچہ پہلے ہی بتا چکا ہوں کہ کسی خبر کی خبر نہیں کہ معتبر کتنی ہے، بس لکھ دیا سو لکھ دیا۔ تو سیاسی اسلام (Political Islam) کی تیرہ سو سالہ خونریز، جنگ و جدل سے عبارت، وحشت اور جنون سے سجی ہوئی اس تاریخ کا کل "سکور" قریب قریب بتیس لاکھ ہے۔ جس کی بنیاد پر نتیجہ یہ نکالا گیا ہے کہ پھر ایسا تو ہونا ہی تھا کہ ہم جمہوریت دریافت کرنے سے محروم رہے اور مغرب بازی لے گیا۔

آئیے اسی کلیے پر اب ذرا اس مغرب کو پرکھتے ہیں جو جمہوریت کا منبع و مرجع ہے۔ انیسویں او ربیسویں صدی یورپ میں جمہوریت کے استحکام کی صدیاں ہیں۔ ان دو صدیوں میں مغرب نے بتدریج جلالِ پادشاہی سے جمہوری تماشے کی طرف رجوع کیا ہے۔ ان دو صدیوں سے پہلے بھی مغرب کی خونیں تاریخ اتنی "خوبصورت اور رنگین " ہے کہ لکھنے کو جی نہیں چاہتا۔ صرف ایک جنگ کا حال بیان کیے دیتا ہوں جسے تاریخ "تیس سالہ جنگ" سے جانتی ہے۔ جو کیتھولک اور پروٹسنٹ مسئلے پر لڑی گئی۔ جو 1618ء سے 1648ء تک جاری رہی۔ اس دوران یورپ کی آدھی سے زیادہ آبادی کا صفایا ہوگیا تھا۔ پھر جب یورپی اقوام نے امریکا کو شرفِ قدم بخشا اور وہاں جاکر مقامی آبادی کا جوصفایا کیا وہ قریباً دس کروڑ ہے۔ جو شاید نسلِ انسانی کی سب سے بڑی نسل کشی ہے۔ اس دوران ان ریڈ انڈینز کے ساتھ جس "محبت اور احترام" کا سلوک کیا گیا وہ الگ کہانی ہے، پھر سہی۔

اب آئیے بیسویں صدی میں جو جمہوریت کی صدی کہلاتی ہے۔ اس صدی میں امریکا اور یورپ نے نہ صرف اپنے ہاں جمہوریت کو قائم کیا بلکہ دنیا کے ہر ملک میں قائم کرنے کی اپنی سی کوشش کی۔ ایک دوسرے سے بھی نبرد آزما رہے۔ تو اس ساری کشمکش میں صرف پندرہ سے بیس کروڑ لوگ ایک صدی میں لقمہ اجل بنے۔ جو معذور ہوئے، بے گھر ہوئے، وہ کہانی پھر سہی۔ صرف 1945 ء کے بعد امریکہ نے 37 ملکوں کو اپنی میزبانی کا شرف بخشا اور اس دوران دو کروڑ لوگ مارے گئے۔ افغانستان اور عراق تو کل کی بات ہے۔

اسے ہرگز غلط نہ سمجھا جائے۔ یہ سب کچھ جمہوریت کے ان مفیدثمرات میں سے ہے۔ جس سے دنیا بیسیوں صدی سے بالکل ناآشنا تھی۔ گویا یہ تو ان کا احسانِ عظیم ہے جو خداوندانِ زمیں نے ہم پر کیا۔ ہمیں شرف بخشا ہے، اس جمہوریت سے، جس کی بنیادیں دس کروڑ ریڈ انڈینز اور پندرہ کروڑ عام لوگوں خصوصا مسلمانوں کا خون سے رنگین ہیں۔

تو امید ہے کہ آپ بخوبی سمجھ چکے ہوں گے کہ جمہوریت ہمارے ہاں سے کیوں طلوع نہ ہوئی؟ اس نے اپنے ظہور کے لیے مغرب ہی کا انتخاب کیوں کیا؟ تو وجہ صاف ظاہر ہے: کہاں بتیس لاکھ "مردار" اور کہاں کروڑوں "شہدا"؟

تو بھئی! اس اعزاز کے لیےجس" تہذیب، اخلاق اور برداشت" کی ضرورت تھی، مسلمان اس سے کبھی مزین نہیں رہے۔ اس لیے یہ صرف مغرب ہی کا حق تھا۔ دوسرا یہ بھی ذہن میں رکھیے کہ اللہ سے بغاوت یعنی انسان کو اقتدارِ اعلی سونپنے جیسے "اعلی ٰ و ارفع" کام کے لیے "خداوندانِ ارتقاء" نے مغرب کا انتخاب اس لیے بھی کیا تھا کہ مسلمان کبھی بھی ایک ان دیکھی ہستی کے "سحر" سے باہر نکل نہیں سکتے تھے۔ اس لیے اہلِ مغرب ہی اس "خلعتِ باغیانہ" کے حق دار قرار پائے۔

Comments

عاطف الیاس

عاطف الیاس

عاطف الیاس ایک نجی کالج میں پڑھاتے ہیں. لکھنے پڑھنے، پھرنے پھرانے اور ٹریکنگ کے شوقین ہیں. عالم، فاضل یا دانشور جیسے الفاظ انھیں زیب نہیں دیتے اس لیے محض اپنی طالب علمانہ رائے کا اظہار کرتے ہیں، لیکن بالیقین نظریاتی طور پر عالم اسلام اور تمام انسانیت کے مسائل کا حل اسلام کے عملی نفاز میں دیکھتے ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • یعنی سر سید کا زاویہ فکر بھی انگریزوں سے متاثر ہوئے نہ رہ سکا؟؟
    ویسے بہت عمدہ تحریر۔۔