”صحافت چھوڑنے کا وقت آگیا؟“ - حامد میر کا خصوصی انٹرویو

پرنٹ و الیکٹرونک میڈیا میں معروف نام حامد میر کے ساتھ خصوصی انٹرویو
انٹرویو: جمال عبداللہ عثمان


حامد میر پاکستانی میڈیا انڈسٹری کا نمایاں نام ہیں۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا، دونوں میں ان کا نام اور کام، نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ 1987ء میں پرنٹ میڈیا سے اپنے کیرئیر کا آغاز کیا۔ ڈیسک پر کام کیا، رپورٹنگ میں کئی معرکے سر کیے، بطور کالم نگار اپنے آپ کو منوایا، اور پھر کم عمری میں اخبار کا مدیر بن کر صحافتی حلقوں کو حیران کر دیا۔ ان کے کئی انٹرویوز نے تہلکہ مچایا۔ اسرائیلی وزیر خارجہ شمعون پیریز کے ساتھ انٹرویو ہو یا ملک کے اندر ہونے والی اہم ترین تبدیلیوں سے متعلق پیشگی خبریں، انہوں نے بہت سے مواقع پر سبقت حاصل کی۔ اُسامہ بن لادن کے ساتھ انٹرویوز نے عالمی سطح پر انھیں شہرت بخشی۔ 2006ء میں اسرائیل نے لبنان پر حملہ کیا تو حامد میر وہاں پہنچے اور گولیوں کی برسات میں خبریں دیں۔

پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا کا قیام عمل میں آیا تو ”کیپٹل ٹاک“ کے عنوان سے شو شروع کیا، جسے بےحد پذیرائی ملی، آغاز سے اس کا شمار پاکستان کے مقبول ترین ٹاک شوز میں ہوتا ہے۔ حامد میر کا کہنا ہے کہ میں حادثاتی طور پر صحافت میں آیا، شاید یہی وجہ ہے کہ انہیں بہت سے ”حادثات“ کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ 2014ء میں ان پر کراچی میں قاتلانہ حملہ ہوا۔ انہیں دوسری زندگی ملی۔ ان کے مطابق پاکستان چھوڑنے کے لیے ان پر بےحد دباؤ تھا، لیکن انہوں نے اسے برداشت کیا۔ حامد میر نے بے شمار ایوارڈز وصول کیے، 2016ء میں انہیں most resilient journalist کا ایوارڈ ملا۔

”دلیل“ نے پاکستان کی اہم شخصیات کے ساتھ انٹرویوز کا سلسلہ شروع کیا۔ جناب حامد میر نے ہماری درخواست پر اس کےلیے طویل وقت دیا اور بہت سے اہم انکشافات کیے۔ ان کے اس اہم ترین انٹرویو کی پہلی قسط آپ کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہے۔


جمال عبداللہ عثمان انٹرویو کرتے ہوئے

دلیل: صحافت میں آج آپ ایک اہم مقام رکھتے ہیں، کیرئیر کا آغاز کب اور کیسے کیا؟

حامد میر: یوں سمجھ لیجیے کہ میں صحافی حادثاتی طور پر بنا۔ اس کی کہانی دلچسپ ہے، البتہ اس سے پہلے یہ بتا دوں کہ لکھنے پڑھنے کا شوق مجھے بچپن سے تھا۔ ”نوائے وقت“ میں میری پہلی تحریر اس وقت شائع ہوئی جب میں چوتھی جماعت کا طالب علم تھا۔ باقی اخبارات کے لیے بھی وقتاً فوقتاً لکھ کر بھیجتا رہا اور تحریریں چھپتی رہیں۔ کالج پہنچا تو فرسٹ ائیر میں ”دی مسلم“ کے لیے ڈائری لکھنا شروع کر دی۔ یہ اخبار اسلام آباد سے نکلتا تھا اور اس وقت اس کے ایڈیٹر مشاہد حسین سید تھے۔ اس کے علاوہ انھی دنوں ”پاکستان ٹائمز“ اور ”ڈان“ کے لیے بھی لکھنا شروع کیا۔

میں بنیادی طور پر کرکٹر تھا۔ صحافی حادثاتی طور پر بنا۔ والد مرحوم نے کبھی میری بہت زیادہ حوصلہ افزائی نہیں کی۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ میں صحافی بنوں۔ والد صاحب زندہ رہتے تو شاید میں صحافت میں نہ آتا

یہ الگ بات ہے کہ والد مرحوم نے کبھی میری بہت زیادہ حوصلہ افزائی نہیں کی۔ دراصل وہ نہیں چاہتے تھے کہ میں صحافی بنوں۔ انھوں نے کئی بار مجھے واضح الفاظ میں سمجھایا کہ پاکستان میں صحافت آسان پیشہ نہیں۔ جنرل ضیاء الحق کی آمریت کا دور تھا۔ صحافت کے لیے بہت ہی کٹھن اور مشکل وقت۔ والد صاحب کو بھی اپنی تحریروں کی وجہ سے کافی مشکلات کا سامنا تھا۔ اس لیے ان کا خیال تھا کہ صحافت اچھا کیرئیر نہیں۔ دوسری بات یہ تھی کہ وہ خود صحافت کے استاذ بھی تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ پاکستان میں جو صحافت یونیورسٹیوں میں پڑھائی جاتی ہے، اس کا معیار زیادہ اچھا نہیں۔ پنجاب یونیورسٹی میں ماس کمیونی کیشن کے چیئرمین ہوتے ہوئے انہوں نے نصاب بدلنے اور اسے جدید بنانے کی کوشش کی، لیکن انہیں کافی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔
”ہمارے ہاں ایم اے جرنل ازم اور میٹرک کا امتحان دونوں برابر ہیں۔“ مجھے ابھی تک اپنے والد کے الفاظ یاد ہیں۔
مجھے محسوس ہوتا تھا کہ وہ میری حوصلہ شکنی کرتے تھے۔ شاید اسی کا نتیجہ تھا کہ میں بھی صحافت کا پیشہ اختیار نہ کرنے سے متعلق اپنا ذہن بناچکا تھا۔ البتہ لکھنے پڑھنے کا سلسلہ ترک نہیں کیا۔

دلیل: لکھنے پڑھنے کا شوق کیسے پیدا ہوا؟ کیا والد صاحب بھی اس سلسلے میں راہنمائی کرتے تھے؟

حامد میر: جیسے میں نے عرض کیا کہ بچپن سے ہی لکھنے پڑھنے کا شوق تھا، اس میں گھر کے ماحول کا اثر ہے۔ والد صاحب تربیت کرتے تھے۔ مختلف انداز سے مختلف اوقات میں بتاتے بھی تھے کہ کیا پڑھنا ہے اور کیسے؟ مثلاً: اگر میں ٹارزن کی کہانی پڑھ رہا ہوں تو وہ مجھے ٹیپو سلطان سے متعلق کوئی کتاب لا کر دیتے کہ یہ پڑھیں۔ ایسا نہیں کہ ٹارزن پڑھنے سے منع کیا ہو، البتہ اسی سے متعلق کوئی اور کتاب بھی لاکر دیتے کہ یہ بھی پڑھیں۔ اسی طرح اسکول کے زمانے کا ایک واقعہ یاد ہے، میں سبط حسن کی کتاب ”ماضی کے مزار“ پڑھ رہا تھا۔ والد صاحب نے دیکھا تو اگلے دن مولانا عبیداللہ سندھی کی آپ بیتی لے کر آئے اور کہا کہ اسے بھی پڑھیں۔ پھر بتایا مجھے پتا ہے کہ یہ آپ جن کی کتاب پڑھ رہے تھے، بائیں بازو کے ہیں، لیکن درحقیقت اسلام کے بھی یہی نظریات ہیں۔ تھوڑا سا فرق ہے، اس سے دونوں کا تناظر سمجھنے میں آسانی ہوگی۔

دلیل: آپ نے بتایا کہ حادثاتی طور پر صحافی بنا، اس کی کچھ تفصیل بتائیے گا۔

حامد میر: میں بنیادی طور پر کرکٹر تھا۔ 1986ء میں فرسٹ کلاس کرکٹ تک پہنچ گیا۔ قائداعظم ٹرافی بھی کھیلی۔ اس دوران میں والد صاحب کا انتقال ہوا۔ والد صاحب کا انتقال 9 جولائی 1987ء کو ہوا۔ میرا بی اے کا نتیجہ نیا نیا آیا تھا۔ بے نظیر بھٹو صاحبہ تعزیت کے لیے ہمارے گھر آئیں۔ پوچھا: نوجوان! آپ کیا کرتے ہیں؟ میں اس وقت گورنمنٹ کالج لاہور میں چوتھے سال کا طالب علم تھا۔ مجھ سے کوئی جواب نہ بن پڑا تو میں نے انہیں بتایا کہ میں کرکٹ کھیلتا ہوں۔ کرکٹ کی طرف میرا رجحان ویسے بھی زیادہ تھا اور میرا خیال بھی یہی تھا کہ مجھے اسی کو کیرئیر بنانا چاہیے۔
no no, you should follow the footstep of your father
یہ کہہ کر وہ چلی گئیں۔

پندرہ سو روپے ماہوار پر ملازمت شروع کی۔ کیرئیر کی شروعات میں سب سے بڑی مشکل یہ تھی کہ میں وارث میر کا بیٹا تھا۔

میں گھر میں بہن بھائیوں میں سب سے بڑا تھا۔ والد صاحب کا انتقال ہوگیا تھا۔ دادا حیات تھے، لیکن وہ کافی بزرگ تھے، ان سے مشورہ نہیں ہوسکتا تھا۔ اسی شش و پنج میں تھا کہ آگے کیا کرنا چاہیے۔ اسی دوران میں روزنامہ جنگ کے اندر اشتہار چھپا: ”ضرورت برائے سب ایڈیٹرز“۔ اپنے اسکول اور کالج کے زمانے کی آٹھ دس اُردو اور انگریزی کی تحریریں اکٹھی کیں اور اپنے کوائف کے ساتھ روانہ کر دیا۔ تحریری ٹیسٹ کے لیے مجھے بلا لیا گیا۔ مجھے آج بھی یاد ہے اے پی پی انگریزی کی کوئی خبر تھی، اس کا ترجمہ کرنا تھا۔ میں نے ترجمہ کیا۔ پھر زبانی ٹیسٹ ہوا، وہ بھی دیا، اس میں بھی کامیاب قرار پایا۔ اس طرح پندرہ سو روپے ماہوار پر مجھے probationary period کے لیے رکھ لیا گیا۔

میں نے نیم دلی کے ساتھ ملازمت شروع کردی۔ ساتھ ہی یونیورسٹی میں داخلہ بھی لے لیا۔ وہاں میرے والد صاحب کے ہم عصر اساتذہ کو پتا چلا تو انھوں نے پوری کوشش کی کہ میں صحافت نہ پڑھوں۔ مجھے ابھی تک یاد ہے ڈاکٹر مسکین علی حجازی صاحب ہمارے چیئرمین تھے۔ انھوں نے مجھے سمجھانے کی بہت کوشش کی۔ انھوں نے کہا کہ میں آپ کا داخلہ ایم بی اے میں کروا دیتا ہوں۔ آپ وہاں کیرئیر بنائیں، صحافت کو چھوڑ دیں، اس کا کوئی فائدہ نہیں

آپ کو ایک دلچسپ بات بتاؤں کہ میں صحافت میں کیوں گیا؟ مجھے دراصل والد صاحب کی بات یاد تھی کہ صحافت میں ماسٹرز اور میٹرک کا امتحان برابر ہے۔ میں نے نوکری شروع کر لی تھی اور ساتھ میں اپنی تعلیم بھی مکمل کرنی تھی تو ذہن میں آیا کہ نوکری کے ساتھ آسانی سے ماسٹرز بھی کرلوں گا۔ چنانچہ اپنی آسانی کے لیے صحافت میں داخلہ لے لیا۔ اگر میرے والد صاحب زندہ رہتے تو شاید میں صحافت میں نہ آتا۔

آٹھ کے بجائے سولہ گھنٹے کام کیا۔ جو بھی کام دیتا، بخوشی لے لیتا۔ ایک لحاظ سے آفس میں ”ریلو کٹا“ بن گیا۔

دلیل: آپ وارث میر کے صاحبزادے تھے، یقیناً کیریئر شروع کرنے کے بعد اس کا فائدہ ہوا ہوگا؟
حامد میر: کیرئیر کی شروعات میں سب سے بڑی مشکل ہی یہ تھی کہ میں وارث میر کا بیٹا تھا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میں لاہور ”جنگ“ نیوز روم میں گیا۔ وہاں جو لوگ تھے، ان میں جنرل ضیاء الحق کے کئی حامی تھے۔ بہت مزاحمت ہوئی۔ ان میں سے ایک سب ایڈیٹر تھے، انہوں نے اپنی ڈاڑھی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا: ”ہم دیکھ لیں گے۔“ بعد میں ان کے ساتھ اچھی دوستی ہوگئی۔ اگرچہ ایسا بھی نہیں تھا کہ سارے ہی مخالف تھے، ان میں میرے ہمدرد بھی تھے۔ لیکن مزاحمت کا سامنا بہرحال زیادہ رہا۔

میں نے لیکن گھبرانے کے بجائے اپنی کارکردگی پر زیادہ توجہ دی۔ آٹھ کے بجائے سولہ گھنٹے کام کیا۔ ایسا بھی ہوا کہ نیوز روم میں آٹھ گھنٹے کام کیا، اس کے بعد دفتر میں بیٹھ کر یا گھر آکر میگزین کا کام شروع کردیا۔ میں ترجمہ کرتا تھا اور اس کی شہرت پورے دفتر میں پھیل چکی تھی۔ میگزین میں میری تحریریں چھپنا شروع ہوئیں۔ پھر ایک بات یہ بھی تھی کہ مجھے جو بھی کام دیتا، میں بخوشی لے لیتا۔
”آپ کا ترجمہ بہت اچھا ہے، یہ ذرا مضمون ہمیں ترجمہ کرکے دے دیں۔“ میگزین والے کسی بھی وقت کہہ دیتے۔
میں ان سے کام لے لیتا۔ اگلے دن کہا جاتا کہ اس موضوع پر لکھ کر بھی دے دیں، وہ بھی کردیتا۔ اس طرح تسلسل کے ساتھ میری تحریریں چھپنے لگیں۔ مثلاً: پیر کے دن سیاسی ایڈیشن میں تحریر چھپی ہے، منگل کے دن ملی ایڈیشن میں آگئی۔ خواتین ایڈیشن کی انچارج میرے والد صاحب کی سابقہ طالبہ تھیں۔ وہاں مرد کا نام نہیں چھپ سکتا تھا، ”ح م“ کے نام سے کسی مضمون کا ترجمہ آگیا۔ میں چونکہ کرکٹر بھی تھا۔ اسپورٹس انچارج شاہد شیخ صاحب مجھ سے اپنے ایڈیشن کے لیے کچھ لکھوالیتے۔ اس طرح میں ”ریلو کٹا“ بن گیا۔

غداری کا الزام لگایا، گاڑی کے نیچے بم رکھ دیا، قاتلانہ حملہ ہو گیا، توہین رسالت کا جھوٹا الزام تک لگ گیا، میرے ساتھ اس سے زیادہ کیا کریں گے؟

مجھے یاد ہے جب بہت زیادہ نام چھپنا شروع ہوا تو معروف صحافی نثار عثمانی صاحب مرحوم نے مجھ سے کہا: یہ ٹھیک نہیں کہ ہر جگہ تمھارا نام چھپ رہا ہے۔ کم ازکم خواتین ایڈیشن میں تو نام چھپوانے سے گریز کرو۔ میں ان سے کہتا میں نہیں چاہتا کہ ہر جگہ میرا نام چھپے، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ مجھ سے انکار نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا: اب کام کے ساتھ ”انکار“ بھی سیکھو۔ انکار نہیں کرسکتے تو کم ازکم یہ تو کہہ سکتے ہو کہ نام کا مخفف بھی نہ چھپے۔ سارا شہر جانتا ہے کہ ”ح م“ کون ہے۔ اسپورٹس کے صفحے کے لیے بھی یہی کہا کہ نام نہیں آنا چاہیے۔ مجھ میں انکار کی ہمت نہیں تھی۔ یہ فن مجھے نثار عثمانی صاحب نے سکھایا۔ آہستہ آہستہ میں نے انکار بھی سیکھا۔

کہنے کا مقصد یہ ہے کہ وارث میر کا بیٹا ہونے کے ناتے کچھ لوگوں کی ہمدردیاں ضرور تھیں، لیکن اس وجہ سے مشکلات بھی بہت آئیں۔ مجھے اس کا شدید احساس تھا اور اسی وجہ سے 1987ء سے 1992ء تک بہت محنت بھی کی۔ میں نے چھٹی بھی بہت کم ہی کی۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس محنت میں میرا کرکٹ کا stamina بھی کام آ رہا تھا۔ میں کرکٹ میں اوپننگ بیٹسمین اور وکٹ کیپر تھا۔ پہلے بیٹنگ کرنا اور پھر 50 اوورز تک وکٹ کیپنگ، بہت مشکل کام ہوتا ہے۔ مگر جسمانی مشقت کی عادت نے مجھے صحافت میں زیادہ دیر تک کام کرنے کا عادی بنایا۔ لوگ بہت حیران ہوتے تھے کہ یہ اکیلے اتنا کام کیسے کرلیتا ہے۔

دلیل: والد صاحب نے حوصلہ افزائی نہیں کی، لیکن پھر بھی صحافت میں آئے۔ کوئی ایسا موقع آیا کہ سوچا ہو کاش! والد صاحب کے مشورے پر عمل پیرا ہوتا؟

حامد میر: اگست 1990ء کی بات ہے۔ میں ایک نوجوان رپورٹر تھا۔ میں نے جنگ لاہور میں ایک شام خبر فائل کی کہ صدر غلام اسحق خان نے بے نظیر حکومت برطرف کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ خبر نیوز ایڈیٹر خاور نعیم ہاشمی صاحب کے پاس پہنچی تو انہوں نے پڑھتے ہی اس پر دوسرے کاغذ رکھ دیے تاکہ کوئی دیکھ نہ سکے۔ یہ بہت بڑی خبر تھی۔ ہاشمی صاحب نے مجھ سے ”سورس“ پوچھا۔ مختلف سوالات کیے۔ جس طرح ایک نیوز ایڈیٹر اپنے رپورٹر سے کرتا ہے۔ کہنے لگے: اس میں فلاں کا ورژن بھی ڈالو۔ میں نے کہا: اس طرح تو خبر رُک جائے گی۔
”اچھا! تو مینوں سورس دس دے“۔
میں نے ان سے کہا: ”سورس“ دونوں طرف کا ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کا۔ پوچھا: دونوں کہہ رہے ہیں کہ حکومت جا رہی ہے؟ میں نے کہا: جی دونوں کہہ رہے ہیں کہ حکومت برطرف ہو رہی ہے۔ انہوں نے ”حکومت کے سورس“ پر زیادہ زور دیا۔ کہنے لگے: حکومتی سورس خواجہ طارق رحیم تو نہیں؟ میں نے کہا: وہی ہیں!
میں طارق رحیم کی کافی خبریں فائل کرچکا تھا۔ وہ اس وقت وزیر پارلیمانی امور تھے۔ جمعہ کو لاہور چلے جاتے تھے۔ تین دن وہاں گزارتے۔ مجھے ان سے اہم خبریں مل جاتیں۔

بے نظیر حکومت کی برطرفی کی خبر دی تو سورس معلوم کرنے کے لیے کپڑے اتار کر بہیمانہ تشدد کیا گیا لیکن میں نے نام نہیں بتایا۔ اس کا نام آج آپ کو بتا دیتا ہوں، وہ تھے اعجاز الحق۔ ہمارا خاندان چونکہ ضیاء الحق مارشل لا کے خلاف مزاحمت کے لیے مشہور تھا، سو مجھے یہ خوف دامن گیر ہوا کہ لوگ کیا سوچیں گے۔

خیر! خبر فائل کرکے میں اپنے کاموں میں مصروف ہوگیا۔ تھوڑی دیر بعد خبر دیگر اسٹیشنوں کے لیے چلی گئی۔ لاہور سے راولپنڈی اسٹیشن پہنچی تو ہلچل مچ گئی۔ تقریباً آٹھ، ساڑھے بجے رات کے وقت میں دفتر میں بیٹھا تھا۔ فون کی گھنٹی بجی، ریسپشن سے بتایا گیا کہ کچھ لوگ آپ سے ملنے آئے ہیں۔ میں سمجھا میرا کوئی ”سورس“ ہوگا۔ میں نے استقبالیہ (reception) پر بتایا کہ انھیں اوپر بھیج دیں۔ دوسری طرف سے کہا گیا کہ وہ آپ سے نیچے ہی ملنا چاہ رہے ہیں۔ جب میں نیچے گیا تو ایک آدمی نے مجھ سے ہاتھ ملایا، گاڑی کا دروازہ یکدم سے کھلا اور مجھے کھینچ کر اس میں اندر پھینک دیا۔ مجھ پر کمبل ڈالا اور ”کمبل کٹ“ کا محاورہ مجھ پر صادق آنے لگا۔

اسی حال میں مجھے ایک جگہ لے جایا گیا۔ جتنا وقت لگا اور راستے میں جو بدبو آرہی تھی، اس سے مجھے اندازہ ہوا کہ یہ ظفرعلی روڈ کا علاقہ ہے۔ مجھے اندر کسی گھر یا دفتر میں لے گئے، مارنا شروع کر دیا۔ پوچھنے لگے: خبر کہاں سے ملی ہے؟ میں نے انجان بن کر کہا: کون سی خبر؟ کہنے لگے: ”بھولے بن رہے ہو!“ اور تھپڑ مارنے لگے۔ میں سمجھ گیا کہ یہ ایجنسی کے لوگ ہیں، البتہ یہ معلوم نہیں ہو رہا تھا کہ کس ایجنسی سے تعلق رکھتے ہیں۔ تھوڑی دیر بعد ایک سوٹڈ بوٹڈ آدمی اندر آیا۔ کہنے لگا: بتادو خبر کس نے دی ہے؟ ورنہ ہم بہت ماریں گے۔ جس طرح ایک نوجوان صحافی ہوتا ہے، اسے مار پڑتی ہے، سورس پوچھا جاتا ہے اور انکار میں وہ کہتا ہے: میں تمہیں سورس نہیں بتاؤں گا۔ میں نے بھی وہی انداز اختیار کیا اور صاف انکار کر دیا۔
”یہ ایسے نہیں مانے گا، اُتارو اس کے کپڑے۔“
یہ کہا اور زبردستی میرے کپڑے اُتارنے کے لیے جھپٹ پڑے۔
میں تشدد سہ سکتا تھا، لیکن یہ میرے لیے ناقابلِ برداشت تھا۔
میں نے کہا: میں بتاتا ہوں میرا سورس کون ہے؟
دوسری طرف سے انکار ہوا اور کہا گیا اب تو کپڑے اُتریں گے۔ میرے کپڑے اُتارے گئے، لٹا کر مجھے مارنا شروع کردیا۔
خوب مار کے بعد کہا: اب بتاؤ سورس؟
میں نے کہا: اب تو بالکل نہیں بتاؤں گا۔
کہنے لگے: ابھی تو بہت کچھ کرنا باقی ہے۔
میں نے کہا: اس سے زیادہ کیا کرلیں گے؟
کہنے لگے: اس کے علاوہ انڈروئیر بھی اُتاریں گے۔
میں پھر ہل گیا اور کہا: میں سورس بتاتا ہوں۔
میں نے طارق رحیم صاحب کا نام لیا۔ پھر بھی جان نہیں چھوٹی۔ کہنے لگے کہ تمھارا سورس ایک نہیں، دوسرے کا نام بھی بتا دو۔
”انہیں آخر کیسے پتا چلا کہ دوسرا سورس بھی ہے“ میری پریشانی مزید بڑھی۔
”تم نثار عثمانی کے پاس بہت اُٹھتے بیٹھتے ہو۔ وہ ہمیشہ نوجوان صحافیوں سے کہتے ہیں کہ خبر کو ڈبل چیک کرو۔ یقیناً دوسرا سورس بھی ہوگا۔“ انہوں نے وضاحت کی۔
”یہ عام لوگ تو نہیں۔ انہیں ہماری اندر کی باتیں تک معلوم ہیں۔ انہیں یہ بھی پتا ہے کہ میں نثار عثمانی صاحب کے پاس اُٹھتا بیٹھتا ہوں۔“ میں دل ہی دل میں پکار اُٹھا۔
میں نے ان سے کہا: نثار عثمانی صاحب پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ کے صدر ہیں اور میں ایک صحافی، ان کے پاس آنا جانا رہتا ہے۔ ان کا اصرار مگر یہی تھا کہ دوسرا سورس بتاؤ۔ میں انہیں دوسرا سورس بتانا نہیں چاہ رہا تھا، اس لیے کہ وہ غیرمحفوظ اور حساس تھا۔ سیاست سے ہی ان کا تعلق تھا۔ میرا خیال یہ تھا کہ دوسرے سورس کا نام بتا دیا تو میں بدنام ہوجاؤں گا۔ اس کا نام آج آپ کو بتا ہی دیتا ہوں، وہ تھے اعجاز الحق۔ ہمارا خاندان چونکہ ضیاء الحق مارشل لا کے خلاف مزاحمت کے لیے مشہور تھا، سو مجھے یہ خوف دامن گیر ہوا کہ لوگ کیا سوچیں گے۔ دراصل اس کی کہانی بھی کچھ یوں تھی کہ اعجاز الحق کسی تقریب میں ملے۔ حال احوال پوچھا، باتوں باتوں میں کہنے لگے: یہ حکومت جا رہی ہے۔ یہ ایک طرح سے ٹپ تھی، میں نے اس پر کام شروع کیا تو ایک بڑی خبر بن گئی۔

یہ بھی پڑھیں:   آپ آزاد ہیں! آپ آزاد ہیں؟ - قادر خان یوسف زئی

اغوا کرکے لے جانے والوں نے پھر مجھے مارنا شروع کر دیا۔ جب بہت مار پڑی اور آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا تو کہا: اتنی مار کھانے کے باوجود دوسرا سورس نہیں بتا رہے؟ میں نے کہا: اگر میں نے بتا دیا تو میری بہت بدنامی ہوجائے گی۔ کہنے لگے: تیرا سورس کوئی طوائف ہے جو بدنامی ہوگی؟ میں نے کہا: نہیں! میرا سورس اعجاز الحق ہیں۔ وہ ہنسنا شروع ہوگئے۔ مختصر یہ کہ جان چھوٹی، انہوں نے مجھے اُٹھایا، کپڑے پہننے کو دیے اور گاڑی میں بٹھا کر کچھ دور پھینک دیا۔ میں جب کھڑا ہوا تو میرا اندازہ بالکل درست ثابت ہوا تھا، یہ ظفر علی روڈ کا ہی علاقہ تھا۔

والدہ سے کہا: ابو ٹھیک کہتے تھے، صحافت میں تو کپڑے اُتر جاتے ہیں۔ یہ میرے لیے بہت ہی تضحیک آمیز ہے۔ والدہ نے جواب دیا: بیٹا! یہاں صرف صحافیوں کے نہیں، سیاست دانوں کے بھی کپڑے اُترتے ہیں اور پھر تاریخ ان کے کپڑے اُتارتی ہے۔

مجھ سے میرا بٹوہ چھین لیا گیا تھا۔ میرے پاس گھر پہنچنے کے لیے کرایہ بھی نہیں تھا۔ پیدل چلنا شروع کیا اور گھر تک بڑی مشکل سے پہنچا۔ والدہ نے دیکھا، میرے جسم پر نیل پڑے ہیں۔ انھوں نے دودھ میں ہلدی ڈال کر مجھے دیا، بام لگائی۔ اس وقت میں نے اپنی والدہ سے کہا: ”ابو صحیح کہتے تھے کہ یہ صحافت اچھی چیز نہیں۔“ میں نے کہا: بندہ فوج میں جائے، ملک کے لیے غازی یا شہید ہوجاتا ہے۔ سیاسی کارکن جیل چلا جائے تو اسے زیادہ سے زیادہ مار پڑ جاتی ہے، لیکن یہاں تو کپڑے اُتر جاتے ہیں۔ یہ میرے لیے بہت ہی تضحیک آمیز ہے۔ میری والدہ نے کہا: بیٹا! یہاں صرف صحافیوں کے نہیں، سیاست دانوں کے بھی کپڑے اُترتے ہیں اور پھر تاریخ ان کے کپڑے اُتارتی ہے۔
”پہلی بات یہ ہے کہ تمہیں صحافت میں آنا نہیں چاہیے تھا۔ تمھارے باپ نے تمھیں روکا تھا۔ اب اگر آ کر بھاگوگے تو لوگ کہیں گے وارث میر کا بیٹا خوفزدہ ہوکر بھاگ گیا۔“ والدہ نے مجھے کہا اور ساتھ ہی حبیب جالب کے پاس جاکر ان سے مشورہ لینے کا بتایا۔
حبیب جالب سے والد صاحب کی قربت تھی، میرا بھی ان کے ساتھ اچھا تعلق تھا۔ میں ان کے پاس گیا اور انھیں بپتا سنائی۔ انھوں نے کہا: تمہارے ساتھ پہلی بار ہورہا ہے، میرے ساتھ یہ کئی بار ہوچکا ہے۔ اتنی جلدی حوصلہ ہارگئے ہو؟ یہ تو کچھ بھی نہیں، ابھی تمہارے ساتھ بہت کچھ ہوگا۔ لیکن ڈٹے رہنا ہے، صحافت نہیں چھوڑنی۔
یہ ایک موقع تھا جب میں نے سوچا تھا کہ صحافت میں آنے کا فیصلہ غلط تھا۔ لیکن والدہ اور جالب صاحب نے مجھے حوصلہ دیا۔ اس کے بعد بہت کچھ ہوتا رہا، لیکن یہ احساس زیادہ شدت سے پیدا نہیں ہوا۔

البتہ ایک موقع 2014ء میں بھی آیا۔ جب مجھے گولیاں لگیں اور میں ہسپتال میں پڑا تھا۔
”کیا میری والدہ نے مجھے صحیح مشورہ دیا تھا یا غلط“ میں نے ایک بار پھر سوچا۔
جب آہستہ آہستہ مجھے معلوم ہوتا گیا کہ اس ہسپتال کے باہر، اس کی راہداریوں میں بہت سے لوگ میری سلامتی کے لیے دُعائیں مانگ رہے ہیں، تو پھر میں اس نتیجے پر پہنچا کہ والدہ نے صحیح مشورہ دیا تھا۔ اس حملے کے بعد بہت سے لوگوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان چھوڑدو۔ یہاں اب آپ کا کوئی مستقبل نہیں۔ میرا جواب مگر یہی ہوتا کہ جس اللہ نے مجھے زندگی دی ہے، جن کی دُعاؤں کے طفیل میں زندہ بچا ہوں، اگر یہ میرے ساتھ کھڑے ہیں تو مجھے بھی ان کے ساتھ کھڑے رہنا ہے۔

آبدوز اسکینڈل پر کالم لکھا تو آصف زرداری کا نام لے کر ملازمت سے فارغ کروا دیا گیا، بےنظیرصاحبہ نے اخبار انتظامیہ سے بات کرکے بحال کروایا۔ میں نے بحالی کے بعد استعفیٰ لکھا، جس میں یہ مینشن کیا کہ مجھے بغیر کسی وجہ کے نوکری سے برخاست کیا گیا، میں بھی آپ کو کوئی وجہ بتائے بغیر استعفیٰ دے رہا ہوں۔ میں نے ابھی تک وہ استعفیٰ سنبھال کر رکھا ہوا ہے۔

دلیل: مستقل کالم نگاری کا سفر کیسے شروع ہوا؟

حامد میر: 1994ء کا سال تھا۔ میں نے آبدوز اسکینڈل پر ایک آرٹیکل لکھا۔ جس میں آصف علی زرداری صاحب کا نام بھی تھا۔ میں نے زرداری صاحب پر براہِ راست کوئی الزام نہیں لگایا تھا، بلکہ میں نے ان کے کچھ دوستوں کا ذکر کیا کہ وہ اس میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ پھر اس میں چائنیز اور فرنچ آبدوزوں کا ذکر تھا کہ کون سی ڈیل پاکستان کے لیے بہتر ہے اور اس میں کس کا کیا مفاد ہے؟ جب یہ خبر چھپ کر آئی تو ہمارے سینئر اور آصف علی زرداری صاحب کے دوست اظہر سہیل صاحب نے اخبار انتظامیہ سے کہا کہ اگر آپ کو ٹی وی چینل کھولنا ہے تو آصف علی زرداری کو ناراض تو نہیں کرسکتے۔ ٹی وی چینلز کی باتیں اس زمانے سے چل رہی تھیں۔
اسی کا نتیجہ تھا کہ صبح گیارہ بجے مجھے بغیر کسی شوکاز نوٹس کے ملازمت سے فارغ کردیا گیا تھا۔ مجھے بتایا گیا کہ زرداری صاحب نے آپ کو ملازمت سے نکلوا دیا ہے۔ اگلے دن روزنامہ خبریں میں ضیاء شاہد صاحب نے صفحہ اول پر خبر چھاپ دی کہ آبدوز اسکینڈل کی اسٹوری پر حامد میر نوکری سے فارغ۔ شہباز شریف اور چوہدری نثار علی خان نے پریس کانفرنس بھی کر دی اور قومی اسمبلی میں بھی یہ ایشو اُٹھا۔ میں لاہور میں ہی تھا، بے نظیر بھٹو صاحبہ وزیراعظم تھیں، انہوں نے مجھے اسلام آباد بلایا اور کہا کہ یہ کیسے ہوگیا؟ میں نے تو آپ کو نہیں نکلوایا۔ میں نے ان سے کہا کہ مجھے تو یہی بتایا گیا ہے کہ آصف علی زرداری صاحب نے مجھے نکلوایا ہے۔
محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ نے آصف علی زرداری صاحب سے میری ملاقات کروائی تو انھوں نے اس کی تردید کی اور کہا کہ میرا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں۔ اسی وقت میرے سامنے اخبار انتظامیہ سے بات کی اور مجھے بحال کروا دیا۔ مجھے شدید دھچکا لگا اور سوچا کہ میری عزتِ نفس مجروح ہوا ہے۔ میں نے فیصلہ کیا کہ اب مجھے یہاں مزید ملازمت برقرار نہیں رکھنی چاہیے۔ میں نے بحالی کے بعد استعفیٰ لکھا، جس میں یہ مینشن کیا کہ مجھے بغیر کسی وجہ کے نوکری سے برخاست کیا گیا، میں بھی آپ کو کوئی وجہ بتائے بغیر استعفیٰ دے رہا ہوں۔ میں نے ابھی تک وہ استعفیٰ سنبھال کر رکھا ہوا ہے۔ میں نے روزنامہ ”جنگ“ سے استعفیٰ دیا اور روزنامہ ”پاکستان“ جوائن کر لیا۔ منو بھائی روزنامہ جنگ میں آگئے تھے، میں وہاں چلا گیا۔ وہاں میں نے کالم لکھنا شروع کردیا۔ آپ یوں کہہ سکتے ہیں کہ میں منو بھائی کے متبادل کے طور پر روزنامہ ”پاکستان“ آیا۔

تحریک نجات کے دوران ایک کالم لکھا، جس سے ناراض ہو کر وزیراعلیٰ پنجاب منظور وٹو نے روزنامہ ”پاکستان“ کے ایڈیٹر اکبر علی بھٹی صاحب سے کہا کہ حامد میر کو نوکری سے فارغ کر دیں۔

جنگ سے فراغت کی اصل کہانی کچھ یوں تھی کہ اس واقعہ سے کچھ ہی عرصہ پہلے یعنی جنوری 1994ء میں مجھے اخبار نے اس وقت کی وزیراعظم بے نظیر بھٹو صاحبہ کے دورہِ سوئزر لینڈ میں مجھے کوریج کے لیے بھیجا۔ وہاں میں نے اسرائیلی وزیر خارجہ شمعون پیریز کا انٹرویو کیا۔ یہ ایک بڑا اہم انٹرویو تھا۔ اظہر سہیل صاحب بھی اس دورے میں تھے۔ انہیں معلوم ہوا تو کہنے لگے: اس میں میرا بھی نام جائے گا۔ وہ کافی سینئر تھے۔ میں سمجھا شاید مذاق کر رہے ہیں۔ کیونکہ انٹرویو میں نے ہی کیا تھا، اس میں ان کا کوئی کردار ہی نہیں تھا۔ اس پر وہ ناراض ہوگئے اور اس کا اظہار بھی انھوں نے اسی وقت کر دیا۔ ایک وجہ یہ تھی کہ اس زمانے میں جس طرح پیپلزپارٹی کے اندر بےنظیر بھٹو اور آصف علی زرداری گروپ تھے، اسی طرح صحافیوں کے اندر بھی دو گروپ تھے۔ ایک بے نظیر بھٹو کا حامی، دوسرا آصف علی زرداری کا۔ انہوں نے خود ہی مجھے اپنے مخالف گروپ میں دھکیل دیا۔ تو جنگ چھوڑنے کے بعد میں روزنامہ پاکستان آگیا اور یہاں سے باقاعدہ کالم نگار شروع کردی۔

دلیل: لاہور سے صحافت کا آغاز کیا، اسلام آباد کیسے آئے اور کالم نگاری کے بعد اخبار کی ادارت کیسے ملی؟
حامد میر: 1995ء میں نوازشریف نے بے نظیر بھٹو حکومت کے خلاف تحریک نجات شروع کی۔ ریگل چوک پر جاوید ہاشمی صاحب کو پولیس نے بہت مارا۔ میں بھی وہاں موجود تھا۔ مجھے اور مہناز رفیع کو بھی مار پڑی۔ نواز شریف صاحب کی گاڑی پر فائرنگ بھی ہوئی۔ اس پر میں نے کالم لکھا: ”جو میں نے دیکھا۔“ میں نے لکھا کہ مسلم لیگ والوں کو بہت مار پڑی ہے۔ اگلے دن میرا کالم چھپ گیا تو نواز شریف نے ماڈل ٹاؤن میں ایک پریس کانفرنس طلب کی اور کہا کہ مجھ پر جو فائرنگ ہوئی ہے، اس کا ایک گواہ بھی یہاں موجود ہے۔ چونکہ حکومت اس کی تردید کر رہی تھی کہ نواز شریف کی گاڑی پر فائرنگ ہوئی ہے۔ چنانچہ نواز شریف نے کہا: گواہ یہاں موجود ہیں۔ اور پھر نام لے کر کہا: وہ گواہ حامد میر صاحب ہیں۔

میرے لیے یہ بالکل غیرمتوقع تھا۔ میں نے جو دیکھا تھا، وہ لکھ دیا تھا۔ میں نے اس وقت ہاں یا ناں میں جواب نہیں دیا۔ اگلے دن اخبارات میں خبر چھپی کہ حامد میر نے نواز شریف کی گاڑی پر فائرنگ کی تصدیق کر دی۔ اس وقت وزیراعلیٰ پنجاب منظور وٹو صاحب تھے۔ انہوں نے روزنامہ ”پاکستان“ کے ایڈیٹر اکبر علی بھٹی صاحب سے کہا کہ حامد میر کو نوکری سے فارغ کر دیں۔ بھٹی صاحب مرحوم نے مجھے بلایا اور کہا: یہ مسئلہ ہوگیا ہے۔ کہنے لگے لگ یہ رہا ہے کہ ”اس کے پیچھے بھی وہی لوگ ہیں جنہوں نے تمھیں اس سے پہلے جنگ سے نکلوایا تھا۔ تم نوجوان ہو، مگر تمھارے دشمن بہت بڑے بڑے ہیں۔“ پھر مجھے بھٹی صاحب نے کہا کہ تمھیں میں فی الحال اسلام آباد بھیج رہا ہوں۔
”یہ بہت زیادتی ہے، آپ مجھے لاہور بدر کر رہے ہیں!!!“ میں نے ان سے احتجاج کے انداز میں کہا۔
”اچھا کچھ دنوں کے لیے چلے جاؤ۔ لاہور نظر نہ آؤ تاکہ کم ازکم وزیراعلیٰ کی بات رہ جائے۔“ انہوں نے تسلی دیتے ہوئے کہا۔

میں خود اسلام آباد نہیں آیا تھا، بلکہ ایک طرح سے بطورِ سزا بھیجا گیا تھا جو مجھے راس آیا اور اس میں وہی لوگ ملوث تھے جو اس سے پہلے بھی میرے خلاف سازش کرچکے تھے۔ پنجابی میں کہتے ہیں: ”کبے نوں لت راس آگئی۔“

اس طرح میں اسلام آباد آگیا۔ روزنامہ ”پاکستان“ اسلام آباد کا دفتر میلوڈی مارکیٹ میں تھا۔ مجھے یاد ہے کہ میرے پاس یہاں رہنے کی جگہ نہیں تھی۔ دفتر میں ہی سوجاتا یا پھر لاہور سے میرے دوست عامر متین اور ہما علی کے ہاں چلا جاتا۔ عامر متین اس وقت ”دی نیشن“ میں کام کرتے تھے۔ چونکہ میری فیملی لاہور میں تھی، میرے پاس یہاں سوائے صحافت کے، کرنے کو کچھ نہیں تھا سو میں یہی کرتا رہا۔ ہفتے کے ساتوں دن میرا کالم چھپنے لگا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میں خبروں کی تلاش میں پورا دن مختلف دفاتر میں پھرتا، پارلیمنٹ ہاؤس چلا جاتا۔ شام کو کبھی احمد فراز صاحب کے پاس گپ شپ لگانے چلا جاتا۔ اس وقت اسلام آباد اتنا آباد شہر نہیں تھا۔
ایک دن مجھے خوشخبری سنائی گئی کہ آپ کو ایڈیٹر بنادیا گیا ہے۔ میں کالم لکھ رہا تھا اور میرا کالم کافی مقبول تھا۔ انتظامیہ کا خیال تھا کہ اس فیصلے سے اخبار کو فائدہ ہوگا۔ ایڈیٹر بننے کے بعد میں نے یہاں اپنے لیے ایک چھوٹا سا کمرہ رہائش کے لیے تلاش کیا۔ فیملی بھی یہاں منتقل ہوگئی۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ میں خود اسلام آباد نہیں آیا تھا، بلکہ ایک طرح سے بطورِ سزا بھیجا گیا تھا جو مجھے راس آیا اور اس میں وہی لوگ ملوث تھے جو اس سے پہلے بھی میرے خلاف سازش کرچکے تھے۔ پنجابی میں کہتے ہیں: ”کبے نوں لت راس آگئی۔“

صحافت میں میرا تیسواں سال ہے۔ صحافت کے لیے جتنا سخت نوازشریف کا دور ہے، بطورِ صحافی جنرل ضیاء الحق کے دور میں اتنی سختی نہیں دیکھی۔ پرویز مشرف کے دور میں اتنی مشکلات کا سامنا نہیں کیا۔ ان چار سالوں جیسی مشکلات کبھی نہیں دیکھیں۔

دلیل: آپ نے جنرل ضیاء الحق کا دور دیکھا، پرویز مشرف کی آمریت کا دور بھی خاصا مشکل تھا، جمہوری حکومت میں آپ پر قاتلانہ حملہ ہوا، ان تمام ادوار کو صحافت کے لیے کیسا دیکھتے ہیں؟

حامد میر: میں آپ سے وہ بات کرنے لگا ہوں جو میں نے اس ملک کے وزیراعظم کے دفتر میں بیٹھ کر ان سے کہی تھی۔ صحافت میں میرا تیسواں سال ہے۔ پچھلے سال نواز شریف سے وزیراعظم ہاؤس میں، ان کے دفتر میں بیٹھ کر کہا کہ صحافت کے لیے جتنا سخت آپ کا دور ہے، بطورِ صحافی جنرل ضیاء الحق کے دور میں اتنی سختی نہیں دیکھی۔ پرویز مشرف کے دور میں اتنی مشکلات کا سامنا نہیں کیا۔
”کی گلاں کر رہے ہو جی؟“ نواز شریف نے حیران ہوکر پوچھا۔
میں نے کہا: میں یہ نہیں کہہ رہا کہ یہ آپ کررہے ہیں، لیکن آپ کی کمزور حکومت اور پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان کی صحافت چاروں طرف سے حملوں کی زد میں ہے۔ ہمیں اسٹیٹ ایکٹر بھی مار رہا ہے۔ ہمیں نان اسٹیٹ ایکٹر بھی نہیں چھوڑ رہا۔ ہمیں سیاسی اور مذہبی جماعتیں الگ سے بلیک میل کر رہی ہیں۔ سب سے افسوسناک بات یہ ہوئی کہ ہمیں آپس میں تقسیم کردیا گیا اور ہم آپس میں لڑ رہے ہیں۔ میں نے انہیں بہت سی مثالیں دیں۔ میں نے کہا: جنرل ضیاء الحق کے دور میں ہمیں کوڑے ماردیے جاتے یا زیادہ سے زیادہ جیل ہمارا مقدر ہوتی۔ پرویز مشرف کے دور میں گولی ہماری قسمت میں آئی۔ حیات اللہ خان کو اغوا کر کے شہید کیا گیا۔ اب مگر اس سے زیادہ افسوسناک صورتِ حال ہے۔ صحافی پر پہلے حملہ کرتے ہیں، اس کے بعد اس کی کردار کشی کی جاتی ہے۔ جسمانی نقصان کے ساتھ اس پر نفسیاتی حملے ہوتے ہیں۔ سویلین حکومت ہمیں پیمرا کے ذریعے الگ سے بلیک میل کرتی ہے۔ جو invisible حکومت ہے، وہ ہمیں ڈرانے دھمکانے کے لیے دوسرے طریقے اختیار کرتی ہے۔ آپ کا کام تھا کہ یہ سب روکتے، لیکن بدقسمتی سے بعض اوقات آپ ان کی حوصلہ افزائی کرتے دکھائی دیے۔

یہ بھی پڑھیں:   پرویز مشرف کیخلاف خاموشی پر کیا پیشکش ہوئی؟ حامد میر کا خصوصی انٹرویو (2)

”حالات اتنے خراب ہوگئے ہیں کہ اگر کبھی آپ پر مشکل وقت آیا تو جمہوریت پسند صحافیوں میں سے کوئی آپ کے ساتھ کھڑا نہیں ہوگا۔“
میں نے نواز شریف سے اس ملاقات میں واضح کہا۔ میں سمجھتا ہوں کہ میری تیس سالہ صحافتی کیرئیر میں میں نے جتنی مشکلات پچھلے چار سالوں میں دیکھی ہیں، کبھی نہیں دیکھیں۔

ایک طرف میرے جسم میں گولیاں پیوست ہوئیں تو دوسری طرف مجھے توہین رسالت کا مجرم بنا دیا گیا۔ یہ سب سے تکلیف دہ بات ہے۔ جنرل راحیل شریف ریٹائرڈ ہوئے تو دباؤ کچھ کم ہوا۔

مجھ پر قتل کا جھوٹا الزام ایک بار پھر لگا تو میں نے حکومت کے لوگوں سے کہا کہ آپ کو حقیقت کا علم ہے، پھر آپ اس کا اظہار کیوں نہیں کرتے؟ لیکن محسوس یہی ہوا کہ شاید یہ یہی چاہتے ہیں کہ اگر ہم عدالتوں میں دھکے کھا رہے ہیں تو انہیں بھی کھانے دیں۔ پھر آج ہم صرف جسمانی حملوں کی زد میں نہیں۔ 2014ء میں میرے جسم میں گولیاں پیوست ہوئیں تو دوسری طرف پچھلے سال مجھے توہین رسالت کا مجرم بنا دیا گیا۔ یہ سب سے تکلیف دہ بات ہے۔ مری میں ایک لڑکی کا غیرت کے نام پر قتل ہوا، زندہ جلائی گئی تو میں نے اس پر کالم لکھا کہ عورتوں کو زندہ جلانا اچھی بات نہیں۔ کچھ طاقتور لوگ میرے خلاف اُٹھے اور اس کالم میں سے توہین رسالت برآمد کرلی۔ لال مسجد کی ”شہداء فائونڈیشن“ کو میرے خلاف کھڑا کردیا۔ سب کو معلوم تھا کہ اس کالم میں دور دور تک توہین رسالت نہیں۔ اسلام آباد کے پولیس افسران کو عدالت میں جاکر صرف یہ کہنا تھا کہ اس کالم کا توہین رسالت سے تعلق نہیں۔ لیکن وہ بھی نہیں کہہ سکے۔ یہ پولیس افسران نجی ملاقاتوں میں کہتے کہ آپ درست کہتے ہیں۔ اس کالم میں توہین رسالت کہیں نہیں۔ پھر کچھ علمائے کرام نے مدد کی۔ انہوں نے فتوے دیے کہ اس کالم میں کوئی توہین رسالت نہیں۔ جنرل راحیل شریف ریٹائرڈ ہوئے تو دباؤ کچھ کم ہوا اور میں اس کیس سے نکل گیا۔

بول ٹی وی پر عامر لیاقت صاحب نے مجھ پر توہین رسالت کا الزام لگایا۔ میں سب سے پہلا آدمی تھا جس پر یہ الزام لگا۔ ساتھی اظہارِ ہمدردی کرتے، لیکن میرے حق میں کوئی نہیں بولا۔

یہ آغاز تھا اور یہ سلسلہ بعد میں دراز ہوا۔ اسی زمانے میں بول ٹی وی پر عامر لیاقت صاحب نے میرے اوپر توہین رسالت کا الزام لگانا شروع کیا۔ میں سب سے پہلا آدمی تھا جس پر یہ الزام لگا۔ میں نے اس وقت اپنے ساتھیوں سے کہا بھی کہ شروعات مجھ سے ہوئی ہیں، خاموشی اختیار کی تو آپ میں سے بھی کوئی نہیں بچے گا۔ میں نے ان سے یہ بھی کہا کہ میں آپ لوگوں سے تعاون کا طلب گار نہیں، میری مدد اللہ کرے گا، لیکن دیکھنا یہ تم لوگوں پر بھی حملہ آور ہوں گے۔ میرے بہت سے ساتھی ”جیو“ میں تھے، وہ اظہارِ ہمدردی کرتے، لیکن میرے حق میں کوئی نہیں بولا۔ چنانچہ جو میں نے کہا تھا، وہ درست ثابت ہوا۔ ڈاکٹر عامر لیاقت نے کسی کو نہ چھوڑا۔ ہر کسی پر توہین رسالت کا الزام لگا دیا۔
میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کی تاریخ میں صحافی اپنی جان سے گئے۔ انہیں جیلوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ان پر جھوٹے مقدمات بنے۔ ایک نہیں، اس کارزار میں کئی صحافیوں نے جانیں قربان کیں۔ لیکن توہین رسالت کے جھوٹے الزام کا ہتھیار نواز شریف دور میں استعمال ہونا شروع ہوا۔ عجیب بات یہ ہے کہ آج وہی ہتھیار خود ان کے خلاف استعمال ہو رہا ہے۔ یہ جو فیض آباد میں دھرنا تھا، اس میں یہی تو کہا جا رہا تھا کہ آپ نے ختم نبوت حلف نامے میں بدنیتی کی بنیاد پر ترمیم کی۔

دلیل: کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ یہ اس جمہوری حکومت کی سب سے بڑی ناکامی ہے اور اسے ہی اس کا ذمہ دار ٹھہرائیں گے؟

حامد میر: یہ دراصل پورے معاشرے کی ناکامی ہے۔ ہمارے اہلِ فکر و دانش بھی اس کے ذمہ دار ہیں۔ علمائے کرام پر بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ میں اسے اجتماعی ناکامی کہوں گا۔ اناپرستی، ذاتی غصہ، انتقام کا جذبہ اس قدر بڑھ گیا ہے کہ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے توہین رسالت کا الزام لگانے سے بھی ہم نہیں ہچکچاتے۔

مجھ پر قاتلانہ حملہ ہوا، ہسپتال میں موت وحیات کی کشمکش میں پڑا تھا، بہت سے ٹی وی چینلز اور اینکر کہہ رہے تھے کہ پلاسٹک کی گولیاں لگی ہیں۔ اس نے ڈرامہ رچارکھا ہے۔ بعد میں ان سب نے مجھ سے معذرت کی اور کچھ تو ان میں سے ”جیو“ بھی آگئے۔

دلیل: آپ نے ذکر کیا کہ صحافت کے لیے ایک مشکل یہ بھی آن پڑی ہے کہ ہم آپس میں لڑ پڑے ہیں، کیا یہ بھی کوئی سازش ہے اور اس جھگڑے کو آپ جیسے سینئر لوگ ختم کیوں نہیں کرواسکے؟

حامد میر: یہ آپس کی لڑائی بھی حکمران طبقے نے شروع کروائی ہے۔ اس نے جب دیکھا کہ 2007ء میں پرویز مشرف نے میڈیا پر پابندی لگائی تو تمام صحافی اکٹھے تھے۔ سب نے مشترکہ طور پر مشرف کے خلاف تحریک شروع کی۔ آپ کو یاد ہوگا یہ تحریک وکیل چلا رہے تھے یا پھر میڈیا اس میں پیش پیش تھا۔ جس کا افتخار چوہدری نے فائدہ اُٹھایا۔ میں آپ کو یہ بھی یاد دلاؤں کہ صحافی سلیم شہزاد کو اغوا کے بعد قتل کیا گیا۔ اس پر پاکستان کا پورا الیکٹرونک میڈیا اکٹھا ہوا اور پارلیمنٹ ہائوس اسلام آباد کے سامنے احتجاجی کیمپ لگا۔ اس کیمپ کے سامنے قطار میں پانچ چھ ٹی وی چینلز کے کیمرے ہوتے۔ کوئی تفریق نہیں تھی۔ قطار میں ایک جگہ حامد میر پروگرام کررہا ہے، دوسرے کیمرے کے سامنے کاشف عباسی نظر آرہے ہیں۔ تیسرے کے سامنے ندیم ملک، چوتھا کیمرہ مہر عباسی اور پانچویں کے سامنے کوئی اور۔۔۔ پورا الیکٹرونک میڈیا متحد۔ اسی کا نتیجہ تھا کہ دباؤ میں آکر حکومت کو کمیشن بنانا پڑا۔ اس کا کیا نتیجہ نکلا، الگ موضوع ہے، لیکن یہ اتحاد سب نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ چنانچہ اس اتحاد سے خوفزدہ ہوکر اسے ختم کیا گیا۔ اس کے لیے پہلے صحافتی تنظیمیں توڑی گئیں، پھر مالکان اور کارکن صحافیوں کو آپس میں لڑایا گیا۔

پاکستان میں میڈیا کی آزادی آہستہ آہستہ ایک بہت بڑا دھوکا بنتی جا رہی ہے، چینلز کی اسکرینیں دیکھیں تو بظاہر یہی لگتا ہے کہ میڈیا بہت آزاد ہے، لیکن یہ لوگوں کی بہت بڑی غلط فہمی ہے۔ میڈیا دن بدن اپنی آزادی کھو رہا ہے۔

جب 2014ء میں مجھ پر حملہ ہوا، میں ہسپتال میں موت وحیات کی کشمکش میں پڑا ہوں، بہت سے ٹی وی چینلز اور اینکر کہہ رہے تھے کہ اسے پلاسٹک کی گولیاں لگی ہیں۔ اس نے ڈرامہ رچا رکھا ہے۔ بعد میں اگرچہ ان سب نے مجھ سے معذرت کر لی اور کچھ تو ان میں سے ”جیو“ بھی آگئے۔

کہنے کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کے کارکن صحافیوں کو اب اکٹھے ہونے کی ضرورت ہے۔ اختلافات ختم کرنے چاہییں۔ خاص طور پر جو پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ ہے، اس میں گروپ بندی کا خاتمہ کرنا ہے۔ اس کے لیے کچھ کوششیں ہوئی ہیں۔ ہم اگر اکٹھے ہوں گے تو پاکستان کا میڈیا سروائیو کرسکتا ہے، بصورتِ دیگر مجھے لگتا ہے کہ دن بدن پاکستان کا میڈیا اپنی آزادی کھو رہا ہے۔ اس وقت چینلز کی اسکرینیں دیکھیں تو بظاہر یہی لگتا ہے کہ میڈیا بہت آزاد ہے، لیکن یہ لوگوں کی بہت بڑی غلط فہمی ہے۔ پاکستان کا میڈیا دن بدن اپنی آزادی کھو رہا ہے۔ دن بدن سمجھوتے (compromises) بڑھ رہے ہیں۔

دلیل: یہ اعتراض ہوسکتا ہے کہ اتنی ہی خرابیاں ہیں تو اسے بےنقاب کرنے کے لیے اس سے علیحدگی کیوں نہیں اختیار کر لیتے؟

حامد میر: اب میں نے بہت سنجیدگی سے سوچنا شروع کر دیا ہے کہ اگر میں کسی معاملے میں پچاس فیصد بھی سچ نہیں بول سکتا تو کیا مجھے اسے جاری رکھنا چاہیے یا چھوڑ دینا چاہیے؟ کبھی کبھی آپ کے اندر ایک کشمکش شروع ہو جاتی ہے۔ آج کل میں اندرونی اضطراب اور کشمکش کا شکار ہوں کہ مجھے کیا کرنا چاہیے؟ کیونکہ اب کافی ہوگیا، تین چار سال سے یہی سوچ سوچ کر وقت گزر رہا ہے کہ مشکل وقت ختم ہو رہا ہے۔ کچھ مہینے اور انتظار کرلیا جائے۔ بڑا دباؤ مجھ پر یہ تھا کہ کچھ لوگ مجھے پاکستان سے بھگانا چاہتے تھے، وہ خواہش ان کی پوری نہیں ہوسکی۔ بہت بڑا دبائو تھا جو میں نے برداشت کر لیا۔ لیکن اس وقت جو دباؤ ہے، وہ اندرونی ہے۔ آپ اسکرین پر سچ بول رہے ہیں، جھوٹ بول رہے ہیں؟ اگر آپ جھوٹ نہیں بھی بول رہے، تو کیا پورا سچ بول پا رہے ہیں یا نہیں؟ جب آپ تھوڑا سا سچ بولتے ہیں تو آپ کے ساتھی ہی آپ سے کہتے ہیں: یار! تمہیں تو ہیرو بننے کا شوق ہے، تم ہماری زندگی خطرے میں کیوں ڈال رہے ہو؟
”اگر اتنا ہی خوف تو پھر یہ پروفیشن ہی چھوڑدیں۔“ میں ان سے کہتا ہوں۔

کچھ لوگ مجھے پاکستان سے بھگانا چاہتے تھے، وہ خواہش ان کی پوری نہیں ہوسکی۔ بہت بڑا دباؤ تھا جو میں نے برداشت کرلیا۔ لیکن آج کل میں اندرونی کشمکش کا شکار ہوں، قریبی ساتھیوں کو بتا دیا ہے زیادہ عرصہ خاموش نہیں رہوں گا۔

اس وقت پاکستان میں جو میڈیا کی آزادی ہے، یہ آہستہ آہستہ ایک بہت بڑا دھوکا بنتی جا رہی ہے اور اس دھوکے کو بے نقاب کرنے کے لیے ضروری ہے کہ کچھ عرصہ اس دھوکے سے علیحدہ ہوجائیں اور دھوکے کو بے نقاب کیا جائے۔ میں نے آپ سے کھل کر بات کی ہے۔
”میں زیادہ عرصہ خاموش نہیں رہوں گا۔“ میں نے اپنے قریبی لوگوں کو بتا بھی دیا ہے کہ enough is enough۔
یہ بات میں نے آپ سے اس لیے کی ہے کہ میں نے جو صحافت میں حاصل کرنا تھا، کرچکا ہوں۔ اب اس سے زیادہ کیا کرنا ہے۔ لیکن جو نوجوان نسل ہے، جو ہمیں بہت زیادہ آئیڈلائز کرتی ہے۔ جو نوجوان صحافت کو اپنا کیرئیر بنانا چاہتے ہیں، ہمیں ان کی صحیح رہنمائی کرنی چاہیے۔ مجھے تو یہ لگتا ہے کہ میں آج وہیں پر کھڑا ہوں، تیس سال پہلے جہاں وارث میر اپنے بیٹے سے کہہ رہا تھا: بیٹا آپ نے صحافت میں نہیں آنا۔ یہ بہت خطرناک پروفیشن ہے۔ تیس سال بعد اس کا بیٹا حامد میر دنیا بھر سے بہت سے ایوارڈز تو سمیٹ چکا ہے، لیکن اصل سچائی یہ ہے کہ وہ آج بھی وہیں کھڑا ہے، جہاں تیس سال پہلے اس کا والد اسے چھوڑ کر گیا تھا۔

دلیل: اس پر یہ رائے بھی آسکتی ہے کہ میدان کے اندر رہ کر کچھ تو مزاحمت کرلیتے ہیں، اگر علیحدہ ہوگئے تو آپ کے پاس وضاحت تک کے لیے کوئی پلیٹ فارم نہیں ہوگا۔ جنھیں آپ دشمن کہتے ہیں، وہ بہت آسانی سے آپ پر وار کریں گے۔

حامد میر: میرے ساتھ اس سے زیادہ کیا کریں گے؟ دیکھیے میرے اوپر غداری کا الزام لگا دیا۔ میری گاڑی کے نیچے بم رکھ دیا۔ مجھ پر قاتلانہ حملہ ہوگیا۔ توہین رسالت کا جھوٹا الزام تک لگادیا۔ اب سات سال پرانے ایک قتل کا جھوٹا الزام پھر لگ گیا۔ اس سے زیادہ کیا ہوگا؟ یہی ہوگا کہ مجھے جیل میں ڈال دیں گے، لیکن میں اپنے ساتھ، اپنی قوم کے ساتھ اور خاص طور پر نوجوان صحافیوں کے ساتھ زیادہ عرصہ جھوٹ نہیں بول سکتا۔ مجھے بتانا پڑے گا کہ دراصل ہو کیا رہا ہے؟ کم ازکم ہم اپنے ساتھ تو سچ بولیں نا۔ اس پروفیشن کو جاری رکھا بھی تو کم ازکم ہمیں یہ سچ تو بولنا پڑے گا کہ جو کچھ نظر آرہا ہے، ویسا نہیں۔ ہم آزاد نہیں۔
ایک بات آپ کو بتاؤں کہ میں نے کوشش کی جس طرح میرے والد نے مجھے صحافت میں آنے سے روکا، میں نے بھی اپنے بیٹے کو روکا تو نہیں، لیکن اس کی حوصلہ شکنی ضرور کی ہے۔ وہ اس شعبے میں نہیں آیا۔ یہ الگ بات ہے کہ جب بیٹی نے صحافت میں آنے کا فیصلہ کیا تو میں اسے نہیں روک سکا۔ یہ بھی والد صاحب کی تربیت کا اثر ہے کہ بیٹے پر سختی کی جا سکتی ہے، لیکن بیٹی کو اس کی خوشی کا کام کرنے دیا جانا چاہیے۔

تیس سال بعد حامد میر دنیا بھر سے بہت سے ایوارڈز تو سمیٹ چکا ہے، لیکن اصل سچائی یہ ہے کہ وہ آج بھی وہیں کھڑا ہے، جہاں تیس سال پہلے اس کا والد اسے چھوڑ کر گیا تھا۔

دلیل: کیا آپ نہیں سمجھتے کہ صحافت میں ایسے لوگ ہیں جن کا کردار اُجلا نہیں، اور انہی کی وجہ سے یہ مشکلات بڑھی ہیں؟
حامد میر: میں تو خود 2012ء میں سپریم کورٹ گیا۔ میں نے پٹیشن دائر کی۔ اپنے آپ کو احتساب کے لیے پیش کیا۔ وزارتِ اطلاعات کا سیکرٹ فنڈ بند کروایا۔ اگرچہ وہ ایک سیکرٹ فنڈ بند ہوا، بہت سے کھل گئے۔ آپ کو اچھی طرح پتا ہے کہ لوگ کس طرح سے فائدے اُٹھاتے ہیں۔ میڈیا میں اس وقت تقسیم ہے۔ polarization ہے۔ بہت سے صحافی، اینکرز ایسے ہیں جن پر الگ الگ چھاپ ہیں۔ یہ فلاں پارٹی کا ہے، یہ فلاں جماعت کے لیے کام کر رہا ہے۔ یہ ہمارے لیے بہت خطرناک ہے۔ ہم نے اپنی ساکھ (credibility) کو بچانا ہے۔ اس کے لیے ہمیں accountable ہونا چاہیے۔ لیکن ایسا نہیں، بالکل بھی نہیں۔

ہمارے اندر خوداحتسابی ہونی چاہیے۔ سپریم کورٹ کا ضابطہ اخلاق بھی یہی کہتا ہے۔ ہم نے اسے ایک طرف کرکے رکھ دیا ہے۔ آپ دیکھیں کہ عدلیہ کے خلاف ہمارے سیاسی راہنما جو کچھ کہتے ہیں اور اسے آپ جس طرح رپورٹ کرتے ہیں، پھر اس پر تبصرے کرتے ہیں، کہیں آپ کو یہ ضابطہ اخلاق نظر آتا ہے؟ آئین کے آرٹیکل 19 اور 19اے کی بھی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ اس میں یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ مادر پدر آزادی نہیں ہوگی۔ آزادیِ اظہار کے حق کو کچھ ذمہ داریوں کے ساتھ استعمال کریں گے۔ یا تو آپ اس پر عملدرآمد کریں یا پھر اس آرٹیکل کو ہی ختم کر دیں۔

اس اہم انٹرویو کا دوسرا حصہ پڑھیں

Comments

جمال عبداللہ عثمان

جمال عبداللہ عثمان

جمال عبداللہ عثمان نے صحافتی زندگی کا آغاز کراچی سے کیا۔ مختلف روزناموں کے ساتھ وابستہ رہے۔ چار کتابوں کے مصنف ہیں۔ آج کل ایک نجی ٹی وی چینل کے ساتھ بطورِ پروگرام پروڈیوسر وابستہ ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

  • عمدہ ترین ہر انٹرویو اپنی جگہ لاجواب، سوچ کے کئی در وا کرتا ہوا۔ اگلے حصے کا انتظار شروع ہوگیا ہے

  • جمال عبد اللّه عثمان نے دلیل کے لےانٹرویو ز کا یہ سلسلہ شروع کرکے ایک اچھے اور معلوماتی کام کا آغاز کیا ہے
    اس انٹرویو کو پڑهنے سے جہاں حامد میر کی ذاتی اور صحافتی جدوجہد کے بارے میں معلومات ملتی ہیں - وہی ہمیں اس بات کا بھی پتہ چلتا ہے کہ آج کے دور میں سچ کی تلاش اورسچ کی طرف سفر جان جوکھوں کا کام ہے,دوسرے بظاہر خوش اور کامیاب نطر آنے والے افراد کے پیچھے بھی بعض اوقات کرب, بےچینی اور تشنگی رہتی ہے

  • بہت معلوماتی انٹرویو ہے۔ انٹرویوز کا سلسلہ شروع کرنے پر دلیل کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

  • انٹرویو صحافت کی بہت اہم صنف ہے۔انٹرویو میں آریانہ فلاسی اطالوی صحافی کو کمال حاصل تھا، منیر احمد منیر آتش فشاں اور الطاف حسن قریشی اردو ڈائجسٹ ، ڈاکٹرطاہر مسعود بھی انٹرویو کے باب میں یکتا ہیں۔ جمال عبداللہ کو انٹرویو کرتے ہوئے، باڈی لینگویج پر بھی توجہ دینی چاہیئے اور اسے احاطہ تحریر میں لانا چاہیئے، اس سے انٹرویو کا تاثر پر اثر ہوجاتا ہے۔ پھر انٹرویو سے قبل اس کے بارے میں بہت کچھ پڑھنا اور جاننا بھی ضروری ہوتا ہے، جو انٹرویو کی افادیت کو بڑھا دیتا ہے۔ انٹرویو بہت اچھے ہیں، سلسلہ جاری رہے گا تو اس میں بہت بہتری بھی آجائے گی۔