پریس ریلیز کیسے بنائی جائے؟ - تزئین حسن

آپ چاہے کسی ملٹی نیشنل کمپنی کے پروفیشنل پی آر پرسنل ہیں یا کسی سیاسی یا دینی جماعت میں رضاکارانہ نشرو اشاعت کی ذمہ داری فی سبیل الله نبھا رہے ہیں یا کوئی این جی او چلا رہے ہیں، اپنی تنظیم کی خبریں نشر کرنے کے لیے پریس ریلیز لکھنے کا مسئلہ ہر چھوٹے بڑے ادارے کو درپیش ہوتا ہے۔

کمیونی کیشن اور سوشل میڈیا کے اس دور میں اپنے ادارے کے مثبت امیج کو برقرار رکھنے کے لیے میڈیا سے رابطہ رکھنا ناگزیر ہے، مگر بظاہر آسان نظر آنے والا یہ کام بسا اوقات بنیادی فنی مراحل سے نا واقفیت کی وجہ سے بہت مشکل محسوس ہوتا ہے۔ آج پریس ریلیز بنانے اور کامیابی کے ساتھ اپنی تنظیم یا ادارے کے نشرو اشاعت کے ٹارگٹ حاصل کرنے کے طریقوں پر بات کرتے ہیں۔

مؤثر پریس ریلیز بنانے اور اسے اپنے ٹارگٹ اخبارات یا سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کامیابی سے اپنی بات پہنچانے کے لیے تین مراحل اہم ہیں جن میں پہلا مرحلہ سوچ بچار اور پلا ننگ کا ہے۔ دوسرے مرحلے میں ہم لکھنے اور ایڈٹ کرنے کا کام کرتے ہیں اور تیسرے مرحلے میں اسے نشرو اشاعت کے ذرائع یعنی اخبارات، الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا تک پہنچانا ہے۔

پلاننگ اور سوچ بچار

ٹاپک کا انتخاب

پریس ریلیز کے لیے ٹاپک کا انتخاب احتیاط سے کرنا بہت ضروری ہے کہ وہ اخبارات کے لیے نیوز وردی newsworthy یعنی قابل اشاعت خبر کی حیثیت رکھتا ہو یا آپ اسے قابل اشاعت بنانے کے لیے ایسے اجزاء کا اضافہ کر سکیں۔ آپ کی تنظیم کا ہفتہ وار پروگرام کوئی خبر نہیں لیکن اس میں اگر کوئی اہم ایشو ڈسکس ہونے جا رہا ہے یا کوئی اہم شخصیت مدعو ہے تو یہی پروگرام نیوز وردی ہو جائی گا اور اخبارات اسے چھاپنا چاہیں گے۔

بنیادی طور پر پلاننگ کے مرحلے میں ہمیں سب سے پہلے یہ متعین کرنے کی ضرورت ہے کے پریس ریلیز سے کیا مقاصد حاصل کرنا مقصود ہیں؟ یہ مقصد تنظیم کی سرگرمیوں سے عوام یا اس کے سرپرستوں کو باخبر کرنا ہے یا کسی خاص موقع پر تنظیم کے موقف کو واضح کرنا ہے، یا کسی اہم تبدیلی کا اعلان کرنے کے لیے ہے۔

کیا، کون، کب، کیوں اور کیسے؟

اب ایک کاغذ پر ان پانچ سوالوں کے جواب لسٹ کی صورت میں نوٹ کر لیں یعنی کیا، کون، کب، کیوں اور کیسے۔ مثلا ً آپ کی تنظیم کینیڈا میں شامی مہاجرین کے اعزاز میں ایک تقریب کا اہتمام کر رہی ہے تو ان سوالات کے جواب کچھ یوں ہوں گے۔

کیا - شامی مہاجرین کے اعزاز میں ایک ڈنر کا اہتمام

کون - شامی مہاجرین، تنظیم کے اراکین، سیاسی اور سماجی شخصیات جن کی شرکت متوقع ہے۔

کب - یعنی تاریخ اور وقت مثلا ً ٩ جنوری ٢٠١٦ شام پانچ سے آٹھ بجے

کہاں - لی وڈ کمیونٹی سینٹر، ایڈمنٹن، البرٹا، کینیڈا

کیوں - شامی مہاجرین کو خوش آمدید کہنا اور انکو مقامی سیاسی اور سماجی شخصیات، مسلمان کمیونٹی سے رابطے میں لانا اور ان کی ضروریات سے واقفیت حاصل کرنا۔

کیسے - یہاں دوسری تفصیلات دی جا سکتی ہیں مثلا رجسٹریشن کا طریق کار، رجسٹریشن کی ڈیڈ لائن، مزید تفصیلات کے لیے رابطہ کا ذریعہ بھی درج کر دیا جاۓ اور تنظیم کے ویب سائٹ کا بھی، مگر اس سے قبل تنظیم کی ویب سائٹ کو اپ ڈیٹ کرنا نہ بھولیں۔

پریس ریلیز میں عموماً تنظیم کے سربراہ یا کسی عہدے دار کا بیان شامل ہوتا ہے اور یہ بہت اہم ہے۔ عموما ً پریس ریلیز تیار کرنے والا خود اسے مرتب کرتا ہے مگر اس کے لیے مطلوبہ عہدے دار سے منظوری ضروری ہے۔ بہتر ہے کہ نشرو اشاعت سے متعلق بندہ آخری شکل دینے سے پہلے اپنی تحریر مطلوبہ عہدیدار کو دکھا دے تاکے اگر وہ کوئی ترمیم یا اضافہ کرنا چاہے تو کر لے۔

تحریری شکل دینا

عنوان:

سب سے پہلے اپنے مقصد کو دیکھتے ہوے عنوان مرتب کریں مثلا ً "اسلامک سرکل آف نارتھ امریکہ (اکنا) کا شامی مہاجرین کے اعزاز میں عشا ئیہ" عنوان میں بہت زیادہ مواد ٹھونسنے کی کوشش نہ کریں۔ کوشش کریں یہ ایک لائین سے زیادہ نہ ہو۔ اسکا اصل مقصد آپ کے ٹارگٹ ناظرین کو جنھیں اس موضوع سے دلچسپی ہو آگے پڑھنے پر راضی کرنا ہے۔ عنوان میں صاف اور غیر مبہم اور جہاں تک ہو سکے سادہ الفاظ استمعال کریں تاکہ قاری کے لیے فیصلہ کرنا آسان ہو کہ وہ آگے خبر پڑھے یا نہیں۔

ذیلی عنوان:

اب مزید تفصیلات ذیلی عنوان میں دی جا سکتی ہیں مثلا ً جگہ اور تاریخ اور سیاسی اور سماجی شخصیات یا اکنا کے عہدے داران کے نام جن کی شرکت متوقع ہے یا اکنا کے عہدے دار کے بیان کا مختصر اور پر تاثر حصہ جو پریس ریلیز کے مقصد کی تائید کرتا ہو۔ ذیلی عنوان کو بھی ایک یا دو جملوں تک محدود رکھیں۔

متن:

متن میں کیا، کون، کیوں، کب، کہاں، اور کیسے کا جواب سادہ الفاظ میں دیں۔ اس کے بعد عہدے دار کا بیان، رابطے کا طریقہ، اور آخر میں تنظیم کا مختصر تعارف۔

یاد رکھیں ہر صنف کا اپنا ایک مخصوص انداز ہوتا ہے۔ پریس ریلیز کے کسی بھی حصہ میں پیچیدہ اور محاوراتی زبان استمعال نہ کریں۔

متن لکھنے کے دوران عنوان اور ذیلی عنوان میں حسب ضرورت تبدیلیاں کی جا سکتی ہیں۔ اور عنوان اور ذیلی عنوان کو متن کے بعد بھی ترتیب دیا جا سکتا ہے۔

کسی بھی مرحلے پر اگر یہ محسوس ہو کہ تحریر معیاری نہیں تو مایوس ہو کر کام چھوڑیں نہیں بلکہ اپنی آوٹ لائن کے مطابق پہلا ڈرافٹ مکمل کریں۔ ایک دفعہ ڈرافٹ بن جائے تو اسے بہتر کرنے کہ ہزار طریقے ہیں۔

دوسری تحریری اصناف کی طرح پریس ریلیز بھی مشق کی متقاضی ہے۔ اسکو بہتر بنانے کے لیے ایک کام یہ بھی کیا جا سکتا ہے کہ کوئی مقامی یا ملکی سطح کے اخبار سے جتنی ہو سکے پریس ریلیز کا مطالعہ کریں اور ان میں بال پائنٹ لے کر کیا، کون، کیوں، کہاں، کب اور کیسے کے ساتھ بیانات کو بھی انڈر لائن کریں۔

ایڈیٹنگ

لکھنے کے بعد اب ایڈیٹنگ کا مرحلہ آتا ہے۔ اگر ممکن ہو تو اپنے ڈرافٹ کو کچھ عرصے کے لیے اکیلا چھوڑ دیں۔ راقم اس مرحلے کو دم دینا کہتا ہے۔ ایڈیٹنگ کی یہ ٹپ دوسری تحریری اصناف میں بھی کارآمد ہے۔ عموماً آپ لکھنے کے عمل میں اتنا مشغول ہوتے ہیں کہ فوری طور پر اپنی تحریر میں خرابیاں ڈھونڈنا مشکل ہوتا ہے۔ اگر ایک آدھ گھنٹے یا ہو سکے تو ایک ادھ دن کے بعد اسے اٹھائیں۔ اب اسے پڑھتے جائیں اور ساتھ ساتھ درست کرتے جائیں۔ ہو سکے تو کسی اور کو بھی دکھا لیں۔ بعض اوقات مصنف کے لیے اپنی تحریر میں کوئی کمی محسوس کرنا ناممکن ہوتا ہے۔

ایڈیٹنگ میں تین باتوں کا جائزہ لینا ہوتا ہے:

١۔ کیا تحریری ڈھانچہ مناسب ہے؟ کیا جملوں کی ترتیب صحیح ہےاور ان کے درمیان مناسب ربط موجود ہے۔ کسی جگہ کوئی الجھن تو نہیں؟ تحریر واضح اور غیر مبہم ہے؟

٢۔ متن میں کوئی واقعاتی غلطی تو نہیں رہ گئی؟ بیانات اور اعداد و شمار، تاریخ، وقت اور جگہ اور شخصیات کے نام صحیح رقم کیے گئے ہیں؟

٣۔ املا اور گرامر کی غلطیاں، کوما، فل اسٹاپ کا استمعال صحیح کیا گیا ہے یا نہیں؟

یاد رکھیں بعض اوقات یہ چھوٹی چھوٹی غلطیاں آپ کے ساتھ ساتھ آپ کی تنظیم یا ادارے کے امیج کو بھی خراب کرنے کا با عث ہو جاتی ہیں۔

میڈیا اسٹریٹیجی:

میڈیا کے لیے اسٹریٹیجی بنائیں کہ کن کن اخبارات کو ٹارگٹ کرنا ہے اور کن کن ویب یعنی آن لائن اخبارات و جرائد کو۔ ویب پر اپنی تنظیم کا پروفائل کن کن سوشل میڈیا سائیٹس کے ذریعہ پروموٹ کرنا ہے۔

یہ ایک حساس ایشو ہے اور اس کے لیے اجتماعی سوچ بچار کرنا مناسب ہے کہ یہ کام دیگر ذمہ داران کے ساتھ مشورے سے طے پائے تو اچھا ہے۔ اس موضوع پر کسی اگلے مضمون میں تفصیل سے بات بات کریں گے۔ لیکن پریس ریلیز کی تیاری کے ساتھ یہ بہت اہم ہے کہ سوشل میڈیا، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے لیے مناسب سوچ بچار کے بعد پلاننگ کی جائے۔

آخر میں یہ کہ پریس ریلیز وقت سے پہلے بھجوا دیں خصوصاً پرنٹ میڈیا کو۔ میڈیا آؤٹ لیٹس کا اپنا شیڈول ہوتا ہے۔ پروگرام سے ہفتہ بھر پہلے انہیں بھجوانا اچھا ہے ورنہ کم از کم تین دن پہلے۔ اگر جواب موصول نہ ہو تو ای میل یا فون کے ذریعہ دوبارہ رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ ہنگامی حالت میں یا بریکنگ نیوز کی صورت میں فوری بھی رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

اخبار کی پالیسی:

آخر میں ایک ٹپ یہ کہ اخبار کی پالیسی کا اندازہ کریں۔ جتنی ہو سکے مختلف اخبارات چھپی ہوئی پریس ریلیزوں کا مطالعہ کریں۔ ہو سکے تو بال پائنٹ لے کر کچھ منتخب پریس ریلیز کا پوسٹ مارٹم کریں۔ کیسے شروع ہوئی؟ بیان کس انداز میں لکھا گیا؟ ختم کیسے کیا گیا؟ اس سے بہتر سیکھنے کا کوئی اور ذریعہ نہیں۔ اس سے اخبارات کی پالیسی اور قابل اشاعت تحریروں کے معیار کا بھی اندازہ ہو گا۔
اس مضمون میں ہم نے پریس ریلیز کی تیاری سے متعلق امور ڈسکس کیے۔ اگلے مضامین میں انشاللہ اسے قابل اشاعت بنانے اور میڈیا اسٹرٹیجی بنانے پر تفصیل سے بات کریں گے۔

Comments

تزئین حسن

تزئین حسن

تزئین حسن ہارورڈ یونیورسٹی امریکہ میں صحافت کی طالبہ ہیں، نارتھ امریکہ اور پاکستان کے علاوہ مشرق وسطی کے اخبارات و جزائد کےلیے لکھتی ہیں۔ دلیل کی مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com