تباہی کی جانب لے جاتا سیاسی بحران - یاسر محمود آرائیں

خوف، بے یقینی، خدشات، ناامیدی، وسوسے اور دھند کی چادر ہے کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی۔ کچھ پتا نہیں کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟ جس سیاسی وراثت کی خاطر ہنگامہ برپا ہے، کشمکش جاری ہے، آپس میں تمام جماعتیں دست وگریبان ہیں، بات اس کے حصول تک پہنچتی بھی ہے۔

بتانے والوں نے تو بتادیا تھا کہ فی الوقت جمہوریت ہی جمہوریت کی سب سے بڑی دشمن ہے۔ عمل سے لگتا بھی یہی ہے۔ نوشتہ دیوار پڑھنے سے دانستہ گریز کیا جارہا ہےکہ لڑنے سے کسی ایک کے ہاتھ بھی کچھ نہیں آنے والا، سب اپنی اپنی چونچ اوردم گنوا بیٹھیں گے۔

اگلے انتخابات سے قبل سینیٹ کے الیکشن کا ایک مرحلہ درپیش ہے۔ جسے مسلم لیگ کے لیے سر کرنا لازم ہے مگر نظر نہیں آرہا کہ یہ اس کے لیے کوئی آسان ثابت ہوگا۔ مخالفین چاہے وہ سیاسی ہوں یا غیر سیاسی، پارلیمنٹ کے اندر ہوں یا باہر، دیدہ ہوں یا نادیدہ، وہ کبھی بھی نہیں چاہیں گے کہ وہ سکون اور اطمینان سے اس معرکے میں اتریں۔ بلکہ کچھ قوتیں تو یہ مرحلہ آنے ہی نہیں دینا چاہتیں۔ ان کی خواہش ہے کہ اس سے قبل ہی سب کچھ لپیٹ لیا جائے۔ حالیہ دھرنا فیض آباد اور اس سے نمٹنے کا طریقہ کار انہی خدشات کو ہوا دیتا نظر آرہا ہے۔

یہ بھی اطلاعات ہیں کہ درون خانہ بہت سی جماعتیں اور ان کے اراکین اس پر اجماع کرچکے ہیں کہ ایوان بالا کے انتخاب سے عین قبل اچانک اور اس پیمانے پر اسمبلیوں سے استعفی دے کر الیکٹورل کالج ہی توڑ دیا جائے تاکہ سینیٹ میں مسلم لیگ کی کامیابی کو روکا جاسکے۔ ایم کیو ایم اور تحریک انصاف تو کھل کر بارہا اس بات کا عندیہ دے چکی ہیں۔ ابھی چند دن قبل ہی نئی مردم شماری اور ایم کیو ایم کی مسلسل ہوتی تخریب اور اس تخریب سے ابھرتی ہوئی نئی تعمیر سے دلبرداشتہ فاروق ستار نے کیوں اپنے اراکین سے استعفے دلانے کا اعلان کیا تھا۔ بار بار نیازی صاحب بھی یہ راگ کیوں چھیڑ رہے ہیں کہ وزیراعظم اسمبلیاں توڑنے کا اعلان کریں۔ یہ بات دگر ہے کہ ان کی جماعت کے بہت سے اراکین جن میں خیبر پختونخواہ کے وزیراعلیٰ بھی شامل ہیں، ان کے اس مطالبے سے متفق نہیں ہیں۔ انہوں نے جے سی سی اجلاس میں انتخابات کے وقت پر انعقاد پر مکمل اتفاق کیا ہے۔ وجہ اس کی صاف ظاہر ہے کہ ان میں سیاسی بصیرت اور سمجھ بوجھ متلون مزاج نیازی صاحب سے کہیں زیادہ ہے اور انہیں بخوبی علم ہے کہ پورا پنڈ بھی اگر مرجائے تو انہیں کسی بھی قسم کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا بلکہ جو تھوڑا بہت شغل میلہ لگا ہوا ہے اس سے بھی ہاتھ دھوبیٹھیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ، متحدہ مجلس عمل، جسے کسی زمانے میں ملّا ملٹری الائنس کا لقب بھی دیا گیا تھا، کی بحالی کے لیے بھی دسمبر کے بعد کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔ یہ بات بھی نہایت قابل غور ہے کہ اس اتحاد کو دوبارہ زندہ کرنے سے قبل اس میں شامل دوبڑی جماعتوں یعنی جمیعت علمائے اسلام ف اور جماعت اسلامی نے اپنے اپنے موجودہ اتحاد کو خیرباد کہنے کا اعلان کیا ہے۔

ایسے میں سب سے زیادہ ہوشمندی سے کام لینے کی ضرورت تو کسی بھی فریق سے زیادہ خود مسلم لیگ ن کو ہے۔ دانائی مگر ان میں ہوتی تو کیا یوں رسوائی سربازار ہوتی؟ ہر طرف سے مصیبت میں گھرے ہونے کے باوجود ڈھونڈ ڈھونڈ کر کوشش کرکے نئی جگہ سینگ پھنسایا گیا ہے۔ عدالتی فیصلے نے گھر کا رستہ اگر دکھا ہی دیا تھا تو کچھ عرصہ نچلے ہوبیٹھتے۔ اپنی جگہ اپنے بھائی کو ہی دے دیتے وہ غریب تو حدیبیہ میں نہ پھنستا۔ بخوبی اندازہ ہے کہ آپ کو پڑھنے لکھنے سے کوئی لگاؤ نہیں مگر صلح حدیبیہ کو ہی بغور پڑھ لیتے تو اندازہ ہوجاتا کہ بظاہر کبھی کہیں سمجھوتا بھی کرنا پڑتا ہے۔ وہاں تو مقابل کفار تھے جبکہ معاہدہ کرنے والی وہ ہستی جس کے اک اشارے پر زمین وآسمان زیر وزبر ہوتے دیر نہ لگے۔ پھر آپ کیوں اس قدر انا اور نرگسیت کاشکار ہیں؟ آپ جن کو مقابل سمجھتے ہیں وہ تو پھر بھی کلمہ گو تو ہیں۔

چلیں یہ بھی سمجھ آتا ہے کہ اقتدار اور حاکمیت میں شراکت کا جگر بہت سوں کو نصیب نہیں ہے۔ پھر اپنے انتخاب کے لیے رکاوٹ دور کرنے تک بات محدود رکھنے میں کیا امر مانع تھا؟ کس نے کہا تھا کہ تمام دیدہ ونادیدہ مخالفین میں خلق خدا کا بھی اضافہ کرلیں؟ کیوں انتخابی قوانین کی آڑ میں عقیدہ ختم نبوت پر حملے کی کوشش کی گئی؟ کسی اکسانے یا اپنے قدم ڈگمگانے سے ناپاک حرکت اگر سرزد ہوہی گئی تو بجائے توبہ تائب کے دیدہ دلیری اور ہٹ دھرمی پر کیوں مائل ہیں؟ بالکل اندازہ نہیں کہ جس راستے پر سفر کیا جارہا ہے وہ اندھی کھائی میں جاگرے گا؟ برسوں جس سے باہر آنا پھر ممکن نہ رہے گا۔ پیپلز پارٹی مخالفت میں اس قدر آگے جاچکی ہے کہ نظام کے لیے خطرہ بنتی جارہی ہے۔ الیکشن کمیشن چیخ چلاکر بتاچکا کہ حلقہ بندیوں پر اتفاق رائے اگر ممکن نہ بنایا گیا تواگلے انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں ہوگا۔

ویسے تو فرماتے تھے کہ کچھ عرصے بعد ایک بلّا آتا ہے اور دودھ پی کر چلا جاتا ہے۔ یہ بھی کسی کو بتانے کی حاجت ہے کہ آپ اگر اپنے دودھ کی رکھوالی سے بےپروا ہوکر لڑائیاں لڑتے رہیں گے تو بلّا تو دودھ پیے گا۔ اب فرماتے ہیں کرپٹ آدمی کو تحفظ مزید نہیں دے سکتے۔ نہ دیں بھائی! کس نے کہا دیں؟ آپ نے پارٹی صدارت والے بل کو پہلے پاس ہونے دیا پھر بعد میں مخالفت کرنا شروع ہوگئے۔ وہی بات ہوگئی کہ نانی نے خصم کیا۔۔ ۔ برا کیا، کرکے چھوڑدیا مزید برا کیا۔ لیکن اس بات پر آپ جتنی مرضی قلابازیاں کھاتے رہیں آپ مالک ہیں اپنی سوچ اور عمل کے۔۔ ۔ مگر حلقہ بندیوں پر، چوڑے چماروں، جیسی اکڑ دکھا کر کس کی خدمت کرنا چاہتے ہیں؟ آپ اپنے نواز لیگ کی حکومت پر احسانات گنوانا نہیں بھولتے، دھرنے کے دنوں میں حکومت کا اگر بازو پکڑا تھا تو جتلا جتلا کر ماردیا۔ دودھ دینا اور وہ بھی مینگنیاں ڈال کر اس کے سوا کسے کہتے ہیں؟ اگر کوئی مدد کی بھی تھی تو آپ کو بھی اندازہ تھا کہ دوسری صورت میں گلیاں سنسان ہونے کے بعد مرزا اکیلا ہی پھرا کرےگا۔ بھُلادیا وہ وقت جب ہر تیسرے دن اک لسانی عفریت 'خوراک' نہ ملنے پر آپ کی حکومت کو گلے سے دبوچ لیاکرتا تھا؟ بجائے فائدہ اٹھانے کے اسی مسلم لیگ نے آپ کی ہمیشہ لاج رکھی تھی۔ اب اگر اس ہٹ دھرمی کی بدولت جمہوریت کی گاڑی پٹری سے اتری تو ذمہ داروں میں آپ بھی ہوں گے۔ بدلے میں مگر کسی کے ہاتھ کچھ نہ آئے گا۔

الیکشن کمیشن تو پہلے ہی بتلاکر اپنی پوزیشن کلیئر کرچکا کہ عدم اتفاق کی صورت انتخابات کی ضمانت نہیں دے سکتے ہیں۔ کل کلاں کوئی کوشش کر بھی دیکھے تو ممکن نہ رہے گا۔ آگ بھڑکا کر تماشہ دیکھنے والے اور پھر اس کی راکھ کو آنکھوں کا سرمہ بنانے والے بھی ہمارے ہاں کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ کوئی اُٹھ کر سپریم کورٹ چلا جائے گا کہ آئینی طور پر انتخابات آخری مردم شماری کے نتائج کی بنیاد پر کرانے لازم ہیں۔ پھر کسے پتا نہیں کہ ہمارے ہاں 90روز کے لیے آنے والی حکومتوں کو جانے میں 9 سال لگ جایا کرتے ہیں؟

میں ایک عرصہ سے دُہائی دے رہا ہوں کہ اگر سیاستدان اپنے ہاتھوں اس نظام کو ختم نہ کریں تو اسے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ کچھ لوگوں کو مزید برداشت نہ کرنے کا اٹل فیصلہ ہوچکا ہے۔ میری اس فسق وفجور سے معمور سیاسی بصیرت کی تائید چند روز قبل معروف کالم نگار جاوید چوہدری صاحب کی تحریر سے بھی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہیں تفصیل اور مجھ سے بہتر انداز میں یہ بات کی ہے کہ ہماری سیاسی تشکیل نو کا عمل ہورہا ہے۔ موجودہ تمام بڑی قیادت کو اب جانا ہوگا اور یہ جتنا جارحانہ رویہ اپنائیں گے ان کے لیے رعایت کا امکان بالکل ختم ہوکر رہ جائے گا۔

آخر میں اُن کی بات میں اضافہ کرنا چاہوں گا سیاسی انارکی یا کوئی سیاسی ویکیوم بالکل کسی بھی سطح پر ملک کے مفاد میں ہرگز نہیں ہے۔ کسی بھی انہونی یا غیر جمہوری صورتحال کا تصور بھی ملکی ترقی کے لیے سوہانِ روح ثابت ہوگا۔ ایک اخباری رپورٹ کے مطابق حالیہ غیر یقینی سیاسی صورتحال میں اسٹاک مارکیٹ دن بہ دن گرتی جارہی ہے۔ غیر ملکی سرمایا کاروں کے اعتماد میں کمی آچکی ہے۔ اور تو اور چین نے بھی مزید ترقیاتی منصوبوں میں معاونت فراہم کرنے سے معذرت کرلی ہے۔ جس کا لامحالہ اثر سی پیک پر بھی پڑنے کا خدشہ ہے۔

نہایت افسوسناک اور سنگین صورتحال ہے کہ ہماری تمام سیاسی اشرافیہ اس وقت اپنے وقتی مفادات اور محض ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے ہر پستی میں گرنے کو تیار بیٹھی ہے۔ جانتے بوجھتے ہوئے کہ ہمارے اس عمل کی قیمت آنے والی نسلوں کو چکانی پڑے گی۔ خدا ہی ان کی حالت تبدیل کرے اور ان کے دل ودماغ میں کچھ رحم ڈال دے۔

تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت اور اداروں پر لازم ہے کہ اختلافات کو اس نہج پر نہ لیکر جائیں کہ مملکت کو نقصان پہنچے۔ ریاست توانا ہوگی تو ہی حکومت ہوگی، ملک مضبوط ہوگا تو ہی ادارے مستحکم ہوں گے۔ ورنہ خدانواستہ ویرانوں پر پھر نادیدہ قوتوں کا ہی راج ہوا کرتا ہے!

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com