"ظالم" بیویاں - ابوبکر قدوسی

الجھتی ہیں، ناراض ہوتی ہیں، بگڑتی ہیں اور پھر آپ کے ہی قدموں میں بکھر جاتی ہیں، اور سب کچھ آپ کے پاؤں میں ہار دیتی ہیں۔

روپیہ روپیہ جوڑتی ہیں، کبھی آپ کی جیب سے بچا بچا کے اور کبھی اپنی وراثت میں ملا روپیہ۔ ایسی بھولی گائیں ہوتی ہیں یہ کہ خاوند پر احسان چڑھاتی ہیں، لیکن کرتی ہمیشہ "گھاٹے کا سودا" ہیں۔ وہ یوں کہ سینت سینت کر جوڑا روپیہ آپ کی اولاد پر لگا چھوڑتی ہیں، کبھی بہت ہوا تو اپنے دو چار جوڑے بنا لیے، لیکن اکثر جانتے ہیں کیا کرتی ہیں؟
جی ہاں بہت شوق سے بازار جا کر گھر کی کوئی شے، کوئی آرائش کی، یا استعمال کی چیز لے آتی ہیں۔ بہت سیانی بنتی ہیں، ایک جملے کو، صرف ایک تحسین کے جملے کو اس "جوڑ توڑ" کا حاصل سمجھتی ہیں۔ آپ کے حصے کا کام کر رہی ہوتی ہیں اور بدلے میں صرف اک نظر، محبت بھری مسکراہٹ اور تسلیم پر راضی ہو جاتی ہیں۔

دیکھیے نا!
اصول کی بات ہے کہ گھر بنانا اور چلانا مرد کی ذمہ داری ہے، اور اس کو سنبھالنا، سجانا، سنوارنا عورت کی۔ اب یہ عورت مرد کے حصے کا کام کرتی ہے اور تحسین کے دو بول، محض دو بول مانگتی ہے اور جانتے ہیں ؟ انھی پر راضی ہو جاتی ہے۔

اگلے روز ہمارے ایک فیس بک کے دوست کا آپریشن تھا۔ دوست کے دونوں گردے ناکارہ ہو چلے تھے، تبدیلی کا فیصلہ ہوا۔ ان کی پوسٹ دیکھی دل مضطرب تھا۔ کیسا خوبصورت، ہنستا چہرہ، سچی بات ہے مجھے بہت اندیشے تھے۔ اللہ نے زندگی دی، لوٹ آئے۔
ایک دوست نے ان سے پوچھا کہ جس نے گردہ عطیہ کیا وہ کیسا ہے؟
اگلا سوال کسی نے کیا:
"بھائی آپ کو گردہ کس نے دیا؟"
ان کا جواب تھا:
"میری اہلیہ نے"
میری آنکھیں بھر آئیں کہ یہ کیسی کمال کی نعمت اللہ نے ہم کو دی ہے، بھلا ایسا بھی ہوتا ہے۔ ہم سے محبت کرتی ہیں، پھر الجھتی ہیں، اور پھر اپنا سب کچھ ہم پر ہی ہار دیتی ہیں، اگر وقت آن پڑے تو اپنی جان بھی وار دیتی ہیں۔ کبھی تو ہم ایسے بے پرواہ ہو جاتے ہیں کہ تعریف تو کیا تسلیم سے بھی مکر جاتے ہیں، لیکن یہ ایسی ہوتی ہیں کہ اس بے پرواہی کا علاج بھی مزید محبت سے کرتی ہیں، کہ شاید اب کے شام کا بھولا جلدی لوٹ آئے۔

اگلے روز ایک ویڈیو دیکھی کہ خاوند بیوی کی بے جا ضد سے ہارا، کہ جو ساتھ جانے کو تیار نہ تھی۔ اس نے اسے موٹر سائیکل پر باندھا اور ساتھ لے چلا، راستے میں لوگوں نے اس عمل پر اس مرد کو شرمندہ کیا تو اس نے اسے کھولا۔ اب وہ عورت لوگوں کو یقین دلا رہی تھی کہ کوئی ایسا مشکوک معاملہ نہیں، وہ اس کی بیوی ہی ہے، بس لڑائی ہو گئی تھی۔ اور ساتھ میں اپنے خاوند کے منہ سے پسینہ کمال محبت سے صاف کر رہی تھی۔ لوگوں کے تیور دیکھے تو سب لڑائی بھول گئی، بس یہی فکر کہ کوئی اس کے خاوند کو کچھ نہ کہے۔
جگ تے توں جیویں، تے تری آس تے میں جیواں

ایسی "جھلی" ہوتی ہیں کہ کھانے کا بہترین حصہ ہمارے لیے بچا کے رکھتی ہیں اور ہم بسا اوقات یہ پوچھنا بھی بھول جاتے ہیں کہ اس نے کھانا بھی کھایا یا نہیں۔
ہم بھلے تمام دن دوستوں میں گزار کے آئیں، یہی سمجھتی ہیں کہ سرتاج دن بھر کام کاج کے تھکے آئے ہیں۔ پاؤں بھی دھیرج رکھتی ہے کہ مزاج کے نازک آبگینوں کو ٹھیس نہ لگ جائے۔ ہم ایسے بے توفیق ہوئے کہ نازک آبگینے خود بن کے رہ گئے، اور اس کو بہت آسانی سے یہ کہہ دیتے ہیں کہ "تم تمام دن کرتی کیا ہو؟"

مجھے اپنے ایک ملنے والے یاد آ گئے کہ جب بھی آتے ایک آٹھ دس برس کا بچہ ہمراہ ہوتا، اک روز بتانے لگے کہ:
"اس کی ماں نہیں، کھانا بھی خود بناتا ہوں، اکٹھے رہتے ہیں، ایک کمرہ لیا ہوا ہے، نوکری لاہور میں ہے۔ میں ملازمت پر چلا جاتا ہوں، اس کو حفظ کے مدرسے میں چھوڑ کے آتا ہوں، تب کچھ کام کر پاتا ہوں۔"
میں سوچ کے رہ گیا کہ ہم کیسے بےفکر ہو کے کام پر چلے آتے ہیں۔

ایسی سادہ ہوتی ہیں کہ شادی کی اگلے روز اپنا حق مہر معاف کر کے بیٹھی ہوتی ہیں، اور اگر کوئی زیادہ مسکین شکل بنا لے، یا محبت سے بازوؤں میں بھر لے تو وہی رقم اس کو دے کر کہتی ہیں:
" لیں آپ برت لیجیے گا، میں نے کیا کرنی ہے، آپ ہیں نا۔"

یار دیکھیے نا ، کیسی اللہ کی نعمت ہوتی ہیں، زمانے بھر کا دکھ سہتی ہیں کہ ماں باپ کو چھوڑ کے آپ کے پاس آ جاتی ہیں، پھر آپ کے ماں باپ، بہن بھائیوں کی خدمت کرتی ہیں۔ آپ ایک لمحہ جس تکلیف کو نہ سہہ سکیں، اس کو سہار کر آپ کے بچے پیدا کرتی ہیں، اور سب سے بڑا انعام آپ کو یہ دیتی ہیں کہ ان کی اچھی سے اچھی تربیت کرتی ہیں، اور پھر آپ بوڑھے ہوتے ہیں تو بھی ان سے آپ کے لیے لڑتی ہیں کہ "باپ کا خیال کا کرو۔"

اور بتاؤں!
سب سے بڑی عنایت ان کی تب ہوتی ہے کہ جس سے میں بھی ہر دم نہال ہوتا ہوں، کہ آپ کی آخرت کی بھی سوچتی ہیں۔ کیسی مہربان اور شفیق۔ میری اہلیہ تب تو ایسی تلخ ہو جاتی ہے جب میں نماز میں سستی کرتا ہوں، کبھی سستی کے مارے گھر میں پڑھنے کو جی چاہتا ہے تو یوں ناراض ہوتی ہے کہ جیسے میں نے اس کے بچائے پیسے چرا لیے ہیں۔ پھر اٹھ کے مسجد جانا ہی پڑتا ہے۔ ہیں نا بہت ظالم بیویاں کہ آپ کا ساتھ چھوڑتی ہی نہیں، آخرت کی فکر میں بھی رہتی ہیں۔

Comments

ابوبکر قدوسی

ابوبکر قدوسی

ابوبکر قدوسی معروف اشاعتی ادارے مکتبہ قدوسیہ کے مدیر ہیں۔ تیرا نقش قدم دیکھتے ہیں نامی کتاب کے مصنف ہیں۔ مجلہ الاخوہ کے مدیر رہے۔ اسلامی موضوعات سے دلچسپی ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com