یونیورسٹی کلچر اور لڑکے لڑکیوں کی پاکیزہ دوستیاں - حافظ محمد زبیر

معاشرے کے ایک طبقے کا کہنا یہ ہے کہ لڑکے اور لڑکیوں کی باہمی دوستی میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اس سے ان دونوں کو ایک دوسرے کو سمجھنے، اسٹڈی میں اور زندگی کے مختلف مسائل حل کرنے میں مدد ملتی ہیں۔ اس طبقے کا کہنا یہ ہے کہ لڑکے اور لڑکی میں "محض دوستی" (just friendship) ممکن ہے کہ دوستی کو مرد اور عورت کی تمیز سے بالاتر ہونا چاہیے۔

محض دوستی کو اصطلاحا افلاطونی دوستی (platonic friendship) بھی کہتے ہیں، یعنی ایسی دوستی کہ جس میں لڑکا اور لڑکی ایک دوسرے سے رومانس اور جنسی ملاپ کی خواہش نہ رکھتے ہوں۔ اس دوستی کے وجود کے بارے سائیکالوجسٹس کا اختلاف ہے، جبکہ ماڈرن ریسرچ اسٹڈیز یہ بتلاتی ہیں کہ یہ ایک خواہش ہی ہے اور ایسا حقیقت میں ممکن نہیں ہے۔

2000ء میں جرنل آف سوشل اینڈ پرسنل ریلیشن شپس (Journal of Social and Personal Relationships) میں شائع شدہ ایک ریسرچ کے مطابق 300 کالج اسٹوڈنٹس سے ایک سروے کیا گیا کہ جس کے مطابق ان میں سے 67 فیصد کی فرینڈ شپ، سیکسچوئل ریلیشن شپ میں تبدیل ہو چکی تھی۔

ایک امریکی یونیورسٹی، ونکونسین-ایو کلیئر (The University of Wisconsin–Eau Claire) نے 400 لوگوں کی دوستی کو تحقیق کا موضوع بنایا کہ جس کا نتیجہ یہ شائع کیا کہ ان میں اٹریکشن بہت عام تھی اور وہ محض دوستی نہیں تھی۔ اس ریسرچ کا خلاصہ یہ تھا کہ دونوں کی طرف سے نہ سہی، لیکن ایک کی طرف سے اٹریکشن ضرور موجود ہوتی ہے، چاہے کم لیول کی ہو اور یہ عموما مرد کی طرف سے ہوتی ہے۔

ایک اور امریکی یونیورسٹی، الاباما (The University of Alabama) نے 418 اسٹوڈنٹس پر ریسرچ کی، اور یہ نتائج پبلش کیے کہ اگرچہ اکثریت اس بارے پر امید ہے کہ "محض دوستی" کا وجود ممکن ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ 63 فیصد کا کہنا یہ بھی ہے کہ وہ نہ نظر آنے والی محبت (some kind of secret romantic interest) کا شکار ہوتے ہیں۔ یعنی وہ کسی ذہنی لیول پر جا کر ایک دوسرے میں اٹریکشن، رومانس اور جنسی خواہش محسوس کر رہے ہوتے ہیں لیکن وہ اس کو ماننے یا اظہار پر تیار نہیں ہوتے۔

یہ بھی پڑھیں:   طلبہ اور سیاست ، قائدِ اعظم کی نظر میں - محمد ریاض علیمی

بہرحال ماڈرن سائیکالوجی کیا کہتی ہیں؟ یہ ایک الگ موضوع ہے لیکن ہمارا مذہب اس بارے یہی رہنمائی دیتا ہے کہ مرد و زن کی آپس کی دوستیاں درست نہیں ہیں۔ صحیحین کی روایت کے مطابق اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ میری امت کے لیے سب سے بڑا فتنہ عورتیں ہیں۔ اب یہاں عورتوں سے مراد ماں، بہن، بیوی اور بیٹی نہیں ہے۔ ظاہری بات ہے کہ اس سے مراد غیر محرم عورتیں ہیں۔ اور یہ حدیث بیوی کو بہت اچھی طرح سمجھ آتی ہے کہ غیر محرم عورتیں اس کے خاوند کے لیے کیسے فتنہ بن سکتی ہیں۔

ایک اور صحیح حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مرد اور عورت جب تنہا ہوتے ہیں تو ان کے ساتھ تیسرا شیطان ہوتا ہے۔ تو "محض دوستی" کیا چیز ہے بھئی؟ ریلیشن شپ ایکسپرٹ اور بیسٹ سیلر اپیرل میسینی (April Masini) کا کہنا ہے کہ "محض دوستی" کا وجود ممکن نہیں ہے۔ اور اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ اس لمحے میں "محض دوستی" سے گزر رہے ہیں تو ذرا انتظار کریں، کچھ وقت گزرنے کے بعد آپ کو احساس ہو جائے گا کہ یہ آپ کی غلط فہمی تھی۔

یہ سمجھنا بےوقوفی ہے کہ "محض دوستی" ممکن ہے، لڑکے اور لڑکی کا باہمی تعلق بڑے اخلاص اور خیر خواہی پر مبنی ہے، اور "سیکس" تو مولوی کے ذہن میں ہے جو انہیں اس دوستی سے ڈراتا ہے۔ اگر "سیکس" مولوی کے ذہن میں ہے تو "فرائیڈ" اور "منٹو" مدرسے کی پیداوار ہیں کیا؟ بیسویں صدی میں دوسرا بڑا سوشل سائنٹسٹ اور سائیکالوجسٹ "فرائیڈ" ہے کہ جس کا کہنا ہے کہ ماں بیٹے کے پاس اور باپ بیٹی کے پاس بیٹھے تو اس میں بھی جنسی خواہش موجود ہوتی ہے۔ تو یہ سیکس کیا مذہب کے ذہن پر سوار ہے یا آپ کی ماڈرن سائیکالوجی کی بنیادوں پر؟

یہ بھی پڑھیں:   لڑکیاں بھی انسان ہوتی ہیں - عمارہ خان

اگر لڑکے اور لڑکی کی دوستی اتنی ہی پاکیزہ ہوتی ہے تو یہ سائبر کرائمز کس بلا کا نام ہے اور اتنی بڑی تعداد میں یہ کہاں سے ٹپک پڑے کہ آپ کو قانون سازی کی ضرورت پڑ گئی؟ یہ یونیورسٹیز میں ڈیٹنگ کلچر کسے کہتے ہیں؟ اور پیئرز جھاڑیوں اور درختوں کے پیچھے چھپ کر کون سی اسائنمنٹس حل کرنا چاہتے ہیں؟ یہ فرینڈ شپ کے نتیجے میں کورٹ میرج کوئی مریخ پر ہو رہی ہے کیا؟ اگر یہ دوستی اسٹڈی میں ہیلپ فل ہے تو سی جی پی اے (CGPA) ان اسٹوڈنٹس کا کیوں کم آ رہا ہے کہ جن کی کراس جینڈر دوستیاں زیادہ ہیں؟

لبرل طبقے کے پاس اپنے مؤقف کے حق میں عجیب و غریب اور فضول قسم کے دلائل ہیں۔ ان کی ماڈرن منطق کے مطابق تو چنگیز خان بھی اللہ کی نعمت سے کم نہ تھا کہ اگر اتنے انسان قتل نہ کرتا تو دنیا کی آبادی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہوتی۔ لبرل لکھاریوں کا المیہ یہ نہیں ہے کہ ان کے پاس کہنے کو کوئی عقلی و منطقی بات نہیں ہے۔ ان کے پاس کہنے کو بہت سی منطقی اور عقلی باتیں ایسی ہی ہیں کہ جیسے "دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے۔"

اور قابل افسوس صورت حال یہ ہے کہ اب یونیورسٹی ٹرپس کے نام پر یہ مخلوط معاشرت اتنی عام ہو چکی ہے کہ مذہبی گھرانوں سے تعلق رکھنے والے لڑکے اور لڑکیوں کے لیے بھی ان میں شمولیت ایک عام سی بات ہو چکی ہے۔ بس فرق صرف اتنا ہے کہ یہ نقاب میں گروپ فوٹو کھچوا لیں گی۔ لیکن ان لڑکیوں کو یہ سمجھ نہیں آتی کہ یہ چیز ان کی شادی کے بعد کی زندگی کے لیے کتنی نقصان دہ ہے کہ ان کا شوہر ساری عمر شک میں گزار دے گا۔ "غیرت" انہیں مذہب نے نہیں دی، یہ غلط فہمی ہے۔ غیرت ان کے جینز میں ہے۔ یہ مذہب کو چھوڑنے کے بعد بھی تمہارے معاملے میں اتنے ہی غیرت مند رہیں گے۔

Comments

حافظ محمد زبیر

حافظ محمد زبیر

حافظ محمد زبیر نے پنجاب یونیورسٹی سے علوم اسلامیہ میں پی ایچ ڈی کی ہے۔ کامسیٹس میں اسسٹنٹ پروفیسر اور مجلس تحقیق اسلامی میں ریسرچ فیلو ہیں۔ متعدد کتب کے مصنف ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.