سراب زندگی (2) - احسن سرفراز

پچھلی قسط

کچی عمر کا یہ رشتہ اب وقت کے ساتھ ساتھ جنون کی شکل لے رہا تھا، چہ میگوئیاں بڑھ رہی تھیں اور اب ان کی داستان محبت لوگوں کی دبی دبی سرگوشیوں سے ہوتی ہوئی کھلم کھلا طعنوں کی زد میں آچکی تھی۔ دباؤ بڑھتا جارہا تھا، معاشرے کا دباؤ، خاندانوں کا دباؤ، بے قابو جذبات کا دباؤ اور پھر دونوں ہم عمر اور طالبعلم تھے۔

دونوں خاندانوں کے درمیان اس موضوع پر اچھی خاصی نوک جھونک ہو چکی تھی کہ اپنے اپنے بچوں کو سمجھائیں ورنہ اچھا نہ ہو گا۔ اسی کشمکش میں کہکشاں کے گھر والوں نے محسن کے والدین کو کچھ زیادہ برا بھلا کہا۔ محسن کی والدہ اپنے بیٹے کے پاس آکر بہت روئیں اور برخوردار سے التجا کی کہ اب وہ انھیں مزید رسوا نہ کروائے۔ والدہ کے آنسو اور ان سے ہوئی زیادتی نے گویا محسن کے جذبات کو لگام دے دی اور وہ ایک لمحے کو اس محبت کے نتائج پر غور کرنے پر مجبور ہوگیا۔

اس نے یہ حقیقت قبول کرنا شروع کردی کہ ابھی اسے اپنی تعلیم مکمل کرکے برسر روزگار ہونا ہے، اپنے چھوٹے سے مکان کو توسیع دیے بغیر تو گھر میں اس کی بیوی کے کمرے کی گنجائش بھی نہیں بنتی۔ ان سب کے لیے کم از کم اسے سات آٹھ سال تو لازماً ہی درکار ہیں اور تب تک اس کی عمر پچیس اور کہکشاں بھی تقریباً اتنی ہی ہو جائے گی تو آخر کہکشاں کے گھر والے جو اس رشتے سے پہلے ہی راضی نہیں آخر کب تک اسے اس کے انتظار میں گھر بٹھائیں گے؟ یہ سب سوالات اب ایک واضح حقیقت بن کر اس کے سامنے موجود تھے اور وہ اس پر جتنا ٹھنڈے دماغ سے غور کرتا، اسے اس رات کی کوئی صبح دکھائی نہ دیتی۔ بالآخر اس نے والدہ سے ہوئی زیادتی کو جواز بنا کر کہکشاں سے اس رشتے کو مزید جاری رکھنے سے انکار کر دیا۔

اس بار محسن اپنے فیصلے پر خاصہ مطمئن تھا، جیسے قدرت نے اسے صبر دے دیا تھا۔ اس نے اسے رشتے کے خاتمے کو قدرت کی مرضی جان لیا تھا لیکن دوسری طرف اس بار تڑپنے کی باری کہکشاں کی تھی۔ وہ اس حقیقت کو سمجھنے سے بالکل انکاری تھی اور اپنے دل کو سنبھالنے میں یکسر ناکام تھی۔ اس نے محسن سے رابطے کے تمام جتن کر ڈالے، اپنے خون سے خط لکھنا، گھنٹوں چھت پر کھڑے رہنے سمیت ہر حربہ آزما ڈالا، لگتا تھا محسن کو دوبارہ پانے کی دھن نے اسے پاگل بنا ڈالا تھا۔ بالآخر ایک دن اس نے اپنے رب سے رو رو کر دعا مانگی اور محسن کو پیغام بھیجا کہ ایک دفعہ وہ چھت پر اس سے ملنے آجائے، پھر چاہے اسے زندگی بھر نہ ملے۔ محسن نے نہ چاہتے ہوئے بھی آنے کی حامی بھر لی۔

اس روز سرشام ہی سردیوں کی پہلی بارش برسنے لگی، موسم میں خنکی اچانک بڑھ گئی تھی۔ رات کا وقت ملنے کا طے تھا لیکن بارش کی وجہ سے محسن نے سوچا کہ اب کہکشاں کہاں آئی ہوگی؟ لیکن پھر کافی دیر بعد اس کے دل نے کہا کہ ایک بار اوپر جا کر دیکھ لینا چاہیے۔ گھر والوں سے نظر بچا کر وہ اوپر چھت پر گیا تو ہر طرف ہُو کا عالم تھا اور ان دونوں کی چھت کی مشترکہ مختصر سی دیوار کے ساتھ کہکشاں بارش سے بھیگی ہوئی گٹھڑی بنی بیٹھی تھی۔ سردی سے اس کے دانت بج رہے تھے لیکن محسن کے قدموں کی آہٹ نے جیسے اس کے اندر حرارت بھر دی۔ محسن نے جب اس حالت میں کہکشاں کو دیکھا تو اس کے تمام سرد جذبات نے جیسے پھر سے چنگاری پکڑ لی۔ کہکشاں نے کہا کہ وہ محسن کے گھر آکر اُس کی والدہ سے پہلے ہی معافی مانگ چکی ہے۔ محسن نے اسے سمجھایا کہ اس رشتے کو جاری رکھنا خود کہکشاں کے لیے مشکل ہوگا۔ ایک تو اس کے گھر والے پہلے ہی خلاف ہیں دوسرا وہ کب تک اس کا انتظار کرے گی؟ کہکشاں نے جواب دیا کہ وہ اپنے گھر والوں کو منا لے گی، محسن چاہے تو اس کے گھر باقاعدہ رشتہ بھیج سکتا ہے۔ باقی رہی انتظار کی بات تو وہ محسن کے معاشی طور پر قدموں پر کھڑا ہونے کا انتظار کرے گی اور انتظار کرنا اس کا مسئلہ ہے محسن کا نہیں۔ کہکشاں کا یہ عزم دیکھ کر محسن نے اسے کہا کہ اپنے آنسو پونچھ ڈالو، یہ اب اس کا وعدہ ہے کہ وہ اسی سے شادی کرے گا اور جلد از جلد کسی بھی طرح اپنے قدموں پر کھڑا ہوگا۔

کہکشاں سے یہ وعدہ کرکے محسن اپنی والدہ کے پاس آیا اور بے اختیار ان کی گود میں سر رکھ کر رونے لگا۔ والدہ کے استفسار پر اس نے کہکشاں سے ملاقات کی تمام روداد والدہ کے گوش گزار کردی۔ والدہ نے شفقت سے محسن کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا کہ وہ اس کا برا کبھی بھی نہیں سوچتی اور اس کے والد کو کہکشاں کے گھر رشتہ لے کر جانے پر راضی کرلیں گی لیکن محسن اب کہکشاں سے چھت پر ملنے نہ جائے کیونکہ اگر انہوں نے اسے اپنے گھر کی عزت بنانا ہے تو وہ قطعاً نہیں چاہیں گی کہ لوگ اس کے بارے میں کوئی بھی غلط بات کریں۔ محسن نے والدہ سے ان کی بات ماننے کا وعدہ کیا اور والدہ نے بھی محسن کے والد کو بچے کی خوشی ماننے پر راضی کر لیا۔

محسن کے والدین کہکشاں کے گھر رشتہ لے کر گئے تو کہکشاں کے بڑے بھائی کی تمام تر سرد مہری کے باوجود کہکشاں کے والد نے بچوں کی خوشی کو سامنے رکھتے ہوئے اس شرط پر حامی بھر لی کہ محسن جلد از جلد معاشی طور پر اپنے پیروں پر کھڑا ہوگا اور اس منگنی کو زیادہ لمبا نہیں کیا جائے گا۔ پھر رسم و رواج کے مطابق دو چاہنے والے ایک دوسرے سے منسوب ہوگئے۔ جیسے مضطرب دلوں کو قرار آگیا۔ گو کہ منزل اب بھی کٹھن ضرور تھی لیکن انہیں بالکل سامنے نظر آ رہی تھی۔

محسن اب ڈگری کورس کے لیے یونیورسٹی کا طالبعلم بن چکا تھا، لیکن اس کی نظریں بس جلد از جلد اپنے قدموں پر کھڑا ہونے پر مرکوز تھیں۔ محسن کے والد گو کہ سرکاری آفیسر تھے لیکن رزق حلال کی پابندی اور بچوں کی مہنگی تعلیم کی وجہ سے گزارا بمشکل ہو پاتا تھا۔ انہی دنوں محسن نے گرمیوں کی چھٹیوں میں ایک مارکیٹنگ کمپنی میں ملازمت کرلی، کمپنی کچھ گھریلو استعمال کی مصنوعات فروخت کرتی تھی اور ان کا ٹارگٹ صرف ایلیٹ کلاس تھی۔ وہ اپنے ملازمین کو ابتدا میں تنخواہ کی بجائے صرف کمیشن دیتے تھے۔ نیز ملازمین کے لیے ٹائی باندھنا بھی لازم تھا۔ محسن نے پہلی ٹائی ایک دوست سے مانگ کر باندھی۔ اس کے پاس اپنی ذاتی سواری تک نہ تھی، اور جیب میں اتنے ہی پیسے ہوتے جس سے یا تو وہ دوپہر کا کھانا کھاتا یا پھر مارکیٹنگ کی غرض سے ادھر ادھر جانے کا کرایہ نکال پاتا۔ اس نے اس چیز کا حل یہ نکالا کہ اپنے دفتر کے گرد مالی طور پر مستحکم علاقوں کا انتخاب کیا اور دوپہر کو جب بھوک زیادہ ستاتی تو روٹی لے کر پانی ہی سے نگل لیتا تاکہ پیٹ کی آگ کچھ تو بجھے۔

محسن بات چیت اور پروڈکٹ کا تعارف کروانے میں تیز تھا اور جلد ہی اس نے اپنی ٹیم میں نمایاں مقام حاصل کر لیا۔ بہرحال پیدل چلتے چلتے محاورتاً نہیں بلکہ اس کے جوتے کے تلے فی الواقع گھس گئے لیکن اس نے ہمت نہ ہاری۔ کچھ ہفتے بعد پہلی پراڈکٹ بکی تو اپنی پہلی کمیشن لیتے ہوئے کہکشاں کا خوشی سے تمتماتا ہوا چہرہ اس کے چشم تصور میں گھوم گیا۔ جلد ہی محسن نے مزید پروڈکٹ بیچ ڈالیں ، اب اس کی سخت محنت کا صلہ اسے ملنے لگا تھا۔ اپنی پہلی کمائی سے اس نے کہکشاں کے لیے ایک سوٹ خرید کر تحفتاً بھجوایا تو گویا اس نے کوئی قلعہ فتح کر لیا ہو۔ اسے ایک عجیب سی خوشی نے گھیر رکھا تھا۔ اس نے اپنے لیے بھی عمدہ جوتوں کا جوڑا اور اپنی جاب کے تناظر میں کچھ کپڑے اور ٹائیاں خریدیں۔

جلد ہی چھٹیاں اپنے اختتام کو پہنچیں تو محسن نے یونیورسٹی کلاسز کے بعد پارٹ ٹائم جاب پر جانے کا فیصلہ کرلیا۔ وہ صبح سے شام تک بس پڑھائی اور اپنی سخت اور تھکا دینے والی جاب کو ساتھ لیکر چلنے کی اپنے تئیں بھرپور کوشش کرتا رہا۔ جہاں پہلے ہر سمسٹر میں اس کے گریڈز انتہائی عمدہ ہوتے تھے وہیں اب اس کے نمبروں کی اوسط گرنے لگی تھی، اسائنمنٹ بروقت جمع نہ ہو پاتیں اور کئی بار اساتذہ سے خاصی ڈانٹ کھانا پڑتی، لیکن محسن کو تو اپنی منزل کا پتہ تھا کہ کہکشاں کو پانے کے لیے یہ سب اسے برداشت کرنا تھا۔

دوسری طرف کہکشاں اب کئی کئی دن چھت پر محسن کی دید کو ترستی رہتی، اس کے پیام کی منتظر رہتی لیکن محسن جب بھی اسے خط لکھتا تو کہتا کہ اب پریشانی کیسی اب تو ہم منسوب ہو چکے ہیں اور مجھے اپنے قدموں پر کھڑا ہو کر جلد تمہیں بیاہ لانا ہے۔ بہرحال کہکشاں کی بے قراری کسی صورت کم نہ ہوتی اور وہ اکثر محسن سے اس کی محبت میں کمی کا گلہ کرتی۔ محسن اسے سمجھاتا کہ اس کا ایسا سوچنا یکسر غلط ہے وہ جو کچھ کر رہا ہے اسے پانے کے لیے ہی کر رہا ہے۔

وقت آگے بڑھتا رہا۔ اب محسن چھ سمسٹرز میں سے چار سمسٹر پاس کر چکا تھا، اس بار گرمیوں کی چھٹیوں میں محسن نے اپنے ننھیالی شہر میں پروڈکٹ متعارف کروانےکا پروگرام بنایا۔ اس کا ننھیالی شہر صنعتی علاقہ تھا جہاں لوگوں کی قوت خرید خاصی زیادہ تھی۔ وہاں پروڈکٹ متعارف کروانے کا فیصلہ جیسے محسن کے لیے کسی لاٹری کھلنے جیسا ثابت ہوا۔ اس کی پروڈکٹ ہاتھوں ہاتھ بکی اور اس نے پروڈکٹ بیچنے کے اپنی کمپنی کے گزشتہ تمام ریکارڈ توڑ ڈالے۔ وہ بہت خوش تھا اس گرمیوں کی چھٹیوں میں اس نے اتنی کامیابی حاصل کرلی کہ ایک پرانی لیکن انتہائی اچھی حالت میں موٹر بائیک بھی خرید لی۔

چھٹیاں ختم ہو چکی تھیں اور نئے سمسٹر کی کلاسز بھی شروع ہو چکی تھیں لیکن محسن کے لیے اتنی کامیاب کاروباری مہم چھوڑ آنے کا فیصلہ خاصہ کٹھن ثابت ہو رہاتھا۔ بہرحال اگر وہ واپس نہ آتا تو یونیورسٹی سے اس کا نام کٹ جاتا۔ چاروناچار اس نے واپس آنے کا فیصلہ کرلیا۔ اس کی کمپنی کے مالک نے اسے اپنے پاس بلایا اور محسن کو ایک آفر دی کہ کمپنی اسے اس کے ننھیالی شہر میں ایک باقاعدہ آفس اور سٹاف دے کر برانچ مینیجر بنانے کو تیار ہے لیکن شرط یہ ہے کہ اسے اپنی یونیورسٹی ڈگری ادھوری چھوڑنا ہوگی۔ وہ اب ایک عجیب دوراہے پر آچکا تھا، ایک طرف اس کی تین سالہ ڈگری کا آخری سال تھا اور دوسری طرف کمپنی کی پرکشش آفر تھی۔ بالآخر اس نے ایک دفعہ پھر اپنی محبت کو جلد پانے کے رستے کا انتخاب کیا۔ اس کے اس فیصلے کی اس کے والدین اور خود کہکشاں نے شدید مخالفت کی لیکن محسن ٹھان چکا تھا کہ اس کی تعلیم کی قربانی اس کی محبت کو پانے کا شارٹ کٹ ہے۔

وہ اب ایک دفعہ پھر کہکشاں کو پانے کی نیت سے بظاہر اس سے دُور دوسرے شہر جا رہا تھا۔ کہکشاں کی آنکھیں رو رو کر محسن کی جدائی کے تصور سے ہی سرخ تھیں۔ وہ تو پہلے ہی اس کی دوری کو اس کی بے اعتنائی پر محمول کر رہی تھی اور اب کچھ خاموش خاموش رہنے لگی تھی۔ اس نے اپنے آپ کو مصروف رکھنے کے لیے باقاعدہ حفظ قرآن شروع کردیا تھا۔ محسن بھی اس کے اس فیصلے سے بہت خوش تھا کہ ایک تو اس کا دھیان بٹے گا، دوسرا اس کی ہونے والی بیوی حفظ قرآن کی سعادت حاصل کر لے گی۔

(جاری ہے)

Comments

احسن سرفراز

احسن سرفراز

احسن سرفراز لاہور کے رہائشی ہیں. سیاست اور دیگر سماجی موضوعات دلچسپی کا باعث ہیں. ان کے خیال میں وہ سب کی طرح اپنے رب کی بہترین تخلیق ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ رب کی تخلیق کا بھرم قائم رہے.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.