ملک دشمنوں کو رد کر دو! - محمود فیاض

مگس کو باغ میں جانے نہ دیجیو

ناحق خون پروانے کا ہوگا

شاعر کے مطابق مگس یعنی شہد کی مکھی باغ میں جائے گی، پھر پھولوں کا رس چوسے گی اور واپس جا کر شہد کا چھتہ بنائے گی۔ شہد کے چھتے میں شہد کے علاوہ موم بھی بنتا ہے، اس سے موم بتی بنے گی اور وہ موم بتی جب جلے گی تو پروانہ روشنی کی چاہ میں آگ کی طرف آئے گا اور جل کر خاک ہو جائے گا۔

خوبصورت شعر ہے اور شاعر کی دور بینی کی داد دینا بنتا ہے کہ اس نے معاملے کو جڑ سے پکڑا ہے۔ حاصل کلام اس شعر اور تشریح سے یہ ہے کہ ہر حادثے کا مرکز و محور دور کہیں کسی اور بات میں ہوتا ہے۔ آج ہم بحیثیت قوم جن حالات کا شکار ہیں ان کی جڑیں ماضی میں کی گئی کئی غلطیوں میں ہی ملیں گی۔ اگر ہم صرف موجودہ حالات ہی کو سمجھیں گے تو کبھی برائی کی جڑ تک نہیں پہنچ پائیں گے۔

آپ ضیاء دور میں جہاد کے آغاز کو غلط سمجھیں، یا ملک میں فرقہ وارانہ مسجدوں کے منبروں سے آتی آوازوں کو نظر انداز کرنے کو حکومتوں کی غلطی سمجھیں یا ریاست کے اندر ریاست بنادینے والے چھوٹے چھوٹے گروہوں کے لیے نرم گوشہ رکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کو الزام دیں، آج بحیثیت ریاست اور بحیثیت قوم ہم انہی غلطیوں کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔

آج ہمارے پاس ایک مجہول ریاست ہے، جس کی واحد امید فوج کا ادارہ ہے۔ خدانخواستہ آج ہماری فوج نہ رہے تو پاکستان کے وجود کی ضمانت مشکل ہے۔ یہ تلخ حقیقت ہے اور مجھے اس پر بالکل فخر نہیں ہے، ریاست کو فوج سے مضبوط تر ہونا چاہیے تھا۔ آج ہماری جمہوریت اپنی روایات میں کمزور تر ہوتی ایک کرپٹ خاندان کے رحم و کرم پر پڑی ہے، جس نے پچھلے تیس سال میں تقریباً ہر ادارے میں بغیر میرٹ اپنے صوابدیدی اور اپنے کاسہ لیس گھسا کر ہر ادارے کو تقریباً تباہ کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ پولیس، انکم ٹیکس، پی آئی اے، پٹوار، نیب وغیرہ ایک مخصوص خاندان کے وفادار نظر آتے ہیں۔ اصلی جمہوریت ہو تو یہی ایک جرم کافی ہے کسی سیاسی جماعت کے لیے جو اپنی ریاست کے اداروں کو اس قدر کمزور کردے۔

آج ہمارے ملک میں فساد و انارکی پھیلاتے درجنوں افراد اور تنظیمیں ہیں جو وقتاً فوقتاً کمزور اور مفلوج حکومت کو ڈرا دھمکا کر اپنے مطالبات پورے کروا لیتی ہیں یا کوئی وقت فائدہ اٹھالیتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   انقلاب یا بغاوت - عمار مظہر

آج ہمارے ملک میں عوامی نمائندوں کی بجائے ہر علاقے کے اثر و رسوخ رکھنے والے طاقتور اور اکثر غنڈہ گردی کرنے والے 'الیکٹیبلز' ہیں جو جمہوریت کے ڈرامے کو زندہ رکھنے کے لیے کرائے کے "ایکسٹرا اداکاروں" کی طرح دستیاب ہیں۔

آج ہمارے ملک میں انڈسٹری کی بجائے ایسے غنڈہ عناصر کاروباری شکل میں موجود ہیں جو محض زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کے لیے عوام کو ہر سہولت کے بدلے موت بیچ رہے ہیں۔ یہ موت چاہے ملاوٹی دودھ کی شکل میں ہو، زہریلی زرعی ادویات کی شکل میں، گھٹیا کھاد کی شکل میں ہو یا کینسر پھیلاتی پولٹری کی صورت میں۔ جعلی دوائیاں ہوں، یا جعلی ڈگری والے ڈاکٹر، انصاف کی بجائے ججوں کو بالواسطہ رشوت پہنچاتے وکیل ہوں یا قبضہ مافیا کے غنڈے غریب کے گھر سے ان کے بچے اٹھا لے جانے والے، سب ہمارے ملک کے کاروبار ہیں۔ ان میں سے کسی کے "کاروبار" پر ریاست کوئی ایکشن نہیں لے سکتی کہ یونین، شٹر ڈاؤن، اسمبلی میں بیٹھے بلیک میلروں کی آشیر واد اور حکمران جماعت کو جاتے بریف کیس اور پلاٹوں کی رجسٹریاں ان کے پرمٹ چلاتے رہیں گے۔

معاملات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ ریاست کی رٹ کسی کے ایجنڈے پر نہیں ہے۔ ہر فرد اپنی سہولت کے حساب سے کسی نہ کسی گروہ سے وابستہ ہو چکا ہے اور اس گروہ کے ساتھ ملکر کر ریاست کو بلیک میل کرنے میں شریک ہے۔ اس کے بدلے میں اس کو اس جنگل نما معاشرے میں زندگی گزارنے کا آدھا ادھورا حق مل جاتا ہے تو وہ اسی کو غنیمت اور واحد راستہ سمجھ لیتا ہے۔ اسکول، تھانہ، کورٹ کچہری، بازار، ٹریفک، نادرا کا دفتر، یا کسی ملک کی ایمبیسی میں لگی قطار، جہاں بھی جانا ہے اپنے گروہی تعصب کو استعمال کرکے اپنے لیے کوئی "سہولت کار" پیدا کرنا ہے، یہ ہے ہماری زندگیوں کا واحد جگاڑ، جس کے سہارے ہم سمجھتے ہیں کہ ہم ایک ملک میں آباد ہیں۔

جیسا کہ میں نے شروع میں کہا یہ سب حالات ایک دن کی پیداوار نہیں ہیں۔ ہر معاملے کی خرابی بہت پہلے سے شروع ہو چکی ہے۔ جب ریاست کمزور ہوتی ہے تو یہ سب علامات ایک ایک کرکے طاقت پکڑتی ہیں جو میں نے اوپر بیان کی ہیں۔ ہماری قوم کے لیے آسان حل تو یہ تھا کہ ہم مکھی کو باغ میں جانے ہی نہ دیتے، مگر یہ ہوچکا۔ شہد اور موم بھی بن چکا اور پروانے بھی جلنے لگے۔ اب واپس جانا اور مکھی کو باغ میں جانے سے روکنا ایک فضول بات ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں:   یہ انقلاب نہیں۔ انتشار ہے - محمود شام

مگر ہمیں خرابی کو سمجھنا ہوگا، اس کی جڑ کو سمجھنا ہوگا اور معاملات کو واپس لے جانے کی کوشش کرنا ہوگی۔ اگر ہم صرف موجودہ حالات کے زخم پر مرہم رکھ کر خود بھی انہی برائیوں کا حصہ بن جائیں گے اور اپنے آپ کو تسلی و دلاسا دے دیں گے کہ بس یہی ہے پاکستان میں رہنے بسنے کا طریقہ، بس ایسے ہی ہوتا ہے اور ایسے ہوتا رہے گا تو یقین کریں حالات ایسے بھی نہیں رہیں گے جیسے اب ہیں۔ یہ اس سے مزید خرابی کی طرف جائیں گے کیونکہ یہ سب ملک دشمن عناصر ہیں، فرقہ واریت ہو، کاروباری غنڈہ گردی، بیوروکریسی کی بلیک میلنگ ہو یا سیاسی الیکٹیبلز کی من مانی، یہ وقت کے ساتھ بڑھتی خرابی کے حصہ دار ہیں۔ ان پر کبھی نہ کبھی روک لگانا ہوگی ورنہ یہ ہمارے اگلی نسلوں کا مستقبل بیچنے کی راہ پر گامزن ہیں۔

ہمارے پاس صرف ایک آپشن ہے کہ ہم ایسے تمام عناصر کے خلاف ایک قوم ہو کر آواز اٹھائیں۔ ہر فورم پر فرقہ پھیلانے والوں، کاروباری غنڈہ کرنے والوں اور سیاست کے نام پر قوم کو تعصبات میں بانٹنے والوں کو پہچانیں اور ان کو رد کر دیں۔

جیسے ہی کوئی 'الیکٹیبل' غنڈہ گردی سے ووٹ مانگے، رد کر دیں، جیسے ہی کوئی کاروباری یونین بازی سے اپنی حرامخوری کا دفاع کرے، بائیکاٹ کردیں۔ جیسے ہی کسی مسجد کے منبر سے فرقہ واریت کا دھواں پھیلے، رد کردیں۔ جیسے ہی کوئی جذباتیت کی فضا پیدا کر کے ملکی وسائل کا نقصان کرے رد کردیں۔ جیسے ہی کوئی مقدس ناموں کا استعمال کرکے تعصبات کو ہوا دے، رد کردیں۔ جیسے ہی کوئی ذات و نسل، گروہی و لسانی نام لے کر تنظیم سازی کرنے لگے، رد کردیں۔

یہی مزید مکھیوں کو باغ میں جانے سے روکنے کی ایک کوشش ہوگی۔ ورنہ شہد اور موم بنتا رہے گا اور پروانوں کا خون ہوتا رہے گا۔

Comments

محمود فیاض

محمود فیاض

محمود فیاض نےانگلستان سے ماس کمیونیکیشنز میں ماسٹرز کیا اور بین الاقوامی اداروں سے وابستہ رہے۔ آج کل وہ ایک عدد ناول اور ایک کتاب پر کام کر رہے ہیں۔ اساتذہ، کتابوں اور دوستوں کی رہنمائی سے وہ نوجوانوں کے لیے محبت، کامیابی اور خوشی پر لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.