بنے ہیں اہل ہوس مدعی بھی، مُنصف بھی - خالد ایم خان

ناموس رسالت ﷺ پر دیا جانے والا دھرنا اختتام پذیر ہو چکا، معاملات بتدریج بہتری کی جانب جاتے ہوئے نظر آرہے ہیں لیکن فریقین کی جانب سے کی جانے والی بعض بے وقوفانہ حرکات نے ہمارے ذہنوں پرگہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ دونوں اس بات کو سمجھنے سے یکسر عاری نظر آئے کہ معاملہ ناموس رسالت ﷺ کا ہے، جس کے لیے اس ملک تو کُجا دنیا کا ہر با ایمان مسلما ن اپنی جان کی پروا کیے بغیر ہر طوفان سے ٹکرا جانے کا حوصلہ رکھتا ہے۔

جناب عالی! یہاں معاملات سیاسی ہرگز نہیں اور اگر دونوں فریقین میں سے کسی ایک نے بھی اپنے سیاسی مقاصد کی بارآوری کے لیے ناموس رسالت ﷺ کا استعمال کیا ہے تو یقینا وہ بارگاہ الٰہی میں معتوب قرار دیا جائے گا، جس کا خلاصہ آنے والے دنوں میں ہو ہی جائے گا۔ اللہ بہتر انصاف کرنے والا ہے، جو کائنات کا رب ہے، مالک ہے کل کائنات کا، آخرت کے دن کا، اُس کو کسی کی حفاظت کی ضرورت نہ تو کبھی رہی ہے اور نہ رہے گی۔ آپ لوگ اپنی اپنی حفاظتوں کو مقدم جانیے، اپنے اعمال کی جانچ کیجیے کہ آپ کہاں کھڑے ہیں، اپنی فکر کریں، ناموس رسالت والے معاملہ میں حالات جان بوجھ کر بگاڑ کی جانب دھکیلے گئے جہاں ایک طرف حکومتی پارلیمانی کمیٹی کی طرف سے کی جانے والی سنگین بلکہ مجرمانہ غلطی اور اُس کے بعدبے وقوفانہ ہٹ دھرمی نے معاملات کو اس نہج پر پہنچا دیا کہ ملک میں افراتفری اور انارکی کی صورتحال پیدا ہوگئی۔ سوال صرف یہ ہے کہ آپ لوگ یہ ایک، دو استعفے پہلے ہی دے دیتے اور اپنی کمیٹی کی جانب سے کی جانے والی "سو کالڈ کلیریکل غلطی" کو تسلیم کرتے ہوئے معافی مانگ لیتے تو شاید آج آپ لوگوں کو شرمندگی اور بدترین ناکامی کا منہ نہ دیکھنا پڑتا، آپس میں ہی ایک دوسرے کی کردار کشی کی نوبت نہ آتی۔

وفاقی وزیرداخلہ محترم احسن اقبال کا کردار اس انتہائی نازک مرحلے میں کسی بھی طور مناسب نہیں کہا جاسکتا، تو دوسری طرف محترم علامہ خادم حسین رضوی صاحب سے کہ جناب! ہم علماء کرام کی بے حد قدر کرتے ہیں، آپ ناموس رسالت ﷺ کی حُرمت کے لیے میدان عمل میں نکلے تھے، ایک عظیم مقصد کی بار آوری کے لیے،آپ نے دنیا کو باور کرایا کہ میں عاشق رسول ﷺ ہوں اور ہم تو فقط اتنا ہی جانتے ہیں کہ عاشق کا ہر فعل معشوق کا نقش پا ہوتا ہے لیکن افسوس کے ساتھ آپ کے کسی ایک بھی فعل سے ہمیں آپ کے اندر اپنے عاشق کی کوئی ایک جھلک تک نہ دکھائی دی۔ آپ سیاسی گفتار کے غازی دکھائی دیے۔ میرے نبی ﷺ کے گفتار وکردار کی ایک جھلک بھی آپ میں کہیں دور دور تک دکھائی نہ دی، میرا نبی ﷺ تو عظیم تر ہے، جس کے کردار واخلاق کی میرا اللہ قرآن پاک میں قسم کھاتا ہے کہ بے شک دنیا میں آپ کا اخلاق سب سے بڑھ کر ہے، سب سے اعلیٰ ہے، عظیم ہے،، تو پھر آپ کیسے عاشق ہیں جنہوں نے میرے نبی ﷺ کی سُنت کو رد کیا اور بد تہذیبی، بداخلاقی کا کھلے عام مظاہرہ کیا؟ علامہ صاحب! آپ کے گفتار وکردار میں انتہائی نامناسب تضاد نظر آیا۔ آپ ایک عظیم مقصد کی بار آوری کے لیے عام بازاری انداز گفتگو کرتے نظر آئے،جس پر کم از کم ہمیں شرمندگی محسوس ہوئی۔ آپ کے اس طرز تخاطب کو دیکھ کرکیا سوچتے ہوں گے دنیا کے دیگر مذاہب کے پیرو کار کہ کیا یہ تعلیمات تھیں آپ ﷺ کی جن کے آپ جیسے پیرو کار ہیں؟ اس سچائی کے اوپر آپ ایک عدد فتویٰ مجھ پر بھی داغ دیجیے، لیکن محترم! اللہ کے واسطے، نبی ﷺ کی حُرمت کے واسطے ایک صرف ایک مرتبہ اپنے من میں ضرور جھانک لیجیے گا، خود احتسابی کے عمل سے ضرور گزریے گا کہ جناب ہم جانتے ہیں کہ یہاں معاملہ کُفر اور ایمان کا ہے۔