اِک ذرا سی بات - ام محمد سلمان

زندگی میں کئی چھوٹے بڑے واقعات پیش آتے رہتے ہیں۔ مگر کچھ واقعات ایسے ہوتے ہیں جو بظاہر تو معمولی مگر حقیقت میں بہت بڑا سبق سکھا کر جاتے ہیں۔ یہ واقعہ بھی کچھ ایسا ہی تھا۔ بڑے تایا کی بیٹی اسلام آباد میں رہتی ہیں، بہت بڑے افسر کی بیوی ہیں۔ خود بھی ماشاءاللہ بہت نفیس شخصیت کی مالک ہیں۔ پچھلے دنوں ان کا فون آیا کہ کچھ دن کے لیے کراچی آئیں گی۔ ان کی آمد کی خبر سن کر سب گھر والے ہی بہت خوش تھے۔ اگر چہ ہمارا خاندان بہت بڑا ہے اور سب سے ملنے ملانے میں ہی ان کے دن پورے ہوجاتے تھے مگر اس کے باوجود بھی ایک دو دن تو ہمارے گھر ضرور ٹھہرتی تھیں کیونکہ مجھ سے ان کی بہت دوستی تھی۔ دوستی کی وجہ بھی خاص الخاص کہ ہم دونوں کی پسند نا پسند بھی ایک اور شعلہ و شبنم کا سا مزاج بھی ایک، اس لیے دونوں میں گاڑھی چھنتی ہے۔

مجھ سے عمر میں پانچ چھے سال بڑی ہیں اس لیے میں انہیں آپا جان ہی کہتی ہوں۔ جب بھی آتی ہیں میرے لیے ضرور کچھ نہ کچھ لے کر آتی ہیں۔ اس بار میں نے بھی ایک بہت خوبصورت سا سوٹ لے کر رکھا تھا انہیں تحفے میں دینے کے لیے۔ جب وہ آئیں تو ہم نے ان کی ایک پر تکلف سی دعوت کی۔ رات میں جب ہم دونوں بیٹھے خوب مزے سے باتیں کررہے تھے تو میں نے وہ تحفہ نکالا اور بڑی چاہت سے انہیں پیش کیا۔ میرا خیال تھا وہ بہت خوش ہوں گی، میری پسند کو سراہیں گی۔ مگر انہوں نے ایک نظر دیکھا اور کچھ کہے بغیر لے کر ایک طرف رکھ دیا اور اسی طرح مجھ سے باتیں کرتی رہیں۔ میں دل میں بہت حیران تھی کہ انہوں نے ایک لفظ بھی نہیں کہا، شکریہ تک نہیں کہا، کیا انہیں تحفہ پسند نہیں آیا؟ مگر میں نے تو بڑی محنت سے یہ سوٹ ان کے لیے منتخب کیا تھا۔ کتنی محبت اور چاؤ سے خریدا تھا؟

صبح وہ چلی گئیں اور میں گھر کے کام سمیٹنے میں لگ گئی اور دوپہر کے قریب جب میں نے کمرے میں جا کر دیکھا تو وہ تحفہ وہیں بیڈ کے ایک کونے میں پڑا تھا، وہ اسے ساتھ لے کر ہی نہ گئی تھیں۔ میں نے سوچا شاید بھول گئیں۔

میں نے انہیں فون کیا، آپا جان! آپ تحفہ تو یہیں بھول گئیں....۔ مگر انہوں نے میری بات سنی ان سنی کردی اور دوسری باتیں کرنے لگیں۔ پھر فون بند کر دیا۔

اب تو مجھے یقین ہوگیا کہ وہ تحفہ لے جانا بھولی نہیں تھیں بلکہ انہیں پسند ہی نہیں آیا۔

مگر پھر بھی ایسا تو نہیں کرنا چاہیے تھا انہیں۔ بھلا کیا ہوجاتا اگر ایک سوٹ اپنے اسٹینڈرڈ سے ذرا کم درجے کا پہن لیتیں، ایک بار ہی پہن لیتیں ؟ یا کم از کم نہ بھی پہنتیں تو میرا دل رکھنے کے لیے ہی سہی، تحفہ قبول تو کر لیتیں؟ صرف اتنا ہی کہہ دیتیں۔ ہاں ہاں ماشاءاللہ بہت اچھا ہے۔ مگر یہ کیسی بے رخی تھی؟ میرا دل اندر تک دکھی ہو گیا تھا ان کے اس رویّے کی وجہ سے اور دکھی دل اللہ کی طرف رجوع ہوجائے تو بڑے معرفت کے راز کھلتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے اپنا حالِ دل بیان کرتے کرتے مجھ پر بھی ایک بڑا راز کھلا۔

یہ تو دنیا ہے، میں نے بہت محنت سے محبت سے، مال خرچ کیا، وقت خرچ کیا اور ایک تحفہ خریدا کسی کو دینے کے لیے۔ اس نے قبول نہیں کیا، کوئی بات نہیں۔ میرا تو کوئی ایسا نقصان نہیں ہوا، بس ذرا سا دل ہی دکھا۔ سوٹ تو میں کسی اور کو بھی تحفتاً دے سکتی ہوں، خود بھی پہن سکتی ہوں۔ ضائع تو نہیں ہوا مگر ایک سوچ نے میرے قدم لڑکھڑا دیے... دل لرزا دیا!

یونہی ایک دن جب میں اپنے مالک الملک کے سامنے کھڑی ہوں گی اور وہ مجھ سے پوچھے گا میری بندی کیا لے کر آئی؟

اور میں بڑی خوشی خوشی اپنی نمازیں، روزے، اپنی عبادتیں، ریاضتیں، اور اپنے قلم کی کاوشیں، سب کچھ اس کے سامنے پیش کروں اور وہ کہہ دے "مجھے اس میں سے کچھ قبول نہیں، یہ سب کچھ غیر معیاری ہے، یہ اخلاص کی کسوٹی پر پورا اترا ہی نہیں۔ اس میں کھوٹ ہے۔ جا لے جا نادان! یہاں خلوص کے پیمانے چلتے ہیں، اخلاص سے کیے گئے تھوڑے عمل کی بھی قدر ہے مگر تیرا عمل بیکار ہے۔ یہاں اس کی کوئی قدر و قیمت نہیں۔"

بس وہ ایک لمحہ تھا آگہی کا، جس نے میرے جسم و جاں کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ ایک زلزلہ تھا جو پورے وجود میں برپا تھا۔ ایک خوف جس نے دل کی دھڑکنیں تک منجمد کر دی تھیں۔ دل سراپا التجا تھا، بے اختیار مالک کے سامنے گڑگڑانے لگا۔

میرے اللہ میرے معبود ! میں اپنے تمام اعمال کی مقبولیت کی بھیک مانگتی ہوں تجھ سے، اگر اُس دن تو نے مجھے دھتکار دیا تو میں کہاں جاؤں گی میرے اللہ؟ میرا کیا ٹھکانہ ہو گا؟ جسے تو ٹھکرادے، پھر اور کہاں جائے پناہ ہے اس کے لیے؟

بہت رات بیت گئی یوں ہی سوچتے سوچتے۔ آنسوؤں سے تکیے بھگوتے بھگوتے۔ ہمیشہ اپنے اعمال پر بڑا ناز رہا۔ کبھی سوچا ہی نہیں تھا مردود کردیے گئے تو کیا ہوگا؟

وہ کیا بات تھی کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ایک حدیث سناتے ہوئے بار بار بے ہوش ہوجاتے تھے۔ سنانے کا ارادہ کرتے اور پھر بے ہوش ہوجاتے۔ فرماتے کہ قیامت کے دن ایک عالم، ایک شہید اور ایک سخی کو بلایا جائے گا اور ان سے ان کے اعمال کی بابت پوچھا جائے گا اور عالم کہے گا "اے اللہ تیرے لیے علم حاصل کیا پھر لوگوں کو سکھایا" دوسرا کہے گا "یا اللہ تیری خاطر اپنی جان دے دی اور شہید ہوگیا"، تیسرا کہے گا "میں نے اپنا مال تیری راہ میں خوب خرچ کیا،" تو ارشاد باری ہوگا جھوٹ کہتے ہو، تم نے یہ سب کچھ اس لیے کیا کہ دنیا میں تمہاری خوب واہ واہ ہوجائے، سو ہو چکی۔ اب تمہارے ان اعمال کا بدلہ یہاں کچھ نہیں۔ اور انہیں اٹھا کے ذلت و رسوائی کے ساتھ جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ (اللہ اکبر! اللہم احفظنا منھم)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اس حدیث کو سناتے تو اکثر خوف و دہشت سے بیہوش ہوجاتے تھے اور ہم پر کوئی اثر ہی نہیں ہوتا تھا۔ پہلے بھی کئی مرتبہ سن رکھی تھی یہ حدیث، مگر کبھی یہ کشف ہوا ہی نہیں تھا کہ آخر دھتکار دیا جانا کیا ہوتا ہے؟ مردود کر دیا جانا کیا چیز ہے؟ وہ کیا خوف تھا جو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو اس حدیث کے بیان کرتے وقت لرزہ براندام کردیا کرتا تھا؟

آج یہ نکتہ سمجھ میں آیا تھا۔ ایک معمولی سے واقعے نے آنکھیں کھول دی تھیں، نہ جانے کس بات کا گھمنڈ تھا کہ ضرور اللہ کے یہاں اعمال مقبول ہی ہوں گے۔ کیا پتا کب نیت کے کھوٹ سے، ریا کاری سے، سب کیا دھرا برباد ہوجائے؟ کیا پتا اعمال میں وہ خوب صورتی اور اخلاص ہو ہی نہ جو اللہ کو مطلوب ہے؟

ایک تحفے کے مردود ہوجانے کا اتنا غم، اور اگر روزِ آخرت سارے اعمال ہی لپیٹ کر منہ پر مار دیے گئے تو کیا ہوگا؟

کیسے کیسے محنت سے کیے گئے اپنے اعمال کو ہم لوگ ضائع کردیتے ہیں، کبھی ریا کاری سے کبھی منافقت سے، کبھی احسان جتلا جتلا کے، کبھی طعنے دے کے، کبھی جھوٹ بول کے، کبھی غیبت کر کے، کبھی دوسروں کا حق مار کے اور کبھی ظلم و زیادتی کر کے۔

" وہ لوگ جن کی کوششیں دنیا ہی کی زندگی میں برباد ہو کر رہ گئیں، اور وہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ وہ اچھے کام کررہے ہیں " (الکہف 104 )

میرے خدا! کوئی بے چینی سی بے چینی تھی۔ غم، فکر حد سے سِوا ہوگیا۔ کہیں میرے اعمال بھی برباد کردیے جائیں، آخرت کے دن خالی ہاتھ کھڑی رہ جاؤں۔

ناکام، نامراد، خسارہ پانے والے لوگ!

اے میرے رحیم اے میرے کریم اللہ!! مجھے معاف کردے۔ برے کاموں سے بچالے۔ بری نیت سے بچا لے۔ اے اللہ ! میرے اعمال کو قبولیت کا شرف بخش دے۔ ریاکاری اور منافقت سے بچا لے۔ حسنِ خاتمہ نصیب کر اور اعمال میں ایسی خوب صورتی و اخلاص عطا فرما

اللہم انی اعوذبک ان اشرک بک شئا و انا اعلم و استغفرک لما لا اعلم

اے اللہ میں اس بات سے تیری پناہ مانگتی ہوں کہ جانے انجانے میں تیرے ساتھ شرک کر بیٹھوں، کہ کسی اور کو تیرا شریک بنا دوں ۔ آمین یا رب العالمين!

Comments

Avatar

ام محمد سلمان

کراچی میں مقیم اُمِّ محمد سلمان نے زندگی کے نشیب و فراز سے جو سبق سیکھے، ایک امانت کے طور پر دوسروں کو سونپنے کے لیے قلم کو بہترین ساتھی پایا۔ اُن کا مقصد ایسی تحاریر لکھنا ہے جو لوگوں کو اللہ سے قریب کریں اور ان کی دنیا و آخرت کی فلاح کا سبب بنیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.