اس گتھی کو سلجھانا مشکل ہی ہے - ارشد زمان

تقریباً 36 گھنٹے کے صبر آزما انتظار کے بعد لائن بحال ہوئی اور کچھ حالات کا پتہ چلا تو ہماری بھی”تجزیاتی” حس نے انگڑائی لی اور “حاضری” لگوانے کو جی چاہا مگر اپنے اپ کو کچھ کہنے سے قاصر پایا کیونکہ شکوک وشبہات کی بھرپور فضا ہے اور بھانت بھانت کی بولیاں ہیں جو سننے کو مل رہی ہیں۔

ایک مضبوط خیال تو یہ ہے کہ یہ پورا گیم حکومت نے خود پلان کیا ہوا ہے تاکہ عوام کو اشتعال دلواکر حالات کو بے قابو کیاجاسکے اور ”نادیدہ قوتیں” حرکت میں آکر انہیں سیاستی شہادت سے سرفراز فرمائیں تاکہ انہیں آئندہ انتخابات میں تازہ دم گھوڑوں کی طرح میدان میں اترنے کا موقع فراہم ہو، یعنی حکومت سیاسی شہادت کی متمنی ہے۔ چال البتہ یہ چلائی ہے کہ عدلیہ سے دھرنے کے خلاف ایکشن کا آرڈر جاری کرواکر عوام کے قہروغضب کارخ اس جانب موڑ دیا۔

دوسری بہت قوی فکر یہ ہے کہ یہ سارڈرامہ اسٹیبلشمنٹ نے سکرپٹ کیا ہے اور مدعا یہ ہے کہ حالات اتنے گھمبیر اور بے قابو ہوجائیں کہ حکومت کو چلتا کروانے کے سوا کوئی چارہ ہی باقی نہ بچ پائے۔ حکومت کا منصوبہ تھاکہ اہل دھرنا کو نظر انداز کیاجائے اور وہ تحریک انصاف کی طرح مایوس ہوکر اورتھک کرخودبخود کسی محفوظ راستہ تلاش کرنےپہ مجبور ہو جائیں۔ مگر اسٹیلشمنٹ نے عدلیہ سے آرڈر جاری کرواکر حکومت کو بند گلی میں دھکیل دیا اور ایکشن لینے پہ مجبور کرایا۔ خواہش یہ ہے کہ حکومت کو چلتا کیا جائے۔ یوں نہ سینیٹ کے انتخابات کا انعقادممکن ہوسکے کہ مسلم لیگ ن کو اکثریت مل جائے اور نہ حکومت قومی و صوبائی اسمبلیوں کے لیے بروقت انتخابات کروانے میں کامیاب ہو کیونکہ غالب امکان یہ ہے کہ مرکز اور پنجاب میں آئندہ حکومت بھی مسلم لیگ ن ہی کی بنے گی۔

معاملہ جو بھی ہے مگر ایک بات طے ہے کہ ہرایک اپنے اپنے پتے بہت مہارت کیساتھ کھیلنے میں مگن ہے مگر یہاں ایک اہم سوال کوئی اور ہے اور وہ یہ کہ اہل دھرنا کی پوزیشن کیا ہوگی؟ حسن ظن تو یہ ہے کہ یہ لوگ اخلاص کے ساتھ ختم نبوت والے ایشو پر کھڑے ہوچکے ہیں مگر اوّل الذکر “فریقین” اس دستیاب موقع سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اور اپنے اپنے مطالب اور مقاصد کے حصول کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ جبکہ سوئے ظن یہ ہے کہ انہیں باقاعدہ میدان میں اتارا گیا ہے اور مقاصد دو ہیں:

اوّل ؛ حکومت کاسیاسی شہادت کے حصول کے لیے موقع کی تلاش یا اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے حکومت کو گھرکاراستہ دکھانے کے لیے کسی ذریعے کا استعمال

دوم؛ کسی”مذہبی ایم کیو ایم” کے تشکیل کی کوئی سبیل

خیال تو اپنا اپنا ہی ہوگا مگر ستیاناس تو بہرحال ہوگا”مذہب بیچارے” کا!

Comments

ارشد زمان

ارشد زمان

ارشد زمان اسلام کے مکمل ضابطہ حیات ہونے پر یقین رکھتے ہیں۔ اسلام اورمغربی تہذیب پسندیدہ موضوع ہے جبکہ سیاسی و سماجی موضوعات پر بھی طبع آزمائی کرتے ہیں۔ تعلیم و تربیت سے وابستگی شوق ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */