ترکوں کے دیس میں (15) – احسان کوہاٹی

استنبول میں سیاح بڑی رونقیں لگائے رکھتے ہیں، ایا صوفیہ ہو یا نیلی مسجد،شاخ زریں ہو یا باسفورس کا کوئی کنارہ، توپ کاپی ہو یا پینو راما ہر جگہ سیاحوں کی ٹولیوں کی ٹولیاں کاندھوں سے کیمرے لٹکائے ادھر ادھر پرتجسس نظروں سے تکتے ملتے ہیں۔ یہ سیاح ترکی کی آمدنی میں اچھا خاصا حصہ ڈال کر جاتے ہیں یہاں موسم سرما کو چھوڑ کر پورا سال کمال اتاترک ایئر پورٹ پر بڑے بڑے جہاز سیلانیوں کو لاتے لے جاتے رہتے ہیں۔ سیلانیوں کی بڑی تعداد میں آمد ورفت کا بڑاسبب اس شہر کی تاریخی اہمیت تو ہے ہی لیکن اس سے بڑھ کر اہم امن و امان کی قابل اطمینان صورتحال ہے۔ یہاں سیاح خود کو غیر محفوظ تصور نہیں کرتااور کراچی والوں سے بڑھ کر امن و امان کی اہمیت کو کون جانتا ہوگا؟ یہاں اک عرصے تک نامعلوم دہشت گردوں کا راج رہا ہے اور ایسا راج کہ کراچی کا نام سنتے ہی لوگ چونک اٹھتے تھے وہ تو بھلا ہوڈی جی رینجرزرضوان اختر کا جنہوں نے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کا آغاز کرکے اس کی کمان اپنے بعد آنے والے ڈی جی رینجرز بلال اکبر کو سونپ کر آگے بڑھ گئے اور بلال اکبر نے اس آپریشن کی رفتار کم کیے بغیر اپنے حصے کاکام کرنے کے بعد میجر جنرل محمد سعید کو یہ ذمہ داری سونپ دی جنہوں نے اب تک تودہشت گردں کوقدم جمانے کا موقع نہیں دیا۔ شہر کی وہ رونقیں بحال ہیں جن کی شہر والوں سے زیادہ بیرون ملک رہنے والے پاکستانیوں کو فکر ہے۔ اس کا اندازہ سیلانی کو رشیدیہ ہوٹل میں ہوا جہاں لندن سے آنے والے برطانوی نژاد پاکستانی کو جب سیلانی کا کراچی سے تعلق کا پتہ چلا تو اس نے چھوٹتے ہی گلابی اردو میں کہا

’’اب کاراچی کا کیسا حال ہے؟ اب بھی وہاں بیگز میں ڈیڈ باڈیزملتی ہیں ؟اہ مائی گاڈ! ہم تو دیکھ دیکھ کر ہی سائیکی ہو گیا تھا۔ پھر میں نے گھر میں پاکستانی نیوز چینلز دیکھنا بند کر دیا۔ میرا وائف نے میرے فادر سے کمپلین کی کہ اسے بولو یہ پاکستانی نیوز چینلز بند کرے ‘‘

ایک ترک صوفی نوجوان سے پرجوش مصافحہ

استنبول کی سیر کو آئے ہوئے اس برطانوی نژاد پاکستانی کی باتیں سن کر سچی بات ہے سیلانی شرمندہ سا ہوگیا لیکن اس نے مزید شرمندہ ہونے سے پیشتر خود کو سنبھالتے ہوئے کہاکہ کراچی میں الحمدللہ تھیلے اور بیگز اسی مقصد کے لیے استعمال ہوتے ہیں جس کے لیے بنائے جاتے ہیں۔ اب کراچی میں وہ مارکٹائی نہیں شکر ہے رات دیر تک ریستوران کھلے رہتے ہیں، شاپنگ سینٹروں پر بھی خوب رش رہتا ہے معمولی نوعیت کے جرائم کو چھوڑ کر ویسی خونریزی نہیں اور ٹارگٹ کلنگ نہیں اور اسکا بڑا کریڈٹ بلاشبہ رینجرز کو ہی جاتا ہے۔

استنبول میں مقیم پاکستانی طالب علم امین مجیدسیلانی کو استنبول کی سیرکرانے لے گیا۔ اس سے پہلے ڈاکٹر ندیم اس استنبول کا چکر لگا لائے تھے جہاں کم ہی سیاح آتے ہیں کیوں کہ وہاں ان کی دلچسپی کا کچھ نہیں۔ بھلا استنبول کی قدیم آبادی میں جہاں کوئی بار،کیسینو اور شاپنگ مال نہ ہو کوئی کیوں آنے لگا؟ یہاں باپردہ خواتین دیکھ کر سیلانی ہکا بکا رہ گیا۔ خواتین نے ایسا برقع پہن رکھا تھا جیسا اکثرکراچی کے علاقے انچولی میں اہل تشیع خواتین پہنتی ہیں۔ اس قسم کے برقع میں خواتین کا چہرہ ٹھوڑی سے ابرؤں تک ہی دکھائی دیتا ہے۔ سیلانی ان باحجاب خواتین کو دیکھ کر سمجھا کہ یہ استنبول کی اہل تشیع خواتین ہیں لیکن امین نے بتایا کہ استنبول ہی کیا ترکی کی نوّے فیصدی آبادی حنفی ہے، شیعہ ہیں تو مگر بہت ہی کم۔ امین نے بتایا کہ یہ صوفی خواتین ہیں، اس قسم کے حجاب کے پیچھے ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے حجاب سے خاتون کارٹون لگتی ہے، اس کے حسن سے شر کا اندیشہ نسبتاً کم ہوتا ہے اس کے مقابلے میں وہ نقاب جس میں صرف آنکھیں دکھائی دیتی ہیں زیادہ ’’خطرناک‘‘ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   حوثی باغیوں کے میزائل عالم اسلام کے لیے خطرہ - حافظ یوسف سراج
جامع فاتح میں باحجاب ترک خواتین، فرصت کے لمحات میں

امین مجید سیلانی کو پیدل ہی پیدل گرینڈبازار کی طرف لے چلا۔ یہ استنبول ہی کا نہیں غالباً دنیا کا سب سے بڑا بازار ہے، جہاں لگ بھگ چار ہزار دکانیں ہیں اور غالیچوں قالینوں سے لے کر بچوں کے ڈائیپرز تک کیا چیز نہیں ملتی لیکن یہاں کے اسپائس بازار کی دھوم تک ایک عالم میں ہے۔ سیلانی امین مجید کے ساتھ چلا تو گرینڈ بازار ہی کی جانب تھا لیکن امین اسے لے کر ایک چھوٹے سے شامی ریستوران میں آگیا۔ امین کا کہنا تھا کہ آپ کو مزیدار سے چاول کھلاتا ہوں۔ مزیدار چاولوں کے نام پر سیلانی کو یقین تونہیں آیا لیکن اس نے رسک لینے کا فیصلہ کر ہی لیا۔ مزیدار پلاؤ بریانی کھائے ہوئے اسے کئی دن ہو گئے تھے۔ ایسا نہیں ہے کہ ترکی میں چاول نہیں ملتے یا ترک چاول نہیں کھاتے۔ ترک چاول کھاتے ہیں مگر ایسے کہ ہم سے نگلے بھی نہ جائیں۔ یہاں کے لوگ نئی فصل کے موٹے چاول پسند کرتے ہیں جس سے ہم لوگ کھچڑی بنانا بھی پسند نہ کریں۔ باسمتی چالوں کی سوندھی سوندھی خوشبو انہیں بدبو لگتی ہے۔ یہ لوگ یہ موٹے چاول کھاتے ہیں اور وہ بھی ابال کر۔ امین نے جب مزیدار قسم کے چاول کھلانے کی دعوت دی تو سیلانی نے قدرے ہچکچاہٹ کے ساتھ دعوت قبول کرلی کہ رسک لے لیا جائے اور پھر سیلانی رسک لے کرایک چھوٹے سے شامی ریستوران میں آگیا۔ یہاں آکر امین نے دجاج مندی کاآرڈر دیا۔ اب سیلانی کو کیا پتہ کہ دجاج مندی کیا شے ہے؟ یہ اسرار زیادہ دیر کا نہ رہا۔ تھوڑی دیر میں بڑی سی پلیٹ میں پلاؤ اور اس پر ایک مقتول مرغی کی ران آگئی، ساتھ میں ٹماٹر کی چٹنی بھی تھی تیز مرچ والی چٹنی ڈال کر۔ سیلانی نے پلاؤ چٹ کرنے میں زیادہ دیر نہیں لگائی یہ پلاؤ لاہوری بریانی سے قریب قریب تھا، لاہور میں اس قسم کے چاولوں کو بریانی کہہ کر بیچا جاتا ہے۔

باسفورس کنارے بلدیہ کے کلب کا صاف ستھرا ریستوران

سیر ہو کر کھاناکھانے کے بعد امین اور سیلانی ایک بار پھر استنبول کی سڑکیں ناپنے لگے۔ سیلانی کی وطن واپسی میں دو ہی دن رہ گئے تھے وہ کچھ شاپنگ کرناچاہ رہا تھا۔ ترکش ڈیلائٹ کے پرزور مطالبے آئے ہوئے تھے۔ اس خریداری کے چکر میں وہ گرینڈ بازار نہ جا سکا البتہ اس نے آفندی صاحب کی خانقاہ کی زیارت ضرور کر لی نماز بھی خانقاہ کی مسجد میں اد ا کی۔ جس کے بعد امین سیلانی کے ساتھ شاخ زریں پر آگیا یہاں کچھ وقت بتانے اورلمحات کو سیل فون کے کیمرے میں محفوظ کرنے کے بعد دونوں دوست پیدل ہی پیدل فاتح بازار آگئے۔ یہاں سے ترک مٹھائی جسے ترکش ڈیلائٹ کہا جاتا ہے خریدی اور امین کو ڈھیر سارا وقت دینے پر شکریہ ادا کرکے روانہ کیااور اپنے ہوٹل کی طرف چل پڑا۔

اسماعیل آغا میں شیخ آفندی کی خانقاہ

رات ندیم صاحب نے اپنے ہم وطن دوستوں کے اعزاز میں بریان کی دعوت دی۔ بریان اپنی مٹن سجی کی طرح کی ہی ڈش ہے جس میں مقتول دنبے کے مختلف حصوں کو سیخوں میں پرو کر انگاروں پر رکھ دیتے ہیں، اچھی مزیدار ڈش تھی۔ ساتھیوں نے خوب سیر ہو کر کھانا کھایا اور ندیم صاحب سے گپ شپ بھی رہی کھانے کے بعد سب دوستوں نے دوسرے دن کی پلاننگ کرتے ہوئے اپنے اپنے کمروں کا رخ کرنا مناسب جانا۔

ترک بچے فتح قسطنطنیہ دیکھنے پینوراما میوزیم کی طرف گامزن

اگلی صبح مفتی ابولبابہ صاحب اپنے شاگردو ں کے ساتھ اسماعیل آغا کی طرف نکل گئے اور سیلانی ندیم احمد صاحب کے ساتھ پینوراما کی طرف چل پڑا۔ پینو راما میوزیم عقل کو حیران کر دینے والی جگہ کا نام ہے یہ ایک تھری ڈی میوزیم ہے، جس میں قسطنطنیہ کی فتح کی تصویر کشی اس طرح کی ہے کہ حقیقیت کا گمان ہوتا ہے۔ یہ میوزیم ایسے ہی ہے جیسے سائیبریا میں رہنے والوں کے ’’اگلو‘‘گھر ہوتے ہیں یا یوں سمجھ لیں جیسے کسی فٹبال کو بیچ میں سے کاٹ کر اوندھا زمین پر رکھ دیا جائے۔ گول دائرے میں بنے اس میوزیم کے بیچ میں ایک گول چبوترہ ہے، جس پر آنے والے اس چبوترے سے ذرا فاصلے پرگولائی میں کھنچی دیواروں پر عثمانی اور بازنطینی فوجوں کے درمیان معرکے کے بڑے بڑے تصویری مناظر دیکھتے ہیں۔ ان تصویروں اور چبوتروں کے درمیان اس جنگ میں استعمال ہونے والے ہتھیار بھی رکھے ہوئے ہیں۔ اس سازو سامان کے ساتھ جنگی مناظر کی ایک ترتیب سے تصویریں اور پھر وہی ترکی جنگی بینڈ کی لہو گرما دینے والی دھنیں۔ سیلانی کو ایسا لگا جیسے ٹائم مشین نے اسے میدان جنگ میں پہنچا دیا ہے۔ سرخ پرچم لیے سلطان کے سپاہی تابر توڑ حملے کر رہے ہیں ایک ابلق گھوڑے پر سلطان اپنی سپاہ کی ہمت بندھا رہا ہے، سائیں سائیں تیر یہاں وہاں گر رہے ہیں، زخمی کراہ رہے ہیں، جنگجو دشمن کو للکار رہے ہیں، گھوڑے ہنہنا تے ہوئے اپنے سواروں کو لے کرقلعے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ قسطنطنیہ کی فتح کو تھری ڈی تصاویر میں اس طرح سے دیکھنا ایک زبردست تجربہ تھا۔ پینوراما میں اسکولوں کے طلباء کا جم غفیر تھا اور ہونا بھی چاہیے تھا ترکوں نے اسی مقصد کے لیے تویہ بنایا تھا کہ ان کی آنے والی نسلیں اپنے شاندار ماضی کوجان سکیں۔ یہاں سے واپس ہوتے ہوئے سیلانی یہ سوچے بنا نہ رہ سکا کہ استنبول میں جب ہزاروں برس پرانی فتح کو تصویری کہانی دکھائی جا سکتی ہے تو قیام پاکستان تو ابھی کل کی بات ہے۔ ہم اس طرح کا میوزیم بنا کر اپنی تاریخ اپنے بزرگوں کی قربانیوں سے نئی نسل کو کیوں نہیں آگاہ کر سکتے؟ہمار ے پاس تو کیمرے سے کھنچی ہوئی نادر ونایاب تصاویر ہیں، وڈیو فوٹیجز ہیں، ہمارے لیے یہ کام اتنا مشکل تو نہیں بس مشکل ہے تو یہ کہ ملک و قوم کے لیے ذرا سوچنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   اٹھاکے ایڑیاں چلنے سے قد نہیں بڑھتے - ارشد زمان
پینوراما میوزیم میں فتح قسطنطنیہ کا لہو گرما دینے والا منظر

پینو راما سے واپسی پر ندیم صاحب ساحل سمندرکنارے ایک شاندار سے ریستوران میں لے آئے۔ انہوں نے خبیب فاؤنڈیشن کے ٹرسٹی زبیر صاحب اور میجر زاہد صاحب کو بھی کھانے پر وہیں بلالیا۔ ہنس مکھ زبیر صاحب پاکستانی کرکٹ ٹیم کے مایہ ناز آف اسپنر اقبال قاسم کی ہو بہو کاپی ہیں اورمیجر زاہد صاحب اپنی مثال آپ ہیں۔ ان دوستوں کے ساتھ مچھلی کے سوپ کا مزہ آگیا۔ کھانا سادہ مگر مزیدار تھا اور سب سے مزیدار بات جو ندیم بھائی نے بتائی وہ یہ کہ ساحل سمندر کنارے یہ شاندار ریسٹورنٹ یہاں کی بلدیہ کا ہے وہی اسے چلا رہی ہے۔

ذرا دیکھیں بلدیہ فاتح کا یہ شاندار کلب

’’کیا کہہ رہے ہیں آپ؟‘‘سیلانی کے لہجے شدید حیرت تھی۔

’’جی جناب !یہ دیکھیں‘‘ندیم صاحب نے مینو کارڈ سامنے کر دیا، جس پرفاتح یعنی بلدیہ فاتح کا نام سیلانی کی حیرت کو دو آتشہ کرنے کے لیے درج تھا۔ حیرت کے اس جھٹکے کے بعد سیلانی کو پتہ نہیں چلا کہ وہ کیا کھا رہا ہے۔ شدید حیرت نے اس کی ذائقے کی حس بھی متاثر کر دی تھی اور ٹھیک ہی کی تھی۔ اس کے شہر کی بلدیہ تو کراچی میں 20 بیت الخلاء نہیں چلا پارہی، یہاں بلدیہ فائیو اسٹار ریسٹورنٹ چلا رہی ہے۔ ندیم صاحب ہی نے بتایا کہ یہ ریسٹورنٹ پہلے اشرافیہ کا کلب تھا جسے اردگان نے عوام کے لیے کھول دیا اب یہاں لوگ نہایت مناسب قیمت میں دوستوں رشتہ داروں کی دعوت کرتے ہیں، خود بھی کھاتے ہیں اور دوستوں کو بھی کھلاتے ہیں۔

سیلانی باسفورس کنارے خبیب فاونڈیشن کے صدر برادر ندیم اور ٹرسٹی زبیر احمد کے ساتھ

Comments

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی کراچی کے سیلانی ہیں۔ روزنامہ اُمت میں اٹھارہ برسوں سے سیلانی کے نام سے مقبول ترین کالم لکھ رہے ہیں اور ایک ٹی وی چینل سے بطورِ سینئر رپورٹر وابستہ ہیں۔ کراچی یونیورسٹی سے سماجی بہبود میں ایم-اے کرنے کے بعد قلم کے ذریعے سماج سدھارنے کی جدوجہد کررہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں