آج تم، کل ہماری باری ہے - احمد غزنوی

میں سوچ رہا ہوں کہ انسان جب لمبے چوڑے منصوبے بناتا ہے، جب وہ یہ سوچ رہا ہوتا ہے کہ ہزاروں گز زمین پر ایک بہترین کوٹھی تعمیر کرے گا، جس کا نقشہ یوں ہوگا۔ نہیں، یوں نہیں، ایسے بہتر رہے گا۔ بیڈروم کی کھڑکی سے سرسبز لان نظر آئے گا، نہیں۔۔۔ بلکہ سوئمنگ پول۔اُدھر کاتبِ تقدیر نے اس کے لیے کچھ اور ہی لکھ رکھا ہوتا ہے۔ فرشتۂ اجل کیا اس پر خندہ زن نہ ہوا ہوگا کہ یہ ہزاروں گز کی کوٹھی میں نہیں رہ سکے گا بلکہ دوگز کے ایک شگاف میں اتارا جائے گا؟ اس کے پیٹ میں خوشذائقہ غذائیں نہیں، قبر کی مٹی بھری جائے گی۔ اس کے خوبصورت جسم پر بہترین تراش کے سوٹ نہیں ہوں گے، کورے لٹھے کا ایک ٹکڑا ہوگا، جو کچھ ہی عرصہ میں بوسیدہ ہوجائے گا۔ اس کے بدن کا گوشت کیڑوں کا رزق بنے گا۔ اس کا وہ مال، جس میں شاید بڑا حصہ حرام کا بھی تھا، اب ورثاء میں تقسیم ہوگا، ناخلف بیٹے، چند ہی دن بعد اس کی دولت سے دادِ عیش دیں گے۔ یہ بھی اس پر خندہ زن تو ضرور ہوں گے کہ ڈیڈ خود تو گئے، لیکن ماننا پڑتا ہے کہ ہمارے لیے بہت کچھ چھوڑ گئے۔ اس کا مالِ حرام بزبانِ حال اس کی فضیحت پر تُلا ہوگا، کہ "میاں!! کیا کیا جتن کرکے تم نے مجھ کو جمع کیا، لیکن میں تو ایسا ہی بے وفا ہوں کہ کبھی کسی کا نہیں ہوا، کیا تم نے قارون و نمرود کے قصوں سے عبرت نہیں لی؟ ان کے پاس میرا جتنا حصہ تھا، تم تو شاید تصور بھی نہیں کرسکتے، میں نے ان کے ساتھ کب وفا کی؟ تم نے یہ بھی نہیں سوچا کہ تم سے پہلے تمہارے باپ، دادا اور پردادا بھی فوت ہوئے تھے، میں ان کے ساتھ قبر میں تو نہیں چلا گیا تھا، پھر تجھے اپنے بارے میں کیسی خوش گمانی تھی؟ افسوس کہ میری مٹھاس سے تم للچا گئے، میری چمک سے تمہارے خرد کی نگاہیں خیرہ ہوئیں، اور تم اس قدر بے خود ہوئے کہ میری زہرناکی، کی تمہیں کچھ خبر نہ رہی۔ تم نے مجھے جمع کرنے میں جائز و ناجائز کی بھی کوئی تفریق نہیں کی، اب اس کا خمیازہ بھی بھگتو۔"

کس قدر تلخ حقیقت ہے کہ انسان اپنی زندگی کے اصل مقصد، عبادت و رضائے الٰہی کو جن کے لیے چھوڑتا ہے، ان میں سے ایک بھی اس کا ساتھ نہیں دیتا۔ کبھی زوجہ کے جائز و ناجائز مطالبات پورے کرنے کے لیے یہ حلال و حرام کی تفریق مٹا دیتا ہے، اس کی پیشانی پر شکن دیکھ کر بوڑھی ماں کی دل آزاری سے بھی نہیں چوکتا، وا اسفا کہ وہی بیوی اس کی موت کے بعد عقدِ ثانی کرلیتی ہے۔ میرا مقصد اسے برا کہنا نہیں، بس انجام دکھانا مقصود ہے۔ کبھی یہ اولاد کی "خوشی" کی خاطر رشوت لیتا اور سود کھاتا ہے۔ کبھی اپنی ہی حرص و ہوس اور ہوائے نفسانی میں بدمست ہوکر، یہ تمام حدود کو پامال کردیتا ہے۔ یہ تو اتنا نادان ہے کہ دوستوں کی محفل میں ہو تو، اذان کی آواز سن کر جب اس کے قدم، مسجد کی اور جانے کو مچلتے ہیں، تو کسی دوست کے معمولی اصرار پر ارادہ بدل دیتا ہے، کبھی نصف بہتر کے نازو انداز رکاوٹ بن جاتے ہیں، تو کبھی دفتر کا کوئی کام، حد یہ کہ اتنا وقت ہونے کے باوجود جس میں وہ نماز پڑھ سکے، جلدی کام نمٹا کر باس کی رضا کے لیے بھی یہ خالق کی رضا کو پسِ پشت ڈال دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   آپ بیتی .... - ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

ادھر جو اس کا سب سے وفادار ساتھی ہوتا ہے، اس کے ساتھ یہ مسلسل سخت ناروا سلوک کرتا ہے، اسے اس قدر مسخ کردیتا ہے کہ وہ خود اپنی نگاہوں سے جاتا ہے۔ اس کا چہرہ روز بروز سیاہ ہوتا جاتا ہے، حال یہ ہے کہ یہی اس کا قبر میں بھی ساتھی ہوتا ہے، مگر اس کی خوئے بد سے، اس کا یہ ساتھی اس قدر سیاہ رو ہوچکا ہوتا ہے، کہ جب یہ اس سے قبر میں ملتا ہے۔ تو اس کی ہیبت ناکی اس کا کلیجہ شق کیے دیتی ہے اور یہ پوچھتا ہے۔ "کون ہے تو؟ تیرے چہرے میں مجھے کچھ اچھائی نظر نہیں آتی" وہ کہتا ہے "میں تمہارا عمل ہوں، اللہ تجھے خیر نہ دے، میری یہ حالت تیری ہی بنائی ہوئی ہے، اور اب میں جہنم تک تیرے ساتھ ہی رہوں گا"پھر اپنی بد اعمالی سے یہ ناراض بھی کیسے خالق کو کرتا ہے؟ جسے منانے کے لیے کسی کڑی ریاضت کی ضرورت بھی نہیں، جس نے ایسی شریعت بتائی ہے کہ اگر ہم اس کے مطابق چلیں تو ہمارا اٹھنا، بیٹھنا، چلنا، کھانا، سونا، کمانا غرض ہر ہر سانس توشۂ آخرت بن سکتی ہے۔

آہ! لیکن ہمارے پاس چوبیس گھنٹوں میں سے پانچ نمازوں کی ادائیگی کے لیے پچاس منٹ بھی نہیں، ہماری ہر ہر سانس جس کی مرہون منت ہے، جب یہ اندر جاتی ہے تو ہم اس کے حکم کے بغیر اسے باہر نکالنے پر قادر نہیں، باہر آتی ہے تو اسے اندر بھی اس کی مشیت کے بغیر نہیں لے جاسکتے۔ وہ جس نے اپنی کتاب میں ہمیں بتایا۔۔۔ کہ اگر ہم اس کی دی ہوئی نعمتوں کو کبھی گننا بھی چاہیں تو نہ گن سکیں، اس کے کلمات کو لکھنا چاہیں تو سمندر سیاہی بن جائیں اور تمام درختوں کے قلم بنالیے جائیں، یہی نہیں اسی قدر اور بھی ہوجائیں تب بھی۔۔۔۔ تب بھی ہم اس کے کلمات، اس کے علم، اس کی صفات کا احاطہ نہیں کرپائیں گے۔ لیکن ہم ہیں کہ برابر اس کی نافرمانی کیے جارہے ہیں۔ ہماری مثال کسی مہربان آقا کے سرکش و نافرمان بھگوڑے غلام کی سی ہے، بلکہ اس سے بھی بدتر!

سوچیے دنیا میں سب سے زیادہ عزت مند اور خوش بخت آپ کی نگاہ میں کون ہوسکتا ہے؟ کسی سلطنت کا بادشاہ؟ تو اس سلطنت کی قیمت کیا ہوگی؟ روایت ہے کہ ایک نیک شخص ہارون الرشید کے دربار میں تھے، ہارون الرشید کو پیاس لگی، اس نے پانی منگوایا۔ ان بزرگ نے پوچھا "امیر المومنین! آپ کو شدید پیاس لگی ہو تو آپ کٹورا بھر پانی کے لیے کیا قیمت دے سکتے ہیں؟" ہارون الرشید نے جواب دیا "آدھی سلطنت" انہوں نے پھر پوچھا "اگر یہی پانی آپ پی لیں، اور اخراج بند ہوجائے، تو اسے خارج کرنے کے لیے آپ کتنا خرچ کرسکتے ہیں؟" ہارون الرشید نے پھر کہا کہ " اپنی آدھی سلطنت"، تو انہوں نے کہا کہ "پھر اس سلطنت پر کیسا گھمنڈ؟ جس کی قیمت ایک کٹورا پانی ہو؟"

ہم میں اور اس مسافر میں کیا فرق ہے؟ جو ٹرین کے انتظار میں پلیٹ فارم پر کھڑا ہو، جسے طویل سفر درپیش ہو اور اسے اپنے توشہ کی فکر نہ ہو، بلکہ وہ پلیٹ فارم کی رنگینیوں میں کھوگیا ہو، اسے منزل کی فکر نہ ہو بلکہ یہ جستجو ستاتی ہو کہ کس طرح پلیٹ فارم کو مزید مزین و آراستہ کیا جائے۔ دنیا کی مثال دیتے ہوئے امام غزالی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ گویا ایک کشتی ہے جو سمندر میں رواں ہے، اچانک ایک جزیرہ نظر آتا ہے، تو مسافروں کے سستانے، اور کچھ توشہ اکٹھا کرنے کی غرض سے وہاں لنگر انداز ہوا جاتا ہے۔ مسافروں کو بتادیا جاتا ہے کہ کشتی بس تھوڑی ہی دیر رکے گی، اپنا کام نمٹائیں، زاد سفر کا بندوبست کریں اور واپس آجائیں۔ ایسے میں مسافروں کی تین ٹولیاں بن جاتی ہیں، ایک تو وہ ہے جو جزیرے پر اترتے ہی اپنی حاجات نمٹاتے ہیں، اور سرعت کے ساتھ دوبارہ جہاز میں سوار ہوجاتے ہیں اور کشتی کی سب سے عمدہ جگہوں پر براجمان ہوجاتے ہیں، دوسری ٹولی جزیرے کے رنگارنگ تماشوں میں محو ہوجاتی ہے، کچھ دیر بعد سنبھلتی ہے تو ہڑبڑاہٹ میں جیسے تیسے بن پڑتا ہے، ادھورے زاد سفر کے ساتھ کشتی میں سوار ہوجاتی ہے۔ ان لوگوں کو مجبوراً جہاز کے تنگ اور ناپسندیدہ حصے میں ٹھہرنا پڑجاتا ہے۔ جبکہ تیسری ٹولی ان لوگوں کی ہے جو جزیرے کے حسن سے بے انتہا متاثر ہوکر اپنی آمد کی غرض و غایت فراموش کربیٹھتے ہیں۔ زاد سفر کی فکر کرنے کی بجائے کھیل تماشوں میں محو ہوجاتے ہیں، پھر جب انہیں واپسی کا خیال آتا ہے تو بے اندازہ سامان سمیٹ لیتے ہیں۔ جب یہ کشتی تک پہنچتے ہیں، تو اتنی جگہ نہیں ہوتی کہ یہ اپنے سازو سامان کے ساتھ سوار ہوسکیں، اور اس سے دستبردار ہونا انہیں گوارا نہیں ہوتا۔ نتیجتاً وہیں بے یار و مددگار رہ جاتے ہیں۔ ہم مسافروں کی کونسی قسم میں سے ہیں؟ اس کے لیے ہمیں اپنے محاسبے کی ضرورت پڑے گی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھےکہ "اپنا محاسبہ کرلو قبل اس کے کہ تمہارا محاسبہ کیا جائے"

یہ بھی پڑھیں:   اطمینان موت ہے - عالیہ زاہد بھٹی

یہ میری دلی کیفیات تھیں جن سے آپ کو بھی آگاہ کر رہا ہوں، واقعہ کچھ یوں ہے کہ کچھ ہی دیر قبل ایک شناسا سے ملاقات ہوئی تو اس نے اپنے جواں سال بھائی کے بارے میں بتایا جس کا ایک روڈ ایکسیڈنٹ میں انتقال ہوگیا، یہ سن کر اس کی صورت نگاہوں میں گھوم گئی۔ ابھی کچھ ہی عرصہ قبل تو ملاقات ہوئی تھی۔ کسے خبر تھی کہ وہ آخری ملاقات تھی، آخر وقت میں بھی گھر سے نکلتے وقت، گاڑی میں بیٹھتے ہوئے اس نے سوچا بھی نہیں ہوگا، کہ یہ میرا سفر آخرت ہے، اس کے بعد مجھے لوٹنا نصیب نہیں ہوگا۔ اس کے اہل خانہ بھی یہ نہیں جانتے ہوں گے کہ اپنے چہیتے کی اس کی زندگی میں یہ آخری دید ہے۔ مشہور ہے ، اس میں کتنی صداقت ہے مجھے علم نہیں، کہ گئے وقتوں میں ملک الموت عام بھی ظاہر ہوا کرتے تھے، تو کسی شخص نے ان سے کہا کہ میری روح قبض ہونے کے وقت سے مجھے تین دن قبل ضرور آگاہ کرنا، ملک الموت نے ہامی بھرلی۔ کچھ عرصہ بعد وہ اس کی روح قبض کرنے آگئے۔ اس شخص نے شکایت کی کہ آپ نے تو مجھے حسب وعدہ آگاہ بھی نہیں کیا۔ تو ملک الموت نے اس سے کہا کہ یہ تم کیسے کہہ سکتے ہو؟ کیا ایک ماہ قبل تمہارے محلے میں ایک شخص کی روح قبض کرنے نہیں آیا تھا؟ اور کیا تین ہی دن قبل تمہارے ایک ہمسایہ کی موت واقع نہیں ہوئی تھی؟ جب تجھے اتنے واضح پیغامات بھی نہیں ملے تو اپنے آپ کو ملامت کر۔ ہمیں بھی آئے دن کسی نہ کسی کی موت کی اطلاعات ملتی رہتی ہیں، کبھی ہم نے سوچا کہ ایک دن ہمارے شناسا ہمارے بارے میں بھی ایک دوسرے کو "اطلاع" دے رہے ہوں گے؟