ولکن رّسول اللہ وخاتم النبیین - ڈاکٹر میمونہ حمزہ

قرآن پاک کی سورۃ الاحزاب میں آپﷺ کے لیے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خاتم النبیین کی حیثیت کو بیان کیا گیا:

ما کان محمد ابآ احد مّن رّجالکم ولکن رّسول اللہ وخاتم النّبیّین (محمدؐ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، مگر وہ اللہ کے رسول اور خاتم النّبیّین ہیں)

یعنی ’’ان کے بعد کوئی رسول تو درکنار کوئی نبی تک آنے والا نہیں ہے‘‘۔ (دیکھیے تفہیم القرآن، جلد چہارم، ص۱۰۳)

یہ نہایت افسوس ناک بات ہے کہ ایک گروہ (مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے پیروکاروں) نے اس آیت کی غلط تاویل کر کے ایک بہت بڑے فتنے کا دروازہ کھول دیا ہے۔انہوں نے ’’خاتم ‘‘ کے لفظ کی غلط تعبیر کی ہے، اور اس سے مراد ’’نبیوں کی مہر‘‘ لیا ہے، اور وہ کہتے ہیں کہ آئندہ آنے والے نبی آپؐ کی مہر لگنے سے نبی بنیں گے، حالانکہ سیاق ِ کلام میں اس کی ہرگز گنجائش موجود نہیں ہے، بلکہ یہ معنی مراد لینے سے پورا کلام ہی بے محل ہوجاتا ہے۔اسی گروہ نے اس لفظ کی دوسری تاویل ’’افضل النبیین‘‘ کی ہے، یعنی نبوت کا دروازہ تو کھلا ہوا ہے، البتہ کمالات ِ نبوت حضورؐ پر ختم ہو گئے ہیں، اور یہ معنی بھی سیاقِ کلام میں اتنا ہی ان فٹ ہے جتنا پہلا، کیونکہ سیاق کے مطابق جاہلیت کی رسم ِ تبنیت اس لیے مٹائی جا رہی ہے کہ آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ (اور اگر اور نبی آنے تھے تو ان میں سے کوئی اس جاہلی رسم کو مٹا سکتا تھا)۔

سیاق وسباق قطعی طور پر اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ یہاں خاتم النبیین کے معنی سلسلہ نبوت کو ختم کر دینے والے کے ہی لیے جائیں، امام فخر الدین رازیؒ فرماتے ہیں:

’’حضور ﷺ خاتم النبیین ہیں اور آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں، کیونکہ اگر ایک نبی کے بعد دوسرا نبی آنا ہوتاتو پہلا تبلیغ ِ اسلام اور توضیح ِ احکام کا مشن کسی حد تک نا مکمل چھوڑ جاتا اور پھر بعد میں آنے والا اسے مکمل کرتا‘‘۔ (تفسیر کبیر)

ابن ِ جریر طبری رقم طراز ہیں:

’’اور آپؐ اللہ کے رسول ہیں اور خاتم النبیین ہیں، جنہوں نے تشریف لا کر سلسلۂ نبوت ختم فرما دیا ہے اور اس پر مہر ثبت کر دی ہے، اب یہ قیامت تک کسی اور کے لیے نہیں کھولی جائے گی‘‘۔

’’آنحضرت ﷺ کے لیے دو باتوں کا تصور ضروری ہے، یہ کہ آپ رسول اللہ ہیں، اور یہ کہ آپؐ خاتم النبیین ہیں، اور ان دونوں تصورات میں آپؐ کا امتیازی تصور خاتم النبیین ہی ہے‘‘۔ (دیکھیے ترجمان السنۃ، مولانا بدر عالم میرٹھی)

صرف سیاق ہی نہیں لغت بھی اسی معنی کی مقتضی ہے، عربی لغت اور محاورے کی رو سے ’’ختم ‘‘کرنے کے معنی مہر لگانے، بند کرنے، آخر تک پہنچ جانے اور کسی کام کو کر کے فارغ ہو جانے کے ہیں۔ (تفہیم القرآن، جلد پنجم، ۱۳۹)

اسی بنا پر تمام اہل ِ لغت اور اہل ِ تفسیر نے بالاتفاق ’’خاتم النبیین‘‘ کے معنی آخر النّبیّین کے لیے ہیں۔

قرآن کی آیت کی تفسیر خود قرآن سے کی جاتی ہے اورسورۃ المائدۃ کی آیۃ نمبر ۳ ’’الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا‘‘ بھی اسی آیت کی تفسیر ہے اور دین کو مکمل کر دینے سے مراد ایسا مستقل نظام ِ فکرو عمل اور ایسا مکمل نظام ِ تہذیب و تمدن ہے جس میں زندگی کے جملہ مسائل کا جواب اصولاً یا تفصیلاً موجود ہواور ہدایت اور رہنمائی حاصل کرنے کے لیے کسی حال میں اس سے باہر جانے کی ضرورت پیش نہ آئے۔ (تفہیم القرآن، جلد اوّل، ص۴۴۴)۔

احادیث مبارکہ بھی ختم ِ نبوت کے اسی معنی کی تشریح کرتی ہیں، جیسے:

نبی ﷺ نے فرمایا: ’’بنی اسرائیل کی قیادت انبیاء ؑ کیا کرتے تھے۔ جب کوئی نبی مر جاتا تو دوسرا نبی اس کا جانشین ہوتا، مگر میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا، بلکہ خلفاء ہوں گے‘‘۔ (صحیح بخاری، کتاب المناقب، باب ما ذکر عن بنی اسرایل)

یہ بھی پڑھیں:   با اخلاق یا رذیل

نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

’’میری اور مجھ سے پہلے گزرے ہوئے انبیاء کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے ایک عمارت بنائی اور خوب حسین و جمیل بنائی مگر ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوٹی ہوئی تھی۔ لوگ اس عمارت کے گرد پھرتے اور اس کی خوبی پر اظہار ِ حیرت کرتے تھے، مگر کہتے تھے کہ اس جگہ اینٹ کیوں نہ رکھی گئی؟ تو وہ اینٹ میں ہوں، اور میں خاتم النبیین ہوں (یعنی میرے آنے پر نبوت کی عمارت مکمل ہو چکی، اب کوئی جگہ باقی نہیں ہے جسے پر کرنے کے لیے کوئی آئے) (دیکھیے، صحیح بخاری، کتاب المناقب، باب خاتم النبیین) مسند ابو داؤد میں اس کے آخری الفاظ یہ ہیں: ’’ختم بی الانبیاء‘‘ میرے ذریعے انبیاء کا سلسلہ ختم کیا گیا۔

آپؐ نے فرمایا کہ: ’’ مجھے چھ باتوں میں انبیاء پر فضیلت دی گئی ہے،

۱۔ مجھے جامع اور مختصر بات کہنے کی صلاحیت دی گئی

۲۔ مجھے رعب کے ذریعے نصرت دی گئی

۳۔ میرے لیے اموال ِ غنیمت حلال کیے گئے

۴۔ میرے لیے زمین کو مسجد بھی بنایا گیا اور پاکیزگی حاصل کرنے کا ذریعہ بھی

۵۔ مجھے تمام دنیا کے لیے رسول بنایا گیا

۶۔ اور میرے اوپر انبیاءؑ کا سلسلہ ختم کر دیا گیا۔ (مسلم، ترمذی، ابن ِ ماجہ)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

’’رسالت اور نبوت کا سلسلہ ختم ہو گیا۔ میرے بعد اب نہ کوئی رسول ہے نہ نبی‘‘۔ (ترمذی، کتاب الرؤیا، باب ذہاب النبوۃ)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’میرے بعد کوئی نبوت نہیں ہے، صرف بشارت دینے والی باتیں ہیں‘‘۔ عرض کیا گیا، وہ بشارت دینے والی باتیں کیا ہیں یا رسول اللہ؟ فرمایا: ’’اچھا خواب، یا فرمایا، صالح خواب‘‘۔ (مسند احمد، مرویات ابو الطفیل، نسائی، ابو داؤد)

نبی ﷺ نے فرمایا:

’’میرے بعد اگر کوئی نبی ہوتا تو عمرؓ بن الخطاب ہوتے‘‘۔ (ترمذی، کتاب المناقب)

امت ِ مسلمہ میں آنے والے جھوٹوں سے بھی آپ ﷺ نے قبل از وقت خبر دار کر دیا:

ثوبان سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’ میری امت میں تیس کذّاب ہوں گے، جن میں سے ہر ایک نبی ہونے کا دعویٰ کرے گا، حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں‘‘۔ (ابو داؤد، کتاب الفتن)

آپ ﷺ نے فرمایا:

’’میرے بعد کوئی نبی نہیں، اور میری امت کے بعد کوئی امت نہیں‘‘۔ (بہیقی، کتاب الرؤیا۔ طبرانی)

ان احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ آپؐ آخری نبی ہیں، آپؐ کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں ہے، نبوت کا سلسلہ آپؐ پر ختم ہو چکا ہے اور آپؐ کے بعد جو بھی رسول یا نبی ہونے کا دعویٰ کریں وہ دجال و کذاب ہیں۔ قرآن کے الفاظ ’’خاتم النبیین‘‘ خود اس معاملے میں حجت ہیں اور نص صریح ہیں، سوچنے کی بات ہے کہ قرآن اور سنت خود ایک لفظ کی تشریح کر رہے ہیں، تو کوئی دوسرا معنی قبول کرنا تو درکنار اس کی جانب توجہ بھی نہیں کی جا سکتی۔

نبی اکرم ﷺ کی حیات کے آخری عرصے میں مسیلمہ کذاب نے نبوت کا دعویٰ کیا، اور نبی اکرم ﷺ کے وصال کے فوراً بعد حضرت ابوبکر ؓ نے اس کے خلاف فوج کشی کی، اور جن لوگوں نے اس کی نبوت تسلیم کی ان کے خلاف صحابہ اکرامؓ نے بالاتفاق جنگ کی۔یہ شخص (مسیلمہ کذّاب) رسول اللہ ﷺ کی نبوت کا منکر نہ تھا، بلکہ اس کا دعویٰ تھا کہ اسے حضور ؐ کے ساتھ شریک ِ نبوت بنایا گیا ہے، رسول اللہ ﷺ کو اس نے جو خط لکھا اس کے الفاظ یہ ہیں:

’’مسیلمہ رسول اللہ کی جانب سے محمد رسول اللہ کی طرف، آپ پر سلام ہو۔ آپ کو معلوم ہو کہ میں آپ کے ساتھ نبوت کے کام میں شریک کیا گیا ہوں‘‘۔

یہ بھی پڑھیں:   با اخلاق یا رذیل

مورخ طبری کے مطابق مسیلمہ کے ہاں جو اذان دی جاتی تھی اس میں ’’اشہد انّ محمدا رسول اللہ‘‘ کے الفاظ بھی تھے، اس صریح اقرارِ رسالت ِ محمدیؐ کے باوجود اسے کافر اور خارج از ملّت قرار دیا گیااور اس سے جنگ کی گئی۔ یہ اجماعِ صحابہ کی بہترین مثال ہے۔

دور ِ صحابہؓ سے لیکر آج تک ہر زمانے کے، اور پوری دنیائے اسلام کے ہر ملک کے علماء اس عقیدے پر متفق ہیں کہ محمد ﷺ کے بعد کوئی شخص نبی نہیں ہو سکتا، اور یہ کہ جو بھی آپؐ کے بعد اس منصب کا دعویٰ کرے، یا اس کو مانے، وہ کافر خارج از ملّت ِ اسلام ہے۔ یہ معاملہ کس قدر اہمیت کا حامل ہے، اس کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے:

امام ابو حنیفہؒ کے زمانے میں ایک شخص نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا، اور کہا کہ’’ مجھے موقع دو کہ میں اپنی نبوت کی علامات پیش کروں‘‘، اس پر امام اعظم نے فرمایا کہ: ’’جو شخص اس سے نبوت کی علامت طلب کرے گا وہ بھی کافر ہو جائے گا، کیونکہ رسول اللہ ﷺ فرما چکے ہیں کہ: لا نبی بعدی‘‘۔ (مناقب الامام الاعظم ابی حنیفہ لابن احمد المکی، ج۱، ص۱۶۱، طبع حیدر آباد ۱۳۲۱ ھ)

تفسیر کشاف میں علامہ زمخشری لکھتے ہیں:

’’اگر تم کہو کہ نبیؐ آخری نبی کیسے ہوئے جبکہ عیسیؑ آخری زمانے میں نازل ہوں گے؟ تو میں کہوں گا کہ آپؐ کا آخری نبی ہونا اس معنی میں ہے کہ آپؐ کے بعد کوئی شخص نبی نہ بنایا جائے گا اور عیسیؑ ان لوگوں میں سے ہیں جو آپ ؐ سے پہلے نبی بنائے جا چکے تھے، اور جب وہ نازل ہوں گے تو شریعت ِ محمدیہ کے پیرو اور آپؐ کے قبلے کی طرف نماز پڑھنے والے کی حیثیت سے نازل ہوں گے، گویا کہ وہ آپ ﷺ ہی کی امت کے ایک فرد ہیں‘‘۔ (تفسیر کشاف، ج۲، ص۲۱۵)

امام بیضاویؒ بھی خاتم النبیین کی یہی تشریح کرتے ہیں:

’’آپؐ انبیاء میں سے آخری ہیں، جس سے انبیاء ؑ کے سلسلے پر مہر لگ گئی ہے، اور عیسیؑ کا آپؐ کے بعد نازل ہونا اس ختم ِ نبوت میں قادح نہیں ہے، کیونکہ جب وہ نازل ہوں گے تو آپؐ ہی
کے دین پر ہوں گے‘‘۔ (انوار التنزیل، ج۴، ص۱۶۴)

دنیائے اسلام کا جائزہ لیں توہندوستان سے لیکر مراکش اور اندلس اور ترکی سے لیکر یمن تک ہر صدی میں ہر مسلمان ملک کے اکابر علماء فقہاء اور محدثین و مفسرین متفقہ طور پر ’’خاتم النبیین ‘‘ کے معنی آخری نبی ہی سمجھتے رہے ہیں، حضور ﷺ کے بعد نبوت کے دروازے کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند تسلیم کرنا ہر زمانے میں تمام مسلمانوں کا متفق علیہ عقیدہ رہا ہے، اور اس امر میں مسلمانوں کے درمیان کبھی کوئی اختلاف نہیں رہا ہے کہ جو شخص محمد ﷺ کے بعد رسول یا نبی ہونے کا دعویٰ کرے اور جو اس کے دعوے کو مانے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔(دیکھیے: تفہیم القرآن، ج۴، ص۱۵۱)

سوچنے کا مقام ہے کہ نبوت ایک بہت ہی نازک معاملہ ہے، جس میں ذرا سی کوتاہی کفر تک پہنچا دیتی ہے، اسی لیے اللہ تعالی نے اس معاملے کو نہ اپنی کتاب میں مبہم چھوڑا ہے نہ اپنے نبی کی احادیث میں۔ صحابہ اکرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اجماع بھی امت کے سامنے ہے، اور اس کے بعد کی پوری تاریخ بھی، جب کہیں بھی کسی جھوٹے مدعی نبوت کو جڑ پکڑنے نہیں دیا گیا، کیونکہ یہ کفر اور ایمان کا معاملہ ہے۔

ختم ِ نبوت امت ِ مسلمہ کے لیے بہت بڑی رحمت ہے، اس کی موجودگی میں امت میں ایک عالمگیر وجود اور عالمی برادری بنی ہے۔اگر نبوت کا دروازہ حتمی طور پر بند نہ ہوتا تو امت کو یہ وحدت حاصل نہ ہو سکتی تھی۔

Comments

Avatar

میمونہ حمزہ

ڈاکٹر میمونہ حمزہ عربی ادب میں پی ایچ ڈی ہیں اور انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی میں اعزازی طور پر تدریس کے فرائض ادا کرچکی ہیں۔ کئی کتابوں کے عربی سے اردو میں تراجم کر چکی ہیں، جن میں سے افسانوں کا مجموعہ "سونے کا آدمی" ہبہ الدباغ کی خود نوشت "صرف پانچ منٹ" اور تاریخی اسلامی ناول "نور اللہ" شائع ہو چکے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • عمدہ مضمون لیکن عام قاری کے لیۓ معلومات کا اتنا تیز بہاؤ کہ وہ شاید ہی کسی کو قائل کرنے کو سوچے لیکن عمیرہ احمد کی پیر کامل پڑہ کر نویں جماعت کا ذہن بھی سوچنے کو تیار۔