نامراد - اختر عباس

ایک بچے کی کہانی، اسے زندگی میں دو طرح کے لوگ ملے تھے۔ بچوں کے لیے خاص،ایسی کہانیاں ہمیشہ نہیں لکھی جاتیں، کون جانے اختر عباس کی کہانیاں دکھ کے کس آبشار کے نیچے بیٹھ کر لکھی جاتی ہیں؟


نذیرے نے کبھی کھلے آسمان کی توقع بھی نہیں کی تھی حالانکہ وہ یہ بھی نہیں جانتا تھا کہ زندگی سب کے لیے نہ تو کھلے میدان جیسی ہوتی ہے اور نہ ہی گھر کے کھلے دروازے جیسی۔ ہاں! ایک چھوٹی سی تمنا کا ہاتھ اس نے ضرور پکڑا تھا جیسے وہ اپنی ماں کا ہاتھ پکڑے ساراسار ا دن اس کے ساتھ چلتا رہتا۔ شروع میں اس کو یوں ساتھ چلنا بہت برا لگتاتھا۔ بُو بھی بہت آتی تھی۔ کئی بار اس نے ناگواری کا اظہار بھی کیا مگر ماں بھی کیا کرتی؟ اس نے بیٹے کی بات کی لاج رکھنے کے لیے اپنے سر پہ دھرے بٹھل کے اوپر ایک ٹین کا ٹکڑا رکھنا شروع کر دیا۔ نذیر کے لیے یہی بہت تھا۔ اس سے زیادہ وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔

نذیرے اور اس کی ماں کی باتیں کاغذ کی اس کشتی جیسی تھیں جو یادوں کے پانی میں پڑے پڑے گل جاتی ہے۔ ایسی گلی سڑی، آدھی ڈوبی آدھی تیرتی کشتی کاغذ کی ہو یا زندگی کی، نہ تو کسی کے کام آتی ہے اور نہ آنکھ کو بھاتی ہے مگر اس کے وجود سے انکار بھی نہیں کیا جاتا۔ وہ اپنی ماں کے ساتھ دوپہر تک مسلسل حرکت میں رہتا۔ ایک گھر سے دوسرے، دوسرے سے تیسرے اور وہاں سے محلے سے باہر کھیتوں تک۔۔۔۔جہاں اس کی ماں گھر گھر کی لیٹرینوں سے جمع کی ہوئی گندگی سے بھرے یہ بٹھل اُلٹا آتی۔ اس نے اپنی ماں کو ہمیشہ ہی اسی حالت میں دیکھا۔ سر پہ چادر کا موٹا سا بنّھا اور اس پر بٹھل رکھے، ایک ہاتھ سے ٹوکری پکڑے اور دوسرے ہاتھ سے نذیر ے کا ہاتھ تھامے چلتی رہتی۔ دوپہر کو وہ اپنے گھربھی نہ جاتے۔ کسی اورکے گھرتو بغیر ضرورت کے جا نہیں سکتے تھے۔ جاتے بھی کیسے؟ دوسروں کے گھر وں سے بو کو دور لے جانے والوں کو ان کے بدن سے بُو جو آتی تھی۔ بو کا تعلق احساس سے ہوتا ہے۔ اعمال سے اس پہ رنگ چڑھتا ہے۔ یہ کوئی خیالی اور تصوراتی چیز نہیں ہوتی۔ بو کا مزاج بھی انسانوں کی طرح بدلتارہتاہے۔ پل میں تولا، پل میں ماشا۔ خوشی ہوئی توپل بھر کوخوشبو کہلائی ورنہ پھربدبو ہی کے نام سے پہچان پائی۔

دونوں ماں بیٹا دوپہر ایک بیری کے نیچے گزارتے۔ ماں اپنے ڈوپٹے کے پلو سے بندھی روٹی نکالتی۔کبھی اس پر سالن دھرا ہوتا۔ کبھی اچار اور کبھی وہ خالی سوکھے پتوں جیسی ہوتی۔ وہ دونوں سوکھے لقمے کھاکر پانی پیتے اور بیری کے نیچے لیٹ رہتے۔ بیری سرکاری تھی یا کسی کی ذاتی، دونوں اس سے ناآشناتھے۔ کبھی کسی سے پوچھنے کاموقع آیا اور نہ ضرورت پڑی۔ وہ تو بعد میں پتا چلا کہ یہ ایک مہربان سے زمیندار چوہدری سراج کی ملکیت ہے۔ وہ دونوں بیری کے نیچے آکر بیٹھتے تو قدرت ان کی مہمانداری کا خودسے انتظام کر چکی ہوتی۔ نذیرا روٹی کھانے کے دوران، پہلے، بعد میں یا جب جب اس کی نگاہ پکے بیر پر پڑتی تو گھٹنوں کے بل آگے بڑھتااوراسے اٹھا کر منہ میں ڈال لیتا۔ ہاتھ دھونے کا رواج ہی نہیں تھا۔ہاتھ دھونے کی نوبت تو بہت سالوں بعد آنے لگی جب لوگوں کے ذہن اور ہاتھ، نظر نہ آنے والی آلودگیوں سے بھرے رہنے لگے۔

نذیرے کی زندگی میں کوئی انقلابی تبدیلی نہیں آئی۔ آتی بھی کیسے؟ نہ اس کی ماں نے کبھی ایسا چاہا، نہ اس نے چاہا۔ خیال اور دھیان خواہش نہ بنے تو دھوئیں کی طرح اُڑ جاتا ہے۔ بے وقعت، ناپائیدار، پیچھے احساس تک باقی نہیں رہتا۔ ان دونوں ماں بیٹے کی زندگی میں خیال اور خواہش کا سالوں تک نہ کوئی سایہ ابھر ا نہ امکان۔ دن، سال، مہینے ان جانے مسافروں کی طرح بن بولے ساتھ ساتھ چلتے رہے۔

بند گھروں، بند دروں اور بند دلوں میں کوئی گہرا تعلق رہا ہو گا۔ نذیرے نے اپنی عمرکے 8 ویں سال بند جوتی اور کچھا پہنا۔ اس سے پہلے وہ ہمیشہ ننگے بدن اور ننگے پاؤں ہی ہوتا۔ اسے کبھی محسوس ہی نہیں ہوا۔ محسوس کرانے والے نہ ہو ں یا احساس دلانے والے، تو ضرورتوں کے پودے اپنے آپ نہیں اُگتے۔ ان پہ پھول بھی نہیں کھلتے۔

وہ ہمیشہ لمبی سی قمیض پہنے رکھتا جو اس کے گھٹنوں کو چھوتی۔ اسی کے دامن سے وہ ہاتھ صاف کرتا اور اس کے بازوؤں سے منہ۔ اس لیے مکھیاں بھی اس کے ہاتھ منہ پر بیٹھنے کی بجائے قمیض کے ان حصوں پرآنا جا نا زیادہ پسند کرتیں۔ اِتنے برسوں میں اس کی صرف چند گھروں کے دالانوں یا صحنوں تک رسائی ہو سکی جہاں اس کی ماں کام کرتی تھی۔ اسے نہیں یاد کہ کسی نے اس سے کلا م کیا ہو یا رُک کرنام اور حال پوچھا ہو، وہ کسی گفتگو کے ذائقے سے ہی محروم تھا۔ ہاں کبھی کبھار کسی گھر کے باہر ماں کے انتظار میں بیٹھے دیکھ کر کسی آتے جاتے راہ گیر بچے نے چونڈی کاٹ لی ہویا کسی کتے نے اس کے بار بارپچکارنے پر اس کے ہاتھ پر زبان پھیر دی ہوتو اس کی بات الگ ہے۔ یہ ذائقہ گفتگو سے یقیناً مختلف تھا۔

پہلی بار اس سے کسی نے چند منٹ کی بات کی، تو وہ چوہدری سراج دین تھا۔ بیری والے کھیتوں کا مالک۔ وہ اپنی ماں کے ساتھ دوپہر گزار رہا تھاجب چوہدری وہاں سے گزرا۔ پھر جانے اسے کیا خیال آیا کہ وہ جاتے جاتے رک گیااور پلٹ کر اس کی ماں سے پوچھنے لگا۔

’’مائی شیداں۔۔۔۔ وَئی تو کل توں ٹوکریاں اَوہ سامنے دی پیلیاں وچ سٹ دیا کر۔‘‘(تم کل سے ٹوکریاں وہ سامنے والے کھیتوں میں خالی کیا کرو)

پھر وہ بولا۔ ’’تمہارا ایک ہی بچہ ہے۔ کیا سوچا ہے اس کا؟ اسے چُوڑامت بنانا۔۔۔۔ میں نے کئی بار دیکھاہے۔ اس کی آنکھ میں ندیدا پن نہیں ہے۔ یہاں بیری کے نیچے تم روز آتی ہو، نہ یہ کبھی بیری کے اوپر چڑھااور نہ اس کی ٹہنیوں کو کبھی ہلونا دیا۔ جو بچہ ابھی سے اتنا نگھاہو۔ اسے تھوڑا بہت لکھاپڑھادینا، اس کی زِندگی بن جائے گی۔ ورنہ ساری عمر رُلتارہے گا۔ دَردَر پھرتارہے گا۔‘‘

چوہدری سراج کا دل بھی اپنے کھیتوں کی طرح کُھلااور بڑا تھا۔ کسی نے پہلی بار نذیرے کے بارے میں اتنی باتیں کی تھیں۔

اگلے روزچوہدری آیا تواس کے ہاتھ میں ایک کتاب، قمیض اورکچھاتھا۔ اس نے تینوں چیزیں نذیرے کو دیتے ہوئے کہا۔

’’کاکابلّی! یہ وڈھے مالک کا جہان ہے اور وہ سب کو موقع دیتا ہے، آگے نکلنے کا، اپنے پاس آنے کا۔ یہ تیرا پہلا موقع ہے۔ جب جب موقع تیرے پاس آئے اس کو پہچان لینا، ناقدری نہ کرنا۔ موقع استعمال کرے گا تو آگے بڑھے گا، ترقی کرے گا۔ نہیں تو ساری عمر لوگوں کا گند اٹھائے گا۔ سڑکوں پر جھاڑو دیتا پھرے گا۔ ‘‘

چوہدری سراج اپنے کندھے پر کسّی ڈالے چلا گیا تو نذیرے اور اس کی ماں کو یوں لگا جیسے کسی نے بیری پہ چڑھ کے ہلونا دیا ہو اور ان کے چاروں طرف بہت سے میٹھے اور پکے ہوئے بیر گرے ہوں۔ نذیرے کی ماں نے چند دنوں کے اندر اپنے چھوٹے چھوٹے مالکوں کے گھروں سے کئی چھوٹی بڑی کتابیں، پنسلیں اور چھوٹی بڑی قمیضیں، نیکریں جمع کر لیں۔ ان دنوں وہ دونوں ماں بیٹا بہت خوش تھے۔ وہ جو بس جیے جا رہے تھے، چلے جارہے تھے۔ اچانک ہی یہ خیال ان کے دلوں کامہمان ہو گیا تھاکہ ان کے لیے لوگوں کی گندی لیٹرینیں صاف کرنے اور صحنوں میں جھاڑو پھیرنے کے علاوہ بھی کوئی زندگی ہو سکتی ہے۔

کون جانے یہ کمی ہے یا خوبی؟ ایسی برادریاں، ذاتیں بند کنوئیں جیسی ہوتی ہیں۔ ان میں سے کوئی نکلنا بھی چاہے تو سارے برادری والے مل کر اسے روکتے ہیں، سمجھاتے ہیں۔آنے والے کل سے ڈراتے ہیں۔ نہ خود آگے بڑھتے ہیں، نہ کسی کوبڑھنے دیتے ہیں۔

نذیرے کی ماں نے بچے کو سکول میں ڈال دیا۔ اس کا گھر اپنی برادری کی عورتوں، مردوں کے تبصروں اور مشوروں سے بھر گیا۔ نذیرے کی ماں نے سب کو ٹوکری میں جمع کیا اور دور جاکر پھینک آئی۔

ان کے گھر میں منہ ہاتھ دھونے والا صابن نہ کبھی استعمال ہو ا تھانہ ضرورت ہی پڑی تھی۔ ہاں کپڑے دھونے والا صابن ایک کنالی میں بھرا ہو ا تھا۔ اس پہ کپڑ ا گیلا کر کے پھیر لیا جاتااور پھر مل مل کرکپڑا صاف کرلیتے۔ نذیرے کی ماں نے اس روز بڑی چاہت سے کنالی سے ہاتھ گیلا کرکر کے اپنے بچے کا منہ دھویا۔ جسم کو مَل مَل کر صا ف کیا۔ لمبا کرتاپہنایا۔ جس کے اوپر کے تین بٹن ٹوٹے ہوئے تھے۔ نیچے نیکر پہنائی جو درمیان سے باقاعدہ کٹی ہوئی تھی تاکہ حاجت کے لیے باہر اندر جاتے ہوئے بچے کوپریشانی اور رکاوٹ نہ ہو۔ یہ تحفہ شیداں کسی گھر سے لائی تھی۔ وہ شام تک بولائی پھری تھی کہ اس کا بیٹا ’’شکولے‘‘ (سکول) گیا ہے۔ شاید اس کو اندازہ ہوگیاتھا، عیسائی بستی کا پہلا لڑکا۔۔۔۔زندگی کی پن چکی سے میٹھا اور خوشبودار پانی لینے گیا تھا۔


آنے والے سالوں میں نذیرے کی عمر میں 10 سال جمع ہوئے تو اس نے دس جماعتیں پاس کر لیں۔ سکول سے جڑی یادوں نے اس کی زندگی کا چمن پھولوں سے بھر دیا تھا۔ اس کے آس پاس کے لوگ اس کا کس قدر مذاق اڑاتے تھے۔ اسے مسلمانوں سے ڈراتے۔ ان کی باتوں اور رویوں کی کیسی کیسی تاریک تصویر کھینچتے۔

’’تم ایک ریگستان میں جارہے ہو۔ جھلس کر مر جاؤ گے۔‘‘ اسے یہی بتایا گیا تھا۔ مگر دس سال۔۔۔ اسے کم کم ہی بے فیض لوگوں سے واسطہ پڑا۔

پھر اسے اٹھنا، بیٹھنا اور پوچھنا آگیا۔ ایک روز اس نے اپنے استاد سے پوچھا تھا۔جو کہا کرتے تھے، ’’جو پوچھتاہے وہی سیکھتا ہے۔‘‘

’’ماسٹر جی ! یہ لوگ خوش کیوں نہیں ہونے دیتے؟‘‘ تب استادوں کو سر کہنے کا رواج نہیں ہوا تھا۔ ماسٹر جی بڑے گول مول جواب دیا کرتے تھے۔ بولے

’’یہ بے چارے دکھی لوگ ہوتے ہیں، دکھ سے بھرے۔ اپنی زندگی میں بلٹوئیاں بھر بھر کر دکھ اور ناخوشی جمع کرتے ہیں۔ تھوڑ ی کوشش سے، ذرا سی محنت سے خوشی کے چند قطرے ہی اپنے اندر ڈال لیا کریں تو بہار آجائے۔یہ خوشی لینے پر آمادہ نہیں ہوتے۔ ہاں کسی کو ملے تو چھین کر مٹی میں رو ل دیں گے۔ اس کا دل بُراکریں گے۔ خود سے خوشی ان کی طرف آئے تومنہ پھیر لیں گے۔ اب کوئی بہتر ہی نہ ہونا چاہے، کوئی دلدل سے نکلناہی نہ چاہے، ترقی ہی نہ کرنا چاہے تو کوئی مدد، کارگر نہیں ہوتی۔ ‘‘

نذیرے کو یاد تھا شروع کے دن تھے جب وہ پورے کپڑے بھی نہیں پہنا کرتا تھا اور کلاس کے آخر میں بیٹھا کرتا تھا ایک دن ماسٹر جی نے کہا تھا۔

’’پتر! تو نے ساری عمر وہاں نہیں بیٹھنا۔ آگے بڑھنے، ترقی کرنے اور دوڑنے کا میدان سب کے لیے کھلا ہے۔ گھبرانا نہیں۔ تمہیں بنانے والا ہمار ارب بڑے کھلے دل کا مالک ہے۔ اس نے دنیا بھی بڑی کھلی ڈُلی بنائی ہے۔ تو نے لوگوں کی چھوٹی چھوٹی باتوں کی پروا نہیں کرنی۔ پروا کرنے بیٹھے گا تو اپنی راہ کھوٹی کرے گا۔ بعض لوگ ہی نہیں ان کی باتیں بھی بڑی بے رحم ہوتی ہیں۔اندر تک کاٹ ڈالتی ہیں۔ ہمارے ربّ سچے اور اس کے سوہنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے۔ نرمی کا، محبت کا، عدل کا، انصاف کا تیرے اندر شوق ہوا، گن ہوئے تو میں تجھے اپنے ہاتھوں پر اٹھالوں گا۔ ‘‘

’’وہ کیوں ماسٹر جی !‘‘نذیرے نے پریشان ہوکر پوچھا تھا۔

’’ ماں توکہتی ہے تُو بھاری ہو گیا ہے۔ اُٹھتا نہیں ہے۔‘‘

ماسٹر جی ہنس دیے تھے۔’’ بچے! تو کیا جانے تُو تو میرے رب کی نعمت ہے میرے پاس۔۔۔ میں تیر ی بہت قدر کروں گا۔ جو میں نے قدر نہ کی تو۔۔۔یہ تو آزمائش بن جائے گی۔ میں تجھے آزمائش کیوں بناؤں۔ ترے پہ محنت کر کے اپنے بھاگ کیوں نہ جگاؤں۔ ‘‘


ماسٹر جی عجیب مٹی کے بنے ہوئے تھے۔ انہوں نے کلاس کا ماحول ہی بدل کے رکھ دیا۔ نذیرا سب کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا، کھاتاپیتا۔ ایک دن بولے

’’اپنی ماں سے پوچھنا۔تیرے نام کے ساتھ جو مسیح لکھاہے۔ اگر میں نہ لکھوں تواسے کوئی اِعتراض تو نہیں ہو گا۔‘‘

اگلے روز اس کی ماں خود سکول آ گئی تھی۔

’’ماٹ جی !‘‘وہ ماسٹر جی بھی صحیح طرح سے ادا نہ کرسکی تھی۔ میرے نذیرے نے کوئی قصور کیا ہے کیا؟میری طرح اسے بھی نہ مسیح کا پتا نہ مائی مریم کا۔ ہم کو نہ کسی نے ساتھ بٹھایانہ کوئی لفظ بتایا، نہ سمجھایا۔ خالی آئے تھے۔ ایک نام نشانی ہے مذہب کی، رہنے دی ہوتی! ‘‘

’’ نہیں مائی ! اس نے کیا قصور کرنا۔ ‘‘

ماسٹر جی نے تسلی دی۔

’’ ہم ہی قصور وار ہیں۔ ہماری کچھ اپنی خوبیاں اور خرابیاں ہیں۔ ‘‘

’’مطلب ؟‘‘وہ ناسمجھی سے بولی تھی۔

’’مطلب یہ مائی کہ کل تیرا بچہ پڑھ لکھ کر ملازم ہونے جائے گاتو اس کو آسانی ہوجائے گی۔ سارے لوگ آسانی نہیں دیتے ناں اور سارے مشکلیں بھی پیدا نہیں کرتے۔ کچھ سب کی تکریم کرتے ہیں کچھ دو جملوں میں ہی دل توڑ دیتے ہیں۔ ہمارے بڑے تو بڑے دل والے تھے۔وہ ہمیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی باتیں سکھاگئے تھے۔ وہ اللہ والے تھے، خود رسول تھے، پر تھے تو انسان ہی۔‘‘

پھر ماسٹر صاحب مسکرائے، ’لو تمھیں بھی تھوڑا پڑھا دیتا ہوں، بتا دیتا ہوں۔ کہتے ہیں وہ اپنے گھر رو ز رات کو کسی کو مہمان بنا کر لاتے۔ پھر کھانا کھلاتے۔ ایک روز شہرِ پناہ کے دروازے سے جو مسافر ملا وہ ستر سال کا بوڑھا تھا۔ حضرت ابراہیم نے اسے ساتھ لیا اور گھر کا رخ کیا۔ راستے میں تعارف ہو ا تو پتاچلا کہ بوڑھا یہاں آتے ہوئے بہت پریشان تھاکہ نیا شہر ہے او رکوئی جاننے والا بھی نہیں۔ اوپر سے شام اتر آئی ہے۔ وہ آتش پرست تھاآگ کی پوجاکرنے والا۔ حضرت ابراہیم نے یہ سنا تھاتو ناراض ہو کر چل دیے کہ اللہ کا نبی ایک کافر اور مشرک کی کیسے میزبانی کرے؟ تبھی ربّ سوہنے کا پیغام آیا کہ ابراہیم !اس آدمی کو میں ستر سال سے کھلا رہاہوں کبھی رزق نہیں روکاکہ میرابندہ ہے کبھی تو لوٹ کر آئے گا۔ کتنی نافرمانی اور کرے گا اور تُو ایک وقت کا کھاناکھلانے سے انکاری ہو گیا؟ حضرت ابراہیم واپس آئے اور معذرت چاہی۔ اس نے وجہ پوچھی کہ ابھی تو ناراض ہوئے تھے۔ اب آپوآپ آبھی گئے ہو۔ تو بتایا کہ آیا نہیں، رب العالمین نے ڈانٹا ہے کہ میں اس کے بندے کو بے یارومددگار کیوں چھوڑ آیا ہوں۔ جسے وہ ستر سال سے پال رہاہے اس امید پرکہ کبھی تو لوٹ کر آئے گاناں! وہ بوڑھا آتش پرست اس لمحے پھوٹ پھوٹ کر رویااور بولا کہو اپنے ربّ سے کہ میں پلٹ آیا۔ میں اس پہ ایمان لایا۔ میں اس کے پاس لوٹ آیا۔‘‘

’’یہ تو نصیبوں کی بات ہے۔ ‘‘ماسٹر جی بڑبڑارہے تھے۔


جس دن نذیرے نے دس جماعتیں پاس کیں ماسٹر جی نے اسے اپنے رقعے کے ساتھ بلدیہ کے دفتر بھجوایا۔ ایڈمنسٹریٹر بلدیہ ان کا پرانا شاگرد تھا۔ اس نے نذیرے سے درخواست لکھوائی اور نوکری پہ رکھ لیا۔ ماسٹر جی کو پیغام بھجوایا کہ ابھی سویپر کی جگہ خالی ہے۔ جونہی کوئی بہتر جگہ خالی ہوئی وہاں رکھوا دوں گا۔ یوں نذیرے کی زندگی کاباقاعدہ آغازہوا۔ وہ صاف ستھرے کپڑے پہنتا، شیو بنا تا اور دفتر چلاجاتا۔

اس روز وہ بڑے صاحب کے کمرے میں ہی تھا۔ جب فون کی گھنٹی بجی۔ پی اے نے بتایاکہ کونسلر صاحب ہیں۔ نذیر، اپنے صاحب کی مصروفیت کا سوچ کر الٹے قدموں واپس ہو رہا تھاجب کونسلرصاحب سے ٹکرایا۔ پھر ڈر کے عالم میں گھبرا کرسلام کردیا۔’’ لاحول ولا۔‘‘ کونسلر صاحب نے منہ بنایا۔

’’تُو نذیرا مسیح ہے ناں، شیداں جمعدارنی کا بیٹا۔‘‘

’’ جی، جی جناب۔‘‘

’’ یہاں کیا کر رہا ہے اوئے تو…… افسروں کے پاس۔‘‘

’’ جی میں یہاں نوکری کرتاہوں۔ ‘‘

کونسلر صاحب اپنا مسئلہ بھول گئے۔ سلام دعاکے بغیرہی کرسی میں دھنستے ہوئے دہاڑے۔

’’ ایڈمنسٹریٹر صاحب یہ ظلم ہے، یہ زیادتی ہے۔ ہمارے بچے تو بے روزگار پھر رہے ہیں۔ آوارہ ہو گئے ہیں۔ آپ کمیوں کو نوکریاں دیے جارہے ہیں۔ آپ کیسے افسر ہو؟ میں اپنی پارٹی کے اجلاس میں بات کروں گا اس پر۔‘‘

ایڈمنسٹر یٹر حمیدالدین شیخ نے اپنی گھومنے والی کرسی کو گھمایا اور مسکرا کر بولے۔

’’ جی جی ضرور کیجیے۔ فی الحال حکم فرمایئے۔‘‘

’’ وہ جی ہماری گلی کا گٹر بار بار بند ہو رہاہے۔ جانے کیسی ناقص سیوریج کا نظام ہے آپ کا؟ اس نذیرے کی ڈیوٹی لگادیں۔ اس سے کہیں روز میرے گھر آکر حاضری لگایاکرے۔‘‘ وہ بڑی رعونت سے بولے تھے۔

’’آپ کیسے جانتے ہیں اس کو؟‘‘ ایڈمنسٹر یٹر بلدیہ نے ان کی بات کا بر ا نہ مانتے ہوئے پوچھاتھا۔

’’اس کی ماں اس زمانے سے ہمارے محلے میں صفائی کا کام کررہی ہے۔ جب فلش سسٹم بھی نہیں آیاتھا۔ کھڈے والی لیٹرینیں ہوتی تھیں۔ وہ سر پہ بٹھل رکھے صفائی کرکے دور کھیتوں میں پھینکنے جایا کرتی تھی۔ یہ اس کے ساتھ آیا کرتا تھا۔ پھرسنا ہے کسی نے سکول ڈال دیا تھا۔ عجیب بات ہے پہلے تو اس سے بہت بو آیا کرتی تھی۔ لوگ پاس نہیں بٹھاتے تھے۔ اب یہ افسروں کے دفتروں میں دندناتا پھر رہا ہے۔‘‘

حمیدالدین شیخ کو ان کے لہجے اور بات سے ویسی ہی بو آئی تھی جیسے کسی گندگی کے بٹھل سے آتی تھی ان کا منہ بن گیا۔ پھر وہ بولے ’’کونسلر صاحب یہ لڑکامیٹرک پاس ہے۔ ابھی سویپروں کی جو نئی بھرتی کی ہے۔ اس میں نوکری پہ آیا ہے۔ لڑکا سمجھ دار ہے اور صاف ستھرا بھی۔ تو میں نے اسے بلدیہ کے ریکارڈ روم اور لائبریری کی صفائی ستھرائی کا کام دیا تھا۔ اس نے ہولے ہولے سارا کام سیکھ لیاہے۔ زندگی سب کے لیے کھلے میدان جیسی ہوتی ہے۔ کچھ دوڑتے ہیں اور آگے نکل جاتے ہیں اور کچھ دوسروں کو دوڑتادیکھ کر آوازیں دینے لگتے ہیں۔ نہ خود بھاگتے ہیں نہ دوسروں کو جیتنے دیتے ہیں۔ جلتے کڑھتے، دھواں دیتے رہتے ہیں۔‘‘ پھر جانے انہیں کیا یا د آیا۔ بولے ’’کونسلر صاحب آپ کچھ نہ کچھ پڑھے لکھے بھی تو ہوں گے۔ ‘‘

’’لاحول ولا۔‘‘ وہ غصے سے بولے تھے۔ ’’ساری کتابیں پڑھی ہوئی ہیں سکول کی۔سبھی پہ دسترس حاصل ہے۔ سارے پڑھے لکھوں کا نمائندہ ہوں۔

’’ ماشاء اللہ‘‘ شیخ صاحب نے بڑی مشکل سے مسکراہٹ کو چھپایا۔

’’ہمارے آپ کے بزرگ تو پڑھے لکھے نہیں تھے۔ ان کے زمانے میں گھروں میں صبح و شام ماشکی پانی کی مشک یا مشکیزے سے پانی ڈالنے آتے تھے۔ سڑکوں پر چھڑکاؤ کرتے او رمزدوری پاتے۔ آپ کو توبخوبی علم ہوگا کہ ہمارے اَن پڑھ بزرگ ان ماشکیوں کو نام سے نہیں بلاتے تھے، احترام سے بلاتے تھے اور وہ سب ماشکی بہشتی کہلاتے تھے جو پانی پلاتے تھے،چھڑکاؤ کرتے تھے ہمارے بڑوں کے دل شکر او ر لفظ شکریے سے بھر تے ہوئے تھے۔ اپنے خادموں اور خدمت گزاروں کو حق خدمت کے علاوہ اچھے، نرم اور محبت بھرے لفظوں سے نوازتے تھے۔ آپ کو نہیں لگتا ہم ہولے ہولے اچھے لفظوں اور اچھے جذبوں کی نعمت سے ہی محروم ہوتے جارہے ہیں۔ کام بھی کروانا چاہتے ہیں اور پلّے سے ایک دل رکھنے والا لفظ بھی ادا کرنے کو تیا ر نہیں ہوتے۔‘‘

کونسلر صاحب نے بات سنی اور ناراض ہو کر چلے گئے۔ انھیں بہت رنج تھا کہ شیخ صاحب نے ایک چوڑھے جمعدارکی سائیڈ لی ہے۔

’’میں نے حق بات کہی تھی۔حقائق بتائے تھے۔ان کابھی لحاظ نہیں کیا۔‘‘


حقائق وقت کے ساتھ ساتھ بدلتے رہتے ہیں آدمی کی طرح۔۔۔۔ کبھی سکھ دیتے ہیں کبھی دکھ۔

شیخ حمید الدین صاحب اس روز کافی دنوں بعدبلدیہ کے پرانے آفس آئے تھے۔ سعید وفا کے بڑے فون آرہے تھے۔ بے شک وہ شاعر اچھے تھے۔ مگر اصل خوبی یہ تھی کہ پرانے جوٹی دار تھے۔ اتفاق ہی تھاکہ حمیدالدین ٹرانسفر ہو ئے تو ان کی جگہ پوسٹنگ سعید وفا کی ہوئی تھی۔

چائے آئی تو پہلے گھونٹ کے ساتھ ہی حمیدالدین کو اتفاق سے یاد آیا۔ بولے، ’’یار یہاں وہ لڑکا ہوتا تھانذیر۔ اسے تو بلایئے۔ اب تک تو ایف اے کر چکا ہوگا۔‘‘اس سے شیخ صاحب ایک انجانی سی خوشی کے ساتھ گویا ہوئے۔

’’لیاقت مسیح کو بھیجو‘‘۔ سعید وفانے پی اے کو فون پر ہدایت کی۔

’’ارے بابا !لیاقت نہیں۔ نذیرہے اس کا نام۔ ‘‘شیخ صاحب کا جملہ سن کر سعید وفاہنسے …… ’’بھولے بادشاہو! میں یہاں ایڈمنسٹریٹر ہو ں بلدیہ کا۔ ٹکے ٹکے کے لوگوں کے نام اور کام تھوڑی یاد رہتے ہیں۔ چھوٹے درجے کے عملے کے لیے لیاقت مسیح سپروائزر ہے۔ وہی سنبھالتا ہے۔ وہی ڈیوٹیاں لگاتاہے۔‘‘

لیاقت مسیح آکر خاموشی سے موَدب کھڑا ہوگیا۔ کالے رنگ کی وجہ سے بالوں کی سفیدی اور نمایاں تھی۔

’’ ہاں بھئی صاحب پوچھ رہے ہیں۔ نذیر نام کا کوئی لڑکا ہے تمہارے پاس۔ اسے بلاؤ ذرا۔۔۔۔‘‘لیاقت مسیح سر جھکائے کھڑا رہا پھر ڈرتے ڈرتے بولا۔

’’مائی باپ !نذیر تو نہیں ہے جی !‘‘

’’نہیں ہے !مطلب ؟‘‘سعید وفا غصے سے دھاڑے۔ ’’ حرام خور ہو تم سب۔ ایک ایک کو دیکھ لوں گا۔ سرکار سے تنخواہیں لیتے ہو۔ آدھی تمہار ی جیب میں اور آدھی ان کی جیب میں جو ہوتے ہی نہیں۔ میں کچھ کرتا ہوں تم سب کا بندوبست۔نہیں ہے، کیسے نہیں ہے وہ؟ ‘‘

’’نہیں جناب‘‘ وہ منمنایا۔’’ یہ بات نہیں ہے ماں مریم کی قسم! میں بے قصور ہوں آپ کو یاد ہوگا۔ پچھلے ہفتے۔۔۔ وہ۔ ‘‘

’’کیا پچھلے ہفتے۔۔ وہ؟ ‘‘

’’مائی باپ! آپ نے نیو ٹاؤن کے گٹروں کو کھولنے کا حکم اورپھر دھمکی دی کہ زیادہ بک بک کی تو سیدھانوکری سے نکلوا دوں گا۔صاحب! آپ کے دفتر سے نکلا تونذیر فائلیں لے کر لائبریری جا رہاتھا، مجھے اس پہ،اور اس کے سفید کپڑوں پر پہلے ہی بڑا غصہ تھاجی۔ ہماری ذات کا لڑکا، ہم سے بلند اور الگ ہو کر کرسی پہ بیٹھتا تھا۔ روز سارے سویپر شکایت کرتے تھے۔ میں نے اسے بلا کرکہا کہ تم اصل میں تو سویپرہی ہو، آج اپنا اصل کام کر کے آؤ۔ میرے پاس اس وقت اور بندہ بھی کوئی نہیں۔ اس نے چوں چاں کی تو میں نے نوکری سے فارغ کرانے کی دھمکی دے دی۔

’’پھر جی وہ نامرادنیو ٹاؤن چلاگیا تھاصفائی کرنے۔ میرا سائیکل لے کر،مجھے اس پر ترس آگیا تھااس لیے اپنا سائیکل دے دیا تھا۔ گٹر میں اترا تھاپہلی بار۔ نامراد! نیچے سے ایک ہی گار کا پھیرا لایا۔ دوبارہ اوپر آنا نصیب نہیں ہوا۔ وہاں بد بو ہی اتنی ہوتی ہے۔ وہ اس کے سر کو چڑھ گئی۔ چکراکر اندر ہی گرا اور دم مسافر ہوگیا۔ وہ تو جی شام تک نہیں آیا تو مجھے اپنے سائیکل کی فکر ہوئی۔ وہ گٹر کے اوپر کھڑی تھی۔ اس کی صاف ستھری قمیض او رجوتے بھی ساتھ پڑے تھے جی۔‘‘

چائے اس قدر کڑوی بھی ہو سکتی ہے۔ کرسی ایک دم اس قدر اذیت بھی دے سکتی ہے۔ اور کوئی آدمی اس قدر ناپسندیدہ بھی ہو سکتا ہے۔ اس لمحے حمید الدین شیخ کچھ فیصلہ نہیں کرپارہے تھے۔ صرف اتناہوا کہ وہ وہاں سے بغیر کچھ کہے اٹھ آئے۔ کہنے کو کچھ باقی بچاہی نہ تھا۔


مشکل لفظ بھی آسان معنی رکھتے ہیں:

٭ بٹھل: لوہے کا کھلے منہ والا برتن

٭ بنّھا: کپڑے کو بل دے کر گول چھلا سا بنا کر سر پہ رکھی جانے والی وزنی چیز کے نیچے رکھتے ہیں

٭بیری: بیر کا درخت

٭کچھا: نیکر

٭ چونڈی کاٹنا: چٹکی بھر لینا

٭پیلیاں: کھیت

٭ چُوڑا: صفائی کرنے والا جمعدار

٭ہلونا دینا: ہلانا

٭نگھا: اچھے اور دھیمے مزاج کا

٭وڈھا مالک: بڑاخدا

٭بلٹوئیاں: چھوٹی بالٹیاں

٭ اپنے بھاگ: اپنی قسمت

ٹیگز

Comments

اختر عباس

اختر عباس

اختر عباس مصنف، افسانہ نگار اور تربیت کار ہیں۔ پھول میگزین، قومی ڈائجسٹ اور اردو ڈائجسٹ کے ایڈیٹر رہے۔ نئی نسل کے لیے 25 کتابوں کے مصنف اور ممتاز تربیتی ادارے ہائی پوٹینشل آئیڈیاز کے سربراہ ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.