عقل اور عشق - اشانت اشفاق

جس طرح عقل کی ایک حد ہوتی ہے، ٹھیک اسی طرح عشق کی بھی ایک حد ہوتی ہے ۔ عشق وہاں سے شروع ہوتا ہے، جهاں پر عقل کی حد ختم ہونا شروع ہوتی ہے اور پھر اسی طرح جہاں عشق کی حد ختم ہوتی ہے، وہیں سے بندگی شروع ہوتی ہے ۔

میں اپنی سوچ کے مطابق اصل بندگی کو عشق سے کهیں بالاتر سمجھتا ہوں ۔ عقل میں کوئی رخنه آجائے تو بات بن سکتی ہے، عقل کے بعد عشق میں کوئی جھول بھی آ سکتا ہے، پھر بھی بات اتنی نہیں بگڑتی لیکن اگر بندگی میں کوئی خلل ہو تو ایمان پر شک ہونے لگتا ہے ۔

عقل سے عشق سے ایمان بالاتر ہوتا ہے کیونکه ایمان نه عقل ہوسکتا ہے،نه عشق ۔ عشق میں تعظیم کی حد ہوتی ہے مگر بندگی میں تعظیم سے بھی آگے جاکر مسجود ہونا پڑتا ہے ۔

تیرے عشق کی انتها چاہتا ہوں

کا مطلب لامحدود بندگی چاہتا ہوں

میری سادگی دیکھ میں کیا چاہتا ہوں

علامه اقبال جانتے تھے که یه بندگی لامحدود ہے اور میری سادگی ہے جو که میں چاہتا ہوں وه ممکن ہو ہی نہیں سکتا۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */