بلیک فرائیڈے۔ تھینکس گِوِنگ ڈے - انعام حسن مقدم

بیت الله کا غلاف بلیک ہے، حجرِ اسود بلیک ہے، حضورِ اکرم صلی الله تعالٰی علیہِ وَ آلہِ وَ بارِک وسلم کے عمامہ شریف کے رنگ محدثین نے سفید، سیاہ اور ہرا بیان کیے ہیں۔ مساجد میں عام طور پر سفید سنگِ مرمر کی صفوں کے درمیان صفوں کو علیحدہ علیحدہ ظاہر کرنے کے لیے سیاہ رنگ یا بلیک ماربل استعمال کیا جاتا ہے۔ دنیا بھر میں تمام قرآن پاک کی عکسی کتابت یا نقول (پرنٹنگ) کےلیے سیاہ روشنائی (ink) استعمال کی جاتی ہے۔ دنیا بھر میں کسی بھی زبان میں کسی بھی 'مذہبی ڈیپارٹمنٹل اسٹور' کی کتابیں چھاپنے کے لیے بلیک رنگ استعمال کیا جاتا ہے۔ بے شمار مذہبی اجتماعات میں اجتماعی دعا کے وقت اندھیرا (بلیک آؤٹ) کر دیا جاتا ہے۔ رات کے آخری پہر کے اندھیرے (بلیک آؤٹ) کی عبادت الله تعالٰی کی پسندیدہ عبادتوں اور قبولیتِ دعا کے اوقات میں اہم بیان کی گئی ہے۔ دنیا بھر میں ججز اور وکلا انصاف اور طاقت کے نمائندہ رنگ کے طور پر سیاہ رنگ کے گاؤن (جُبَّہ) پہنتے ہیں۔ دنیا بھر میں اساتذہ اور پروفیسرز سب سے زیادہ کالے رنگ کا گاؤن پہنتے ہیں۔تو سُوال تو یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا اسلام میں سیاہ رنگ کی کوئی مذمّت کی گئی ہے؟ کیا اسلام میں کالا رنگ ناپسندیدہ ہے؟ کیا اسلام میں کالے رنگ کی ممانعت ہے؟ کیا اسلام میں کسی بھی رنگ سے کسی بھی قسم کے توہُّمات (منحوس، ناپسندیدہ، غیر متبرک) وابستہ کرنا جائز ہے؟ یا اِسے لوگوں کی کم علمی کہا جائے؟ تحقیق سے دوری؟ غیر ضروری تعصب و نفرت؟ توہّم پرستی؟

جُزوی طور پر دنیا کی بعض تہذیبوں اور ثقافتوں میں سیاہ رنگ موت، غم، جادو، انتشار، شیطانی قوتوں کے نمائندہ کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے لیکن یہاں بھی سُوال وہی پیدا ہوتا ہے کہ اسلام نے تو اِس رجحان اور توہّم کی عَمَلی مخالفت کردی، پھر آج کے عِلمی اور سائنسی فکر کے دور میں اِس بے عِلمی بے دلیل اور غیر تحقیقی فکر کو کِس طرح قبول کیا جا سکتا ہے؟ اگر اسلام میں black رنگ ناپسندیدہ ہے (جو کہ یقیناً نہیں ہے) تو پھر غلافِ کعبہ، حجرِ اسود، حضورِ اکرم صلی الله تعالٰی علیہ وَ آلهِ وَ بارِک وسلم کا عمامہ شریف، مسجدوں میں ماربل، قرآن اور دیگر اسلامی کتابوں کی پرنٹنگ، علماء کی واسکٹ اکثر سیاہ کیوں ہوتی ہے؟ جب کسی بھی موقع پر علماءِ کرام کو یومِ سیاہ منانا ہوتا ہے تو وہ جمعہ کا دن اور نمازِ جمعہ کے بعد کا وقت ہی کیوں منتخب کرتے ہیں؟خطبۂِ حجۃ الوداع نے تو black رنگ کو مزید اہم کر دیا اور عزت بخشی یہ کہہ کر کہ "کسی گورے کو کسی کالے پر کوئی فوقیت نہیں سوائے تقویٰ کے۔"

سماجی معاملات میں صارفین کو سستی اشیاء مہیا کرنا الله اور اس کے رسول صلی الله تعالٰی علیہ وَ آلهِ وَ بارِک وسلم کے نزدیک بھی پسندیدہ اور معروف عمل ہے یعنی حقوق العباد کے معاملے میں تقوٰی گذاری ہے لہٰذا "بلیک فرائیڈے" کی اہمیت شرعی نکتۂِ نگاہ سے بھی اہم تر ہو جاتی ہے۔ بلکہ ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کی مذمّت اور حرمت سے تو اسلامی تعلیمات بھری پڑی ہیں جس کا اب کوئی ذکر بھی نہیں کرتا۔

ہم اِس وہم کا بھی علاج کردیتے ہیں کہ بلیک فرائیڈے کہنا، لکھنا یا منانا کوئی خلافِ اسلام عمل ہے یا اس میں جمعہ کے دن کی کوئی توہین ہے؟ احادیث میں جمعہ کے لیے سیدالایام (تمام دنوں کا سردار)، مبارک (برکت والا) اور عید (خوشی) کے الفاظ آئے ہیں۔ سید کی ضد "کم تر، زیر، ماتحت یا غلام"، مبارک کی ضد "مردود" اور عید کی ضد "غم" ہوگی اور آپ کو بلیک فرائیڈے کا ترجمہ دنیا کی کسی بھی ڈکشنری یا ویب سائٹ میں کم تر، زیر، ماتحت، غلام، مردود یا غم نہیں مِلے گا۔ بلیک فرائیڈے کے لیے کم تر، زیر، ماتحت، غلام، مردود، غم، منفی، مذموم، ناپسندیدہ یا اس جیسے ہی معانی اور مفاہیم زبردستی تلاش اور تراش لینا سوائے ضد، وہم اور لا علمی کے کچھ بھی نہیں بلکہ آپ دنیا کی کوئی بھی ڈکشنری یا ویب سائٹ سرچ کریں تو وہ آپ کو بتائے گی کہ بلیک فرائیڈے میں اسلام کے استعمال کیے گئے تینوں معانی اور مفاہیم پائے جاتے ہیں۔

۱۔ یہ ایک تجارتی سرگرمی ہے جس میں عام طور پر ہونے والی فروخت سال کے کسی بھی دن ہونے والی فروخت سے بہت زیادہ عظیم الشان طور پر بڑھ جاتی ہے اس لیے یہ دن ہفتے کا ہی نہیں بلکہ پورے سال کے کاروباری ایام کا سردار بن جاتا ہے۔

۲۔ کم پیسوں میں زیادہ خریداری یعنی برکت۔

۳۔ اپنی پسندیدہ یا ضرورت کی اشیاء کم قیمت میں مِل جانے کی خوشی۔

سب سے اہم ترین بات یہ کہ بلیک فرائیڈے ایک تجارتی و معاشی سرگرمی ہے، یہ کوئی معاشرتی، سماجی، مذہبی، دفاعی، فوجی، مسلمانوں کے خلاف کوئی مُشترکہ محاذ یا توہینِ جمعہ کی ایکٹیوٹی نہیں ہے کہ اِس کے خلاف باقاعدہ مُہم چلائی جائے بقولِ شاعر فیض احمد فیض:

وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا

وہ بات اُن کو بہت نا گوار گزری ہے

یہاں اس بات کا ذکر بھی بہت ضروری ہے کہ کوئی بھی ریاست، حکومت، مذہب یا تنظیم بلیک فرائیڈے ایونٹ کو آرگنائز نہیں کرتی بلکہ ریٹیلر (فروخت کنندہ) خود ہی اپنے خریدار کو اپنی پرکشش مارکیٹنگ اور بہت زیادہ ڈسکاؤنٹ سے متاثر کر کے اپنی فروخت بڑھانے میں کامیاب ہو پاتا ہے۔ مزید یہ کہ بلیک فرائیڈے نام بھی کسی ریاست، حکومت، مذہبی مجاز نمائندہ ادارے یا تنظیم کی طرف سے دیا گیا باقاعدہ نام نہیں ہے بلکہ یہ تھینکس گِوِنگ ڈے کے فوراً بعد آنے والے جمعہ کا بے ضابطہ (informal) یا غیر سرکاری اتفاقیہ پڑ جانے والا نام ہے۔ اِس دن عام سرکاری تعطیل بھی نہیں ہوتی۔ اِس نام کے پکارے جانے اور عام ہونے کے بارے میں ایک سے زیادہ رائے موجود ہیں:

۱۔ 1960 میں فلاڈلفیا میں تھینکس گِوِنگ ڈے کے فوراً بعد آنے والے جمعہ کو سستی خریداری کے شوقین لوگوں کے سیلاب نے سڑکوں کو اس طرح بھر دیا تھا کہ مکمل ٹریفک جام کے ساتھ ساتھ پیدل چلنا بھی نا ممکن ہو گیا تھا۔ تب وقت وہاں کی ٹریفک پولیس نے جو الفاظ استعمال کیے وہ مغرب کی شارٹ لکھنے اور بولنے کی عادت کے باعث کم ہوتے ہوتے بلیک فرائیڈے رہ گیا۔
خدا جانے مستقبل میں کب یہ BFriday اور پھر BF ہو جائے۔ ٹریفک پولیس کے اصل الفاظ یہ تھے "The Friday was black with traffic

۲۔ ہاتھ سے لکھی جانے والی اکاؤنٹنگ بُک میں منافع سیاہ روشنائی یعنی اِنک سے اور خسارہ لال روشنائی سے لکھا جاتا تھا (یہ فیچر آج بھی MsExcel میں موجود ہوتا ہے) اور کیونکہ اِس جمعہ اور اگلے دن کو کبھی خسارہ نہیں ہوتا تھا بلکہ بہت زیادہ منافع ہوتا تھا اس لیے مختصراً اسے BlackFriday اور BlackSaturday کہا جانے لگا۔

۳۔ امریکہ کے مشہور و معروف اشاعتی ادارے 'دی وال اسٹریٹ جرنل' کے معروف زبان دان کالمسٹ جناب بین زِمِر (Ben Zimmer) لکھتے ہیں کہ کئی دفعہ بِالِارداہ کوشش کی گئی کہ ان الفاظ کے بدلے BigFriday اور BigSaturday کو رائج کیا جائے لیکن یہ الفاظ زبان زدِ عام اور بہت زیادہ شہرت پا گئے تھے اور ان الفاظ کو بدلنے کی کوششیں بھی کامیاب نہ ہوسکیں۔

۴۔ اِس دن سرکاری تعطیل نہیں ہوتی اور لوگ عام طور پر اپنی محفوظ چُھٹیوں میں سے paid leave لیتے ہیں اس لیے اکثر اُجرت دینے والوں پر یہ دن بہت ناگوار گذرتا ہے۔ ساتھ ساتھ مینوفکچرنگ یا مختلف مصنوعات تیار کرنے والے اداروں کے لیے بھی کثیر تعداد میں افسروں، محنت کشوں اور مزدوروں کی چُھٹّی مسائل میں اضافے اور انتظامی امور میں مُشکلات کا باعث بنتی ہے۔
یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ یومِ تشکر یا Thanksgiving یا Thanksgiving Day بھی از خود کوئی مذہبی تہوار نہیں ہے، نہ ہی تاریخی طور پر مذہبِ عیسائیت میں یہ کبھی بھی مذہبی دن کے طور پر منایا گیا، نہ اب منایا جاتا ہے۔ ابتداً اس دن کا آغاز harvest festival یعنی فصلوں کی کٹائی کے جشن کے طور پر ہوا۔ یہ تہوار دنیا کے تقریباً ہر ملک اور خطے میں کسی نہ کسی نام یا رنگ ڈھنگ سے منایا جاتا ہے۔ امریکہ میں جارج واشنگٹن کے سرکاری اعلان پر 3 اکتوبر 1789ء سے گاہے بگاہے (غیر مستقل طور پر) یہ دن منایا جانا شروع ہوا لیکن شروع میں تمام ریاستیں اپنی مرضی سے علیحدہ علیحدہ تاریخوں میں مناتی تھیں اور سرکاری تعطیل بھی نہیں ہوتی تھی۔ پھر 28 نومبر 1861 میں امریکی صدر ابراہم لنکن نے باقاعدہ سرکاری تعطیل کا اعلان کیا جو کہ ہر ریاست کے مقامی تہوار کے دن پر ہوتی تھی۔

قابلِ غور اور قابلِ تحسین بات یہ ہے کہ ایک امریکی مقامی میگزین Godey's Lady's Book کی ایڈیٹر محترمہ سارا جوزیفا ہیل (Sarah Josepha Hale) نے امریکی صدر لنکن کو 28 ستمبر 1863 کو خط لکھا اور بتایا کہ وہ پچھلے 15 سالوں میں سابق صدور کو بھی خط لکھ کر اس بات کی وکالت کر چکی ہوں کہ پورے ملک میں ایک ہی دن سرکاری طور پر عام تعطیل کے ساتھ تھینکس گِوِنگ ڈے منایا جائے۔ اپنےسابقہ صدور کے بر خلاف صدر لنکن نے فوری طور پر تجویز پر عمل کرتے ہوئے 3 اکتوبر 1863ء کو یہ سرکاری اعلامیہ جاری کیا کہ ہر سال نومبر کی آخری جمعرات (بعد میں یہ چوتھی جمعرات کردیا گیا، اصل میں یہ نومبر کے آخری Saturday سے پہلے آنے والی جمعرات ہے) کو، سرکاری تعطیل کے ساتھ، تمام ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں ایک ساتھ تھینکس گِوِنگ ڈے منایا جائے گا۔ ایوانِ صدر سے جاری ہونے والا اعلامیہ میں اس بات کا کوئی بھی ذکر نہیں کہ یہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والی کوئی مذہبی تعطیل یا رسم ہے بلکہ طویل اعلامیہ کا خلاصہ یہ ہے کہ: "پچھلے ادوار کے مقابلے میں امریکہ مجموعی طور پر بہت بہتر، پر امن اور ترقی کی راہ پر گامزن ہے اس لیے قوم کو یومِ تشکر منا کر شُکر ادا کرنا چاہیے"

ایک ایسی معاشی سرگرمی جس سے ناجائز منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کا نقصان اور عام انسانوں کا بھلا ہو سکتا ہے کیا اس کی مخالفت کرنا ضروری ہے؟ ہمارا تو خیال ہے کہ اگر مغربی دنیا کو بلی فرائیڈے کے حوالے سے ہمارے محققین کے بُلند پایہ مخالفانہ تحقیقی افکار کے بارے میں پتہ چلے گا تو وہ یومِ قہقہہ (Laughing Day) بھی منانا شروع کردیں گے۔

Comments

انعام حسن مقدم

انعام حسن مقدم

کراچی سے تعلق رکھنے والے انعام حسن مقدم مختلف مذاہب، اقوام اور سماجی طبقات کے باہمی تعلقات، رواداری اور عزت نفس کے احترام کا قائل ہیں۔ عرصہ 25 سال سے مختلف مقامی و کثیر القومی انشورنس کمپنیز اور بینکس سیلز، مینجمنٹ، آپریشنز، مارکیٹنگ اور دیگر خدمات انجام دے رہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com