بلیک فرائیڈے ، مسئلہ تہذیبی پسپائی کا ہے - کاشف حفیظ صدیقی

بات اتنی آسان نہیں تھی ، آزمائش سخت تھی ، صحیح یا غلط ؟ حق یا نافرمانی ؟ بحث زورں پہ تھی ۔ دلائل کا انبار دونوں طرف تھا ۔ دونوں ہی اپنا موقف درست منوانے کے لیے ایک دوسرے کو قائل کرنے میں لگے ہوئے تھے ۔ مگر درست موقف تو دونوں میں سے ایک ہی کا تھا ۔ تو پھر ہوا یوں کہ بنی اسرائیل کی وہ بستی تین حصوں میں تقسیم ہو گئی۔

معاملہ کچھ یوں تھا کہ بنی اسرائیل کو حکم باری تعالیٰ تھا کہ ہفتے کو صرف عبادت کی جائے گی اور کوئی بھی دنیاوی کام نہیں کیا جائے گا ۔ ان کا پیشہ ماہی گیری تھا ۔ رب کائنات نے آزمائش کا فیصلہ کیا اور ہفتے کے ہی روز بہت زیادہ مچھلیاں ساحل پہ آنے لگیں ۔ ان میں سے کچھ لوگوں نے جب یہ معاملہ دیکھا تو جمعہ کو جال لگانے لگے تاکہ مچھلیاں پھنس جائیں ۔

پھر ان میں سے تین گروہ بنے ۔ اول گروہ تھا جو جال جمعہ کو لگاتا تھا اور کہتا تھا کہ ہم غلط کام نہیں کر رہے۔ دوسرا گروہ کہتا کہ یہ لیت و لعل ہے اور یہ خدائے بزرگ و برتر کے احکامات کی روح کی مخالفت ہے اور یہ جال لگانا درست نہیں اور تیسرا گروہ وہ تھا جو "نیوٹرل" تھا ۔ نہ وہ اول کے ساتھ تھا اور نہ دوئم کی حمایت کرتا تھا ۔

سورۃ الاعراف کے مطابق

" اور (وہ وقت بھی یاد کرو) جب ان میں سے کچھ لوگوں نے دوسروں سے کہا : ”تم ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جنہیں اللہ ہلاک کرنے والا یا سخت سزا دینے والا ہے؟” تو انہوں نے جواب دیا: اس لیے کہ ہم تمہارے پروردگار کے ہاں معذرت کرسکیں اور اس لیے بھی کہ شاید وہ نافرمانی سے پرہیز کریں۔

پھر جب انہوں نے اس نصیحت کو (بالکل ہی) فراموش کر دیا جو انہیں کی جارہی تھی تو ہم نے ان لوگوں کو تو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے اور ان لوگوں کو جو ظالم تھے، ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے بہت برے عذاب میں پکڑ لیا۔ پھر جب وہ سرکشی کرتے ہوئے وہی کام کرتے رہے جس سے انہیں منع کیا گیا تھا تو ہم نے انہیں حکم دیا کہ: ”ذلیل و خوار بندر بن جاؤ”۔"

تو صرف وہ گروہ رہ گیا جو تمام تر "حیلوں" کے باوجود حق پر قائم رہا ۔ متزلزل نہیں ہوا اورآخرت کا سودا دنیا کے بدلے کر لیا ۔

تہذیب نو کا شجر خبیث اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ اپنے تمدن کے مقامی کالے وکیلوں کے ساتھ آن وارد ہوا ہے ۔ یہ مغربی رسوم اورتہذیبی ہتھیار آنکھوں کو خیرہ کر دینے والی چمک دمک کے ساتھ دکھاتے ہیں اور ہم کو بتاتے ہیں کہ اسی گلوبل تہذیب کہ جس کی بنیاد اللہ کی نافرمانی پہ رکھی گئی ہے، کامیابی کی ضامن ہے ۔

ہم اہل پاکستان جو مذہب کے نام پہ مادر زاد گالیوں کے جواب میں بھی ماشاء اللہ اور سبحان اللہ کہنے کے عادی ہوں تو وہیں پرائیوٹ بزنس کی تعلیم دینے والے اداروں سے نکلے ہوئے تہذیب نو سے متاثر نئی نسل کی مرعوب کھیپ اس دجّالی تہذیب کے ہر ایونٹ کو اہل پاکستان پہ مسلط کرنے کو تیار کھڑی ہے۔

بلیک فرائیڈے پر دی گئیں ڈسکاؤنٹ آفرز سبت والوں کی وہ مچھلیاں ہیں جو ہفتے کو ہی ظاہر ہوتی ہیں جس میں بہت جاذبیت اور کشش ہے، بہت مالی منفعت ہے مگر ۱۰ محرم کے روزے کے ساتھ ۹ کا روزہ ملانے والے ﷺ کی تعلیم کا منشا صرف اور صرف یہ تھا کہ اپنے آپ کو اہل یہود سے ممیز و ممتاز رکھا جائے ۔

آج فیصلہ تمام نفع و نقصان کا حساب کتاب ایک طرف رکھ کر صرف یہ کرنا ہے کہ وزن کس میں ڈالنا ہے ؟ ہاشمی و مطلبی ﷺ تہذیب کے ساتھ یا دجّال کی تہذیب حاضر کے پروردہ منفعت کے نام پر ایجنڈے کے ساتھ ؟

سوال یہ بھی ہے کہ یہ تمام ادارے جو بلیک فرائیڈے پہ اب ڈسکاؤنٹ دے سکتے ہیں، وہ رمضان سے اور عید سے قبل کیوں نہیں دے پاتے؟ اس لیے کہ ان کی تہذیبی جنگ میں ان ایام کی اہمیت نہیں اور ہم کو تہذیبی پسپائی قبول نہیں ۔

مسئلہ بقول اقبال یہی ہے کہ

نظر کو خیرہ کرتی ہے چمک تہذیب حاضر کی

یہ صنّاعی مگر جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہے

وہ حکمت ناز تھا جس پر خرد مندان مغرب کو

ہوس کے پنجۂ خونیں میں تیغ کارزاری ہے

تدبّر کی فسوں کاری سے محکم ہو نہیں سکتا

جہاں میں جس تمدن کی بنا سرمایہ داری ہے

Comments

کاشف حفیظ صدیقی

کاشف حفیظ صدیقی

کاشف حفیظ صدیقی معروف سروے کمپنی پلس کنسلٹنٹ، کراچی کے سربراہ ہیں، اسلامی اور معاشرتی موجوعات پر لکھتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */