بچوں میں مطالعہ کی عادت کیسے ڈالیں۔ نیر تاباں

بچے کی پیدائش کے بعد سے ہی انہیں پاس بٹھا کر دعائیں پڑھیں، چھوٹی سٹوری بکس پڑھیں اور جیسے وہ ہاتھ میں کھلونا پکڑنے کے قابل ہو جائیں تو کتاب بھی پکڑائیں۔ چھوٹے بچوں کی کتابیں کپڑے یا فوم کی ہوتی ہیں جن کا وزن نہیں ہوتا۔ یہاں سے ہی بچے کے اندر کتاب کی کشش اور محبت جنم لینے لگتی ہے۔ جیسے جیسے بچہ بڑا ہو، اس کے لیے موٹے گتے والی کتاب جو پھٹ نہیں سکتی، وہ لا کر دیں۔ اس کو بتائیں کہ کتاب کو پیار سے ہاتھ لگاتے ہیں۔ بڑے بہن بھائیوں کی کتابوں میں انٹرسٹ لے تو بھی اسکو اس کی اپنی کتاب پکڑائیں، پھاڑنے لگے تو ہر بار یاددہانی کروائیں کہ بیٹا! کتاب کو پیار سے پکڑتے ہیں، دیکھیں ایسے۔ایک وقت مقرر کر لیجیے جس پر مطالعے کی عادت ڈالی جائے۔

احمد کی پیدائش کے بعد ہماری نائٹ روٹین میں یہ چیز شروع سے رہی کہ مالش/نہلانے کے بعد کچھ دیر کتاب پڑھی جائے۔آپ کو معلوم ہے کیسے بچے ایک عادت پکی کر لیتے ہیں۔ اگر شروع میں آپ اس کو کتاب پڑھنے کی عادت دیں گے تو کچھ عرصے بعد وہ خود ہی آپ کو بھولنے نہیں دیں گے۔ اب یہ ہوتا ہے کہ کہیں دعوت وغیرہ سے آتے دیر ہو جائے، تو بھی سونے سے پہلے کچھ صفحے تو پڑھنا لازمی ہے۔

بچے کی کتابیں اس کی پہنچ میں رکھیں۔ وہ کتاب کا ٹائٹل دیکھ سکیں، خود سے منتخب کر سکیں کہ آج کون سی کتاب پڑھنا چاہتے ہیں۔ عین ممکن ہے کہ کوئی کتاب انہیں اتنی پسند آئے گی کہ وہ ایک ہی نشست میں آپ سے پندرہ بار وہی ایک کتاب پڑھنے کو کہیں گے۔ ایسے میں الجھنے کے بجائے ایک بار اور، پھر ایک بار اور، اور پھر ایک بار اور بھی پڑھ دیجیے۔ اچھا ہے کہ بچے کو کتاب سے لگاؤ محسوس ہو رہا ہے۔

کتاب کو ایک سبق کی طرح پڑھنے کی بجائے ڈائیلاگ کے اعتبار سے لہجے کے اتار چڑھاؤ کے ساتھ پڑھیں۔ جہاں کردار حیران ہے، آپ بھی حیرانی والے لہجے میں بولیں۔ جہاں اداس ہیں، لہجے میں کچھ اداسی بھر لیں۔ اسی طرح‌ مختلف کرداروں کے لیےآواز کبھی بھاری، کبھی باریک بنا لینے سے بھی بچے زیادہ لطف لیتے ہیں۔ جہاں ہنسنا ہو، کھل کر ہنسیں۔

یہ بھی پڑھیں:   بچے قوم کا قیمتی سرمایہ - رانا اعجاز حسین چوہان

جن کے پاس لائبریری کا آپشن موجود ہے، مہینے میں کم از کم ایک بار ضرور بچوں کے ساتھ لائبریری جائیں۔ ان کی پسند کی اچھی کتابیں ایشو کروا کے لے آئیں، اگلے چکر میں‌ یہ کتابیں واپس کر کے نئی لے آئیں۔ وہاں کتابوں کے بیچوں بیچ کارپٹ پر سائڈ پر بیٹھ کر کتاب گود میں رکھ کر کچھ دیر وہاں بھی پڑھنے کی عادت ڈالیں۔ اگر لائبریری کی آپشن موجود نہیں ہے تو پاس کسی بک سٹور والے سے بات کر کے دیکھیں کہ وہ آپ کو آدھے دام پر کتابیں دے دے۔ آپ احتیاط سے پڑھ کر انہیں واپس کر کے نئی کتابیں لے لیں۔ مجھے نہیں پتہ کہ ایسا ممکن ہے لیکن کوشش میں حرج نہیں۔ اسی طرح پاکستان کے کسی بک سٹور کا ذکر کسی نے کیا کہ وہاں بیٹھ کر آپ بیشک کتاب پڑھ لیں۔ ایسا ہو تو کبھی ایک دو گھنٹوں کے لیے وہاں چلے جائیں۔ یہ بھی ممکن نہ ہو تو آپ اپنے فرینڈز کے ساتھ مل کر ایک گروپ بنا لیں۔ سب کتابیں خریدیں، اپنے بچوں کے ساتھ پڑھیں اور اگلے ماہ سب آپس میں ایکسچینج کر لیں۔ اولڈ بک سینٹرز پر یا بک سٹالز پر بھی چلتے پھرتے نگاہ ڈالتے جائیں۔ وہاں سے کچھ ملے تو وہ لے لیں۔

باہر رہنے والے جانتے ہوں گے، نہیں تو بتاتی چلوں کہ چھ ماہ کے بچے سے ہی لائبریری میں مختلف پروگرامز ہوتے ہیں۔ انہیں رجسٹر کروائیں اور بالکل ننھے منوں کو لائبریری کی عادت ڈالیں۔ریڈنگ کے وقت کوشش کریں کہ سبھی بچے خاموشی سے بیٹھ کر وہ ٹائم انجوائے کریں۔ ذہن میں رہے کہ چھوٹے بچے جلد اکتا جاتے ہیں۔ ایسے میں دس منٹ کا ٹارگٹ رکھیں۔ اس کے بعد اگر بچے چاہیں تو پڑھ دیں، نہیں تو رہنے دیں۔

ہر چیز کی طرح یہاں بھی creative ہونا بہت اہم ہے۔ کبھی کمبل میں گھس کر 'ٹینٹ' بنا لیں اور ٹارچ کی روشنی میں کتاب پڑھیں، کبھی بیڈ میں لیٹ کر، کبھی ڈائننگ ٹیبل کے گرد بیڈ شیٹس لگا کر 'کیمپنگ' کریں اور ٹیبل کے نیچے کھانے پینے کی ایک دو چیزیں اور پھر وہی ٹآرچ کی روشنی میں کتابیں پڑھنا۔ ذرا سے بدلاؤ سے بچوں کی خوشی دیدنی ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   مجھے اپنی ساس کے نقش قدم پہ ہی چلنا ہے - ثمینہ نعمان

جو بچے اب ذرا بڑے ہو چکے ہیں، سکرین کے عادی ہیں، ان کے لیے کیا کیا جائے؟

پہلے پہل تو کتابیں پڑھنے کے لیے ٹیکنالوجی کو ہی استعمال میں لائیں۔ گو کہ یہ اصلی ہارڈ کاپی کا نعم البدل کبھی نہیں ہو سکتی، لیکن شوق پیدا کرنے کے لیے ایپس اور ویب سائٹس ہیں، بچے کی عمر کے مطابق میٹیریل سرچ کریں، یا ای-بکس خریدیں۔ آہستہ آہستہ لائبریری کے چکر، تحفے میں کتاب دینا، سکرین ٹائم لمٹ کرنا، آپ کی مسلسل کوشش سے بچے مطالعہ کی طرف آ جائیں گے۔

یہاں یہ بھی ضروری ہے کہ بچے آپ کے اپنے ہاتھ میں بھی کتاب دیکھیں۔ بچے پڑھنے میں تسلسل نہیں بننے دیتے، مجھے معلوم ہے لیکن پھر بھی پڑھیں ضرور، اور کچھ نہیں تو ٹیبل پر وہ آپ کی کتاب دیکھ کر اس کی بابت پوچھیں تو آپ یہ کہہ تو سکیں گے کہ یہ کتاب آجکل زیرِ مطالعہ ہے، اور کوئی نہ کوئی اچھی بات اس کتاب سے اپنے بچوں کے ساتھ شیئر بھی کریں۔ بچے جو کتاب پڑھ رہے ہوں، ان سے بھی پوچھیں کہ کیسی کتاب ہے، کیا چیز اب تک سب سے انٹرسٹنگ لگی، کوئی نئی بات سیکھی جو پہلے نہیں پتہ تھی؟ اس طرح سے آپ کے اور بچوں کے درمیان ایک خصوصی رشتہ صرف کتابوں کی وجہ سے بن جائے گا۔

Comments

نیر تاباں

نیر تاباں

نیّر تاباں ایک سلجھی ہوئی کالم نگار ہیں - ان کے مضامین دعوتِ فکر و احتساب دیتے ہیں- بچّوں کی نفسیات اور خواتین کے متعلق ان موضوعات پر جن پہ مرد قلمکاروں کی گرفت کمزور ہو، نیّر انھیں بہت عمدگی سے پیش کرسکتی ہیں- معاشرتی اصلاح براستہ مذہب ان کی تحریر کا نمایاں جز ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.