اداسی کی پچھل پیری - دعا عظیمی

کبھی کبھی جب اداسی کی پچھل پیری سناٹے سے نکل کر پورے گھر کو اپنے سائے سے ڈرانے لگتی تو میں امّاں برکتے کو بلا لیا کرتی۔ اماں برکتے آتیں، کٹوری میں نیم گرم تیل ڈالتیں اور میرے سر کی بند نسیں کھل جاتیں۔ اس لمحے میرا دل چاہتا کاش میں بھی اماں برکتے ہوتی۔ سفید براق لباس آنکھوں میں سرمےکی دھار، دانتوں پہ لال دنداسے کی چمک اور الائچی میں بھیگی مسکراہٹ ، اس پہ پلّو سے بندھی موتیے کے پھولوں کی مہک، محبتی اتنی کہ منٹوں میں اگلے کی پلکوں پہ لگے غم کے جالے اڑا دیں۔

اکرام صاحب کے گزرنے کے بعدمعلوم ہوا کہ تنہائی کیا ہوتی ہے، کیسے چوڑیوں کے رنگ پھیکے پڑتے ہیں، رُتیں بے نور اور کھانے بے ذائقہ ہوجاتے ہیں، سنگھار ميز کا آئینہ گرد سے اٹ جاتا ہے۔ بات یہاں تک ہوتی تو ٹھیک تھی اب تو اداسی کی پچھل پیری سارے گھر میں ننگے پاؤں گھومتی تھی۔ اس کی لال انگارا آنکھیں چپ پہ عاشق تھیں۔ میرا سردرد سے پھٹنے لگتا تو میں آخری حربے کے طور پر اماں کو بلاتی ، جب تک وہ پاس رہتیں خوف اور وسوسے نہیں سہماتے۔

آج جب وہ مجھے تیل لگا رہی تھیں تو سکون کے ان لمحوں کو روح میں اتارتےمیں نے ان سےپوچھا "اماں جی! آپ نے بھی کبھی اداسی کی پچھل پیری کے سائے کو دیکھا ہے؟"

ایک لمحے کوان کی انگلیاں لرزیں، ساتھ ہی اقرار میں بولیں "ہاں پتر! وہ کون ہے جس نے اسے نہ دیکھا ہو؟ ہر ایک کے تہہ خانے میں موجود ہوتی ہے، اپنی مرضی کا موافق موسم دیکھتی ہے تو سرسرا کے باہر نکل آتی ہے۔"

"موافق موسم؟ سمجھی نہیں" آنکھیں موندے میں نے استفسار کیا

"بتاتی ہوں،" پر اسرار لہجے میں بولیں "جب کہیں بہت اندھیرا ہو، چپ چاں ہو جیسےدیواروں پر شام کے سائے لمبے ہوتے ہوں، بچوں کی کلکاریاں نہ رہیں، بیٹیاں اپنے اپنے گھروں اور بیٹے دوسرے شہروں کی طرف نکل جائیں۔ گھروں کے بزرگ پرلوک اڈاری مار جائیں، سمجھو یہ اس کا موافق موسم ہے۔"

"اماں اس سے بچنے کا کوئی طریقہ؟"

"ہاں پتر! دکھی نہ ہو، سن! ذات کی کال کوٹھڑی میں کبھی اندھیرا نہ چھوڑ۔ بس بڑے ذکر کا دیوا بالے رکھ اور دوسروں کو فائدہ دینا سیکھ، نہ کوئی سایہع نہ پچھل پیری، کیسی باتیں کرتی ہے جھلی نہ ہو تو؟ یہ دیکھ میں تیرے لیے آم کی چٹنی لائی ہوں۔" وہ مسکرائیں۔ ان کی بوڑھی آنکھوں میں محبت اور یقین تھا۔

"بڑے ذکر کا دیوا اور خدمت کی لاٹھی" امّاں جاتے جاتے بولتے جا رہی تھیں۔ گھڑی کی سوئیاں اپنی ٹک ٹک بھول کر اماں برکتے کا ہی راگ الاپ رہی تھیں۔

Comments

دعا عظیمی

دعا عظیمی

دعا عظیمی شاعرہ ہیں، نثرنگار ہیں، سماج کے درد کو کہانی میں پرونے کا فن رکھتی ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی سے سوشل سائسنز میں ماسٹر کیا ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • بہترین، جزئیات نگاری نے سماں باندھ دیا، سادگی، سلاست، روانی اور پیغام کی سچائی اس افسانے کو منفرد بناتی ہے، واحد کمی جو محسوس ہوئی وہ اس کا اختصار ہے۔ ابھی تو دل چاہ رہا تھا پڑھے ہی جائیں اور یہ تمام ہوگیا۔