‎تحریکِ لبیک کا دھرنا، چند غور طلب پہلو - انعام مسعودی

چند برس پہلے تک کون اس بات کا اندازہ کر سکتا تھا کہ حالات اتنی تیزی، شدت اور تواتر کے ساتھ بدلتے رہیں گے۔ کچھ اہل بصیرت صدائیں دیتے رہے کہ خطے میں مسلط کی جانے والی جنگ ہماری نہیں اور یہ کہ ہم ہی اس کا حتمی ہدف ہیں، مگر سب سے پہلے پاکستان کے جذباتی نعرے لگانے والوں نے یہ صدائیں دبا دیں مگر آج ’’نو مور‘‘ اور یہ ’’جنگ ہماری نہیں‘‘ کا اعلان بھی انھی حلقوں سے آرہا ہے۔

ہر بار ’’پرانی بوتلوں میں نئی شراب‘‘ کے مصداق ڈیل کرکے آنے والوں نے بہت ساری ترامیم کے ساتھ ساتھ اقلیتوں کے تحفظ اور انسانی حقوق کے بہانے بارہا ختم نبوت کے قوانین پر مختلف زاویوں سے وار کرکے اپنی اپنی نوکری پکی کرنے کی کوشش کی۔ جانتے بوجھتے ایک ایسے مسئلے پر کہ جس کا براہ راست تعلق ہمارے ایمان سے ہے، اس بار کن وجوہات کی بنا پر اس قانون پر ایک بار پھر شب خون مارنے کی کوشش کی گئی، یہ تو وہی جانتے ہوں گے جن کے ہاتھوں یہ اقدام ہوا، لیکن اگر کچھ حلقے اس سے یہ مطلب لیتے ہیں کہ یہ امریکہ اور برطانیہ سمیت ان ممالک کی آشیر باد حاصل کر کے این آر او تھری کی جانب ایک پیش قدمی تھی، یا پھر ملکی سطح پر ایک ہنگام اور ہیجان برپا کر تے ہوئے عوام اور میڈیا کی توجہ پھیر کر نااہل شدہ حکمرانوں کی پارٹی صدارت اور پھر شاید ملک کی صدارت کی راہ ہموار کرنے کی ایک کوشش تھی تو اس کو یکسر رد صرف اسی صورت میں کیا جاسکتا ہے کہ جب کوئی آزادانہ کمیشن اس اصل وجوہات سامنے لا سکے۔ اس ساری صورت حال میں تحریک لبیک اور ان کے ہمدرد ان چہروں کی نقاب کشائی کے لیے مُصر ہیں تو ان کے طریق کارسے اختلاف کے باجود کیسے اس بات کو رد کر دیا جائے کہ ایک واردات کی کوشش کی گئی تھی، اور اب اگر اس کی وجوہات اور ذمہ داران کا تعین کیے بنا بقولِ چوہدری شجاعت اس پر ’’مٹی‘‘ ڈال دی جائے تو مستقبل میں بھی اس طرح کی شرارت آمیز کوششوں کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   ختم نبوت کیاہے؟ ڈاکٹر ساجدخاکوانی

‎تاہم اس سارے پس منظر کے باوجود حالیہ دھرنےاور اس دوران پیش آنے والے واقعات اور ان کے ہمارے معاشرے اور رویوں پر اثرات کا جائزہ لیے بغیر بات ادھوری رہ جائے گی۔ چند اہم پہلو درج ذیل ہیں:

‎٭ اس دھرنے کا پہلے دو دن الیکٹرانک میڈیا اور بہت حد تک پرنٹ میڈیا سے ’’بلیک آؤٹ‘‘ کیونکر ممکن ہوا؟
‎٭ کیا یہ چینلز کی اپنی پالیسی تھی؟
‎٭ پیمرا نے اپنے کسی ضابطے پر عمل کروایا؟
‎٭ اگر پہلے یہ کسی ضابطے کی وجہ سے تھا تو بعد ازاں ضابطہ کدھر گیا؟
‎٭ اگر حکومت کی متعلقہ وزارت یا شعبے نے اس کو تحت ضابطہ رکوایا تو پھر بعد میں وزارت نے کیونکر اس کی اجازت دی؟
‎٭ اگر کسی نادیدہ ہاتھ کی جانب سے اس پر پابندی رہی تو اب وہ کیونکر غیر مؤثر ہوئی؟
٭ کیا حکومت نے دھرنے کی اہمیت کو نظر انداز کیا اور اس قافلے کو فیض آباد تک آنے دیا یا پھر کسی اور مصلحت اور حکمت کا شکار رہی؟
٭ اسلام آباد کی انتظامیہ نے کیا ابتداً اس دھرنے کو ہلکا لیا یا کچھ اور وجوہات کی بنا پر اس شرکا کو یہاں پر متمکن ہونے دیا؟

‎اسی طرح منتظمین دھرنا کے حوالے سے بھی چند پہلو غور طلب ہیں:
‎٭ منتظمین نے فیض آباد کا انتخاب کیوں کیا؟ حالانکہ سب کو اس بات کا بخوبی اندازہ ہے کہ شرکا کے یہاں دھرنا دینے سے کارِ حکومت پر کو ئی فرق نہیں پڑا بلکہ صرف عوام کے معمولات اس سے بہت زیادہ متاثر ہوئے۔ ایک رپورٹر کی جانب سے جب رضوی صاحب سے پوچھا گیا کہ کیا آپ ڈی چوک جائیں گے تو ان کا جواب تھا کہ ’’یہ ڈی چوک پلس‘‘ ہے۔ چہ معنی دارد ؟؟

٭ منتظمینِ دھرنا نے اپنے متعلقہ مکتبِ فکر اور مسلک کی دیگر تنظیمات اور افراد کو اس میں شرکت کی دعوت کیوں نہیں دی؟ یا انھوں خود سے اس میں شرکت کیوں نہیں کی؟

‎٭ دیگر تمام دینی جماعتیں، مدارس، دربار اور خانقاہیں اس سے کیوں غیر متعلق رہیں؟ اور اب جبکہ عدالت نےایک شہری کی درخواست پر اس بارے میں فیصلہ سنایا تو متعلقہ مکتب فکرکے علماء، خانوادے اور درباروں کے سجادہ نشینوں نے فکرمندی اور تشویش کا اظہار کرنے کے ساتھ ساتھ عملی شرکت بھی کرنی شروع کردی۔ کیوں؟

یہ بھی پڑھیں:   ایک نہیں دو استعفے - حبیب الرحمن

‎٭ اسلام آباد اور راولپنڈی کی عوام نے جہاں حکومت وقت کو بُرا بھلا کہا، وہاں ایک غالب اکثریت نے دھرنے والوں کے بارے میں بھی جس منفی رائے اور تاثر کا اظہار کیا، اس کا موقع کیا جان بوجھ کر پیدا کیاگیا یا پھر اس کا ادراک ہی دھرنے کی قیادت کو نہ ہو سکا؟

‎ایک مکمل تجزیے کے لیے سوالات کی فہرست اس سے بھی طویل ہو سکتی ہے، تاہم اگر صرف انھی پہلووں کو مد نظر رکھتے ہوئے محتاط ترین انداز میں اس ساری صورت حال کے اثرات اور مضمرات کو لکھا جائے تو کم سے کم مندرجہ ذیل پہلو یقیناً نمایاں ہوتے ہیں:

‎٭نوازشریف اور ان کی حکومت کے بارے میں عام فرد اور مذہبی حلقوں میں اس تاثر نے تقویت پکڑی کہ اپنی حکومت اور اقتدار کو دوام بخشنے کے لیے یہ کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں، چاہے اس کے لیے انھیں عدالتوں پر حملے کرنے پڑیں یا پھر کسی بیرونی ایجنڈے کو تکمیل تک پہنچانا ہو۔

٭کھلے اور چھپے الفاظ میں اس کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کا نام لیا گیا۔

‎٭ایک عام فرد مذہب اور مذہبی حلقوں کے بارے میں مزید منفی سوچ سوچنے پر مجبور ہوا۔

٭لبرل اور سیکولر حلقوں نے کھلے عام مذہب کے بارے میں اپنے منفی خیالات کا اظہار کیا۔

٭بریلوی مکتب فکر جو کہ نسبتاً کم تشدد پسند سمجھا جاتا ہے میں بھی شدت پسندی کے رجحانات کو قبولیت ملی جو کہ ریاست کے لیے پہلے سے موجود خطرات میں ایک نیا خطرہ بن سکتی ہے۔

‎کوئی اور نتیجہ نکلے نہ نکلے، ایک بات تو بہرحال عیاں ہے کہ اس دھرنے کی کامیابی اور ناکامی دونوں ہی صورتوں میں سب سے زیادہ نقصان ملک اورمذہب کا ہوگا۔ پہلے ہی کئی طرح کی تقسیم کا شکار ملک اور ملت مزید تقسیم ہوں گے اور شاید بہت ساری ایسی گتھیوں میں ایک اور گتھی کا اضافہ بھی ہوگا جو کہ کئی دہائیوں سے نہ کھل سکیں۔

Comments

انعام مسعودی

انعام مسعودی

انعام الحق مسعودی ماس کمیونیکیشن میں گریجوایشن کے ساتھ برطانیہ سے مینجمنٹ اسٹڈیز میں پوسٹ گریجوایٹ ہیں۔ سوشل سیکٹر، میڈیا اور ایڈورٹائزنگ انڈسٹری سے منسلک ہیں۔ برطانیہ میں 5سالہ قیام کے دوران علاقائی اور کمیونٹی ٹی وی چینلز اور ریڈیو اسٹیشنز سے منسلک رہے ہیں۔ چیرٹی ورکر، ٹرینر اور موٹی ویشنل اسپیکر ہونے کے ساتھ قلمکار بھی ہیں۔ دلیل کے مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.