اور خط کا جواب آگیا - ارشد علی خان

شاید آپ سمجھ رہے ہوں کہ میں کسی ایسے خاص خط کے جواب آنے پر خوشی کا اظہار کر رہا ہوں جس کا مجھے عرصے سے انتظار ہے، تاہم یہ بات نہیں، انتظار ہنوز قائم ہے۔ میں بات کر رہا تھا تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی داور خان کنڈی کی جانب سے ایک مظلوم کے حق میں لکھے گئے خط کی، جو انھوں نے پارٹی چیئرمین عمران خان سمیت دیگر اعلی عہدیداروں کو لکھا تھا، جس کے جواب میں گزشتہ روز عمران خان کی جانب سے ایک ویڈیو بیان جاری کیا گیا۔

اپنے ویڈیو بیان میں عمران خان، داور کنڈی کے الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ پچھلے ایک سال سے پارٹی میٹنگز میں نہیں آتے اور تواتر سے وزیراعلی پرویز خٹک پر کرپشن اور اقربا پروری کے الزامات لگاتے رہے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پرویز خٹک اور علی امین گنڈا پور ایسے نہیں جیسا داو رکنڈی بیان کرتے ہیں اور یہ کہ داور خان کنڈی کو براہ راست یہ تمام معاملہ ان کے نوٹس میں لانا چاہیے تھا نہ کہ خط کے ذریعے جو میڈیا اور سوشل میڈیا کو بھی جاری کیا گیا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ داور کنڈی جھوٹ بول رہا ہے، اس لیے اسے تحریک انصاف سے نکالا جا رہا ہے۔ عمران خان کافی خوش لباس واقع ہوئے ہیں اور جب بھی میڈیا کے سامنے آتے ہیں تو ان کی کوشش ہوتی ہے کہ اپنے ہیرو والے سٹائل کو برقرار رکھیں، تاہم داورکنڈی کے حوالے سے جاری کیے گئے بیان سے ایسا لگ رہا ہے کہ یہ ویڈیو انتہائی افراتفری میں بنائی گئی، جس کا نہ تو اینگل صحیح ہے اور نہ عمران خان کا حلیہ۔

عمران خان کے ویڈیو بیان کے بعد تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات شفقت محمود کی جانب سے پارٹی کے مرکزی میڈیا ڈیپارٹمنٹ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا گیا کہ داورکنڈی کو پارٹی ڈسپلن کی سنگین خلاف ورزی پر شوکاز نوٹس جاری کیا گیا ہے جس میں ان سے 5 دنوں کے اندر جواب طلب کیا گیا ہے۔ بیان میں مزید کہاگیا ہے کہ تحریک انصاف میں کسی کو پارٹی سے نکالنے کے لیے باقاعدہ ایک نظام موجود ہے اور تحقیقات کے بعد اگر داور کنڈی پر الزامات ثابت ہوگئے تو انہیں پارٹی سے نکالا بھی جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   سیاست کا نیا رخ - عبدالقادر حسن

خیبر نیوز سے بات کرتے ہوئے داور کنڈی کا مؤقف تھا کہ کئی بار عمران خان کے نوٹس میں وزیراعلی خیبرپختونخوا پرویز خٹک کی کرپشن اور علی امین گنڈا پور کی حرکتیں لائی گئی ہیں اور انہوں نے یہ مانا بھی ہے، تاہم اس حوالے سے کوئی کارروائی کرنے سے گریز کرتے رہے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ چیئرمین کا احترام اپنی جگہ، تاہم بغیر تحقیقات کے کس طرح عمران خان ان کو جھوٹا قرار دے سکتے ہیں، اور کس طرح پارٹی سے نکالنے کی بات کی جاسکتی ہے۔ داورخان کنڈی کا مزید کہنا تھا کہ ڈیرہ اسماعیل خان واقعے میں صوبائی کابینہ کے رکن علی امین گنڈا پور کی جانب سے ملزمان کی پشت پناہی کے ان کے پاس باقاعدہ ثبوت ہیں جو وہ پارٹی چیئرمین کو پیش کریں گے۔ شوکاز نوٹس کے حوالے سے داور خان کنڈی کا کہنا تھا کہ انہیں ابھی تک شوکاز نوٹس نہیں ملا۔

اصل معاملہ پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی داور خان کنڈی کی جانب سے صوبائی وزیر مال و ریونیو علی امین خان گنڈاپور کی جانب سے ڈیرہ اسماعیل واقعے میں ملزمان کی پشت پناہی کے الزام کے بعد شروع ہوا ہے۔ دونوں کا حلقہ ڈیرہ اسماعیل خان ہے جہاں گزشتہ دنوں بااثر ملزمان نے شریفاں بی بی نامی ایک غریب لڑکی کے کپڑے پھاڑے اور اسے برہنہ گاؤں کی گلیوں میں گھومنے پر مجبور کیا۔ جب واقعہ سوشل میڈیا کے ذریعے وائرل ہوا تو مقامی پولیس 10 دنوں کے بعد متاثرہ لڑکی کی ایف آئی آر درج کی، تاہم اس دوران صلح کے لیے دباؤ ڈالنے کی غرض سے متاثرہ خاندان پر بھی جھوٹا مقدمہ درج کیا گیا جو بعد میں واپس لے لیا گیا۔ واقعہ سوشل میڈیا پر وائرل ہوا اور وزیراعلی، آئی جی صلاح الدین محسود سمیت دیگر اعلی حکام کے نوٹس میں آیا، تب کہیں جا کر مقامی ایس ایچ او کو لائن حاضر کرنے کے احکامات جاری کیے گئے۔ آئی جی پولیس کے بقول واقعے کے نو میں سے آٹھ ملزمان گرفتار کیے جا چکے ہیں تاہم مشال خان قتل کیس کی طرح یہاں بھی واقعے کا مرکزی ملزم پولیس کی پکڑ سے دور ہے، جس کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ داور خان کنڈی نے اپنے خط میں علی امین گنڈا پور پر ملزمان کی پشت پناہی کا الزام لگاتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا رویہ پارٹی کی بدنامی کا باعث بن رہا ہے جس کا چیئرمین عمران خان کو فوری نوٹس لینا چاہیے۔ علی امین عمران خان کے کافی قریبی سمجھے جاتے ہیں، تاہم ان کی شہرت اچھی نہیں اور گاڑی میں اسلحے سمیت دیگر مال ممنوعہ، جس کو بعد میں انہوں نے شہد کا نام دیا، رکھنے کے جرم میں گرفتار بھی ہوچکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   بلف کارڈ اور مولانا کا دھرنا - اعزاز سید

خیبر پختونخوا پولیس میں اصلاحات کی بات سب سے زیادہ پارٹی چیئرمین عمران خان کرتے ہیں اور اس کا حوالہ ہر فورم پر دیا جاتا ہے، چاہے وہ تحریک انصاف کا سوشل میڈیا پر سرگرم ونگ ہو یا پارٹی کے مرکزی و مقامی قائدین، خیبرپختونخوا پولیس کو ایک بہترین، سیاسی دباؤ سے آزاد اور مثالی پولیس قرار دیتے ہیں، تاہم عبد الولی خان یونیورسٹی مردان کے طالب علم مشال خان کے بہیمانہ قتل کے بعد ڈیرہ اسماعیل خان کی غریب شریفاں بی بی کی بےعزتی کا کیس پاکستان کی سب سے زیادہ ایماندار اور سیاسی دباؤ سے آزاد مثالی پولیس کے لیے ایک اور ٹیسٹ کیس ہے۔ مشال خان قتل کیس میں تو مثالی پولیس کے ایک ڈی ایس پی کے ملوث ہونے کی باتیں بھی سنائی دے رہی ہیں، تاہم ویڈیوز میں موجودگی کے باوجود بھی اُس ڈی ایس پی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

داورخان کنڈی پاکستان تحریک انصاف کے وہ پہلے رکن نہیں جنہوں نے اپنے ہی وزیر اعلی یا کسی وزیر مشیر پر الزامات لگائے ہوں، عائشہ گلالئی تو کل کی بات ہے، جبکہ ضیاء اللہ آفریدی اور جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین صدیقی سمیت دیگر مثالیں بھی موجود ہیں، جنہوں نے صوبائی حکومت پر کرپشن اور پارٹی کے اندر چند لوگوں کی اجارہ داری کے الزامات لگائے اور سب کے سب پارٹی سے باہر کیے گئے یا پارٹی چھوڑ گئے۔ تحریک انصاف کے بانی کارکنوں میں شامل اکبر ایس بابر کا غیر ملکی فنڈنگ کیس تو ابھی بھی الیکشن کمیشن میں زیر سماعت ہے، جو عمران خان اور تحریک انصاف کے لیے گلے کی ہڈی بنتا جا رہا ہے۔ یہ تمام عوامل مل کر تحریک انصاف کے لیے 2018ء کے انتخابات میں مشکل کا باعث بن سکتے ہیں۔

Comments

ارشد علی خان

ارشد علی خان

خیبر نیوز سے بطور نیوز اینکر، سب ایڈیٹر، خصوصی رپورٹر وابستہ ہیں۔ دلیل کےلیے دہشت گردی، فاٹا اور خیبرپختونخوا کی صورتحال پر لکھتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.