سلاما آباد سومنات کا مندر - ریحان اصغر سید

ہمارا سلاما باد بھی سومنات کا مندر ہوگیا ہے، جسے اور کچھ نہیں سوجھتا وہ لشکر لے کر اس پر چڑھائی کر دیتا ہے۔ زندگی شہریوں کی عذاب ہو جاتی ہے۔ اپنے بدعتی لاہور نے اپنے نام کے ساتھ ناحق داتا کی نگری کی تہمت لگا رکھی ہے، حالانکہ حاجت روائی اور مشکل کشائی تخت سلاما باد کا ہی شیوا ہے۔ کینیڈا میں کسی پر کَڑکی کا زمانہ آ جائے تو وہ چار پیسے بنانے کے لیے یہاں کا رخ کرتا ہے۔ کسی سیاسی جماعت کے قائد محترم بور ہو جائیں تو وہ لاؤ لشکر کے ہمراہ ادھر کا قصد فرما لیتے ہیں۔ کسی کو مزید (شرعی) شادی کی حاجت محسوس ہو تو وہ بھی ڈی چوک میں ڈیرہ لگا لیتا ہے۔

آجکل بھی ایک نومولود مذہبی سیاسی جماعت نے اپنا چِلا سلاما باد میں پورا کرنے کی ٹھان رکھی ہے۔ اس مقصد کے لیے اس نے جڑواں شہر کی سرحد پر دھرنا دے رکھا ہے۔
باقی دنیا فیفتھ جنریشن کے دور میں جی رہی ہے، جبکہ ہم ڈارک ایج کے بعد چھومنتر گلی کا شارٹ کٹ مار کے سیدھا دھرنوں کے زمانے میں پہنچ گئے ہیں۔ ابن انشا مرحوم نے نادر شاہ ابدالی کے بارے میں فرمایا تھا کہ وہ لشکر کشی پہلے فرما لیتے تھے، جنگ کا جواز بعد میں مشیروں کو گھڑنا پڑتا تھا، لیکن قربان جائیے نونی حکومت کے مرنے کے شوقین مشیروں کے، جو شہر کے ظالم لوگوں کو لشکر کشی کا موقع خود ہی فراہم کر دیتے ہیں۔ مسائل کی دلدل میں گوڈے گوڈے دھنسی حکومت کے پتہ نہیں کس وزیر باتدبیر نے ختم نبوت کے بیان حلفی میں ترمیم کا مشورہ دیا تھا۔ ایسا مشورہ دینے والوں اور اس پر عمل کرنے والوں کو زندہ حنوط کر کے میوزم میں رکھ لینا چاہیے، پتہ نہیں بعد میں ایسے نابغے اس بنجر دھرتی پر جنم لیں یا نہ لیں۔

یہ بھی پڑھیں:   بچہ کیوں رو رہا ہے؟ روبینہ فیصل

نونیوں کا مؤقف یہ ہے کہ قسم خدا کی ہم نے کچھ نہیں کیا۔ ہم بڑے میاں صاحب کے نااہل ہونے کی ٹینشن میں سر پکڑ کر بیٹھے تھے۔ اتنی دیر میں رات کے کھانے کا ٹائم ہوگیا۔ ہم اچھے بھلے کوفتے کھا کے سوئے تھے، صبح اٹھ کے دیکھا تو کلیریکل غلطی ہو چکی تھی۔ سیاسی درخت سے کچھ کچے پکے توڑے گئے مولویوں کے لیے تو یہ خدا دے اور بندہ لے والا معاملہ ہو گیا۔ انھوں نے داڑھیوں کو حضاب لگایا اور کہا میں نیت کرتا ہوں منہ طرف سلام آباد کے۔

اب سب کچھ مل ملا کے سین کچھ یوں ہے کہ نونی خود بدنیت اور چور ہیں، اگر سچے ہوتے تو یہ ترمیم کی فلم چلانے والے کو فارغ کر چکے ہوتے۔ دوسری طرف بیٹھے گالی گلوچ اور لوگوں کا راستہ بند کرنے والے حضرات ان سے بھی بڑے نابغے ثابت ہوئے ہیں جو اپنے اس طرز عمل اور زبان کے ساتھ آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی کا دعوی کر کے خود بےادبی کے مرتکب ہوتے ہیں۔

باقی عاجز کی رائے میں دارالحکومت اگر سلاما باد کے بجائے لاہور کو بنا لیا جائے تو دھرنے میں بیٹھنے والے دیہاڑی داروں کا بہت بھلا ہوگا کیوں کہ بقول بابا جی کے
لاہور میں جس بندے کو غصہ آتا ہے، وہ چار بندے لیکر سلاما باد پر چڑھائی کر دیتا ہے۔

Comments

ریحان اصغر سید

ریحان اصغر سید

ریحان اصغر سید فکشن اور طنز و مزاح لکھنے میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں۔ کم مگر اچھا اور معیاری لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.